عالمگیر آفریدی

Print Friendly, PDF & Email

13137زبِ اسلامی افغانستان (گلبدین حکمت یار گروپ) اور افغان حکومت کے درمیان طے پانے والے25 نکاتی امن معاہدے پر کابل میں ہونے والے دستخطوں کے بعد وہ تمام خدشات اور افواہیں دم توڑ گئی ہیں جو اس مجوزہ امن معاہدے کے حوالے سے پھیلائی جا رہی تھیں۔ اس امن معاہدے پر حزب اسلامی کی جانب سے حزب کے نمائندے انجینئر محمد کریم امین اور حزب کے سیاسی امور کے نگران اورگلبدین حکمت یار کے دستِ راست اور داماد ڈاکٹر غیرت بہیر، جبکہ افغان حکومت کی جانب سے افغان صدر اشرف غنی کے قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر اور افغان ہائی پیس کونسل کے سربراہ پیر سید احمد گیلانی نے دستخط کیے۔
واضح رہے کہ اس امن معاہدے پر بظاہر تو دو سالوں سے کام جاری تھا لیکن حزب کو سیاسی دھارے میں لانے اور اسے شمالی اتحاد کے سب سے مؤثر دھڑے اور موجودہ افغان ریاستی امور میں قائدانہ کردار کی حامل تاجک اسٹیبلشمنٹ اور اس کے سیاسی دھڑے جمعیتِ اسلامی کے لیے قابلِ قبول بنانے کے ساتھ ساتھ امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں کے لیے قابلِ قبول بنانے کے لیے اُس وقت سے کام ہورہا تھا جب حزب کے اہم راہنما اورگلبدین حکمت یار کے انتہائی قریب سمجھے جانے والے ڈاکٹر غیرت بہیر کو چند سال پہلے بگرام میں واقع امریکی عقوبت خانے سے رہائی ملی تھی۔ گو ڈاکٹر غیرت بھیر سمیت حزب کے دیگر راہنماؤں نے اُس وقت بھی اس تاثر کی سختی سے تردید کی تھی کہ ڈاکٹر غیرت بہیر کسی مفاہمت یا سیاسی ڈیل کے تحت رہا ہوئے ہیں، لیکن پھر بھی یہ لوگ اعتراض اٹھانے والوں کو اس حوالے سے مطمئن نہیں کرسکے تھے کہ اگر ان کی امریکہ کے ساتھ کوئی مفاہمت نہیں ہوئی ہے تو آخر انہیں کس دلیل کی بنیاد پر رہائی ملی ہے، اور ایسے حالات میں اس سوال کا جھٹلانا اور بھی مشکل ہوگیا تھا جب حزب کی قیادت کے سامنے یہ سوال رکھا جاتا تھا کہ اگر حزب گلبدین حکمت یار کی قیادت میں ایک طرف امریکہ اور افغان حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کررہی ہے اور اس کے قائد کے خلاف کئی مقدمات قائم ہیں اور انہیں مطلوب دہشت گردوں کی بین الاقوامی فہرست میں شامل کیا گیا ہے تو پھر امریکہ گلبدین حکمت یار کے داماد اور انتہائی قریب سمجھے جانے والے راہنما کو کیونکر رہا کرنے پر آمادہ ہوا ہے؟ دراصل یہی وہ سوال تھا جس کا جواب حزب کی قیادت سمیت کسی کے پاس بھی نہیں تھا۔ بعد میں جب کچھ عرصے تک حزب اور امریکہ یا افغان حکومت کے درمیان کوئی باضابطہ بات چیت سامنے نہیں آئی تو یہ تمام اعتراضات اور سوالات پس منظر میں چلے گئے تھے، لیکن جب گزشتہ سال پہلی دفعہ یہ باتیں منظرعام پر آنا شروع ہوئیں کہ حزب اور افغان حکومت کے درمیان امریکی آشیرباد سے ایک جامع امن معاہدے پر کام ہورہا ہے تب ایک بار پھر لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوالات اٹھنے لگے تھے کہ امن بات چیت کا یہ نیا سلسلہ دراصل غیرت بہیر کی امریکی قید سے رہائی کا ہی نتیجہ اور تسلسل ہے۔
بہرحال اس بحث سے قطع نظر یہ حقیقت اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہے کہ افغان حکومت اور حزب کے درمیان زیر بحث امن معاہدہ ایسے وقت میں طے پایا ہے جب ایک جانب افغانستان میں طالبان کا اثر ونفوذ مسلسل بڑھتا جارہا ہے اور خود اعلیٰ امریکی فوجی اہلکار اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ طالبان مختلف علاقوں اور شکلوں میں افغانستان کے کم از کم 10فیصد علاقوں پر قابض ہیں اور ان کی پیش قدمی اور فتوحات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، دوسری جانب یہ امن معاہدہ ایسے وقت میں طے پایا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کشیدگی کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں اور افغانستان میں بھارتی عمل دخل میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، ایسی صورتِ حال میں ایک ایسے پشتون سابق جہادی راہنما کے ساتھ جس کے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور یہاں کی مذہبی جماعتوں کے ساتھ قریبی دوستانہ تعلقات رہے ہیں، ایک ایسی افغان حکومت کیوں کر امن معاہدہ کرنے پر تیار ہوئی ہے جسے بظاہر حزب کی مسلح مزاحمت سے نہ تو بالواسطہ اور نہ ہی بلاواسطہ کوئی خاص خطرات لاحق تھے۔ اسی طرح ایک ایسی افغان حکومت میں جس کے آدھے حصے پر جمعیت اسلامی کا قبضہ ہے، جمعیت اسلامی مخالف اور اس کی ایک سخت حریف جماعت کے ساتھ ایک امن معاہدے پرافغان حکومت اور خاص کر جمعیت اسلامی کیوں کر راضی ہوئے ہوں گے؟ یہ ایک ایسا گنجلک اور پیچیدہ سوال ہے جس کا جواب فی الحال کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔ اس پر مستزاد یہ سوال بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ آخر امریکہ اس امن معاہدے پرکس دلیل کی بنیاد پر رضامند ہوا ہے؟
ان سوالات کے متعلق تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ اور افغان حکومت شروع میں تو تمام مزاحمتی قوتوں کو کرش کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا تھے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی ہے کہ مزاحمت کاروں کے ساتھ نہ تو ساری عمر جنگ کی جاسکتی ہے اور نہ ہی اس تھکا دینے والی جنگ کا آنے والے دنوں میں امریکہ اور افغان حکومت کے حق میں کوئی بڑا فائدہ برآمد ہوسکتا ہے۔ الٹا مزاحمتی قوتوں کو چونکہ افغان قضیے کے کئی بیرونی اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے حمایت اور آکسیجن ملنے کے واضح امکانات اورشواہد موجود تھے اس لیے امریکہ اور افغان حکومت کے لیے ایک بہتر راستہ یہی ہوسکتا تھا کہ ان مزاحمتی گروپوں کو مذاکرات کی میز کے ذریعے مسلح جدوجہد سے دستبردار کروایا جائے اور انہیں سیاسی راستہ دے کر سیاسی کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تو اس سے مزاحمت کا سانپ بھی مرجائے گا اور مفاہمت کی لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی۔
یہاں اس امر کی نشاندہی بھی مناسب ہوگی کہ موجودہ افغان سیٹ اپ میں حزب اسلامی کی مسلح مزاحمت کی پالیسی سے منحرف کم از کم دو سیاسی دھڑے پہلے ہی ہیں، جن میں ارغندیوال گروپ زیادہ مؤثر اور متحرک ہے جس کی نہ صرف افغان پارلیمان میں نمائندگی موجود ہے بلکہ اس گروپ نے گزشتہ صدارتی انتخابات میں جمعیت اسلامی کے صدارتی امیدوار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے ساتھ اتحاد کرکے حزب اور جمعیت اسلامی کے درمیان موجود تاریخی مخاصمت کے خاتمے اور سابق جہادی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کیاہے۔ واضح رہے کہ یہ جمعیت اور حزب ارغندیوال گروپ کے اتحاد کا نتیجہ ہے کہ حزب کے ایک اہم راہنما انجینئر محمد خان ڈاکٹر اشرف غنی کے ساتھ نائب صدر دوم کے اہم منصب پر فائزہیں۔ اسی طرح حزب کے اس دھڑے کو بعض صوبوں کی گورنری میں بھی حصہ دیا گیا ہے، جبکہ حزب کے بعض خودساختہ دھڑے ایسے بھی ہیں جو انفرادی طور پر بعض دیگر افراد کو ساتھ ملا کر خود کو حزب کے نمائندے اورنعم البدل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ایسے افراد میں کرزئی دور میں تعلیم کے وزیر فاروق وردگ، قاضی وقاد امین، وحید اللہ سباؤن، انجینئر مصطفی جواد، منشی عبدالمجید سابق گورنر بغلان، جمعہ خان ہمدرد سابق گورنر پکتیا اور ہائی پیس کونسل کے ترجمان اور رکن اولسی جرگہ مولانا شہزادہ شاہد کے نام زیادہ قابلِ ذکر ہیں۔
حزب کے ان سیاسی دھڑوں اور راہنماؤں کے علاوہ حزب کا ایک مؤثر دھڑا ایسا بھی ہے جو نہ تو موجودہ حالات میں مزاحمتی جدوجہد کے حق میں ہے اور نہ ہی انتخابی سیاست کو درست سمجھتا ہے۔ اس دھڑے نے اپنے وجود کو جمعیت اصلاح کے نام سے ایک فلاحی اور سماجی تنظیم کے طور پر متعارف کرایا ہے۔
حزب، افغان حکومت کے زیربحث معاہدے کا جہاں امریکہ نے خیرمقدم کیا ہے وہاں ایران اور پاکستان نے بھی اس معاہدے کو ایک بڑی اور خوش آئند پیش رفت قرار دیا ہے۔ اس طرح اگر دیکھا جائے تو افغان قضیے کے تقریباً تمام اہم فریقین اس معاہدے پر خوش ہیں، کیونکہ سابق جہادی راہنماؤں میں پروفیسر برہان الدین ربانی مرحوم کے بعد گلبدین حکمت یار ایک ایسے سابق جہادی راہنما ہیں جو نہ صرف سوویت یونین کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کے ہیرو رہے ہیں بلکہ یہ شاید واحد افغان راہنما ہیں جنہیں مختلف افغان دھڑوں بشمول جمعیت اسلامی، شورائے نظار، جنبش ملّی، محاذ ملّی، اتحاد اسلامی اور طالبان، حتیٰ کہ سابقہ کمیونسٹ پارٹی، پیپلزپارٹی، ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان کے خلق دھڑے اور شیعہ تنظیم حزب وحدت کے علاوہ برطانیہ، امریکہ، سعودی عرب اورایران جیسی خارجی قوتوں کے ساتھ بھی مشترکہ طور پر کام کرنے کا تجربہ رہا ہے۔ یہ بات بلاشک وشبہ کہی جاسکتی ہے کہ افغان جہاد کے زمانے میں حزب اسلامی کا شمار افغانستان کی نمائندہ اور مؤثر تنظیموں میں ہوتا تھا اور اس کے اثرات افغانستان کی تمام لسانی اور نسلی اکائیوں میں بلا تفریق پھیلے ہوئے ہیں۔ گلبدین حکمت یار نے پختون النسل ہونے کے باوجود کبھی بھی کسی بھی مرحلے پر خود کوصرف پختونوں تک محدود نہیں کیا بلکہ ان کی شناخت تمام افغان قوموں میں یکساں طور پر مقبول ہے۔ انہوں نے افغان حکومت کے ساتھ جو امن معاہدہ کیا ہے گو اس پر ان کے مخالفین سخت ناراض ہیں اور وہ ہرحال میں اس امن معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، لیکن یوں لگ رہا ہے کہ اس معاہدے کی تکمیل اور اس پر افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور حزب کے سربراہ گلبدین حکمت یار کے دستخطوں کے بعد ہی اس معاہدے کی کامیابی سے متعلق کوئی بات حتمی طور پر کہی جا سکے گی۔
یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ یہ معاہدہ خالصتاً ایک سیاسی نوعیت کا معاہدہ ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف گلبدین حکمت یار کو، بلکہ ان کی جماعت حزب اسلامی کو بھی افغانستان کی مین اسٹریم سیاست میں کردار ادا کرنے کا موقع مل سکے گا۔ اسی طرح یہ امن معاہدہ حزب کے ساتھ ساتھ افغان معاشرے، حتیٰ کہ افغانستان کے پڑوسیوں کے لیے بھی نیک خواہشات کا پہلو لیے ہوئے ہے۔ اسی طرح یہ معاہدہ افغانستان کے ایک پُرامن اور محفوظ مستقبل کی راہ ہموار کرنے میں بھی مددگار و معاون ثابت ہوگا۔ حرفِ آخر یہ کہ اگر یہ معاہدہ آگے جاکر برقرار رہتا ہے اور معاہدے کی رو سے گلبدین حکمت یار پر عائد کی گئی بین الاقوامی پابندیاں واقعتا اٹھائی جاتی ہیں اور انہیں کابل میں آکر پُرامن سیاسی جدوجہد کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں تو یہ یقیناًحزب اور حکمت یار کے ساتھ ساتھ افغان معاشرے اور افغانستان میں مثبت سیاسی سرگرمیوں کے فروغ اور سیاسی جماعتوں کے استحکام اور فعالیت کی جانب ایک اہم قدم ہوگا، جو نہ صرف افغانستان کے موجودہ سیٹ اپ اور مستقل امن کے لیے ضروری ہے بلکہ اس میں پورے خطے کے امن اوراستحکام کا راز بھی پنہاں ہے۔
nn

Share this: