کیا چِیتنے کا فائدہ

Print Friendly, PDF & Email

13159یر تقی میرؔ کے ایک شعر نے چکراکر رکھ دیا۔ شعر و ادب سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کے لیے تو اس شعر کا مفہوم پانی ہوگا، لیکن ہمارے اور شاید کچھ قارئین کے لیے بھی مشکل ہو۔ بہرحال شعر یہ ہے:
کیا چِیتنے کا فائدہ جو شیب میں چِیتا
سونے کا سماں آیا تو بیدار ہوا میں
دوسرا مصرع تو سمجھ میں آگیا۔ لیکن یہ چِیتنا اور چِیتا کیا ہے؟ ہم تو ابھی تک ایک ہی چیتے سے واقف تھے جو شیر کاچھوٹا بھائی اور بڑا خونخوار ہوتا ہے، لیکن شاعروں نے تو اپنے محبوب کی کمر کو بھی ’’چیتے کی کمر‘‘ قرار دے دیا۔ پہلے تو ہم سمجھے کہ شاید مشینی کتابت (کمپوزنگ) کی غلطی ہے، لیکن میرؔ کے دیوان میں بھی یہی چِیتا چھلانگیں مار رہا ہے۔ فیروزاللغات اور علمی اردو لغت، وارث سرہندی والی، میں تو یہ لفظ نہیں ملا۔ البتہ فرہنگ آصفیہ میں مل گیا۔
چِیتا (’چ‘ بالکسر) ہندی کا لفظ ہے اور مطلب ہے: ذہن، حافظہ، یاد، فہم، عقل، سمجھ، خیال۔ دوسرا مطلب ہے: گیان دینے والا، جتانے والا۔ تیسرا مطلب ہے: آرزو، تمنا ، شوق، خواہش۔ چنانچہ چِیتنا (فعل متعدی) کا مطلب ہوا: ہوشیار ہونا، متنبہ ہونا، جاگنا، سنبھلنا، سمجھ میں آنا، یاد کرنا، خیال کرنا، چونکنا۔ لیجیے، اتنے بہت سے مطالب ہیں لیکن اب یہ لفظ میرؔ کے شعر یا لغت ہی میں زندہ رہ گیا ہے۔ ’’شیب‘‘ کا مطلب تو علمی اردو لغت میں بھی مل گیا یعنی بڑھاپا، بالوں کی سفیدی (عربی)۔ میرؔ صاحب فرما رہے ہیں کہ ایسی سمجھ اور فہم کا کیا فائدہ جو بڑھاپے میں حاصل ہوئی۔ دوسرے مصرع کے مطابق سونے کا سماں آیا یعنی (جب عمر کی نقدی ختم ہوئی) مرنے کا وقت آیا تو میں بیدار ہوا۔ بہرحال، اس طرح ہمارے محدود سے ذخیرۂ الفاظ میں کچھ اضافہ تو ہوا، مگر شیب میں۔
پروفیسر غازی علم الدین صاحب، پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج، افضل پور، میر پور، آزاد کشمیر میں اردوکی شمع بلکہ فانوس روشن کیے ہوئے ہیں۔ اردو زبان و ادب سے خصوصی شغف ہے اور اس حوالے سے کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ ان کی کتاب ’’لسانی مطالعے‘‘ کے تین ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں اور بھارت میں بھی ’’مرتبہ ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی‘‘ کے عنوان سے شائع کی گئی ہے۔ کئی ممالک میں ان کے مضامین شائع ہورہے ہیں۔ کبھی کبھی ہمیں بھی اپنے مشوروں سے نوازتے رہتے ہیں۔ خلیفہ اوّل ابوبکْرصدیقؓ کی کنیت کے حوالے سے بتایا کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مردوں میں سب سے پہلے آپؓ نے اسلام قبول کیا اور اس وجہ سے ابوبکْر کا لقب حاصل کیا، یعنی پہل کرنے والا۔ صدیق اکبرؓ کا کوئی تعلق اونٹوں کی تجارت سے نہیں تھا بلکہ وہ کپڑے کے تاجر تھے۔
پروفیسر غازی علم الدین کو شکوہ ہے کہ ’علاوہ‘ اور ’سوا‘ میں فرق نہیں کیا جاتا۔ اس پر ہم بھی لکھ چکے ہیں۔ پروفیسر صاحب کا کہنا ہے کہ پروفیسر خورشید احمد جیسے عالم اور بڑے قلم کار سے بھی یہ سہو ہوجاتا ہے۔ ہمارے لیے استاد کا درجہ رکھنے والے ماہر لسانیات اور علمِ عروض کے ماہر جناب عزیز جبران انصاری ایک بڑا وقیع سہ ماہی ’’بیلاگ‘‘ شائع کرتے ہیں جس سے ہم باقاعدگی سے استفادہ کرتے ہیں۔ تازہ شمارے ’’جولائی تا ستمبر‘‘ میں اپنے ’’تیکھا کالم‘‘ میں ان سے بھی یہی سہو ہوا ہے۔ صفحہ 107 پر ان کا جملہ ہے ’’حرمین شریفین کے علاوہ پورے سعودی عرب میں کہیں بیس رکعتیں (تراویح) نہیں پڑھائی جاتیں‘‘۔ یہاں ’’علاوہ‘‘ کے بجائے ’’سوا‘‘ کا محل تھا ورنہ معنی بدل جاتے ہیں۔ ’’ان شاء اللہ‘‘ کو انشاء اللہ لکھنا بہت عام غلطی ہے۔ جب کہ قرآن کریم میں ان شاء اللہ آیا ہے اور اسے انشاء اللہ لکھنے کا مطلب ہے ’’اللہ کی انشاء‘‘ یا ’’اللہ کی انشاء نویسی‘‘۔ ان شاء اللہ کا مطلب ہے: جو اللہ چاہے۔ کم از کم اساتذہ کو ایسی غلطی سے بچنا چاہیے۔ عجیب بات ہے کہ اسی شمارے میں جناب نسیم سحر جیسے کہنہ مشق ادیب اور شاعر نے بھی یہی غلطی کی ہے (ص21)۔ صفحہ 22پر ایک اور دلچسپ جملہ ہے ’’سب اچھی افادیت رکھتی ہیں‘‘۔ حضرت، اگر اچھی افادیت ہوتی ہے تو بری افادیت بھی ہوتی ہوگی۔ ’’اچھی‘‘ کے بغیر بھی مفہوم واضح ہوجاتا۔ نسیم سحر ہم سے تھوڑے ہی سے بڑے ہیں اس لیے اسے خطائے بزرگاں گرفتن۔۔۔ کے زمرے میں نہ لایا جائے، اور حضرت عزیز جبران غالباً عمر میں ہم سے چھوٹے ہیں۔ ویسے بھی انہوں نے مذکورہ مضمون بیماری کی حالت میں لکھا ہے۔ اللہ انہیں صحتِ کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے۔ بہرحال تازہ شمارہ بھی بھرپور ہے اور ’’اچھی افادیت‘‘ رکھتا ہے۔ صفحہ 73 پر خوش گفتار اور اچھا مزاح لکھنے والے جناب مرزا عابد عباس نے اپنے شگفتہ مضمون میں لکھا ہے ’’ان سے دور پرے سے کوئی تعلق بھی نہیں ہوگا‘‘۔ حضرت، یہاں ’’پرے سے‘‘ کی جگہ ’’پرے کا‘‘ لکھنا چاہیے کہ روزمرہ یہی ہے۔ اسی طرح ’’غالب کی زمینوں پر طبع آزمائی‘‘ کی جگہ زمینوں میں طبع آزمائی بہتر تھا۔ معذرت کے ساتھ ’’مصرعہ‘‘ کا صحیح املا ’’مصرع‘‘ ہے۔ (صفحہ 105) اور یہ تو معلوم ہی ہے کہ مصرع کواڑ کے ایک پٹ کو کہتے ہیں۔
ہم بے دھیانی میں بیلاگ پر تبصرے پر اتر آئے۔ اس لیے بس کرتے ہیں۔ چلتے چلتے میرؔ صاحب کی مذکورہ غزل کا ایک شعر نذر قارئین:
جب دور گیا قافلہ تب چشم ہوئی باز
کیا پوچھتے ہو دیر خبردار ہوا میں
شاید دوسرے مصرعے کے سہارے منیر نیازی نے اپنی خوبصورت نظم کی بنیاد رکھی ہو کہ ’’ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں‘‘۔

Share this: