(مسئلہ کشمیر اور کل جماعی کانفرنس (میاں منیر احمد

Print Friendly, PDF & Email

لائن آف کنٹرول پر پیدا ہونے والی کشیدہ صورت حال کے جائزہ کے لیے وزیر اعظم نواز شریف نے کل جماعتی کانفرنس طلب کی جس کے بعد نہایت حساس بریفنگ ہوئی اور فیصلہ ہوا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں لائحہ عمل مرتب کیا جائے جو یک جہتی کل جماعتی کانفرنس کی صورت میں سامنے آئی تھی یہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے تحریک انصاف کے بائی کاٹ نے ختم کردی تحریک انصاف نے پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس کی کارروائی میں شریک نہیں ہوئی اور وزیر اعظم نواز شریف کے سامنے دو مطالبات رکھ دیے کہ وہ مستعفی ہوجائیں یا احتساب کے لیے خود کو پیش کردیں یہ فیصلہ پارٹی کے اہم اجلاس میں کیا گیا جس میں وائس چیرمین شاہ محمود قریشی، جنرل سیکریٹری جہانگیر ترین سمیت اہم رہنما شریک ہوئے بظاہر تو یہ فیصلہ تحریک انصاف نے کیا لیکن پارٹی کے بیشتر رہنماء اس فیصلے سے متفق نہیں تھے تحریک انصاف میں یہ سوچ بڑھ رہی ہے کہ شیخ رشید احمد پارٹی کو یرغمال بنا رہے ہیں شیخ رشید احمد کو جو کل جماعتی کانفرنس میں مدعو نہیں کیا گیا تو وہ اپنا مقدمہ لے کر عمران خان کے پاس پہنچے اور مطالبہ کیا کہ کل جماعتی کانفرنس کا بائی کاٹ کیا جائے اس مقصد کے لیے اخلاقی اور سیاسی حمایت مانگی لیکن تحریک انصاف نے کل جماعتی کانفرنس میں شرکت اور اب غیبی ہاتھ کے باعث تحریک انصاف نے دباؤ بڑھانے کے لیے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کردیاتحریک انصاف کا خیال ہے کہ نوازشریف اپنی کرپشن چھپانے اور پاناما سے بچنے کے لیے کشمیر مسئلہ کو استعمال کررہے ہیں تحریک انصاف کے بارے اب یہ بات راز نہیں رہی کہ وہ نومبرتک ایک خاص مقصد کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھاتی رہے گی‘ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا فیصلہ بھی سیاسی جماعتوں کے مطالبے کے باعث ہی کیا گیا تھا کل جماعتی کانفرنس میں بھی اس تجویز پر غور ہوا تھا جس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ، جمعیت علماء اسلام کے مولانا فضل الرحمان، پاکستان ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی،پی ایم ایل ایف کے صدر الدین راشدی، این پی پی کے غلام مرتضی جتوئی، اے این پی کے حاجی غلام احمد بلور‘ ایم کیو ایم پاکستان کے ڈاکٹر فاروق ستار، ڈاکٹر خالدمقبول، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن، قمر زمان کائرہ، حنا ربانی کھر، سید نوید قمر، شیریں رحمان، فرحت اللہ بابر‘ تحریک انصاف کے مخدوم شاہ محمود قریشی، شیریں مزاری، انجنیئر عثمان خان، جماعت اسلامی کے سینیٹر سراج الحق، صاحبزادہ طارق اللہ، این پی کے میر حاصل خان بزنجو، سردار کمال خان بنگلزئی، فاٹا کے ڈاکٹر غازی گلاب جمال، مسلم لیگ قاف سے کامل علی آغا نے شرکت کی وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ چوہدری علی نثار علی اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے وزیر اعظم کی معاونت کی وزیر اعظم کی معاونت وفاقی وزراء نے کی سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کو کشمیر اور لائن آف کنٹرول پر سکیورٹی کی صورت حال کے بارے میں بریفنگ دی اجلاس میں پاکستان کی مسلح افواج کے شہداء اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہید ہونے والے کشمیریوں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی ان تمام رہنماؤں نے حکومت کی کشمیر پالیسی کی حمایت کی اور اس بات سے اتفاق کیا کہ کشمیر کے تنازعے کا کوئی عسکری حل نہیں ہے‘ اقوام متحدہ میں وزیراعظم کا خطاب کو پاکستانی قوم کے جذبات نمائندگی قرار دیا گیا وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ اقوام عالم مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے ۔
اس اجلاس کے اگلے روز لائن آف کنٹرول کی موجودہ صورتحال پر غور کے لیے وزیر اعظم نواز شریف کی صدارت میں قومی سلامتی کمیٹی کا غیرمعمولی اجلاس ہوا وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید، چیفس آف جوائنٹ سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود، چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سربراہان، مشیر خارجہ سرتاج عزیز، معاون خصوصی طارق فاطمی، دفاع اور خارجہ امور کے سیکرٹریز شریک ہوئے ایل او سی پر بھارتی جارحانہ عزائم کے حوالے سے پاکستان کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا اور بعد میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹینٹ جنرل رضوان اختر نے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کی صورت حال پر سینٹ کی کمیٹی آف دی ہول کو بریفنگ دی ان کیمرہ اجلاس میں ارکان کے سامنے حساس معاملات پیش کیے گئے نریندر مودی کے بارے میں خیال تھا کہ وزیر اعظم بن جانے کے بعد وہ ماضی میں نہیں جائیں گے اور گجرات کی جانب دوبارہ نہیں دیکھیں گے لیکن پوری دنیا اب گواہ بن گئی ہے کہ نریندر مودی میں لیڈر والی ایک بھی خاصیت نہیں ہے بلکہ وہ ایک تعصب پسند انسان ہے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے پاکستانی حدود میں سرجیکل سٹرائیکس کے بھارتی دعوے کو جھوٹ قرار دیا ہے کہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کو ایسی کارروائی کا کوئی ثبوت نہیں ملا بان کی مون کے ترجمان اسٹفان ڈراجک نے کہا ہے کہ ’’اقوام متحدہ کے فوجی گروپ یواین ایم او جی آئی پی نے پاکستانی حدود میں بھارتی فوج کی فائرنگ کی آواز نہیں سنی‘‘اقوام متحدہ میں بھارت کے مندوب اکبردین نے بھی اظہار خیال کیا کہ زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے، لیکن یواین گروپ کی رپورٹ کو مسترد نہیں کرسکتا کیوں کہ گروپ براہ راست صورت حال کو مانیٹر کررہاہے امریکہ میں پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی نے سرجیکل اسٹرائیک بھارتی دعوے کو بے بنیاد قرار دیا ہے بھارت جس واقعہ کوسرجیکل سٹرائیک کا نام دے رہا ہے بھارتی فورسز کی یہ گولہ باری سرجیکل سٹرائیک کی تعریف پر پورا نہیں اترتی‘ اسے عالمی میڈیا اور بااثر ممالک نے بھی تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے آئی ایس پی آر نے بھی ملکی اور غیر ملکی میڈیا کو لائن آف کنٹرول پر لے جاکر ساری صورت حال براہ راست دیکھنے کا موقع دیا جن علاقوں میں بھارت کے اسٹرٹیجکل اسٹرائیک کا دعوی کیا تھا ان تمام علاقوں میں تعلیمی ادارے اور بازار بھی کھلے ہیں یہاں زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے لائن آف کنٹرول پر دی گئی اس بریفنگ کے اگلے روز بھارتی فوج نے پھر بلاجواز فائرنگ کی بلاشبہ ان دنوں لائن آف کنٹرول پر بھارت کے بلا جواز جارحانہ رویے کے باعث ہائی الرٹ کی صورت حال ہے اگر صورت حال کا تجزیہ کریں تو پاکستان ان دنوں ایل او سی کے حوالے سے جن مشکلات میں گھرا ہوا ہے یہ 2004 میں مشرف واجپائی کے مابین ہونے والے یک طرفہ امن معاہدے کا نتیجہ ہے مشرف دور میں جب واجپائی سارک کانفرنس کے لیے پاکستان آئے تھے تو
(باقی صفحہ 41پر)
جنرل پرویز مشرف نے ان کے ساتھ یک طرفہ معاہدہ کیا تھا کہ پاکستان اپنی سر زمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا اور بدلے میں بھارت سے اس معاہدے میں کوئی شرط نہیں منوائی گئی اسی معاہدے کے نتیجے میں بھارت نے لائن آف کنٹرول پر باڑھ لگانا اور مورچوں کی تعمیر شروع کی یہ معاہدہ آج تک ہمارے لیے پریشان کن صورت حال کا باعث بنا ہوا ہے حد تو یہ ہے کہ بھارت عالمی سطح پر اسی معاہدے کا سہارا لے کر اپنا موقف پیش کرتا ہے اس معاہدے کے لیے جنرل مشرف نے اپنے معتمد طارق عزیز کے علاوہ اپنے عسکری رفقاء کار سے مشورہ تک نہیں کیا تھاا سے قبل پرویز مشرف کے دباؤ پر وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے لائن آف کنٹرول پر تحمل اختیار کرنے کی پالیسی کا اعلان کیا تھا اس معاہدے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے اپنی مشرقی سرحد محفوظ کرلی اور افغانستان میں پاک افغان سرحد کے ساتھ ساتھ بلوچستان تک ’’را‘‘ کا جال بچھادیا جس کے انڈوں سے کل بھوشن جیسے بچے پیدا ہوئے شائننگ انڈیا کا خواب چکنا چور ہوجائے گا پاکستان کی نوجوان نسل ایک آزاد پاکستان میں پیدا ہوئی ہے اور بھارت کی غلامی زندہ نہیں رہنا چاہتی بھارتی حکومت کا حال ہے کہ بھارتی خود اندھیرے میں ہیں انہیں جو دکھایا جائے گا دیکھیں گے بھارتی ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے دعویٰ کیا کہ بھارتی فوج نے پاکستان کے اندر جاکر سرجیکل اسٹرائیک کی ہے اس آپریشن میں دو پاکستانی فوجی شہید ہوئے اس کے باوجود بھارت کی جانب سے گھڑی ہوئی سرجیکل سٹرائیک کی اس ساری کہانی پر سوالیہ نشان ہیں۔ بھارتی ڈی جی ایم کا کہنا ہے کہ اب ہم مزید سٹرائیکس نہیں کریں گے کیا بھارتی فوج میں اب پاکستان کے اندر جاکر حملہ کرنے کی مزید صلاحیت نہیں ہے ؟ در اصل یہ سارا ڈرامہ شاید اترپردیش میں چند ہفتوں بعد ہونے والے انتخابات جیتنے کے لیے رچایا گیا ہے اترپردیش میں نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کا بہت بڑا ووٹ بنک ہے اسے بچانے لیے جنگی جنون پیدا کرکے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال سے نظریں ہٹانا چاہتا ہے نریندر مودی نے پاکستان اور مسلمان مخالفت کی بناء پرالیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی وہ اپنی انتخابی مہم میں کشمیری حریت پسندوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کو سبق سکھانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں

Share this: