ریفرنس” کی جنگ”

Print Friendly, PDF & Email

میاں منیر احمد

قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعظم نوازشریف کی قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہلی سے متعلق دائر ریفرنس مسترد کردیا ہے، عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی کے لیے دائر ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا ہے اور نوازشریف کے خلاف ریفرنس پر خود ہی عدالت لگاکر فیصلہ سنا دیا۔ ایک طرح کے ہی معاملے میں دو الگ الگ فیصلوں پر تحریک انصاف نے اسپیکر قومی اسمبلی پر جانب داری کا الزام لگایا ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی کو پانامہ لیکس کے معاملے پر وزیراعظم کے خلاف پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، عوامی تحریک اور شیخ رشید احمد کی جانب سے ریفرنس بھجوائے گئے تھے، اسی طرح مسلم لیگ (ن) نے بھی جوابی وار کرتے ہوئے عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف ریفرنس بھجوائے اور سپریم کورٹ میں بھی الگ الگ رٹ پٹیشن دائر کیں۔ ایک رٹ پٹیشن جماعت اسلامی کی جانب سے بھی سپریم کورٹ میں دائر کی گئی۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے نوازشریف کے خلاف ریفرنس مسترد کردیا اور دیگر تمام ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوا دیے اور اسمبلی میں وضاحت کی کہ فیصلہ قانون اور قاعدے کے اندر رہ کر ضابطے کے مطابق کیا ہے۔ اب دونوں فریق الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ میں ایک دوسرے کے خلاف اپنا اپنا مقدمہ لڑیں۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر کے اس فیصلے سے بظاہر تو یہی تاثر مل رہا ہے کہ انہوں نے وزیراعظم کا فیصلہ خود کردیا اور عمران خان کو الیکشن کمیشن کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ تحریک انصاف اسی لیے سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر کے سامنے سب سے بڑی نظیر یوسف رضا گیلانی ریفرنس کی تھی جسے اُس وقت کی اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے مسترد کردیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے اس کا نوٹس لیا اور یوسف رضا گیلانی کو عہدے سے برطرف کردیا۔ اُس وقت سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ ’’ریفرنس پر فیصلہ کرتے وقت اسپیکر کو قانون سے مدد لیتے ہوئے خود بھی اپنے ذہن سے سوچنا چاہیے تھا‘‘۔ اسپیکر ایاز صادق نے سپریم کورٹ کے اسی فیصلے کو اپنے لیے نظیر بناکر وزیراعظم کے خلاف تحریک انصاف کے ریفرنس پر فیصلہ دیا ہے، لیکن انہوں نے عمران خان کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوائے جانے سے متعلق جواز تو پیش کیا ہے لیکن الگ الگ فیصلہ دینے سے اخلاقی طور پر ان کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ اب چونکہ اسپیکر رولنگ دے چکے ہیں لہٰذا معاملہ اب الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کے روبرو ہے جہاں دونوں جماعتوں کے مابین ایک نئی قانونی جنگ متوقع ہے۔ قانونی طور پر الیکشن کمیشن اس بات کا پابند ہے کہ وہ اسپیکر کی جانب سے بھجوائے جانے والے ریفرنس پر 90 روز کے اندر اندر فیصلہ دے۔ اب دیکھنا ہے کہ الیکشن کمیشن کیا فیصلہ دے گا؟ الیکشن کمیشن جو بھی فیصلہ دے یہ اس کا اختیار ہے، لیکن ملکی سیاست میں گرماگرمی اب پیدا ہوگئی ہے، یا یوں کہیے کہ تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) تینوں وقت سے بہت پہلے غیر اعلانیہ طور پر اپنی الیکشن مہم شروع کرچکی ہیں، اور یہ تینوں جماعتیں، خصوصاً تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) اس کا ٹیمپو ٹوٹنے نہیں دیں گی۔ اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس جماعت کا ہوم ورک بہتر ہے؟ پیپلز پارٹی سندھ، اور تحریک انصاف خیبر پختون خوا کی کارکردگی لے کر عوامی عدالت میں جارہی ہے۔ جب کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب، مرکز، بلوچستان، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے سیاسی ہوم ورک کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کی پنجاب میں صوبائی حکومت کو تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومتوں پر برتری حاصل ہے، جب کہ مرکز میں اپنی حکومت کا وہ بہت ایڈوانٹیج لے گی۔ مسلم لیگ(ن) کو تحریک انصاف پر ایک اور برتری یہ بھی حاصل ہے کہ اس کی تنظیم اندرونی انتشار کا شکار نہیں ہے، جب کہ تحریک انصاف کو اس محاذ پر خیبر پختون خوا حکومت پر تحریک انصاف کے باغی ٹولے اور عمران خان کے خلاف پارٹی کے بانی گروپ کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ تحریک انصاف فاؤنڈرز گروپ نے عمران خان اور خیبر پختون خوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے اور پارٹی قیادت کے خلاف اِن ہاؤس تبدیلی کی تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ الزام یہ ہے کہ عمران خان پارٹی امور چلانے اور پرویزخٹک کرپشن سے پاک حکومت چلانے میں ناکام رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے پارٹی کے اندر اربوں روپے کے فنڈ کی کرپشن کی عدالتی تحقیقات کا بھی مطالبہ کررکھا ہے۔ پارٹی کے اندر انتشار کے باعث عمران خان پریشان بھی ہیں اور پارٹی کو اپنے اس فیصلے سے آگاہ کرچکے ہیں کہ اگر پارٹی آئندہ انتخابات میں کامیاب نہ ہوئی تو وہ تحریک انصاف کی چیئرمین شپ کا عہدہ چھوڑ دیں گے۔ مسلم لیگ (ن) تحریک انصاف کے اندرونی انتشار سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتی ہے اور پوری تیاری کے ساتھ تحریک انصاف سے دو دو ہاتھ کرنے جارہی ہے۔
ملکی سیاست میں ایک بڑا محاذ ایم کیو ایم کے تنظیمی اور سیاسی بحران کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ22 اگست سے پہلے اور اس کے بعد کی متحدہ میں واضح فرق نظر آنا چاہیے۔ قومی اسمبلی میں الطاف حسین کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار اور ان کے ساتھیوں نے بھی اسمبلی میں اس قرارداد کی حمایت کی ہے۔ قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد میں پاکستان مخالف نعروں اور بیانات میں ملوث تمام افراد کے خلاف آئین اور قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرارداد کے الفاظ یہ ہیں:
’’یہ ایوان کراچی میں 22 اگست 2016ء کو بھوک ہڑتالی کیمپ کے موقع پر پاکستان مخالف نعرے لگانے اور لندن سے ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کے متنازع، اشتعال انگیز، پاکستان کی سالمیت کے خلاف تقریر کی مذمت کرتا ہے۔ میڈیا ہاؤسز پر حملوں کی یہ ایوان سخت مذمت کرتا ہے۔ یہ ایوان کسی بھی جانب سے ہر قسم کے جرائم، تشدد، دہشت گردی، پاکستان مخالف نعروں کی مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ تمام متعلقہ لوگوں کے خلاف آئین اور قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔ یہ ایوان پاکستان کی سالمیت، مسلح افواج، میڈیا، عدلیہ اور تمام جمہوری اداروں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔‘‘
ایوان میں قرارداد کو اتفاقِ رائے سے منظور کرلیا گیا۔ قرارداد کی ڈاکٹر فاروق ستار نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما کی حیثیت سے تائید کی، لیکن ڈاکٹر فاروق ستار کی متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے، اسمبلی میں حکومت کی جانب سے بہت ہی واضح طور پر یہ کہا گیا کہ وہ خود کو الطاف حسین سے الگ کرنے کا عملی ثبوت فراہم کرے۔ اب گیند ڈاکٹر فاروق ستار کے کورٹ میں ہے۔ انہیں اپنے عمل سے یہ بات ثابت کرنا ہوگی کہ وہ الطاف حسین کے ساتھ نہیں ہیں۔ متحدہ نے یہ بات سمجھ لی ہے کہ معاملہ بہت سنگین ہوگیا ہے، وہ اس وقت بھی مفاہمت کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے، کامیابی نہ ملنے کی صورت میں متحدہ الطاف حسین کی صاحب زادی افضا الطاف کو قیادت سنبھالنے کی قرارداد اپنی پارٹی میں پیش کرسکتی ہے۔
مسلم لیگ (ن) اور حکومت کے محاذ پر ایک نئی پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ جس طرح پیپلزپارٹی نے پانامہ لیکس تحقیقات کے لیے ایک بل سینیٹ میں جمع کرایا ہے اسی طرح حکومت نے بھی ایک بل قومی اسمبلی میں جمع کرادیا ہے۔ پاکستان کمیشن آف انکوائری بل 2016ء وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے پیش کیا ہے۔ حکومت نے اس بل میں تجویز دی ہے کہ پانامہ لیکس کے بجائے وسیع البنیاد تحقیقات کے لیے ایک کمیشن مقرر کیا جائے، اور اس کمیشن کو خصوصی ٹیم مقرر کرنے کا اختیار ہوگا، یہ کمیشن بین الاقوامی ٹیم مقرر کرسکے گا، دوسرے ممالک سے قانونی مدد کے لیے خط لکھ سکے گا، ٹی او آرز کے تحت کمیشن پانامہ لیکس اور دیگر معاملات کے حوالے سے تحقیقات کرسکے گا۔ یہ ایک نئی بحث کا آغاز ہے، اصل خبر یہ ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتیں چاہتی ہیں کہ یہ معاملہ سڑکوں پر ہی رہے، عدالتوں تک نہ پہنچے۔

Share this: