مستشرقین اورعصرِ حاضر

Print Friendly, PDF & Email

ملک نواز احمد اعوان

کتاب:اسلام اور مستشرقین
مصنف:ڈاکٹر حافظ محمد زبیر حفظہ اللہ
صفحات:184 قیمت 300 روپے
ناشر
:مکتبہ رحمۃ للعالمین، نذیرپارک، غازی روڈ، لاہور
فون:0301-4870097

راقم الحروف جن اہلِ علم و ادب کی تحریریں بڑے شوق اور توجہ سے پڑھتا ہے اُن میں ایک معزز نام ڈاکٹر حافظ محمد زبیر صاحب کا بھی ہے۔ ڈاکٹر صاحب بڑی محنت اور تحقیق سے زیربحث موضوع پر نتائجِ فکر پیش کرتے ہیں، اس کے ساتھ وہ بڑی شائستگی سے اخلاقی حدودکا لحاظ رکھتے ہوئے عالمانہ لہجے میں اپنی بات کہتے ہیں۔ آپ ان کے نتائجِ فکر سے اختلاف کرسکتے ہیں جو ہر فکری تحریر و تحقیق سے کیا جا سکتا ہے، لیکن ان پر بداخلاقی کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ ان کا قلمی نام ابوالحسن علوی ہے۔ موبائل 0300-4093026، ای میل mzubair@ciitlabore.edu.pk ہے۔ وہ فاضل درسِ نظامی، ایم اے عربی، ایم اے سیاسیات اور پی ایچ ڈی علوم اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی سے ہیں، اور آج کل اسسٹنٹ پروفیسر کامساٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی لاہور ہیں۔ ان کی مطبوعہ کتب میں ہیں ’’چہرے کا پردہ: واجب، مستحب یا بدعت؟‘‘، ’’فکرِ غامدی: ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ‘‘، ’’عصرِ حاضر میں تکفیر، خروج، جہاد اور نفاذ شریعت کا منہج‘‘، ’’مولانا وحید الدین خان: افکارو نظریات‘‘۔۔۔ اس کے علاوہ سینکڑوں مقالات مطبوعہ ہیں۔ زیرنظر کتاب ’’اسلام اور مستشرقین‘‘ بڑی عمدہ تحقیق ہے۔ اس کی بہت ضرورت تھی۔ گو مختصر ہے لیکن جامع ہے۔
کتاب آٹھ ابواب میں منقسم ہے۔ ڈاکٹر صاحب تحریر فرماتے ہیں: ’’راقم کو یونیورسٹی آف سرگودھا میں ایم فل علوم اسلامیہ کے طلبہ کو ’اسلام اور مستشرقین‘ کے نام سے ایک کورس پڑھانے کا اتفاق ہوا تو اُس وقت مجوزہ کورس کے لیے ایک ریفرنس بک کی ضرورت کا شدید احساس پیدا ہوا۔ پس اُس وقت سے اس موضوع پر مواد جمع کرنا شروع کیا تو ایک کتاب کی صورت بن گئی۔ اس مختصر سی کتاب کے مرتب کرنے کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے کہ جدید استشراق کی دو سوسالہ تحریک کے جملہ اعتراضات اور شبہات کا جواب دیا جائے۔ ایسا کام تو اہلِ علم کی ایک جماعت کسی انسائیکلو پیڈیا کے ذریعے ہی کرسکتی ہے۔
اس کتاب میں علوم اسلامیہ کی بڑی شاخوں مثلاً قرآنیات، علومِ حدیث، سیرت و تاریخ اور فقہ و قانونِ اسلامی میں نمایاں مستشرقین کے حالاتِ زندگی اور ان کے اہم نظریات کو بیان کیا گیا ہے۔ بعض مستشرقین کے منہج کی غلطی اور کجی کو واضح کرنے کے بعد ان کے بعض شبہات کا جواب بھی دیا گیا ہے، اور اس بات کا بھی اہتمام کیا گیا ہے کہ ہر نامور مستشر ق کے اعتراضات کے جواب میں عالم اسلام میں لکھی جانے والی کتب کا تعارف بھی کسی قدر شامل ہوجائے۔ کتاب کا اصل مقصد علوم اسلامیہ میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ میں اس موضوع کے حوالے سے تحقیق کے میدان، مواقع اور گنجائش کا تعارف پیدا کرنا ہے۔‘‘
’’میں ریکٹر کامساٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی محترم جناب پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم جنید زیدی، ڈائریکٹر کامساٹس لاہور کیمپس جناب پروفیسر ڈاکٹر محمود احمد بودلہ اور ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ محترمہ ڈاکٹر فلذہ وسیم کا خصوصی طور پر شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے فیکلٹی کو انسٹی ٹیوٹ میں بحث و تحقیق کا ایسا ماحول، سہولیات اور تعاون فراہم کیا ہوا ہے کہ جس کے سبب یہ کتاب اپنے تکمیلی مراحل کو پہنچ سکی۔‘‘یہ کتاب آٹھ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں ڈاکٹر صاحب نے تحریک استشراق اور اس کے محرکات اور عصرحاضر کا تعارف کرایا ہے۔ دوسرا باب قرآن اور مستشرقین، تیسرا باب مصادر قرآن اور مستشرقین، چوتھا باب حدیث اور مستشرقین، پانچواں باب سیرت اور مستشرقین، چھٹا باب تاریخ اور مستشرقین، فقہ اسلامی اور مستشرقین پر مشتمل ہے۔ آٹھواں باب: مستشرقین کی مؤسسات اور انسائیکلو پیڈیاز پر مشتمل ہے ،جس میں مستشرقین کے اداروں، ذرائع ابلاغ، تحقیقی مجلات اور اہم انسائیکلو پیڈیاؤں کا تعارف کرایا گیا ہے۔جن میں انسائیکلو پیڈیا آف اسلام، انسائیکلو پیڈیا آف قرآن، انسائیکلو پیڈیا اسلامیکا، انسائیکلو پیڈیا آف اسلام اینڈ مسلم ورلڈ، انسائیکلو پیڈیا ایرانیکا (Encyclopedia Iranica)، پرنسٹن انسائیکلو پیڈیا آف اسلامک پولیٹیکل تھاٹ، انسائیکلو پیڈیا آف اسلامک سولائزیشن، آکسفورڈ انسائیکلوپیڈیا آف اسلامک ورلڈ، آکسفورڈ انسائیکلو پیڈیا آف اسلام اینڈ پالیٹکس، آکسفورڈ انسائیکلو پیڈیا آف اسلام اینڈ ویمن شامل ہیں۔کتاب سفید کاغذ پر عمدہ طبع کی گئی ہے، مجلّد ہے۔
اردو کے خزانے میں قیمتی اضافہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب اس کتاب کو بنیاد بنا کر تفصیل سے اس موضوع پر لکھیں تو اردو زبان کے لیے شرف کا باعث ہو گا۔ یہ کتاب درج پتوں سے بھی مل سکتی ہے:
مکتبہ قدوسیہ، کتاب سرائے، مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور
قرآن اکیڈمی DM-55 درخشاں، خیابانِ راحت فیز 6 ڈیفنس کراچی
قرآن اکیڈمی 25 آفیسرز کالونی ملتان۔

Share this: