8 اکتوبر کو یاد رکھو۔۔۔!

Print Friendly, PDF & Email

13160ائن الیون کے پراسرار اور مشکوک واقعے کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ 8 اکتوبر 2016ء کو امریکی حملے کے 15 برس مکمل ہوگئے۔ امریکہ دنیا کو نائن الیون تو یاد دلاتا ہے مگر 8 اکتوبر کو بھلائے رکھتا ہے۔ لیکن 8 اکتوبر کو پاکستان کے شمالی علاقے میں آنے والا تباہ کن زلزلہ اور ایک انتباہ تھا۔ افغانستان پر امریکی قبضے کا منصوبہ بہت پہلے سے تیار تھا۔ امریکی عالمی جنگ برائے انسدادِ دہشت گردی یعنی ’’وار آن ٹیرر‘‘ انسانیت کے خلاف امریکی جرائم کی سب سے بڑی شہادت ہے جس میں پوری مغربی دنیا اور عالم اسلام کے حکمراں شریکِ جرم بن گئے۔ اس جنگ نے پاکستان کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔
جب سے یہ جنگ شروع ہوئی ہے اُس کے بعد سے امریکہ اور پاکستان سمیت دنیا کے تقریباً ہر ملک کی سیاسی، فوجی، انٹیلی جنس اور اقتصادی قیادت تبدیل ہوچکی ہے۔ اس جنگ نے پاکستان کے داخلی حالات کو بھی عالمی حالات سے منسلک کردیا۔ اس جنگ سے قبل پہلے امریکہ میں اور بعد میں اقوام متحدہ میں ’’دہشت گردی‘‘ کے نام سے قانون سازی شروع ہوچکی تھی۔ ’’دہشت گردی‘‘ ایک ایسی اصطلاح ہے جس کی آج تک کوئی مستند اور متفقہ تشریح سامنے نہیں آئی، البتہ اس جنگ کے نام پر دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیوں کو ناقابلِ احتساب اختیارات حاصل ہوچکے ہیں۔ اس جنگ نے سب سے زیادہ متاثر پاکستان کو کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اُس وقت کے فوجی آمر جنرل (ر) پرویزمشرف نے بغیر سوچے سمجھے، بغیر کسی اجتماعی مشاورت کے ’’امریکی فردِ جرم‘‘ کو تسلیم کرلیا اور پاکستان کو امریکی جنگ کا خطِ اوّل کا کرائے کا سپاہی بنادیا۔ یہ فیصلہ جنرل (ر) پرویزمشرف نے اس مؤقف کے باوجود کیا کہ وہ امریکہ سے مطالبہ کررہے تھے کہ اس بات کے ثبوت اور شواہد پیش کیے جائیں کہ نائن الیون کی منصوبہ سازی افغانستان میں بیٹھے ہوئے ایک مختصر سے گروہ کی کارستانی ہے۔ امریکہ نے پاکستان کو پتھر کے دور میں دھکیل دینے کی دھمکی دی اور اس دھمکی کو سن کر سیاسی اور عسکری قیادت کے منصب پر بیک وقت براجمان جنرل (ر) پرویزمشرف نے اطاعت قبول کرلی اور پاکستان کے قومی مفادات اور اقتدارِ اعلیٰ سے دستبرداری کی قیمت پر اپنے اقتدار کے بچاؤ کا فیصلہ کیا۔ جنرل (ر) پرویزمشرف کا استدلال یہ تھا کہ ہم نے اس طرح پاکستان کو بچالیا ہے، اگر ہم یہ فیصلہ نہ کرتے تو بھارت موقع سے فائدہ اٹھالیتا۔
آج 15 برس گزر جانے کے بعد پھر اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے اجتماعی اور انفرادی کردار کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ہے کہ امریکہ اور عالمی قوتیں آج تک دہشت گردی کی تعریف نہیں کرسکی ہیں۔ چونکہ یہ ایک نظریاتی جنگ بھی ہے جس کا تعلق صلیبی جنگ سے جاملتا ہے اسی لیے امریکی صدر بش نے ’’وار آن ٹیرر‘‘ کو ’’کروسیڈ‘‘ قرار دیا تھا۔ امریکی صدر بش نے ’’وارآن ٹیرر‘‘ کو جدید دور کی صلیبی جنگ قرار دے کر اس کی حقیقت عیاں کردی تھی، لیکن مسلمانوں کی سیاسی قیادت اور فکری رہنما اپنے دل کے چور کی وجہ سے اس حقیقت پر پردہ ڈالتے رہے۔ اس کی جڑیں بھی نوآبادیاتی دور سے منسلک ہیں جب غلامی کو فلسفۂ زندگی کے طور پر قبول کرلیا گیا تھا۔ آج وقت نے ثابت کردیا ہے کہ امریکی ’’وارآن ٹیرر‘‘ اصل میں فروغِ دہشت گردی کی جنگ ہے اور پوری دنیا اس آگ میں جھلس رہی ہے۔ پاکستان جو ایک پُرامن جزیرہ تھا آج دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ’’وار آن ٹیرر‘‘ کا اتحادی بننے کے بعد پاکستان میں سی آئی اے اور ایف بی آئی کو رسائی دے دی گئی جس کے بعد بلیک واٹر جیسی دہشت گرد تنظیموں نے پاکستان کے طول و عرض میں اپنی رسائی حاصل کرلی۔ ریمنڈڈیوس کی رنگے ہاتھوں گرفتاری اور رہائی ’’ٹپ آف دی آئس برگ‘‘ ہے۔ اس جنگ میں شمولیت کی وجہ سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور لاپتا افرادکا مسئلہ جیسے المیے سامنے آئے، ساتھ ہی پاکستان کی داخلی سلامتی کو خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔
پاکستان کے اقتدارِ اعلیٰ اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات کی سب سے بڑی علامت پاکستان کے داخلی سیاسی امور، انتخابات اور حکومت سازی میں امریکہ اور عالمی قوتوں کی کھلی مداخلت کی صورت میں سامنے آئی۔ پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت پاکستان کی داخلی سیاسی حرکیات اور کرپشن و بدعنوانی کے الزام میں جلاوطنی پر مجبور تھی۔ امریکہ، برطانیہ اور دیگر عالمی طاقتوں نے پاکستان کی فوجی قیادت کے ساتھ جلاوطن سیاسی قیادت کا سمجھوتا کرایا اور این آر او کے نام سے ایک ایسا قانون منظور کرایا جسے سیاہ قانون قرار دیا جاتا ہے۔ اس قانون کے تحت بدعنوانی اور دہشت گردی کے مجرموں کو پاک صاف کیا گیا۔ اس قانون کی منظوری سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اب پاکستان میں سیاسی عمل بھی آزاد نہیں رہا۔ اس کے اثرات ہمیں اپنی قومی اور سیاسی زندگی میں مسلسل نظر آرہے ہیں۔ ایک طرف پاکستان کے یہ داخلی حالات ہیں، دوسری طرف 15 برس تک امریکہ افغانستان میں ناٹو کے 40 ممالک کی فوجوں کے ساتھ افغانوں سے مسلسل جنگ کرتا رہا۔ یہ جنگ امریکی تاریخ کی طویل ترین اور مہنگی ترین جنگ ہے۔ افغانستان دنیا کا سب سے پسماندہ ملک ہے، اس ملک میں جدید ترین جنگی ٹیکنالوجی اور جاسوسی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔ اس جنگ میں امریکہ نے بغیر پائلٹ کے اڑنے والے جنگی جہازوں سے میزائل فائر کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ لیکن اسکے باوجود ان 15برس میں امریکہ اپنی فتح کا اعلان نہیں کرسکا۔ افغانستان میں امریکی شکست نے عالمی منظرنامے کو تبدیل کردیا ہے اور وزیراعظم میاں نوازشریف کے خصوصی پارلیمانی نمائندے سینیٹر مشاہد حسین سید نے امریکہ میں بیٹھ کر اعلان کیا ہے کہ اب امریکہ ’’سپرپاور‘‘ نہیں رہا۔ افسوس یہ ہے کہ پاکستانی قیادت اس بات کا اعلان نہیں کررہی ہے کہ عالمی حالات میں اس تبدیلی کا مرکز افغانستان ہے۔ یہ جہاد اور شہادت کے تصور کی برکت ہے جس کی وجہ سے افغانستان کے کمزوروں، غریبوں اور فقیروں نے اپنے ملک کو صرف ایک صدی میں تین سپرپاور کا قبرستان بنادیا ہے۔ اس تبدیلی نے پاکستان کے لیے امکانات کے دروازے کھول دیے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کی سیاسی، عسکری اور ذہنی قیادت امتِ مسلمہ کے مقصدِ وجود کا شعور حاصل کرے۔ یہ امت آخری امت ہے جو اللہ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کی وارث ہے، جس کا نصب العین روئے ارضی پر عدل کا قیام ہے جو شریعت اور نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کے بغیر ناممکن ہے۔ پاکستان کے لیے داخلی اور خارجی خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔ ہماری پوری تاریخ یہ بتاتی ہے کہ مسلمان کا تحفظ صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ وہ اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے پکڑ لے۔ جو لوگ سیکولرزم، جدیدیت اور روشن خیالی کے تصورات میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ جان لیں کہ اصل قوت و طاقت خالقِ کائنات اور ربِّ کائنات کے پاس ہے۔

Share this: