مسلم سجاد یادو کی رو داد

Print Friendly, PDF & Email

ی رحلت کی خبر پیر 29 اگست 2016ء کو اچانک ملی تو نہ پوچھیے کہ دل پہ کیا کیا گزر گئی۔ دوستی و رفاقت کے نصف صدی سے زیادہ کوئی باسٹھ سال نظروں میں پھر گئے۔ لڑکپن، جوانی سے لے کر بڑھاپے تک کے بیسیوں مناظر تھے جو یادوں میں ابھر آئے۔ یادوں کا تو دریا ہوتا ہے موجیں۔ کنارا کوئی نہیں ہوتا۔ ایک ایک یاد ہمارے لیے تو قیمتی ہوتی ہے جیسے سیپ میں موتی۔
وہ گورنمنٹ اسکول جیکب لائن اور میں گورنمنٹ اسکول جہانگیر روڈ میں۔ میٹرک کے آخری سالوں کا زمانہ تھا جب وہ پہلے پہل آکر ملے۔ نہ کوئی دنیوی غرض و غایت نہ مطلب، بس دین الٰہی کی بات کی کہ ہم مسلمان ہیں تو، تقاضے کچھ ہیں۔ جمعیت وغیرہ کسی کا نام نہیں لیا۔ مگر ہاں پیغام وہی تھا۔ بس یہ دعوت دی کہ اتوار کو پی آئی بی کالونی میں درس قرآن کی محفل ہوتی ہے، کبھی آکر دیکھیں۔
میں اُس وقت لالوکھیت میں رہتا تھا اور وہ بیچ میں واقع خشک ندی کے دوسرے کنارے پی آئی بی کالونی میں۔ پی آئی بی کالونی میں ہی ایک بڑی جامع مسجد تھی جس سے متصل ایک اسکول مدرسۃ العلوم کے ہال میں جولائی 1954ء کی ایک اتوار صبح 10/9 بجے درس قرآن کی وہ محفل برپا تھی جہاں میں گیا۔ 30/25 لوگ، مختلف عمروں کے‘ بڑے ادب اور قرینہ سے اس درس میں شریک تھے۔ اس وقت کے مدرس (شاہد علی خان) کو دیکھا تو وہ بھی ماشاء اللہ کمال سادگی کا نمونہ! سفید قمیص، پاجامہ، کالی ٹوپی کے ساتھ کھڑاویں پہنے، بڑی سی رحل اور موٹا قرآن مجید سینے سے لگائے ہوئے پیدل آئے اور ختم محفل کے بعد اسی طرح واپس چلے گئے۔
اس وقت مسلم بھائی کے علاوہ اور سب سے بھی ملاقات ہوئی۔ تعارف، بات چیت۔۔۔ سب مل جل کر پیدل چلتے ہوئے ہاشمی مسجد کی طرف روانہ ہوئے۔ اس مسجد کے قریب ہی بنے مکانات میں سے کونے پر واقع وہ مکان تھا جس میں مسلم بھائی، ان کے والد صاحب، والدہ صاحبہ، بہن بھائی و دیگر رہتے تھے۔ درمیان راہ میں عبداللہ جعفر صدیقی صاحب کے گھر میں ایک تفصیلی نشست ہوئی۔ وہاں سے اٹھے تو ایک گلی کے بعد ہی کونے پر شیخ محبوب علی صاحب کا دومنزلہ مکان تھا۔ وہاں ان کے چھوٹے بھائی محمود اور مقصود بھی ملے۔ یہ پانچ دس منٹ کی بات تھی۔ رفتہ رفتہ پھر سب ایک دوسرے سے رخصت ہوتے چلے گئے۔
میری ان کی عمروں میں کوئی زیادہ تفاوت نہ تھا، وہ مجھ سے محض ایک آدھ سال چھوٹے تھے۔ 1956ء میں میٹرک کے بعد دونوں اس حساب سے آگے بڑھتے رہے، البتہ دائرے الگ ہوگئے اور ربط ضبط، ملاقات بھی کم ہوگئی۔ میں ادھر آرٹس کامرس وغیرہ کے حوالے سے اسلامیہ کالج آگیا، جب کہ مسلم بھائی

Share this: