نامور عالم اور عربی دان مولانامحمد ناطم ندوی پر پی ایچ ڈی کی ڈگری

Print Friendly, PDF & Email

محمد راشد شیخ

برصغیر پاک و ہند کے نامور عالم، عربی دان، سابق ناظم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ، سابق شیخ الجامعہ، جامعۂ عباسیہ بہاولپور و سابق نائب صدر ادارہ معارف اسلامی کراچی مولانا محمد ناظم ندوی کی حیات اور خدمات پر پہلی پی ایچ ڈی کی ڈگری مورخہ 24 اگست 2016ء کو دہلی یونیوسٹی کے ریسرچ اسکالر شیخ احتشام الدین ندوی کو عطا کی گئی۔ شیخ احتشام الدین نے یہ تحقیقی مقالہ بہ عنوان الاستاذ محمد ناظم الندوی:حیاتہ و مساھمتہ فی الادب العربی والصحافۃ العربیۃ کے عنوان سے ڈاکٹر نعیم الحسن اثری کی زیر نگرانی مکمل کیا۔ ان کے اس مقالے پر شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی کے سیمینار ہال میں 24 اگست2016ء Final Viva ہوا۔ ان کے ممتحن جواہر لال یونیورسٹی کے سینٹر فار عربک اینڈ افریقن اسٹڈیز کے چیرمین پروفیسر رضوان الرحمن تھے۔ انھوں نے زبانی امتحان کے بعد شیخ احتشام کے تحقیقی کام کی ستائش کی اور اسے معیاری قرار دیا۔ اس موقع پر شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی کے صدر پروفیسر ولی اختر کے علاوہ شعبے کے اساتذہ میں پروفیسر ڈاکٹر حسنین اختر، ڈاکٹر مجیب اختر، ڈاکٹر محمد اکرم، ڈاکٹر اصغر محمود، ڈاکٹر جسیم الدین اور شعبے کے ریسرچ اسکالر اور بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات موجود تھے۔
شیخ احتشام الدین برصغیر کے معروف تعلیمی ادارے دارالعلوم ندوۃ العلماء کے فاضل ہیں اور آج کل قطر میں ایک تعلیمی ادارے سے وابستہ ہیں۔ انھوں نے تحقیقی مقالے کی خاطر راقم سطور سے قطر سے برابر رابطہ رکھا اور مولانا محمد ناظم ندوی سے متعلق بہت سی نادر و نایاب معلومات حاصل کیں۔ پاکستان میں اب تک مولانا ناظم ندوی کی حیات و خدمات پر ایم اے کی سطح کا ایک مقالہ پنجاب یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے لکھا تھا۔ اس مقالے کے نگران نے بھی مولانا کے حوالے سے راقم سے رابطہ کیا اور ضروری معلومات اور مواد حاصل کیا تھا۔
مولانا محمد ناظم ندوی قصبہ علی نگر (بہار شریف بہار) میں دسمبر 1913ء میں پیدا ہوئے۔ 1926ء میں ان کا داخلہ مدرسہ عزیزیہ بہار میں ہوگیا۔ یہاں ان کی مولانا مسعودعالم ندوی مرحوم سے ملاقات اور دوستی ہوئی جو مولانا مسعود عالم ندوی کے انتقال تک برابر ترقی کرتی رہی۔جولائی 1929ء میں مولانا ناظم صاحب کا داخلہ برصغیر کے عظیم علمی، دینی و تعلیمی ادارے دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں فضیلت کے دوسرے سال میں ہوا۔ ندوہ آنے کا باعث مولانا مسعود عالم بنے جو مولانا ناظم صاحب سے قبل وہاں 1928ء میں پہنچ چکے تھے۔ یہی وہ سال ہے جب مولانا ناظم صاحب کا پہلی بار مولانا ابوالحسن علی ندوی سے تعارف ہوا اور ان تین نامور عربی دانوں کی دوستی اور باہمی رفاقت ضرب المثل بن گئی جسے صرف موت ہی ختم کرسکی۔ ندوۃ العلماء میں مولانا ناظم صاحب کے دیگر معروف دوستوں میں سابق امیر جماعت اسلامی ہند مولانا ابواللیث اصلاحی (جن کا اصل نام شیر محمد تھا۔ ابواللیث مولانا سید سلیمان ندوی کا رکھا ہوا نام ہے )، حافظ عمران خان ندوی اور مولانا عبدالسلام قدوائی ندوی شامل ہیں۔ ندوۃ العلماء پہنچنے کے فوراً بعد حضرت علامہ سید سلیمان ندوی سے تعارف اور تعلق پیدا ہوا۔ اس تعلق کے محرک بھی مولانا مسعود عالم ہی تھے۔ علامہ سید سلیمان ندوی بقول مولانا ناظم صاحب ان کے مربی اور محسن تھے اور ان کی صحبتوں سے مولانا نے بے انتہا فیض اٹھایا۔ مولانا سید سلیمان ندوی ؒ ہی کے کہنے پر مولانا ناظم صاحب نے ’’خطباتِ مدراس‘‘ کا عربی ترجمہ بہ عنوان ’’الرسالۃ المحمدیہ‘‘ کیا جو پہلی مرتبہ دارالمصنفین اعظم گڑھ سے، اور بعد ازاں ادارہ تحقیقاتِ اسلامی اسلام آباد سے شائع ہوا۔ ندوہ سے آپ کی فراغت کا سن 1933ء ہے۔
1934ء کے آغاز میں مولانا ناظم صاحب، علامہ سید سلیمان ندوی کے مشورے سے جامعہ اسلامیہ ڈابھیل (گجرات) تشریف لے گئے۔ یہاں آپ کا تقرر بحیثیت استاد، ادبِ عربی ہوا تھا۔ ڈابھیل میں اُس وقت مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا بدر عالم میرٹھی، مولانا مفتی محمد شفیع اور مولانا محمد یوسف بنوری بحیثیت مدرس موجود تھے۔ یہاں مولانا ناظم صاحب کا قیام چار سال تک رہا۔ چنانچہ آپ 1938ء کے آغاز میں ڈابھیل سے واپس ندوۃ العلماء بحیثیت استاد ادب تشریف لائے۔ اس کے بعد مولانا ناظم صاحب کا اپنی مادرِ علمی سے تعلق مکمل دس سال تک جاری رہا۔ یہاں آپ نے عربی ادب کی مشکل ترین کتب یعنی مقدمہ ابن خلدون، دلائل الاعجاز، اسرار البلاغہ، حجۃ اﷲ البالغہ وغیرہ کا دس سال تک طلبہ کو درس دیا۔ اس کے علاوہ عربی ماہنامے ’’الضیاء ‘‘ کے لیے کئی مقالات اور تبصرے بھی لکھے۔ ندوہ کے اس قیام کے اخیر زمانے میں مولانا اس عظیم علمی ادارے کے مہتمم (پرنسپل) بھی بنادیے گئے۔ تقسیم برصغیر کے بعد کے دگرگوں حالات کی وجہ سے بڑی تعداد میں علماء و فضلاء نے ہجرت کی اور نو آزاد اسلامی مملکت پاکستان کو اپنا وطن بنایا۔ مولانا ناظم صاحب بھی مئی 1948ء میں لکھنؤ سے کراچی تشریف لائے۔ تقریباً ایک سال سعودی سفارت خانے میں ملازمت کی۔ دسمبر 1951ء میں مولانا ناظم صاحب کا تقرر جامعۂ عباسیہ بہاولپور میں بحیثیت شیخ الجامعہ ہوا۔ یہ تعلق نومبر 1963ء تک برابر جاری رہا۔ مولانا ناظم صاحب کی سربراہی کا دور ہی دراصل جامعہ عباسیہ کا سنہری دور کہا جاسکتا ہے۔ نومبر 1963ء میں مولانا ناظم ایک سال کی رخصت پر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ جب ایک سال بعد بہاولپور واپس تشریف لائے تو معلوم ہوا کہ جامعہ عباسیہ سے شیخ الجامعہ کا عہدہ ختم کرکے اس ادارے کو اوقاف کے ماتحت کردیا گیا ہے۔ اس کے بعد مولانا نے 1969ء تک بہاولپور میں بحیثیت ناظم امور دینیہ خدمات انجام دیں۔ 1963ء میں جب کراچی میں ادارۂ معارف اسلامی کی بنیاد رکھی گئی تو مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اس ادارے کے صدر اور مولانا ناظم ندوی نائب صدر بنے۔ مولانا ناظم صاحب تاوقتِ آخر اس عہدے پر فائز رہے۔ 1969ء میں مولانا ناظم ندوی بہاولپور سے کراچی منتقل ہوگئے اور تقریباً تیس برس تک ملیر کراچی کی ایک بستی درخشاں سوسائٹی ملیر ہالٹ میں مقیم رہے۔ یہیں مولانا درسِ قرآن و حدیث دیتے، اہلِ علم، طلبہ اور عربی زبان و ادب کے شائقین سے ملاقات کرتے، اور تمام عمر علمی فیوض پہنچاتے رہے۔ یہیں 9 جون 2000ء کو مختصر علالت کے بعد مولانا نے انتقال فرمایا۔ تدفین ماڈل کالونی کراچی کے قبرستان میں ہوئی۔ اسی عرصے میں 1986ء تا 2000ء مولانا سے راقم کا بطور شاگرد تعلق قائم ہوا اور ان کی صحبت میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔
مولانا ناظم ندوی ندوۃ العلماء اور ندوی برادری کے پاکستان میں حقیقی نمائندے تھے۔ علمائے ندوہ کی طرح مولانا جدید و قدیم علوم سے گہری واقفیت رکھتے تھے۔ ہمارے مدارس اور دینی تعلیمی اداروں میں جو جمود طاری ہے، اس کی اصل وجہ نصاب میں تبدیلی نہ ہونے کو قرار دیتے۔ ان کے نزدیک نصاب تغیر پذیر ہونا چاہیے جیسا کہ ہر دور میں مسلمانوں نے حالاتِ زمانہ کے مطابق کیا۔ ندوی حضرات کا طرّۂ امتیاز عربی زبان وادب، تاریخِ اسلام، قرآن وحدیث اور حالاتِ زمانہ سے مکمل آگاہی ہے۔ مولانا ناظم صاحب کی شخصیت ان تمام خوبیوں کے جامع تھی۔ جب گفتگو شروع کرتے تو معلوم ہوتا منہ سے پھول جھڑ رہے ہیں۔ ہمارے عام مذہبی طبقے کی طرح نہ تو اُن میں خشونت تھی اور نہ ہی گفتگو میں خشکی۔ عربی زبان کے پورے پورے قصیدے انھیں ازبر تھے۔ موقع محل کی مناسبت سے عربی و اردو کے خوبصورت اشعار سناتے، اور نہ صرف ان اشعار کی تشریح کرتے بلکہ لغوی، صرفی، نحوی تفصیلات بھی بیان فرماتے۔ مولانا کو علم جغرافیہ سے بھی ازحد شغف تھا۔ ان کے پاس کئی اہم نقشے تھے جن کا اکثر مطالعہ فرماتے۔ اکثر اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے کہ جغرافیہ جیسے مفید علم کو، جس میں مسلمانوں کی خدمات بے حد اہم ہیں، مدارسِ عربیہ نے خارجِ نصاب قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے کئی افسوس ناک واقعات بھی سناتے۔ عمر کے آخری دور میں مولانا وسط ایشیا کی نو آزاد پانچ ریاستوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کا اظہار کرتے اور راقم سے فرماتے کہ اس موضوع پر تازہ مطبوعات مہیا کروں۔
مولانا ناظم ندوی صاحب طویل عرصے تک درس و تدریس سے وابستہ رہے۔ اس دوران پاک و ہند کے معروف علمی رسائل مثلاً معارف ندیم (گیا) فاران، چراغِ راہ، الزبیر، جامعہ (دہلی) وغیرہ میں آپ کے علمی مقالات شائع ہوئے۔ کئی اہم کتب پر آپ نے مقدمات بھی لکھے۔ مولانا مرحوم کے معلومات افزا اور بصیرت افروز مقالات کا مجموعہ راقم مرتب کررہا ہے۔ آپ عربی زبان کے قادر الکلام شاعر بھی تھے جس کا ثبوت آپ کا دیوان ’’باقۃ الازھار‘‘ ہے۔ اس کے علاوہ آپ نے آنکھ کے آپریشن میں کامیابی کے بعد عربی میں ایک طویل حمدیہ قصیدہ ’’القصیدۃ الرائیۃ‘‘ بھی لکھا۔ اگست 1993ء میں آپ اپنے رفیقِ قدیم مولانا ابوالحسن علی ندوی کی دعوت پر رابطۂ ادب اسلامی کے اجلاس میں شرکت کی خاطر استنبول تشریف لے گئے، واپسی پر ترکوں کی تعریف میں ایک طویل عربی قصیدہ تحریر فرمایا جس کی ایک نقل عاجز راقم سطور کو بھی پیش کی۔ مولانا نے چند اردو کتب بھی تحریر فرمائیں جن میں ’عورت مرد کے برابر کیوں نہیں‘ و دیگر شامل ہیں۔ مولانا ناظم ندوی صاحب کے معروف تلامذہ میں مولانا محمد رابع ندوی (موجودہ ناظم ندوۃ العلماء)، مولانا ڈاکٹر عبداﷲ عباس ندوی، مولانا واضح رشید ندوی، مولانا وصی مظہر ندوی، مولانا جلیل الحسن ندوی، مولانا سید مظفر حسین ندوی (مظفر آباد) اور ڈاکٹر محمد اجتباء ندوی (جامعہ ملیہ دہلی) شامل ہیں۔
مولانا ناظم ندوی صاحب کا انتقال مورخہ9جون 2000ء کو کراچی میں ہوا اور تدفین ماڈل کالونی قبرستان میں ہوئی۔

Share this: