توانائی کا بحران اور پیپلز پارٹی

Print Friendly, PDF & Email

سید تاثیر مصطفی

سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے پیپلزپارٹی کی سابقہ حکومتوں اور سندھ میں برسراقتدار پیپلزپارٹی کی موجودہ حکومت کی نااہلی، نالائقی، ناقابلِ معافی غفلت اور قابلِ مذمت مفاد پرستی کا اعتراف کرلیا ہے۔ یہ اعتراف بھی انہوں نے کھلے عام کیا ہے اور ساتھ ہی سابقہ زرداری حکومت اور سندھ میں قائم علی شاہ کی حکومت کو چارج شیٹ بھی کردیا ہے۔ اگرچہ سندھ میں عنانِ اقتدار انہیں چند ہفتے قبل ملی ہے لیکن وہ قائم علی شاہ کی صوبائی حکومت میں شریک رہے ہیں اور جناب آصف علی زرداری کے قریب سمجھے جانے والے صوبائی وزرا میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ سندھ میں رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے معاملے پر پیپلزپارٹی کے تحفظات اور دبی دبی مخالفت ومزاحمت کے نتیجے میں دبئی میں پیپلزپارٹی کی قیادت نے جب وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ سے استعفیٰ لینے اور یہ تاج سید مراد علی شاہ کے سر پر رکھنے کا فیصلہ کیا تو یہ اس بات کا بھی اعلان تھا کہ جناب مراد علی شاہ کو جناب آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو دونوں کا اعتماد اور آشیرباد حاصل ہے، ورنہ پیپلزپارٹی میں ان سے سینئر اور تجربہ کار رہنما موجود تھے جو اس عہدے کے امیدوار بھی تھے اور پارٹی کے اندر ان کے اپنے اپنے گروپ بھی موجود اور متحرک تھے۔ لیکن قرعۂ فال اس لیے سید مراد علی شاہ کے نام نکلا کیونکہ انہیں بلاول بھٹو کی حمایت اور آصف علی زرداری کی آشیرباد حاصل تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو تمام تر تجربے، سیاسی وابستگی، ماضی کی کارکردگی اور ایثار و جدوجہد کے باوجود اقتدار کا ہما کسی اور کے سر پر جا بیٹھتا۔
سید مراد علی شاہ نے یہ چونکا دینے والا انکشاف اور اعتراف کسی نجی محفل میں نہیں، پورے میڈیا کے سامنے کیا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے اپنے صوبے کے بجائے پنجاب کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا یا اتفاقاً ایسا ہوگیا، اس کا جواب تو صرف وہی دے سکتے ہیں۔ تاہم ان کے اعتراف اور چارج شیٹ نے سیاسی و صحافتی حلقوں میں کھلبلی مچادی ہے۔
لاہور پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس میں بطور مہمانِ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے اور اس بحران کا حل صرف صوبہ سندھ کے پاس ہے، کسی اور صوبے یا وفاق کے پاس اس بحران کا حل موجود نہیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایسے کوئلے کے 180 ہزار ٹن ذخائر صرف سندھ کے پاس ہیں جس سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور عالمی سطح پر اس کوئلے کی اس کوالٹی کو تسلیم بھی کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں قدرتی گیس کے جو ذخائر موجود ہیں ان کا 70 فیصد صرف سندھ میں ہے۔ یہ گیس بھی بجلی پیدا کرنے کا ایک بڑا ذریعہ اور توانائی کے بحران پر قابو پانے کا ایک راستہ ہے۔ اسی طرح سندھ کی ساحلی پٹی پر جو تیز ہوائیں چلتی ہیں وہ ونڈ انرجی کا بڑا ذریعہ ہیں۔ ایسی ہوائیں ملک کے کسی اور حصے میں میسر نہیں۔ صوبہ سندھ میں بحیرۂ عرب کی بدین سے کراچی تک کی ساحلی پٹی پر ونڈ انرجی کے منصوبے ملک کو اندھیروں سے نکال سکتے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان تینوں ذرائع یعنی گیس، کوئلے اور ہوا کے ذریعے 50 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر وضاحت کی کہ ان کا یہ دعویٰ اعداد و شمار اور ٹھوس حقائق کی بنا پر ہے، وہ خود انجینئر ہیں اور اپنے تجربے اور اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ بات کہہ رہے ہیں۔
جس وقت مراد علی شاہ یہ باتیں کررہے تھے، لاہور پریس کلب کا وسیع ہال صحافیوں سے بھرا ہوا تھا اور پورے ہال پر سکوت طاری تھا۔ بیشتر صحافی خوش تھے کہ ملک کو درپیش ایک بڑے اور سنگین بحران کا حل نکل آیا ہے۔ اب اندھیرے ختم، گھروں کی روشنیاں بحال اور صنعت کا پہیہ پوری رفتار سے چل پڑے گا۔ بعض نے تو دل ہی دل میں اللہ کا شکر بھی ادا کردیا۔ انہیں یقین ہوچلا تھا کہ جس بحران کے خاتمے کے لیے وزیراعظم دسمبر 2018ء کی ڈیڈلائن دے رہے ہیں، وزیرپانی و بجلی تاریخیں بدلتے بدلتے اتنے بے وقعت ہوچکے ہیں کہ اب نئی تاریخ ہی نہیں دیتے، اور وزیراعلیٰ پنجاب جو چھ ماہ میں اس بحران کے خاتمے کے دعوے انتخابی مہم کے دوران کررہے تھے وہ نندی پور پاور پراجیکٹ کی ناکامی کے بعد سے اب اس بحران پر نہ بات کرتے ہیں اور نہ ہاتھ مار کر ڈائس پر رکھے مائیک گراتے ہیں۔ لیکن ایک سینئر صحافی نے ایک لمحے بعد ہی ان کی ساری خوشی رفوچکر کردی۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے سوال کیا کہ جناب 2008ء سے 2013ء تک ملک میں پیپلزپارٹی حکمران تھی، وفاق اور سندھ میں پیپلزپارٹی برسراقتدار تھی، ایوانِ صدر میں جناب آصف علی زرداری موجود تھے، خیبر پختون خوا میں آپ کی اتحادی جماعت اے این پی اقتدار میں تھی اور بلوچستان میں زمام اقتدار پیپلزپارٹی کے اسلم رئیسانی کے ہاتھ میں تھی، مگر ملک میں توانائی کا بحران اپنی سنگین شکل میں موجود تھا۔ ہر دن اس بحران کی شدت میں اضافہ ہورہا تھا۔ یہی نہیں بلکہ اس معاملے پر پیپلزپارٹی کو پورے ملک میں گالیاں پڑ رہی تھیں، شہبازشریف جناب آصف علی زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے کے نعرے لگا رہے تھے اور مسلم لیگ (ن) اور دیگر اپوزیشن جماعتیں بجلی کے بحران پر سراپا احتجاج تھیں۔ شہبازشریف یادگارِ پاکستان پر دستی پنکھیاں لے کر بیٹھے ہوئے تھے، مسلم لیگ (ن) اس ایشو کو ایکسپلائٹ کرکے انتخابی مہم چلا رہی تھی اور پیپلزپارٹی تمام جتن کرکے بھی اس بحران سے نکل نہیں پا رہی تھی، اُس وقت آپ نے پارٹی کو یہ منصوبہ کیوں پیش نہیں کیا اور پارٹی کے دیگر اعلیٰ دماغوں نے ان خطوط پر غور کیوں نہیں کیا؟ اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ عوامیت کی دعویدار پیپلزپارٹی اور اُس کی قیادت نے سندھ میں موجود گیس اور کوئلے کے وسیع ذخائر اور تیز ہواؤں کی قدرتی نعمت کو استعمال میں لاکر اس بحران کوکیوں حل نہیں کیا؟ جب کہ اُس وقت بجلی کا کل شارٹ فال 4 سے 5 ہزار میگاواٹ کا تھا اور آپ کے دعوے کے مطابق 50 ہزار میگا واٹ بجلی بآسانی پیدا کی جاسکتی تھی۔ یہ آسان اور موجود راستہ اپنانے کے بجائے پیپلزپارٹی نے گالیاں کھانے اور انتخاب ہارنے کا راستہ کیوں اختیار کیا؟ جب کہ سندھ میں ذرائع موجود تھے، وفاق میں وسائل کی فراوانی بھی تھی اور وہاں صدر اور وزیراعظم دونوں پیپلزپارٹی کے تھے، ان میں کوئی اختلاف بھی نہیں تھا جس کی بنا پر اس منصوبے کے کھٹائی میں پڑنے کا خدشہ ہوتا۔ سندھ میں بھی اپنی ہی حکومت تھی۔ وہ دن رات ایک کرکے اگر 4 ہزار میگا واٹ بجلی بھی پیدا کرلیتی تو ملک اندھیرے سے نکل آتا، عوام سکون کا سانس لیتے، مخالفین ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ جاتے اور پیپلزپارٹی بآسانی نہ سہی، تو تھوڑی بہت محنت سے 2013ء کا انتخاب بھی جیت جاتی۔
اس سوال پر پورا ہال چوکنا ہوگیا۔ صحافیوں نے اپنے قلم اور کاغذ سیدھے کرلیے۔ خود شاہ صاحب کے چہرے کی رنگت تھوڑی سی بدلی، انہوں نے اپنی آنکھیں اِدھر اُدھر گھما کر اس موضوع پر ایسی طویل اور مشکل گفتگو کرڈالی جس میں اور تو سب کچھ تھا لیکن اس سوال کا جواب نہیں تھا۔ وہ یہ نہیں بتا سکے کہ ان کی حکومت کیوں
(باقی صفحہ 41پر)
یہ بجلی پیدا نہ کرسکی؟ ان منصوبوں پر کام کیوں شروع نہ ہوسکا، اور رکاوٹیں کیا تھیں۔
تقریب کے بعد سینئر صحافیوں نے اس معاملے پر اپنی رائے دی۔ بیشتر کا خیال تھا کہ مراد علی شاہ نے بجلی کے بحران کے حل کا یہ منصوبہ سادگی میں پیش کیا ہے، سنجیدگی سے نہیں، لیکن یہ عملاً پیپلزپارٹی کی حکومت کی نالائقی، نااہلی اور غفلت کا اعتراف بھی ہے اور آصف علی زرداری، یوسف رضا گیلانی، راجا پرویز اشرف، سید قائم علی شاہ اور پیپلزپارٹی کی دوسری قیادت کے خلاف فردِ جرم بھی۔ یہ چارج شیٹ چونکہ پارٹی کے اندر سے اور اس کے ایک انتہائی اہم رہنما کی جانب سے آئی ہے اس لیے پیپلزپارٹی کو اس کی وضاحت بھی کرنا چاہیے اور پالیسی بیان بھی دینا چاہیے۔
جس وقت مراد علی شاہ یہ باتیں کررہے تھے پیپلزپارٹی کے قمر زمان کائرہ، چودھری منظور، اسلم گل اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
میٹ دی پریس پروگرام میں مراد علی شاہ نے آصف علی زرداری کی وطن واپسی سے متعلق سوال پر تین مختلف اوقات بتائے۔ کالا باغ ڈیم سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کالا باغ ڈیم محض ایک دیوار کی تعمیرکے سوا کچھ نہیں۔ آپ وہاں دیوار کھڑی کرکے پانی روک لیں۔ عملی طور پر وہاں پانی پہلے ہی صوبوں کی ضرورت سے کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلاب اور بارشوں کے سوا ایسا پیریڈ بھی بار بار آیا ہے جب ایک قطرہ پانی بھی سمندر میں نہیں گرا۔ اکثر صحافیوں کا کہنا تھا کہ خیبر پختون خوا کے لوگ اس خوف کی وجہ سے کالا باغ ڈیم کے مخالف ہیں کہ یہاں جمع ہونے والے کثیر پانی کی وجہ سے نوشہرہ اور صوبے کے بعض دوسرے علاقے ڈوب جائیں گے، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ جو وزیرآبپاشی بھی رہ چکے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہاں پانی ہی نہیں ہے، اس لیے نہ یہ پانی پنجاب کو ملے گا اور نہ سندھ کو۔ گویا اب پنجاب بھی اس مطالبے سے دستبردار ہوجائے کیونکہ اسے بھی کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے۔

Share this: