آپریشن کے نتیجے میں قبائل کو جن اقتصادی، نفسیاتی، معاشرتی اور جسمانی نقصانات سے دوچار ہونا پڑا ہے اس کا تقاضا ہے کہ اس کو جلد از جلد حتمی انجام تک پہنچایا جائے

Print Friendly, PDF & Email

خیبرایجنسی کی دوردراز وادی تیراہ کے پاک افغان سرحد پر واقع راجگل کے علاقے میں پاک فوج کے خیبر3نامی آپریشن میں آئی ایس پی آر کے مطابق اب تک40 عسکریت پسندوں کو ہلاک اور 21 کو زخمی حالت میں گرفتار کیا جاچکا ہے۔ فوج کے ترجمان ادارے کے مطابق پچھلے ایک ہفتے کے دوران پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے راجگل میں جاری فضائی اور زمینی آپریشن میں مشتبہ دہشت گردوں کے چالیس سے زائد ٹھکانے اور محفوط پناہ گاہیں تباہ کی جاچکی ہیں۔
واضح رہے کہ سیکورٹی فورسز نے خیبر تھری آپریشن کا آغاز پچھلے ہفتے کیا تھا جس کا مقصد وادی تیراہ میں پاک افغان بارڈر کے دشوار گزار پہاڑوں اور پہاڑی دروں میں موجود دہشت گردوں سے اس علاقے کو کلیئر کرانے کے علاوہ اس علاقے میں بارڈر مینجمنٹ پالیسی کے تحت پاک افغان سرحد پرغیرقانونی نقل و حرکت پر قابو پانا بتایا گیا تھا۔ اس سلسلے میں آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا تھا کہ خیبرتھری آپریشن قبائلی علاقوں میں جاری آپریشن ضربِ غصب اور خیبرٹو کا تسلسل ہے جس کے ذریعے وادی تیراہ کے دشوار گزار اور دوردراز سرحدی علاقوں راجگل، نرے ناؤ اور ستارکلے نامی علاقوں میں مختلف قبائلی علاقوں سے آپریشن کے نتیجے میں بھاگ کر پناہ حاصل کرنے والے دہشت گردوں کو نشانہ بنانا مقصود ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں ماضی میں کبھی بھی سیکورٹی فورسز تعینات نہیں رہی ہیں اور ان علاقوں کو دہشت گرد نہ صرف محفوظ پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں بلکہ بہت سارے قبائلی علاقوں کی طرح یہ وہ علاقے ہیں جن کو دہشت گرد سرحد کے آرپار جانے کے لیے بلا روک ٹوک استعمال کرتے رہے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق پاک افغان بارڈر پر واقع ان علاقوں کا شمار اُن گنے چنے علاقوں میں ہوتا ہے جو اب تک نہ صرف کسی بڑے اور منظم فوجی آپریشن سے بچے ہوئے تھے بلکہ یہاں حکومتی عمل داری بھی نہ ہونے کے برابر تھی، حتیٰ کہ ان علاقوں میں پاک افغان بارڈر کا تعین بھی ایک مسئلہ رہا ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں سیکورٹی فورسز نے حالیہ آپریشن شروع کررکھا ہے وہ گھنے جنگلات اور بلند وبالا پہاڑوں اور پہاڑی دروں پرمشتمل ہیں جہاں آبادی بہت کم ہے۔ یہ علاقے چونکہ انتہائی دشوار گزار اور روایتی میدانی علاقوں سے خاصی دوری اور اونچائی پرواقع ہیں اور موسمی لحاظ سے انتہائی سرد ہیں، حتیٰ کہ سردیوں میں یہاں کئی کئی فٹ تک برف باری بھی ہوتی ہے اس لیے ان علاقوں کو ماضی میں نہ صرف بڑے پیمانے پر اسمگلنگ کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے بلکہ جب سیکورٹی فورسز نے باڑہ خیبر ایجنسی میں آپریشن کیا تھا تو وہاں سے اکثر دہشت گردوں نے پہلے وادی تیراہ کا رخ کیا تھا اور بعدازاں جب یہاں آپریشن خیبر ٹو لانچ کیا گیا تھا تو اکثر دہشت گردوں نے پاک افغان بارڈر کے ان محفوظ مقامات پر پناہ حاصل کرلی تھی۔ یاد رہے کہ وادی تیراہ کا شمار قبائلی علاقوں میں اسٹرے ٹیجک لحاظ سے انتہائی اہم علاقوں میں ہوتا ہے۔ یہ وہ واحد وادی ہے جو نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے بلکہ اپنی ساخت اورتاریخی پس منظر کے حوالے سے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے اس علاقے کی سرحدیں ایک طرف خیبرایجنسی، ہنگو، اورکزئی اور کرم ایجنسی سے ملی ہوئی ہیں، اور دوسری طرف اس کی سرحد افغانستان کے اہم مشرقی صوبے ننگرہار سے بھی ملتی ہے۔ اسی طرح یہاں چونکہ آفریدی قوم کی سات ذیلی شاخیں کوکی خیل، زخہ خیل، قمبرخیل، ملک دین خیل، سپاہ، آکا خیل اور کمرخیل آباد ہیں اس لیے قبائلی لحاظ سے بھی اس خطے کا تمام قبائلی علاقوں میں ایک نمایاں مقام ہے۔ کوہ سفید کے پہاڑی سلسلے میں واقع یہ علاقہ ایک جانب گھنے جنگلات، قدرتی چشموں، ندی نالوں، خوبصورت دروں اور پہاڑی سلسلوں کے قدرتی حسن سے مالامال ہے، دوسری طرف یہاں کے قبائل اپنی جفاکشی، محنت اور اسلام کے ساتھ روایتی جذباتی لگاؤ کی وجہ سے بھی خاص شہرت رکھتے ہیں۔
یہ اسلام کے لیے ان قبائل کے دلوں میں پائی جانے والی عقیدت اور محبت تھی جس کی وجہ سے ان علاقوں میں تحریک طالبان، لشکر اسلام، انصارالاسلام، توحید الاسلام اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر جیسی تنظیموں کو اسلام کے نام پر نہ صرف اپنے پر پرزے نکالنے کے مواقع ملے بلکہ ان عسکریت پسند مسلح تنظیموں کو بندوق کے زور پر ان علاقوں میں اپنا اثر رسوخ بڑھانے کا موقع بھی ملا۔
یہ حقیقت ہرکسی کے علم میں ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک باڑہ تحصیل سمیت پوری وادی تیراہ پر مسلح عسکریت پسند تنظیموں کا کنٹرول تھا جن میں لشکرِ اسلام کا عمل دخل سب سے زیادہ تھا، لیکن جب سیکورٹی فورسز نے ان تنظیموں کے خلاف پہلے باڑہ میں اور بعدازاں وادی تیراہ کے مختلف علاقوں میں آپریشن شروع کیا تو ان تنظیموں کے اکثر مسلح رضاکار محفوط پناہ کی تلاش میں پاک افغان بارڈر کے دوردراز اور دشوار گزار علاقوں میں چلے گئے تھے جہاں سے ان کو نہ صرف سرحد کے آر پار آمد ورفت کی سہولیات دستیاب تھیں بلکہ یہ علاقے چونکہ عملاً ریاستی عمل داری سے باہر تھے لہٰذا اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اکثر عسکریت پسند تنظیموں نے یہاں پناہ لے رکھی تھی۔ اب جب سے ان علاقوں میں خیبرتھری آپریشن شروع ہوا ہے، اس کے نتیجے میں ان علاقوں میں اگر ایک طرف ریاستی رٹ کی بحالی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے تو دوسری جانب یہاں سیکورٹی فورسز کو پہلی دفعہ اپنی پوزیشنیں سبنھالتے ہوئے مختلف تنظیموں کے خلاف کارروائی کا موقع بھی ہاتھ آیا ہے۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں ان سرحدی علاقوں کے علاوہ ملحقہ اورکزئی اورکرم ایجنسی کے علاقوں کا دورہ کرکے یہ تاثر دیا ہے کہ عسکریت پسندوں کو اب واپس ان علاقوں میں نہیں آنے دیا جائے گا (باقی صفحہ 41پر)
اور ان کے خلاف سرحدی علاقوں میں جو کارروائی کی جارہی ہے اگر اس سے بچ کرکچھ عناصر ملحقہ قبائلی علاقوں میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے توانٹیلی جنس نظام کو مؤثر بناتے ہوئے ان عناصر کے سلیپنگ سیلز کو بھی کومبنگ آپریشن کے ذریعے نشانہ بنایا جائے گا۔ واضح رہے کہ متذکرہ کومبنگ آپریشن کے نتیجے میں قبائلی علاقوں سمیت بعض بندوبستی علاقوں میں بھی چھپے ہوئے عسکریت پسندوں کو پچھلے چند ہفتوں کے دوران گرفتار یا ہلاک کیا جاچکا ہے۔ اس بات میں بھی کوئی دور آراء نہیں ہیں کہ قبائل نے بالعموم قبائلی علاقوں میں مسلح تنظیموں کے خلاف فوجی آپریشن کی نہ صرف واضح حمایت کی ہے بلکہ ان کی خواہش ہے کہ ان علاقوں کو عسکریت پسندوں اور جنگ وجدل سے پاک کرکے قبائل کو قبائلی علاقوں اور ملک وقوم کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے مواقع بھی ملنے چاہئیں۔ سیکورٹی فورسز نے پچھلے چند سالوں کے دوران قبائلی علاقوں سے عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے جو پے درپے آپریشن کیے ہیں اور ان کے نتیجے میں عام قبائلی کو جن اقتصادی، نفسیاتی، معاشرتی اورجسمانی نقصانات سے دوچار ہونا پڑا ہے اس کا تقاضا ہے کہ نہ صرف جاری آپریشنوں کو جلد از جلد حتمی انجام تک پہنچنا چاہیے بلکہ پچھلے چند سالوں کے دوران بالخصوص اورگزشتہ دہائیوں کے دوران بالعموم قبائل میں پائے جانے والے احساس محرومی کے خاتمے کے لیے بعض خصوصی اقدامات کا اٹھایا جانا بھی ازبس ضروری ہے۔

Share this: