یوم آزادی، یوم دفاع اور کشمیر

Print Friendly, PDF & Email

پروفیسر شمیم اختر

14 اگست قیام پاکستان اور 6 ستمبر یومِ دفاعِ پاکستان کی حیثیت سے ہماری قومی نفسیات پر مرتسم ہوچکے ہیں۔ ان دونوں ایام کی اہمیت یہ ہے کہ ان میں عوام نے فعال کردار ادا کیا تھا، لہٰذا انہیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ 14 اگست ہمیں اُس تاریخی دور کی یاد دلاتا ہے جب برصغیر کے مسلمانوں نے مسلم اکثریتی علاقوں میں ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے قیام کے لیے جدوجہد کی تھی جو جزوی طور پر تو کامیاب رہی لیکن اس کے باوجود تشنہ رہ گئی، کیونکہ ریاست جموں وکشمیر ہنوز پاکستان کا حصہ نہیں بن سکی، جسے آزاد کرانے کی جدوجہد جاری ہے۔ پہلے تو یہ جدوجہد آئینی اور پُرامن تھی کیونکہ حکومتِ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حقِ خودارادیت دلانے کے لیے سلامتی کونسل کو اپنی قراردادوں کے مطابق مذکورہ ریاست کے بھارت یا پاکستان میں الحاق کے لیے عالمی تنظیم کی نگرانی میں رائے شماری کرانے پر زور دیتی رہی۔ ان قراردادوں کی منظوری کو 68 سال ہوگئے لیکن کونسل تادمِ تحریر ان پر عملدرآمد نہیں کرا سکی، جب کہ اس نے مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کی غیر مسلم آبادی والے علاقوں کو انڈونیشیا اور سوڈان سے علیحدہ کرانے میں ذرا تاخیر نہیں کی۔ چنانچہ عالمی برادری سے مایوس ہوکر اور بھارت کی قابض فوج کے ظلم و ستم سے تنگ آکر کشمیری عوام نے مسلح جدوجہد شروع کردی جو ستائیس سال سے جاری ہے۔ کشمیری عوام کی اس جدوجہدِ آزادی میں پاکستان کے عوام بھرپور حصہ لے رہے ہیں، جبکہ ان کے حکمرانوں نے استعماری طاقتوں کے دباؤ میں آکر کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں نہیں اٹھایا، کیونکہ 10 جنوری 1966ء اور 2 جولائی 1972ء کو بھارت سے کیے گئے بالترتیب تاشقند اور شملہ معاہدوں میں بھارت اور پاکستان نے کشمیر سمیت تمام متنازع امور کو دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے طے کرنے پر اتفاق کرلیا تھا۔ لیکن جب بھارت مذاکرات کرنے کو ہی تیار نہیں ہے تو پاکستان کے لیے سلامتی کونسل سے رجوع کرنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں رہ جاتا۔
جب کبھی بھارت پر عالمی برادری کا دباؤ پڑتا ہے تو وہ مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کردیتا ہے لیکن اس کے ساتھ ایسی شرائط عائد کردیتا ہے کہ وہ عمل بے معنی ہوجاتاہے۔ (1) بھارت کا مؤقف یہ ہے کہ وہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ سمجھتا ہے اور اپنی ریاستی حدود (جس میں کشمیر بھی شامل ہے) کی بنا پر پاکستان سے مذاکرات کے لیے تیار ہے، جبکہ ریاست کشمیر ہی تو فریقین کے مابین متنازع علاقہ ہے۔ اگر اسے بھارت کا صوبہ تسلیم کرلیا جائے تو مذاکرات کس بات پر ہوں گے؟ اس کے باوجود پاکستان نے اتمامِ حجت کے طور پر جب کبھی بھارت سے مذاکرات کیے تو بھارت نے کہا کہ کشمیر پر بھارت کا فوجی قبضہ ناقابلِ مذاکرات (NON- NEGOTIABLE) ہے۔ وہ تو سیاچن گلیشیر پر مفاہمت کے بعد مکر گیا۔ بھارت نے مسئلہ کشمیر پر مذاکرات سے فرار کی راہ اختیار کی ہوئی ہے جیسا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مصالحت کار GUNNER JARRING نے تنگ آکر کہا تھا: ’’جب کبھی ریاست جموں وکشمیر میں رائے شماری کا ذکر آتا ہے تو بھارت چراغ پا ہوجاتا ہے‘‘۔ یہ بات انہوں نے اُس وقت کہی تھی جب بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ مہاراجا جموں وکشمیر کا بھارت سے الحاق بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے، تو جناب یارنگ نے کہا تھا کہ چونکہ پاکستان اسے غیر قانونی کہتا ہے اس لیے اس کی آئینی حیثیت کے تعین کے لیے بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی رائے طلب کرنی چاہیے۔ لیکن بھارت نے اسے بھی مسترد کردیا۔
یوں بھی سلامتی کونسل نے بھارت کو1951ء میں جتا دیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی دستور ساز اسمبلی کو کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے کیونکہ سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق صرف اسے ہی ریاست جموں وکشمیر کے طول و عرض میں رائے شماری کرانے کا اختیار ہے۔
اس طرح بھارت کا مؤقف بین الاقوامی قانون کے صریحاً منافی ہے، جب کہ زمینی حقائق بھارت کے اس دعوے کی نفی کرتے ہیں کہ کشمیر کے عوام بھارت میں شمولیت کے حق میں ہیں۔ کیونکہ وہ 69 سال سے سلامتی کونسل کی نگرانی میں رائے شماری کے منتظر ہیں۔ اس انتظار میں دو نسلیں گزر گئیں اور اب تیسری نسل مایوس ہوکر سڑکوں پر نکل آئی ہے۔ اگر مذکورہ ریاست بھارت کے دوسرے صوبوں کی طرح ہوتی تو اس کے عوام پر Army Special Powers Act جیسا کالا قانون کیوں نافذ کردیا گیا جس کے خلاف شہری اور دیہی آبادی سر سے کفن باندھ کر بھارت کی قابض فوج کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی۔ جب حریت کانفرنس، جموں وکشمیر محاذِ آزادی اور دوسری پارلیمانی جماعتوں کو پُرامن احتجاج کی آزادی نہیں ہے اور ان کے پُرامن جلوسوں پر گولیاں چلائی جاتی رہی ہیں جس میں میرواعظ فاروق کے والد اور ان کے رفقا شہید کردیے گئے، سید علی گیلانی اور موجودہ میر واعظ عمر فاروق اور دیگر رہنماؤں کو نظربند اور قید کردیا جاتا ہے تو عوام کے سامنے مسلح بغاوت کے سوا اور کیا راستہ رہ جاتا ہے؟ کسی قابض فوج سے نہ تو مذاکرات کیے جا سکتے ہیں، نہ ہی اس کے خلاف پُرامن احتجاج ممکن ہے۔ کیونکہ وہ تو سیاسی زبان کے بجائے اسلحہ کی زبان استعمال کرتی ہے، لہٰذا عوامبھی اسی زبان میں اس سے بات کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں جیسے برہان مظفر وانی کو بندوق اٹھانے پر مجبور کردیا گیا۔ اس نے ایسا اس لیے کیا کہ وہ سیاسی رہنماؤں کا حشر دیکھ چکا تھا کہ ان پر دستورِ زباں بندی عائد کردیا گیا ہے۔ اس نے مقبول بٹ اور افضل گورو کو تختۂ دار پر لٹکتے دیکھا تو ایک غیرت مند محب وطن کی طرح غاصب فوج کے خلاف بندوق اٹھانے پر مجبور ہوگیا۔ یہی صورت حال تھی جس نے 1989ء میں محب وطن کشمیریوں کو جنگِ آزادی کی راہ دکھائی جسے جہادِ کشمیر کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے جو افرایشیائی لاطینی امریکی عوام نے اختیار کی اور اپنے اپنے وطن کو آزاد کرایا۔ انہیں بھی دہشت گرد کے لقب سے نوازا گیا تھا۔ چنانچہ Kenya میں Jomo Kennyata، الجزائر میں بن باللہ، صومالیہ میں فرح عدید، جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا، رہوڈیشیا (زمبابوے) میں رابرٹ مگابے اور کیوبا میں فیڈل کاسترو، ویت نام میں ہوچی منہ اور عوامی جمہوریہ چین میں ماؤزے تنگ نے مسلح جدوجہد کے ذریعے اپنے اپنے ملک کو نوآبادیاتی استعمار کے ناجائز قبضے سے آزاد کرایا۔ اگر یہ رہنما بیرونی فوجی قابضین سے مذاکرات کی بھیک مانگتے تو کیا وہ اپنے وطن کو آزاد کرا سکتے تھے؟ انہیں دہشت گرد اور انتہا پسند کہا گیا۔ کیا ہندوستان کی جدوجہدِ آزادی میں بھگت سنگھ، چندرشیکھر آزاد اور سبھاس (سبھاش نہیں) چندربوس نے برطانوی استعمار کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھایا؟ مسلح جدوجہد نہیں کی؟ کیا ان کو دہشت گرد، نراجی (Anarchist) نہیں کہا گیا؟ کیا نہرو، گاندھی نے سبھاس چندربوس کو نازی جرمنی اورجاپان کا ایجنٹ کہہ کر مسترد نہیں کیا؟ سچ تو یہ ہے کہ بھارت مہاتما گاندھی کے اہنسا اور نہرو کی لفاظی سے آزاد نہیں ہوا۔ اگر سبھاس چندربوس نے برطانوی ہند کی فوج کو سلطنت ہند کے خلاف بغاوت کرکے آزاد ہند فوج میں شمولیت کی ترغیب نہ دی ہوتی تو انگریز کبھی ہندوستان چھوڑ کر نہ جاتا۔ اس وقت نہرو خاندان اور مودی جو کچھ ہیں ان شہداء کے طفیل ہی راج پاٹ کررہے ہیں۔ پھر وہ کس منہ سے برہان وانی، صلاح الدین، ذکر الرحمن لکھوی اور دیگر سرفروشانِ وطن کو دہشت گرد کہتے ہیں؟ اگر یہ عظیم ہستیاں دہشت گرد ہیں تو سبھاس چندر بوس، بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد اور ان کی پیشرو جھانسی کی رانی اور جنرل بخت بھی دہشت گرد ہیں۔ پاکستان نے نہ صرف کشمیری عوام بلکہ فلسطین، الجزائر، تیونس، مراکش اور انڈونیشیا کے عوام کی جنگِ آزادی کی حمایت کی ہے جنہیں فرانسیسی، ولندیزی حکومتیں باغی، غدار، دہشت گرد کے نام سے موسوم کرتی تھیں۔
پھر کیا وجہ ہے کہ امریکہ اور بھارت کے کہنے پر پاکستان نے حزب المجاہدین، لشکر طیبہ اور جیشِ محمد جیسی عسکریت پسند تنظیموں کو دہشت گرد قرار دے دیا؟ یاد رہے پاکستان نے تو ریاست جموں وکشمیر کو بھارت کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے ستمبر 1965ء کی جنگ لڑی تھی۔ واضح رہے کہ پاکستان نے بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی نہیں کی تھی، یہ تو بھارت تھا جس نے 6 ستمبر کو لاہور پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جسے Operation Whisky کا نام دیا گیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت بھارت کی فوج کو لاہور سیکٹر پر حملہ کرکے اس شہر پر قبضہ کرلینا تھا جہاں اس کا جنرل چار بجے لاہور جیم خانہ میں مے نوشی کا پروگرام بنا چکا تھا۔ لیکن ’’الٹی ہوگئیں سب تدبیریں۔۔۔‘‘ اُس وقت پاکستان کے عوام فوج کے دوش بدوش وطنِ عزیز کی حفاظت میں اپنی جان کے نذرانے پیش کررہے تھے۔ کیا روح پرور سماں تھا، کیسا ولولہ تھا، کیا جذبۂ جہاد تھا، ساری قوم بقول فیلڈ مارشل ایوب اپنے سینوں میں کلمۂ توحید کی امانت لیے ہوئے تھی۔
آج پاکستان ایٹمی طاقت بن چکا ہے اور ناقابلِ تسخیر ہے۔ اگر وہ اس کے باجود تحریکِ پاکستان کو پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتا تو یہ بڑا المیہ ہوگا، کیونکہ قراردادِ پاکستان کی رو سے کشمیر اس کا جزوِلاینفک ہے۔

Share this: