(اخوند زادہ جلال نور زئی (شہدائے کوئٹہ کا چہلم

Print Friendly, PDF & Email

سانحہ8 اگست 2016ء (سول اسپتال خودکش دھماکا) کا غم بلوچستان میں ابھی تازہ ہے۔ حکومت نے اس حملے کی جامع تحقیق کے لیے عدالتی کمیشن قائم کیا ہے جو بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس جمال مندوخیل پر مشتمل ہے۔ تاہم وکلا تنظیمیں جوڈیشل کمیشن مسترد کرچکی ہیں۔ اورایک مربوط و منظم تحریک چلانے کی حکمت عملی پر غور کررہی ہیں۔ 23 ستمبر کو بلوچستان ہائی کورٹ کے احاطے میں شہید وکلا کے چہلم کی مناسبت سے تعزیتی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری، سابق چیئرمین سینیٹ فاروق ایچ نائیک، علی احمد کرد ایڈووکیٹ سمیت ملک بھر کے معروف وکلا اور وکلا تنظیموں کے رہنماؤں اور عہدیداروں نے شرکت کی‘ جہاں واقعہ کی سائنسی بنیادوں پر تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان اس سانحہ کا ازخود نوٹس لے چکی ہے۔ منگل 20 ستمبر کو چیف جسٹس جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ بینچ نے بلوچستان حکومت، چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کے لتے لیے۔ متاثرین کے وکیل حامد خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کی عدم توجہی کے باعث واقعہ کی اب تک انکوائری نہیں ہوسکی ہے، وقوعہ کے روز اسپتال میں داخلے پر سیکورٹی چیک اور ڈاکٹروں کی حاضری دکھانے کے لیے جعلی ریکارڈ بنایا جارہا ہے، چیف سیکرٹری بلوچستان تعاون نہیں کررہے۔ عدالت نے واضح کردیا ہے کہ اس کیس کو بہرحال اپنے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ چیف سیکرٹری سے رپورٹ اور سی سی ٹی وی فوٹیج طلب کرلی گئی ہے۔
عدالتوں میں 8 اگست سے ہفتہ 24 ستمبر تک وکلا کا بائیکاٹ جاری رہا۔ اب مکمل بائیکاٹ ختم کرتے ہوئے ہفتے میں دو روز منگل اور جمعرات کو عدالتوں میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا گیا۔ وکلا تنظیموں کو بہرحال احتجاج کا نیا راستہ نکالنے پر غور کرنا ہوگا کہ جس سے عام سائلین کو مشکلات درپیش نہ ہوں۔ تمام سیاسی جماعتیں اس غم اور المیے میں خود کو شریک سمجھتی ہیں چنانچہ ان کی احتجاجی تحریک مؤثر ثابت ہوگی۔
شہدا کے چہلم کی مناسبت سے بلوچستان میں مختلف تقاریب کا اہتمام ہوا۔ پشتون خوا ملّی عوامی پارٹی نے 19ستمبر کو صادق شہید فٹبال گراؤنڈ میں بڑا جلسہ کیا۔ پیش ازیں عوامی نیشنل پارٹی کی اپیل پر17ستمبر کو ہڑتال کی گئی اور 26 اگست کو بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب میں تعزیتی ریفرنس ہوا جس میں مختلف جماعتوں کے رہنما شریک ہوئے۔ یہاں حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، نیز حریف سیاسی جماعتوں پر بھی جملے کسے گئے۔ پشتون خوا میپ کے تعزیتی جلسے سے محمود خان اچکزئی نے صدارتی خطاب کیا اور کہا کہ ہمارا خطہ اور پشتون خوا وطن کئی سال سے آگ اور خون کے شعلوں میں جل رہا ہے اور سول اسپتال کا وحشت اور سفاکی پر مبنی واقعہ اس کا تسلسل ہے۔جس میں درجنوں وکلا، صحافی اور عام شہری شہید ہوئے، محمود خان اچکزئی نے یہ بھی کہا کہ ’’میں نے پارلیمنٹ میں وکلا کی شہادت کے واقعہ کے بعد صرف اتنا کہا تھا کہ کوئٹہ کے واقعہ کی تحقیقات اور اس میں ملوث دہشت گردوں تک پہنچنا ہمارے اداروں کے لیے ایک چیلنج ہے اور اس پر شور اٹھا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’پشتون خوا وطن گزشتہ چالیس سال سے جل رہا ہے۔ ہمارے عوام کے جان و مال کی کوئی قیمت نہیں۔ میں نے اس سنگین مسئلے پر پشتون سیاسی رہنماؤں مولانا فضل الرحمان، اسفند یار ولی، سراج الحق، آفتاب شیرپاؤ سے بار بار بات کی ہے کہ پشتون سیاسی و مذہبی زعماء، قبائلی رہنماؤں اور عوام پر بار بار دہشت گرد حملے کیوں ہورہے ہیں اور ہمیں مل بیٹھ کر اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا‘‘۔ محمود خان اچکزئی نے اپنی تقریر کے اختتام پر جلسے کے شرکاء سے حلف لیا۔ مجمع کھڑا ہوگیا اور محمود خان اچکزئی حلف کے الفاظ کہتے اور شرکا بآوازِ بلند وہ الفاظ ادا کرتے۔ حلف ان الفاظ پر مشتمل ہے:
’’میں ہوش و حواس میں اللہ پاک اور اپنے عوام کے سامنے وعدہ کرتا ہوں اور حلف لیتا ہوں کہ وہ سرزمین جو میرے بہادر آباو اجداد نے سینکڑوں ہزاروں سال سے اپنے معلوم اور نامعلوم ہزاروں شہید بچوں کی قربانی، محنت، ہمت اور سربازی سے ہم تک پہنچائی ہے جو اس وقت ہمارا مسکن اور مدفن ہے، کا احترام اور دفاع اپنی ماں کی طرح کروں گا۔ کسی حال میں بھی متانت، دیانت، شرافت، انسانیت اور امن و آشتی کا راستہ نہیں چھوڑوں گا اور دنیا کے تمام انسانوں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر انسانی رویہ رکھوں گا۔ ہر انسان، اس کے خاندان، اس کی زبان، رنگ، نسل، مذہب، رسم و رواج، رہن سہن، اور ملکی خود مختاری کا وہی احترام کروں گا جو میں اپنے ماں باپ، زبان، رنگ ونسل، مذہب، رسم ورواج، رہن سہن اور ملکی خودمختاری کے لیے اپنے دل میں رکھتا ہوں۔ ایک ایسے پاکستان کی تعمیر و ترقی اور مضبوطی کے لیے کوشاں رہوں گا جس میں کسی انسان کی انسان، کسی فرقے کی کسی فرقے، کسی قوم کی کسی قوم پر بالادستی اور جبر نہ ہو، اور یہ کہ اس ملک کا ہر شہری چاہے وہ مرد ہو یا عورت بلا امتیاز رنگ، نسل، زبان، دین، قوم اور مسلک اس ملک کی قدرتی نعمتوں میں برابر کے شریک اور حقدار ہو، اور یہ کہ تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہوں، اس ملک میں رہنے والے عوام اور اقوام کی تاریخی سرزمینوں میں پائی جانے والی نعمتوں پر اسی قوم اور اس کے عوام کے بچوں کا حق مقدم ہوگا اور اس کی آئینی ضمانت ہوگی، عوام کے ووٹوں سے منتخب پارلیمنٹ سیاسی طاقت کا سرچشمہ ہوگی، ملک کی خارجہ وداخلہ پالیسیاں عوام کی نمائندہ پارلیمان میں بنیں گی اور ملک کے باقی اداروں پر چاہے سول ہوں یا فوجی، ان کی پیروی لازم ہوگی، اور یہ کہ ملکی سیاست میں سول یا فوجی بیوروکریسی یا جاسوسی اداروں کا کوئی رول نہیں ہوگا۔ ملک میں بسنے والی اقوام کی زبانیں پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی اور سرائیکی قومی یونٹوں کی تدریسی، تعلیمی، کاروباری اور سرکاری زبانیں ہوں گی۔ پشتون خوا وطن سے متصل ٹکڑوں جنوبی پشتون خوا، خیبر پختون خوا اور اٹک میانوالی کو ایک صوبے میں یکجا کرکے اس کا نام افغانیہ، پشتون خوا یا پشتونستان رکھ دیا جائے گا۔ فاٹا میں وہاں کے عوام کی مرضی اور خواہش سے ایک ایسا جمہوری نظام وضع کیا جائے گا جو وہاں کے
(باقی صفحہ 41پر)
قبائل اور عوام اپنے لیے مناسب سمجھتے ہیں، قبائل کی مرضی کے خلاف ہر نظام کی مخالفت کی جائے گی۔ اپنے ملک پاکستان، اپنی مادر وطن پشتون خوا میں کسی قسم کی زور زیادتی، ظلم، ناروا قتل وقتال، نژادی، لسانی اور مذہبی دہشت گردی کی چاہے وہ کسی کی طرف سے ہو، حمایت نہیں کروں گا خدانخواستہ اگر یہ نام نہاد جمہوری حکومتوں یا فوجی اداروں کی طرف سے بھی ہو، بلکہ اپنی پوری طاقت سے اس کی مذمت کروں گا اور اپنی بساط اور طاقت کے مطابق اس کا راستہ روکوں گا۔ میں کسی حال میں بھی پاکستان کے عوام اور اقوام کی مرضی سے بنائے گئے آئین کی حدود سے ہٹ کر کیے گئے کسی اقدام کی بھرپور مذمت کروں گا اور اپنی طاقت اور بساط کے مطابق اس کی مخالفت کروں گا اور اس کا راستہ روکنے میں پاکستان کے جمہور اور جمہوری قوتوں کا ساتھ دوں گا۔ میں اپنے ملک پاکستان اور اپنی مادرِ وطن پشتون خوا اور اردگرد کے خطے میں امن اور بھائی چارے کی سیاست کو پروان چڑھانے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ بحیثیت انسان یہ ہر بندے کی خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ اس کا ملک، اس کا علاقہ اور اردگرد کا خطہ جنگ وجدل، برادر کشی، خون خرابے اور نئے زمانے کے دوزخی اور خطرناک اسلحوں کا میدانِ کارزار نہ بنے۔ اپنی پوری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی بساط کے مطابق اپنے ملک، علاقے، خطے اور اردگرد کے ماحول کو جنگ وجدل، قتل وقتال، خوان خرابے سے محفوظ رکھنے کی پوری پوری کوشش کروں گا، اور اگر خدانخواستہ ہماری تمام کوششوں کے باوجود جنگی جنونی، زور زیادتی کا راستہ نہیں چھوڑتے اور ہمارے ملک اور خطے کو جنگ کے شعلوں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں تو پھر میں یہ حلفاً کہتا ہوں کہ اپنے آباو اجداد کی طرح اپنی مادرِ وطن کی عزت اور وقار کی خاطر سر، تن، من، دَھن اور سب کچھ کو مادرِ وطن پر نچھاور کردوں گا۔‘‘

Share this: