پروفیسر شمیم اختر

Print Friendly, PDF & Email

8 جولائی کو مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی قابض فوج کے ہاتھوں برہان مظفر وانی کا ماورائے عدالت قتل بارود میں چنگاری کے مترادف تھا، کیونکہ اس کے بعد مقبوضہ ریاست کے طول و عرض میں بغاوت کی آگ بھڑک اٹھی جسے بجھانے کے لیے قابض فوج نے جتنی طاقت استعمال کی وہ سرد ہونے کے بجائے پھیلتی چلی گئی۔ سڑکوں، گلیوں، کوچوں، بازاروں میں کشمیری زن، مرد، بچے بھارت کے انسانیت سوز ظلم کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔ انہیں منتشر کرنے کے لیے بھارت نے یہ حربے استعمال کیے:
-1 بستیوں پر کرفیو نافذ کردیا اور جب محصورین اشیائے خورونوش سے محروم ہوکر گھروں سے باہر نکلنے لگے تو بھارتی فوجیوں نے اُنہیں براہِ راست پیلٹ گنوں سے ہلاک، زخمی اور اندھا کرنا شروع کردیا۔
-2 مقبوضہ کشمیر میں اُڑی کے بریگیڈ ہیڈکوارٹر پر باغیوں کے حملے میں 18 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا الزام بھارت نے حسب معمول پاکستان پر عائد کردیا۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ادھر حملہ ہوا اور بھارت کے سرکاری میڈیا نے پاکستان کو مورد الزام قرار دے دیا۔
-3 ادھر بوکھلاہٹ میں نریندر مودی نے اکتوبر میں منعقد ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس میں نہ صرف شرکت سے انکار کردیا بلکہ اپنی زیر نگیں ریاستوں بھوٹان اور بنگلہ دیش کی جانب سے بھی جنوبی ایشیائی سربراہ کانفرنس میں شرکت سے انکار کردیا، گویا یہ دونوں ریاستیں بھارت کے مقبوضہ علاقے ہیں۔ ساتھ ہی نیپال پر بھی دباؤ ڈالنا شروع کردیا کہ وہ بھی اس کی پیروی میں پاکستان سے بگاڑ کرلے۔ یاد رہے گزشتہ سال بھارت نے ترائی میں آباد مدھیسی علیحدگی پسندوں کو نیپالی حکومت کے خلاف اکسایا تھا اور اس آزاد نیپالی ریاست کی ناکہ بندی کردی جس کے باعث وہاں کی آبادی مٹی کے تیل اور اشیائے صرف کی کمی کا شکار ہوگئی تھی۔ اگر اُس وقت نیپالی حکومت کے وزیر خارجہ کی درخواست پر عوامی جمہوریہ چین نے ہنگامی بنیادوں پر نیپال کو تیل اور خوراک فراہم نہ کی ہوتی تو وہاں کی آبادی فاقوں پر مجبور ہوگئی ہوتی۔ اسی طرح بھارت نے 1981ء میں سری لنکا میں فوج داخل کردی تھی جس کے خلاف تامل باغیوں اور اُس وقت کی رانا سنگھے کی حکومت نے مل کر مزاحمت کی اور اسے نکلنے پر مجبور کردیا۔ ماضی میں بھارتی فوج اور بنگلہ دیش کے فوجی دستوں میں سرحدی جھڑپیں ہوتی رہی ہیں اور بھارت آسام میں آباد بنگالی نژاد آبادی کو بے دخل کرکے انہیں بنگلہ دیش میں دھکیلتا رہا ہے۔ اِس وقت عوامی لیگ کی حکومت بھارت کے ساتھ ضرور ہے لیکن وہ قیامت تک تو برسراقتدار نہیں رہے گی، اور جونہی وہاں تبدیلی رونما ہوتی ہے تو آنے والی حکومت بھارت کے تابع نہیں رہے گی۔ اس سے میری مراد خطے کی دیگر ریاستوں کے ساتھ بھارت کے معاندانہ تعلقات کی وضاحت تھی تاکہ قارئین کو اندازہ ہو کہ بھارت کے تعلقات نہ صرف پاکستان بلکہ تمام ہمسایہ ممالک سے ناخوشگوار ہیں۔ مندرجہ بالاچند مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت سری لنکا، نیپال اور بنگلہ دیش کے خلاف وقتاً فوقتاً فوجی مداخلت کرتا رہا ہے، جبکہ 1971ء میں اس نے مشرقی پاکستان میں جاری شورش کے دوران حملے اور قبضے کے بعد اپنی سرپرستی میں علیحدگی پسندوں کو اس صوبے پر مسلط کرکے ایک علیحدہ ریاست کی حیثیت دے دی جسے پاکستان کے خود غرض حکمرانوں نے بڑی عجلت میں تسلیم کرلیا۔ ابھی حال میں نریندر مودی نے بنگلہ دیش کے دورے کے موقع پر اعلانِ اعتراف کیا کہ بھارت نے پاکستان پر حملہ کرکے بنگلہ دیش کو اس سے علیحدہ کیا تھا۔ میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور پانچوں بڑی طاقتوں سے سوال کرتا ہوں کہ کیا مشرقی پاکستان کی شورش میں بھارت کی فوجی مداخلت بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق تھی؟ کیا یہ ننگی جارحیت نہ تھی؟ اورکیا اس ننگی جارحیت کے نتیجے میں پاکستان کے اٹوٹ انگ مشرقی پاکستان کی علیحدگی قانوناً جائز تھی جسے بین الاقوامی برادری نے فوراً تسلیم کرلیا؟ اگر یہ نظیر قائم ہوگئی ہے تو اس کے مطابق پاکستان کو بھی یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر (جو متنازع علاقہ ہے) میں بھارت کی قابض فوج کے ہاتھوں جاری مقامی آبادی کے قتل عام کو روکنے اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے حریت پسندوں کی جانب سے اسی طرح فوجی مداخلت کرسکتا ہے جس کا نریندر مودی نے فخریہ اعتراف کیا ہے۔
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بھارت کی قابض فوج کی جانب سے 8 جولائی سے پُرامن احتجاجیوں پر جاری تشدد اور قتل عام کا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اپنے خطاب میں ذکر بھی نہیں کیا جبکہ اسے نوازشریف نے مقتولین، بینائی سے محروم اور دیگر متاثرین کی تصاویردکھائی تھیں۔ بان کی مون تو پاکستان کے دور افتادہ علاقے گوجرہ میں مسیحی بستی میں جرائم پیشہ عناصر کی شرمناک واردات اور آسیہ کی توہینِ رسالت قانون کے تحت نظربندی جیسے واقعات پر احتجاج کرتا رہا ہے، لیکن ڈیڑھ کروڑ انسانی آبادی کی قابض فوج کے ہاتھوں نسل کشی پر اندھا، گونگا اور بہرہ بن گیا ہے۔ کیا انسانیت کے خلاف دن دہاڑے ایسے جرائم کے شواہد اور ثبوت دیکھنے اور جاننے کے باوجود اس پر خاموشی اعانتِ جرم نہیں ہے؟ کیا یہ بان کی مون کا فرض نہیں کہ وہ تنازع کشمیر سمیت دیگر امور پر اپنی مصالحت کی پیش کش کو مسترد کرنے پر بھارت کی مذمت کرتا؟ بھارت کی جانب سے شورش زدہ مقبوضہ کشمیر میں حالات و واقعات جاننے کے لیے اقوام متحدہ کے کمیشن کو دورے کی اجازت نہ دینے پر اقوام متحدہ کی سیکرٹری جنرل کو اس کی سرزنش نہیں کرنی چاہیے تھی؟ کیا کشمیر میں کنٹرول لائن کی نگرانی کے لیے تعینات اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو نکالنے پر بان کی مون کو خاموشی اختیار کرنی چاہیے تھی؟ اگر مبصرین کو بھارت نے نکال باہر نہ کیا ہوتا تو وہ پٹھان کوٹ، بارہ مولا، اڑی پر حملہ کرنے والوں کی نشاندہی ضرور کرتے، اور اگر وہ پاکستان کو مورد الزام قرار دے دیتے تو بھارت کے الزام کی تصدیق ہوجاتی۔ لیکن مبصرین کی عدم موجودگی میں پاکستان یا بھارت کے دعووں کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی۔
افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ امریکہ پاکستان پر بھارت کے الزام کی تائید کرتا ہے اور اسے مقبوضہ کشمیر میں مبینہ دراندازوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کرتا ہے۔ پاکستانی حکومت کو یہ موقف اختیار کرنا چاہیے کہ جب تک سلامتی کونسل کا تحقیقاتی کمیشن جائے واردات کے معائنے کے بعد کوئی رائے نہیں د یتا، حکومت پاکستان کسی کی رائے کو تسلیم نہیں کرے گی خواہ وہ بان کی مون یا جان کیری یا کوئی اور پاٹے خان یا پھنے خان ہو۔ دراصل پاکستان کو دیوار سے لگانے کی یہ سازش ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو بدنام کرنے کے لیے اسے دہشت گردی قرار دے کر پاکستان کو دہشت گردوں کا سرپرست گردانا جائے تاکہ اس کے خلاف امریکہ پابندیاں عائد کردے۔ یہ نریندر مودی حکومت اور امریکہ کی سازش ہے لیکن اگر حکومتِ پاکستان ذرا جرأت سے کام لے تو امریکہ، سلامتی کونسل کی جانب سے پاکستان پر پابندی عائد کرنے میں ناکام ہوجائے گا۔ عوامی جمہوریہ چین نے دہشت گردی کی بنا پر لشکر طیبہ اور جیشِ محمد کے خلاف کارروائی کرنے سے انکار کردیا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ سلامتی کونسل میں ایسی کسی قرارداد کی حمایت نہیں کرے گا جس میں پاکستان کو دہشت گردی کا سرپرست قرار دیا جائے۔ بات بہت آگے چلی جائے گی اور شاید بعض مفاد پرست عناصر کو ناگوار بھی گزرے کہ میں ان کے آقا امریکہ کو دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد کہتا ہوں۔
امریکہ وہ ملک ہے جس نے دوسری عالمگیر جنگ کے بعد سے اب تک کم سے کم پچاس سربراہانِ ریاست و حکومت، وزراء اور سفراء اور جنرلوں کو سی آئی اے کے ذریعے قتل کرایا ہے یا ان پر قاتلانہ حملے کرائے ہیں۔ ان میں امریکہ کے سابق پٹھو بھی شامل ہیں۔ مثلاً جنوبی ویت نام کے صدر NGO DINH DIEM ‘ڈومنیکن ریپبلک کے صدر جنرل رافیل ٹروجیلو، ہیٹی کے آمر FRACOIS”PAPADOC” DUVLIER وغیرہ وہ رہنما اور آمر ہیں جن کو امریکی سی آئی اے نے جنم دیا اور اپنے اپنے ممالک پر چالیس چالیس سال تک مسلط کیے رکھا، البتہ جنوبی ویت نام کے آمر NGO DINH DIEM اتنے خوش قسمت نہ تھے جتنے ڈومنیکن ریپبلک اورہیٹی کے حکمرانٍ، لہٰذا انہیں جلد ٹھکانے لگادیا گیا۔ یہ پاکستان میں امریکہ کے پٹھوؤں کے لیے نوشتہ دیوار ہے کہ مبادا ان کے دن بھی گنے جاچکے ہوں، اور ہاں اوباما کو یاد تو ہوگا اس کی ریاست ٹیکساس میں کیوبا کا رسوائے زمانہ دہشت گرد اور قاتل POSSANIA CARRILES عیشکررہا ہے جبکہ اس نے 1976ء میں کیوبا کی ایئرلائن کے مسافر بردار طیارے کو ہائی جیک کرکے بم دھماکے سے اڑا دیا تھا اور ہوانا میں بے شمار بم حملوں اور دھماکوں میں سینکڑوں شہریوں کو ہلاک کردیا تھا۔ میں نے اکنامسٹ میں شائع شدہ ایک تصویر دیکھی تھی جس میں فیڈل کاسترو جریدے کے نمائندے کو دہشت گرد CARRILES کا فوٹو دکھا رہے تھے جو امریکہ میں رہائش پذیر ہے اور کیوبا حکومت کو مطلوب ہے۔ سنا ہے کہ صدر اوباما نے بڑی ہمت کرکے نصف صدی کے بعد کیوبا سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، تو کیا وہ مذکورہ دہشت گرد کو حکومتِ کیوبا کے حوالے کریں گے؟
میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر امریکہ ذکی الرحمن لکھوی اور اظہر مسعود کی حوالگی کا مطالبہ کرتا ہے تو اس کا فیصلہ نواز حکومت یا کوئی اور ادارہ نہیں بلکہ عدالتِ عظمیٰ کرے گی۔ اگر مغربی طاقتیں مقبوضہ کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی کی حمایت نہیں کرتیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ اس کا فیصلہ کشمیر کے عوام کریں گے نہ کہ اوباما، ہیلری کلنٹن یا بان کی مون۔ کیونکہ آزادی خیرات یا بھیک میں نہیں ملتی بلکہ لڑ کر حاصل کی جاتی ہے۔ ہم تو جانیں سیدھی بات، کشمری متنازع علاقہ ہے۔ نہ بھارت کا ہے نہ ہی پاکستان یا اوباما، کیری اور بان کی مون کا۔ اگر وہاں بھارت کی فوج گھس سکتی ہے تو پاکستان کی فوج نہ سہی پاکستان کے باشندے تو وہاں ضرور جائیں گے اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کے لیے۔ اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت کو بچانے کے لیے۔ کیونکہ پاکستانی اتنے بے غیرت نہیں ہیں کہ اپنے بھائیوں کا قتل عام اور اپنی بہنوں کی عصمت دردی کا دلسوز منظر دیکھیں اور خاموش رہیں۔
nn

Share this: