حبیب الرحمن

Print Friendly, PDF & Email

 ہ دل کو رویا جا سکتا ہے اور نہ ہی جگر کو پیٹا جا سکتا ہے۔
اس لیے حیرانی بجا ہے کہ کیا کیا جائے!
سفاکی تو ہم میں ہے ہی، ساتھ ہی ساتھ ہم چالاک اتنے ہیں کہ جرم کرنے کے بعد ہر قسم کے ثبوت مٹا دیتے ہیں۔
لیاقت علی خان کو گولی مار دی جاتی ہے، اسی کے پیچھے کھڑے سپاہی کے ذریعے قاتل کو بھی قتل کردیا جاتا ہے۔۔۔ کہانی ختم۔
بے نظیر پر خودکش حملہ ہوتا ہے، سڑکیں دھودی جاتی ہیں۔۔۔ کہانی ختم۔
رینٹل پاور کیس کے تفتیشی افسر ’’فیصل کامران‘‘ کو راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔۔۔کہانی ختم۔
کل ہی اُس انسپکٹر کا قتل ہوجاتا ہے جس نے ماڈل ’’ایان علی‘‘ کو 5 لاکھ ڈالر کی کرنسی اسمگل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا۔۔۔ کہانی ختم۔
بانسری کو بجنے سے روکنے کے لیے ضروری ہے کہ بانس کو نہ رہنے دیا جائے۔۔۔ ورنہ بانسری تو بجے گی۔
صولت مرزا سے بہت اہم راز اگلوا لیے جاتے ہیں، اس سے قبل کہ اس کو عدالت میں پیش کیا جاتا، ’’لٹکا دیا‘‘ جاتا ہے۔ بیانات کی اہمیت ختم، اس لیے کہ کسی کا بیان قلم بند ہوجانے کی اُس وقت تک کوئی اہمیت نہیں ہوتی جب تک عدالت جرح کے بعد اس کے درست ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق نہ کرلے۔ بیان دینے والا ختم۔۔۔ کہانی ختم۔
عمران فاروق قتل کے سلسلے میں دو مطلوبہ افراد 2010ء سے حکومتی تحویل میں ہیں، روز سنتے ہیں کہ وہ بس اب برطانیہ کے حوالے ہوئے، وہ جیل کے جیل میں رہ جائیں گے اور۔۔۔ کہانی ختم۔
معظم علی کی چٹنی بنی ہوئی ہے، کبھی چوبیس گھنٹے میں، کبھی اڑتالیس گھنٹے میں اور کبھی آئندہ چند دنوں میں اس کو بھی برطانیہ کے حوالے کردیا جائے گا۔۔۔ لیکن۔۔۔ یہی راگ الاپتے الاپتے وقت گزر جائے گا۔۔۔اور۔۔۔ کہانی ختم۔
کراچی کے اس سانحے میں جس میں ایک دو نہیں، سیتالیس افراد نہایت بے دردی کے ساتھ قتل کردیئے گئے، مذاق یہ ہے کہ قاتلین کا پتا نہیں چل سکا لیکن ’’ماسٹر مائنڈ‘‘ گرفتار، آرمی چیف سے لے کر ملک کی اعلیٰ قیادت دادو تحسین کے ڈونگرے برسا رہی ہے اور پولیس کو ہوا بھر رہی ہے، قاتلین آج تک نہیں پکڑے جا سکے اور شاید کبھی ایسا نہ ہوسکے، ماسٹر مائنڈ بھی ختم کردیئے جائیں گے یاختم ہوجائیں گے۔۔۔ اور۔۔۔ کہانی ختم۔
بلدیہ ٹاؤن کے سانحے کی ایک JITپر ایک اورJITبنا دی گئی، پودا لگا دیا گیا، آخر اس کو شجرِ سایہ دار بننے میں وقت تو لگے گا، اور جب تک وہ گھنا درخت بنے گا اُس وقت تک۔۔۔ کہانی ختم۔
بلوچستان میں بیس غریب مزدوروں کو قتل کردیا گیا، سب کی دوڑیں لگ گئیں، بہت ہاؤہو مچی۔۔۔ لیکن۔۔۔ کچھ دن بعد۔۔۔ کہانی ختم۔
چند روز قبل کوئٹہ کے قریب بیس پشتونوں کوبس سے اتار کرگولیوں سے بھون دیا گیا، پوری حکومت ہل کر رہ گئی، وقت کے ساتھ ساتھ زخم مندمل ہوتے چلے جائیں گے ہمیشہ کی طرح۔۔۔ اور۔۔۔ کہانی ختم۔
ریمنڈ ڈیوس نے دن کی روشنی میں نہایت سفاکی کے ساتھ ایک پُررونق سڑک پر دو پاکستانیوں کو بھون ڈالا۔۔۔ ’’خوں بہا‘‘ کا سہارا لے کراس کو ملک سے باہر نکال دیا اور ساتھ ہی ساتھ مرنے والوں کے سارے خاندان کو بھی بیرون ملک منتقل کردیا۔۔۔ کہانی ختم۔
قصور میں کمسن بچوں کے ساتھ کیا کیا کچھ نہیں ہوا! پوری دنیا میں کیسی کیسی جگ ہنسائی ہوئی۔۔۔ لیکن۔۔۔ اس تمام معاملے کو زمین کے تنازعے کی کہانی بناکر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن کردیا گیا۔۔۔ کہانی ختم۔
پینتیس کھرب روپے کا سونا اسمگل ہوگیا۔ کہا گیا کہ وہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں ان کے خلاف کارروائی ہوگی (چودھری نثار)۔۔۔ نہ کارروائی ہوئی اور نہ ہی سونا واپس آیا۔۔۔ حد یہ ہے کہ اس کے بعد کوئی خبر آئی ہی نہیں۔۔۔ کہانی ختم۔
دو ارب روپے ایک وزیر کے گھر سے برآمد ہوئے۔ صاحب ملک سے فرار ہو گئے۔ پھر کیا ہوا۔۔۔ کہانی ختم۔
سندھ کے کسی وڈیرے کے گھر کی زمین کھودی گئی، صرف دو سو کلو سونا برآمد ہوا۔ نہ وڈیرے کا نام اور نہ ہی یہ معلوم ہوا کہ سونے کا کیا بنا۔۔۔ کہانی ختم
چھوٹو اور چھوٹوگینگ کا معاملہ سر چڑھ کر بولا۔ پوری دنیا میں ایک ہنگامہ برپا ہوگیا، نہ جانے کتنے پولیس والے ماردیئے گئے اور کتنے اغوا ہوئے۔ مضبوط اتنا تھا کہ رینجرز بھی نہیں، فوج بلانا پڑی، فوج بھی کئی دن بعد اس کو پکڑ سکی اور وہ بھی فضائی حملوں اور ٹینکوں کا سہارا لے کر۔ پھر کیا ہوا، وہ اور اس کو ’’چھوٹو‘‘ سے اتنا ’’موٹو‘‘ بنانے والوں کے نام سامنے آئے؟ اس کو اور اس کو طاقتور بنانے والوں کو سزا ہوئی؟۔۔۔ کہانی ختم۔
ڈاکٹر عاصم کی شہرت کو اتنا اچھالا گیا کہ فرشتوں میں بھی اسی کے چرچے ہونے لگے۔۔۔ لیکن۔۔۔ لگتا ہے یہ۔۔۔ کہانی بھی ختم۔
اینٹ سے اینٹ بجانے والوں کی نہ تو اینٹ بج سکی اور نہ ہی ان کی، جن کی وہ اینٹ سے اینٹ بجانا چاہتے تھے۔۔۔ کہانی ختم۔
گزشتہ دنوں نوجوان لڑکیوں کو زندہ نذرِآتش کرنے کے لگاتار کئی واقعات ہوئے اور میڈیا پر ایک طوفان بپا ہوگیا۔۔۔ پھر۔۔۔ کہانی ختم۔
کہانیاں اسی طرح بنتی چلی آئی ہیں، بنتی چلی جائیں گی، ختم ہوتی چلی آئی ہیں اور ختم ہوتی چلی جائیں گی۔
جتنا سوچتے چلے جائیں گے، سوچ کے پر جلتے چلے جائیں گے۔۔۔ اور۔۔۔ ایک وقت آئے گا جب ہم سب کے منہ سے رال بہہ رہی ہوگی، اورہم سب ہنس بھی رہے ہوں گے اور ایک دوسرے پر تالیاں بھی بجا رہے ہوں گے۔۔۔ ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا

Share this: