توانائی کا بحران، نجکاری اور کرپشن

Print Friendly, PDF & Email

آج سے دس برس قبل یعنی 2006ء کے وسط میں فرائیڈے اسپیشل نے کراچی میں لوڈ شیڈنگ اور بجلی کے بحران کو سرورق کا موضوع بنایا تھا۔ یہ وہ وقت تھا کہ جنرل (ر) پرویزمشرف فوجی قوت و طاقت کے ساتھ ملک پر حکمران تھے، وہ مسلم لیگ (ن) سے ٹوٹی ہوئی سیاسی جماعت اور ایم کیو ایم کی مدد سے ’’جمہوری‘‘ حکمرانی کے مزے بھی لوٹ رہے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب کراچی میں بجلی کی بندش یعنی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ دو سے تین گھنٹے سے 12 تا14 گھنٹوں میں تبدیل ہوچکا تھا۔ ملک کا سب سے بڑا ساحلی شہر اور تجارتی و صنعتی دارالحکومت تاریکی میں ڈوب گیا تھا۔ یہ وہ واحد شہر تھا کہ جسے ملک کے باشندوں نے ’’روشنی کا شہر‘‘ کا نام دیا تھا، لیکن اکیسویں صدی میں بقول شخصے ’’قبل از مسیح‘‘ کا منظر پیش کررہا تھا۔ ملک کے سب سے بڑے شہر کو روشن رکھنے والے ادارے یعنی بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے ای ایس سی کی نجکاری ہوچکی تھی۔ کے ای ایس سی کی کارکردگی پہلے بھی قابلِ رشک نہیں تھی، لیکن نج کاری کے بعد بجلی کے بحران میں اتنا زیادہ اضافہ ہوگیا تھا کہ ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔ یہ ہنگامے اس کے باوجود تھے کہ کراچی شہر کے عوام کی نمائندگی رکھنے والی جماعت پورے صوبے پر حکمراں تھی۔ یہ شہریوں کی نمائندہ جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کا پس منظر بھی رکھتی تھی، اس لیے عوامی احتجاج کو اس نے طاقت سے کچلنے کی کوشش کی۔ اُس وقت کے ای ایس سی کی نجی انتظامیہ کے سربراہ نے بجلی کے بحران کے پس منظر میں اس کے اسباب اور علاج کے بارے میں شہریوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ کراچی میں بجلی کا بحران دور ہونے میں کم سے کم 2 سے 3 برس لگیں گے۔ آج اس بات کو دس برس سے زائد ہوچکے ہیں، لیکن بجلی کا بحران برقرار ہے۔ اُس وقت بھی یہ بات منکشف ہوگئی تھی کہ نجکاری سے ادارے کی کارگزاری میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ حالانکہ کے ای ایس سی کی نجکاری خود ایک بہت بڑا مالیاتی اسکینڈل تھا۔ اس کے باوجود کے ای ایس سی کے اُس وقت کے سربراہ نے عذرلنگ پیش کرتے ہوئے کہا تھاکہ بجلی کے بحران کی ذمہ داری کے ای ایس سی کی انتظامیہ پر نہیں بلکہ بجلی کی طلب میں اضافے اور کے ای ایس سی میں موجود نجکاری مخالف عناصر پر عائد ہوتی ہے۔ اُن کا اشارہ نجکاری مخالف مزدور تحریک کی طرف تھا۔ ہوسکتا ہے کہ کے ای ایس سی کی انتظامیہ کو نجکاری کے خلاف مزدور تحریک کی مزاحمت سے پریشانی ہو، لیکن ایسی ہر قسم کی مزاحمت ناکام ہوگئی، اس کے باوجود توانائی کا بحران ختم نہیں ہوا۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد یعنی 2008ء میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) بھی حکومت میں شامل ہوگئیں۔ وفاق اور سندھ میں پیپلزپارٹی اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) حکمراں تھی، اس کے ساتھ ایم کیو ایم اور اے این پی بھی اس نظام میں شامل تھے۔ اب وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اور سندھ میں پیپلزپارٹی حکمراں ہے، لیکن توانائی کا بحران جاری ہے۔ لوڈشیڈنگ کا جو بحران کراچی میں تھا وہ پورے ملک میں پھیل گیا۔ عوام کی نمائندگی رکھنے والی ساری سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی شکل میں حکومت کا حصہ ہیں۔ صرف بجلی کے بحران کی وجہ سے عوامی احتجاج پھوٹ پڑنے کے خطرات پیدا ہوئے، عوامی احتجاج تبدیلی کی قوتِ محرکہ بن سکتا تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ آج 2016ء میں بھی توانائی کا بحران اسی طرح قائم اور برقرار ہے۔ بجلی کا بحران اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ اس نے قومی زندگی کے مسائل میں مرکزیت حاصل کرلی ہے اور اب وزیراعظم میاں نوازشریف یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ وہ اپنی حکومت کے اختتام پر توانائی کے بحران پر قابو پالیں گے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کا حکمراں طبقۂ اشرافیہ عوامی مسائل کے بارے میں کتنا ’’سنجیدہ‘‘ ہے۔ اس وقت بدعنوانی اور کرپشن ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکے ہیں۔ بدعنوانی اور کرپشن کے تمام ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔ اب تو کرپشن اور قومی سلامتی کے درمیان تعلق بھی تلاش کرلیا گیا ہے۔ طویل مدت سے پاکستان میں بدعنوانوں کا احتساب قومی سیاست کا موضوع بنا ہوا ہے، لیکن بدعنوانی اور کرپشن میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ کرپشن اور بدعنوانی کا ایک مظہر کراچی سمیت پورے پاکستان میں بجلی اور توانائی کا بحران بھی ہے۔ اب وقت نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اس بحران کو تمام طاقتوں نے بڑھایا ہے۔ سب نے اس میں اپنا حصہ ڈالا ہے، خاص طور پر عوامی نمائندگی رکھنے والی جماعتوں نے خاموشی کے ساتھ عوامی مصائب کا تماشا دیکھا اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتی رہی ہیں۔ انھوں نے عوامی احتجاج کو زبان دینے سے گریز کیا اور کسی نہ کسی طرح عوام کے غم و غصے کو ٹھنڈا کیا اور اسے نتیجہ خیز بننے سے روکا۔ یہ کھیل ایک عالمی منصوبے کا حصہ تھا۔ اس عالمی منصوبے کا تعلق سامراجیت کے نئے چہرے یعنی گلوبلائزیشن سے ہے جس کا ایک ہتھیار نج کاری ہے۔ سرمایہ دارانہ سامراجیت کے سبز قدم جس خطے میں بھی گئے وہاں کرپشن اور بدعنوانی نے اپنے پر پھیلائے ہیں۔ نجکاری سے متعلقہ تمام فریقوں کو یقین ہے کہ نجکاری کا عمل واپس نہیں ہوسکتا، اس کی سب سے بڑی علامت کراچی اور کے ای ایس سی کی انتظامیہ ہے۔ اگر پاکستان کے طاقتور عناصر اور عوامی نمائندگی کا اختیار رکھنے والی سیاسی قوتیں مزاحمت کرتیں تو سب سے پہلے کے ای ایس سی کی نجکاری کو منسوخ کیا جاتا، وہ تمام منصوبے جو کاغذات میں موجود ہیں ان پر عملدرآمد کیا جاتا۔ لیکن چونکہ ملک کے وسائل کو عالمی سامراجی نظام کی چراگاہ بنادینا مقصود تھا اور اس مقصد کے لیے عوامی نمائندے بھی عوام کی نمائندگی کرنے کے بجائے اپنے مفادات کے اسیر ہوچکے تھے اس لیے آج پورا ملک عالمی سامراجی قوتوں کی چراگاہ بن چکا ہے۔ اس مقصد کے لیے بدعنوان عناصر کو سیاسی طاقت فراہم کی گئی ہے جس نے قومی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بدعنوان عناصر اور طبقات دوسرے بدعنوانوں کا احتساب کرسکتے ہیں۔۔۔؟

Share this: