سیاسی بحران اور کرپشن ۔۔ حکمرانوں کی لوٹ مار کی شرمناک داستان

Print Friendly, PDF & Email

امان اللہ شادیزئی

آج صبح اخبارات کے مطالعہ کے بعد یہ سو چ رہا تھا کہ کس موضوع پر لکھوں۔ ذہن آمادہ ہی نہیں ہورہا تھا اس دوران کتابوں کے شیلف سے ایک کتاب ’’پاکستان کے قومی مسائل تجزیہ اور حل‘‘ نکالی اور ورق گردانی کرتا رہا تو ایک تجزیہ پر نگاہ ٹھہر گئی اور اس کا مطالعہ شروع کیا تو بڑی حیرت ہوئی کہ لوٹ مار کا سلسلہ تو سابقہ دور میں جاری تھا اور اب بھی ہے بس طریقہ واردات ذرا مختلف ہے۔ اس لوٹ مار میں بے نظیربھٹو مرحوم اور نوازشریف شامل رہے ہیں اور سندھ حکومت کے وزیراعلیٰ بھی شریک رہے ہیں یہ کتاب منشورات نے شائع کی ہے اور صاحب مضمون جناب خرم جاہ مراد ہیں ان کے تجزیہ ترجمان القرآن میں شائع ہوتے رہے ہیں بعد میں ان تجزیوں کو کتاب کی شکل دی گئی ہے۔اس کتاب کے ایک مضمون کو اپنے قارئین کی معلومات کے لیے منتخب کیا ہے اس کو پڑھیں گے تو آپ کوبھی حیرت ہوگی کہ کس کس طرح سے ملک کو ان صاحب اقتدار لوگوں نے لوٹا ہے۔
وہ سیاسی بحران اور کرپشن کے حوالے سے اپنے تجزیے میں اعداد وشمار کے حوالے سے بیان کرتے ہیں۔اگرچہ سیاسی عدم استحکام برقرار رکھنے کی حد تک مسلم لیگ بھی ذمہ دار ہے لیکن گزشتہ دنوں میں پوری قومی زندگی جس شدید ابتری کاشکار ہوئی ہے۔ اس کے اصل ذمہ دار پی پی پی کی موجودہ حکومت ہے، لوٹ کھسوٹ ہمیشہ ہوتی رہی ہے لیکن ان کی حکومتوں نے سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ گزشتہ حکومت (نواز شریف) کی بدعنوانیوں کو بے نظیر ہدف تنقید بناتی رہی ہے لیکن ان کی حکومت نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں، اب سابقہ دور سے زیادہ بدعنوانیاں ہورہی ہیں ایک ایک سودے میں کروڑوں اربوں روپے کمائے گئے ہیں کراچی کی مظلوم زمین بھٹو کے دور سے کھائی جارہی ہے بعدازاں نوازشریف کے دور میں بھی یہی ہوتا رہا ہے بے نظیر بھٹو صاحبہ بجا طور پر مذمت کرتی رہی ہیں کہ اربوں روپے کی زمین کوڑیوں کے مول دی جارہی ہے مگر دوبارہ برسراقتدار آتے ہی پیپلزپارٹی کے وزیراعلی سندھ ’’عبداللہ شاہ‘‘ (20اکتوبر 1993ء تا 7 نومبر 1996) نے پہلے تو سارے پرانے الاٹ منٹ آرڈر منسوخ کرائے لیکن چنددنوں کے بعد ہی ایک طرف وہی الائٹمنٹ انہی پرانے افراد کے نام بحال کرادی اور دوسری طرف نئی الائٹمنٹ کا تانتا بندھ گیا (عبداللہ شاہ موجودہ وزیراعلی سندھ کے والد ہیں) 21اپریل 1994کو غیر معروف افراد کو (کراچی حیدرآباد) سپر ہائی وے پر دس لکھ مربع گز زمین جس کی قیمت 600 روپیہ فی گز مربع سے کم نہ تھی پچیس روپے فی مربع گز کے حساب سے الاٹ کی گئی پھر چند دن کے بعد یہ گھٹا کر دس روپے فی مربع گز کردی گئی اس سے سندھ حکومت کو صرف ایک کروڑروپے آمدن ہوئی جس ہاتھ نے سودا کیا تھا اس کو یک لخت کم سے کم ساٹھ کروڑ کا فائدہ حاصل ہوا۔ اس طرح سندھ گورنمنٹ نے چالیس ہزار روپے کے عوض چار لاکھ مربع گززمین بیچ دی اس زمین کی قیمت 1200 گز سے کم نہ تھی مگر اس کو دس روپے گز کے حساب سے اسی خریدار کے نام بحال کردی ایسا ہی معاملہ کلفٹن کراچی کے قریب تین لاکھ 50ہزار گرز زمین کا ہوا۔ یہ زمین بھی پہلے مظفر حسین شاہ نے الاٹ کی دوبارہ پی پی پی کے وزیراعلی نے حکم منسوخی واپس لے لیا۔
اس طرح بے نظیربھٹو نے اپنے دوراقتدار پہلے حصے میں صرف 1989-90ء بیس ماہ کے دوران اسلام آباد میں 544 پلاٹ تقسیم کیے جبکہ اس کے پہلے حکمرانوں نے گیارہ سال میں صرف 245 پلاٹ دیئے تھے بے نظیر نے 90 ہزار گز کی انتہائی قیمتی زمین کسی قیمت کے عوض نہیں بلکہ صرف منصوبہ میں شرکت کے عوض انٹرنیشنل نامی کمپنی کو دے دی۔ لوٹ مار کے مواقع زمینوں سے زیادہ تجارتی اور صنعتی سودوں میں ہیں،رائس ایکسپورٹ کاپوریشن نے اچانک چار لاکھ 50 ہزار ٹن چاول تین غیرملکی کمپنیوں کو فروخت کردیا۔ اس پر شور ہوا تو 2لاکھ دس ہزار ٹن گندم 126 ڈالر فی ٹن کے حساب سے درآمد کرلی جبکہ گورنمنٹ کی یوٹیلٹی اسٹور کارپوریشن نے یہی گندم امریکہ سے 120 ڈالر کے حساب سے خریدا اس طرح اس سودے میں پانچ کروڑ بن گئے
جناب نوازشریف کی پیلی ٹیکسی اسکیم کے دو سو ارب روپے کے جواب میں وزیراعظم بے نظیر صاحبہ کی جانب سے سبز ٹریکٹر اسکیم میں 60 ہزار ٹریکٹر فراہم کرنے کے لیے 900 ارب لگادیئے مشرقی یورپ سے ڈیڑھ لاکھ روپے میں خریدے گئے۔ اسی طرح حب کوپاور پلانٹ کی قیمت 12لاکھ ڈالر میگا واٹ دی جارہی ہے جبکہ دنیا میں چھ لاکھ ڈالر میگاواٹ سے زیادہ نہیں ہے یہ زائد رقم کون کھارہا ہے۔
اخباری اطلاع کے مطابق توکل گروپ نے قومی بینکوں سے 250 کروڑ روپے ہتھالیے ہیں اسی طرح اس کی وجہ سے نیشنل بینک آف پاکستان کے 64 کروڑ مسلم کمرشل بینک کے 3246 کروڑ اور نیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن کے (NDfC) 30.7 کروڑ ڈوب گئے بینک نادہندگان کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں ہوتی نوازشریف کے خلاف پلاٹوں کی اندھا دھند تقسیم کے الزام میں کیوں کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔
اس سے اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ ماضی میں کس طرح کرپشن ہوتی رہی ہے اور اب بھی ہورہی ہے۔ 1970ء کے بعد سے اقتدار مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان گردش کرتارہا ہے درمیان میں دو بار فوجی جنرل اقتدار پر قابض ہوتے رہے اب پھر نوازشریف کی حکومت ہے اور کرپشن کے الزامات کی بوچھاڑ ہے صرف عمران کا دامن صاف ہے لیکن ان کی پارٹی میں جو لوگ شامل ہورہے ہیں ان کے دامن پر دھبے موجود ہیں کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے کرپشن اس ملک کے ہر شعبے میں ناسور کی طرح سرائیت کرگئی ہے۔
خرم مراد (مرحوم) جماعت اسلامی پنجاب کے نائب امیررہے ہیں اپنے اس مضمون کے آخری پیراگراف میں جوکچھ کہا ہے اس کو ذرا غور سے پڑھیں اور دیکھیں کہ کہ کیایہ آج کا نقشہ نظر نہیں آرہا ہے وہ بیان کرتے ہیں۔
’’کہ سچی بات یہ ہے کہ ملک میں آج تک کوئی تبدیلی فوج کے بغیر نہیں ہوئی ہے یہاں تک کہ 1988ء ‘ 1990ء ‘ 1993ء (بلکہ 1997ء) میں بھی انتخابات کے باوجود یہ فوج کا رول تھا جو تبدیلی کا باعث بنا رہی ہے سیاستدان اور دانشور تیسری قوت کے آجانے سے خبردار کررہے ہیں اور بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ وہی مسئلہ کا حل ہے کیونکہ جمہوریت ناکام ہوچکی ہے‘‘ اور پاکستان میں مارشل لاء کے امکان کو کسی بھی وقت تو مسترد نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن اندرونی اور بیرونی صورتحال کو دیکھتے ہوئے فوج کے لیے براہ راست اقتدار سنبھال لینا بہت مشکل نظر آتا ہے سنبھال بھی لے تو عارضی طور پر حالات پر سکون کردینے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں کرسکتی ہے۔ پاکستان میں جمہوریت ہی ناکام نظر آئی۔ مارشل لاء اور شخصی آمریت کے تجربے بھی ناکام ہوچکے ہیں کراچی میں فوجی آپریشن ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ فوج مسائل کو حل کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتی ہے۔

Share this: