امان اللہ شادیزئی

Print Friendly, PDF & Email

ا13159ریکہ نے 7 اکتوبر2001ء کو افغانستان پر حملہ کیا۔ اب اس بات کو 15سال ہونے کو آرہے ہیں، لیکن اب تک امریکہ افغانستان میں طالبان کی جدوجہد پر قابو نہیں پاسکا ہے۔ اب ایک ڈرامائی تبدیلی یہ آئی ہے کہ حزب اسلامی نے حکومت سے صلح کرلی ہے، کیوں کی؟ اس پر فی الحال پردہ پڑا ہوا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ خود ہی ہٹ جائے گا اور بالآخر یہ راز کھل جائے گا۔ حزبِ اسلامی افغانستان میں جدوجہد کرنے والوں میں سب سے طاقتور اور بااصول جماعت تھی اور اینٹی امریکہ تھی۔ سعودی عرب سے اس کے تعلقات خوشگوار تھے جبکہ ایران سے کشیدہ تھے۔ اور جب اشرف غنی نے افغان امریکہ معاہدے پر دستخط کیے تو حزبِ اسلامی نے ایک سیاسی بیان جاری کیا، جس کا کچھ حصہ قارئین کی نذر ہے:
’’افسوس غلام حکومت کا سب سے پہلا قدم امریکہ کے ساتھ سیکورٹی معاہدے پر دستخط کرنا تھا۔ ہم اسے امریکہ کے ہاتھ افغانستان کو فروخت کرنے کا سرٹیفکیٹ سمجھتے ہیں۔ افغانستان میں امریکہ کی موجودگی کا مقصد جنگ کو طوالت دینے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ بیرونی قوتیں دراصل سلامتی و امن نہیں بلکہ جنگ کو طول دینا چاہتی ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ موجودہ افغان حکومت افغان عوام کے لیے کچھ کرنے کی صلاحیت و ارادہ نہیں رکھتی۔ یہ وہی سابقہ حکومت ہے جس کی بنیاد جرمنی کے شہر کولون میں رکھی گئی۔ ہم اپنے پیارے وطن کو آزاد اور خودمختار دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہماری تمنا ہے کہ ملکی نظام عوام کی مرضی کے مطابق ہو۔ اگر کوئی افغانستان کا عادلانہ نظام چاہتا ہے تو ہم اُس سے صلح و سمجھوتے کے لیے تیار ہیں۔ ہم ملک میں صرف اسلام کا نفاذ چاہتے ہیں۔ آزادی، امن و امان، حقیقی صلح اور سلامتی چاہتے ہیں۔ ہم نے اشرف غنی کو صلح و سمجھوتے کے لیے ایک ڈرافٹ بھیجا ہے اور انہوں نے بھی ہمیں کچھ تبدیلیوں کے بعد ڈرافٹ بھیجا ہے، اسے ہم نے بعض تبدیلیوں کے بعد قبول کرلیا ہے تاکہ اس جنگ کا خاتمہ ہو۔ اس میں اہم نکتہ بیرونی قوتوں کی ملک سے واپسی بھی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ معاہدے میں افغانستان سے بیرونی قوتوں کا مکمل اخراج ہو اور ملکی نظام مکمل طور پر افغان عوام کے سپرد ہو۔ ہمارے خیال میں حالیہ بحران کی شدت و طوالت کی بڑی وجہ ہی بیرونی قوتیں ہیں اور ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ بعض حکومتی ذمہ داران اپنا اقتدار مضبوط ہونے تک افغانستان میں بیرونی قوتوں کی بقا کے لیے امریکہ کی منتیں کررہے ہیں۔ بیرونی قوتوں کے حامی دراصل امن و سلامتی نہیں بلکہ جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں۔‘‘ (یکم جون 2015ء۔ معارف فیچر)
اسی مؤقف کا اظہار ملا عبدالسلام ضعیف نے نومبر 2014ء میں جنوبی افریقہ میں کیج افریقہ کی لانچنگ کے موقع پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن اور استحکام ہو تو امریکی افواج افغانستان سے نکل جائیں اور افغانستان کے معاملات یہاں کے لوگوں کے ہاتھ میں دے دیئے جائیں۔ ملا ضعیف حکومت کے ساتھ ہیں نہ طالبان کے ساتھ۔ وہ پاکستان میں طالبان حکومت کے سفیر تھے۔
ملا عبدالسلام ضعیف نے مزید کہا کہ: ’’یہ مضحکہ خیز بات ہے کہ امریکیوں نے افغانستان میں زبردستی سے کام لیا ہے اور معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں۔ انہوں نے شب خون مارکر افغانستان پر قبضہ کیا ہے۔ اب وہ دعوے کررہے ہیں کہ افغان سرزمین پر امن و استحکام چاہتے ہیں تو اس پر کون یقین کرے گا؟ انہوں نے افغانستان میں 13سال تک سفاکی کی ہے اور معاملات کو بگاڑا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ افغانستان کے وسائل پر اس کا اختیار ہو، اس لیے وہ حالات کو زیادہ سے زیادہ خراب کرنا چاہتا ہے تاکہ سیاسی قوتیں اس کی رہینِ منت رہیں اور وہ ان کے ذریعے افغان سرزمین پر اپنی مرضی کے مطابق کام کرتا رہے۔ طالبان نے امریکیوں کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے خودکش حملوں کی پالسیسی اپنائی۔ ایسا کرنا ناگزیر تھا۔ امریکہ اور اتحادیوں کے پاس جدید ٹیکنالوجی تھی۔ اس ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں سے کسی سطح پر مؤثر مقابلہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس لیے طالبان نے وہی کیا جو انہیں کرنا چاہیے تھا۔ طالبان اور امریکیوں کے درمیان ٹیکنالوجی کے حوالے سے زمین و آسمان کا فرق ہے۔ طالبان کے پاس دشمن کو نیچا دکھانے کے لیے ایک ہی راستہ تھا کہ خودکش حملوں کے ذریعے اپنے بھرپور جوش و جذبے اور قوت کا مظاہرہ کیا جائے۔ یہی انہوں نے کیا‘‘۔ ملا عبدالسلام ضعیف نے کہا کہ ’’طالبان کی صفوں میں امریکہ نے اپنے ایجنٹ بھرتی کیے ہیں جن کی بھرپور کوشش ہے کہ طالبان کے نام پر گھناؤنے جرائم کیے جائیں اور ان کو طالبان کے کھاتے میں ڈال دیا جائے۔ یہ حکمت عملی خاص طور پر بڑی کامیاب رہی ہے اور دنیا بھر میں طالبان کو ایک ایسی قوت کے طور پر پیش کیا گیا جو کسی بھی اصول اور تہذیبی اقدار کو نہیں مانتی اور صرف خون بہانے پر یقین رکھتی ہے۔ بہت کچھ الٹا سیدھا کیا جارہا ہے اور سب طالبان کے کھاتے میں ڈالا جارہا ہے۔ اور اس معاملے میں میڈیا کو بہت عمدگی سے بھرپور قوت کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے۔ ہم لاکھ بتائیں کہ ہم ایسے نہیں ہیں مگر کوئی ہماری بات سننے کو تیار ہی نہیں ہے۔ افغانستان میں میڈیا غیر جانب دار نہیں ہے کیونکہ امریکہ کی طرف سے غیر معمولی فنڈنگ کی گئی ہے۔‘‘
امریکہ کے حملے کو 15سال ہوگئے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ اور نیٹو کو کیا کیا نقصانات ہوئے ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے، پھر بھی وقتاً فوقتاً اس بارے میں اعداد و شمار آتے رہتے ہیں۔ اس کا بھی ایک مختصر سا جائزہ لیں گے۔
امریکہ کے غلام ملک برطانیہ کے نقصانات کا اندازہ یوں ہے:
’’افغان جنگ برطانیہ کو 37ارب پاؤنڈ میں پڑی ہے۔ یہ اعدادو شمار “Invest in Blood” نامی کتاب میں شائع ہوئے ہیں۔ اس کے مصنف فرینک لیج وج ہیں (30مئی 2013ء) اور تخمینہ40 ارب پاؤنڈ لگایا گیا تھا۔ اس جنگ میں برطانیہ کے 2600فوجی شدید زخمی ہوئے ہیں جن کے علاج پر خاصی رقم خرچ کرنا پڑرہی ہے۔ جبکہ 440فوجی مارے جاچکے ہیں ۔ افغانستان کی جنگ کے لیے مختص رقم 25ارب پاؤنڈ تھی جو تجاوز کرگئی ہے۔ زخمی فوجیوں کے اخرجات ایک ارب پاؤنڈ ہوں گے۔ ان زخمیوں کے علاوہ 5ہزار فوجی نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ ان پر اخراجات اس کے علاوہ ہوں گے۔‘‘
افغان جنگ مغربی حکومتوں کے لیے حلق کی ہڈی بن گئی ہے۔ مغرب میں یہ تاثر عام ہے کہ ایک بے مصرف جنگ کی بھٹی میں قیمتی وسائل جھونکے جارہے ہیں۔افغانستان میں مخالفین کے سر جھکانے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے مگر اب امریکہ کی ہمت جواب دے گئی ہے۔ امریکی ٹیکس دہندگان کا کہنا ہے کہ انہیں ہر سال افغان جنگ کے لیے 119ارب ڈالر کی قربانی دینا پڑ رہی ہے جبکہ اس جنگ سے کوئی حقیقی فائدہ بھی نہیں پہنچ رہا ہے۔ امریکہ میں یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ اس جنگ سے کیا حاصل ہوا ہے؟‘‘
(اکنامسٹ لندن 4فروری 2014ء)
اس جنگ کے نتیجے میں امریکی فوجیوں میں خودکشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق روزانہ 18 امریکی فوجی موت کو گلے لگا رہے ہیں۔ عراق میں جنگ لڑنے والے ہزاروں فوجی موت کو گلے لگا چکے ہیں۔ ان جنگوں میں امریکہ کے 6460 فوجی مارے جا چکے ہیں اور خودکشی کرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ عراق اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کی مشکلات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اور ان میں نفسیاتی دباؤ خاصا بڑھ گیا ہے۔ عام شہریوں کے مقابلے میں سابق مرد فوجیوں میں خودکشی کا رجحان بڑھ گیا ہے اور وہ آتشیں اسلحہ سے موت کو گلے لگا رہے ہیں، جبکہ سابق خواتین فوجیوں میں خودکشی کا رجحان تین گنا زیادہ ہے۔
اب عراق اور افغانستان سے واپس آنے والے فوجی عجیب و غریب الجھنوں کا شکار نظر آتے ہیں۔ ان کی نفسیاتی ساخت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ امریکہ محکمہ دفاع سابق فوجیوں کی مایوسی دور کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اب عراق اور افغانستان میں جنگ لڑنے والے فوجی ذہنی امراض لے کر واپس لوٹ رہے ہیں۔ انہیں نارمل شہری کی حیثیت سے معاشرے میں ضم کرنا بہت مشکل ہورہا ہے، اور یہ فوجی ان کے لیے ایک چیلنج بن گئے ہیں۔ فوج کا مورال گرتا جارہا ہے۔ میدانِ جنگ میں بار بار تعیناتی کے مرحلے سے گزرنے کے بعد ان کی زندگی میں پیچیدگیاں زیادہ پائی جاتی ہیں۔ ان فوجیوں میں زندہ دلی کا عنصر برائے نام جبکہ مایوسی زیادہ ہوتی ہے۔
میدانِ جنگ سے جب فوجی واپس آتے ہیں تو وہ کسی پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اس لیے مارے جانے والے فوجیوں کی تصاویر اخبارات میں شائع نہیں کی جاتیں اور تابوت کھولے نہیں جاتے۔
(نیوزویک۔ 8جون 2012ء)
ایک اور رپورٹ کے مطابق ہر سال ساڑھے چھے ہزار سے زائد سابق امریکی فوجی خودکشی کررہے ہیں، ہر 80 منٹ میں ایک سابق امریکی فوجی دنیا سے رخصت ہو رہا ہے۔
امریکہ میں جان سے ہاتھ دھونے والے فوجی کے عوض امریکہ میں 25 سابق فوجی خودکشی کے ذریعے دنیا سے جارہے ہیں۔ ان خودکشی کرنے والے فوجیوں کی تعداد اس طرح ہے:
فضائیہ کے 55، بحریہ کے 39، میرین کور کے 32 اور کوسٹ گارڈ کے 5 اہلکار۔ یہ اعدادو شمار 6 ماہ کے ہیں۔
یہ اس جنگ کا نتیجہ ہے جو امریکہ اور نیٹو نے افغانستان میں برپا کی ہے اور اس کے بھیانک نتائج امریکہ نے بھگتے ہیں۔ اب وہ مزید افغانستان میں رہتا ہے تو اس کے نتائج پہلے سے زیادہ اس کو بھگتنا پڑیں گے۔
nn

Share this: