(کیا افغانستان اور عراق کے بعد سعودی عرب کی باری ہے؟(پروفیسر شمیم اختر

Print Friendly, PDF & Email

اب جلد ہی تین ہزار متوفین کے ورثا و پس ماندگان سعودی مملکت کے خلاف امریکی عدالتوں میں دھڑادھڑ معاوضے کے لیے مقدمات دائر کریں گے جسے عدلیہ کے لیے منظور کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہ جاتا۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ امریکی مخبر ایجنسیاں 15 سال بعد اس نتیجے پر کیوں پہنچیں کہ اس خونیں واردات میں ان کا دیرینہ اور وفادار حلیف ملوث رہا ہے، جب کہ حملے کے بعد ہی بش انتظامیہ نے اس دہشت گردانہ حملے کا الزام طالبان حکومت پر عائد کیا تھا جس نے امریکہ کو مطلوب اسامہ بن لادن کو پناہ دے رکھی تھی اور انہیں امریکہ کے بجائے کسی غیر جانبدار ملک کے حوالے کرنے کی تجویز دی تھی، لیکن صدر بش نے اسے مسترد کرکے افغانستان پر بھرپور حملہ کرکے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور سلامتی کونسل سے تواتر کے ساتھ اقوام متحدہ کے منشور کے باب7 کے تحت اس پسماندہ ملک کے خلاف عالمی تنظیم کی جانب سے فوجی کارروائی کی منظوری لے لی۔
اب پندرہ سال کے بعد امریکی تفتیشی ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ اس میں سعودی حکومت ملوث تھی! یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا طالبان حکومت اور سعودی حکومت دونوں نے مل کر یہ حملہ کروایا تھا؟ یا یہ صرف سعودی عرب کی کارروائی تھی؟ ان دونوں کے ملوث ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ اس واردات سے قبل سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور پاکستان نے طالبان حکومت سے تعلقات منقطع کرلیے تھے۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ حملے کے بعد ہی امریکہ کے سیکریٹری امور خارجہ جنرل (ر) کولن پاول نے پاکستان کے غاصب آمر پرویزمشرف سے طالبان پر امریکی حملے میں معاونت کا مطالبہ کیا جسے اس بدذات نے بلا چوں و چرا من و عن مان لیا۔ یہی نہیں بلکہ اس نے ناٹو کے قزاقوں کو پاکستان کے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملوں کی کھلی چھوٹ بھی دے دی، ساتھ ہی سیکڑوں پاکستانیوں اور پاکستان میں مقیم مسلم ممالک کے شہریوں کو سی آئی اے کے حوالے کردیا، اور ڈھٹائی اور بے غیرتی کی حدوں کو پار کرکے دخترِ پاکستان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو بھی امریکی قسائیوں کے حوالے کردیا۔ میر جعفر اور میر صادق نے بھی ملک کی بہو بیٹیوں کو لارڈ کلائیو اور لارڈ ویلزلی کے حوالے نہیں کیا تھا۔ لیکن ہارمونیم بجانے والے باپ اور اس کی موسیقی پر رقص کرنے والی ماں (اس کا اعتراف خود جنرل (ر) مشرف نے فخریہ کیا تھا، لہٰذا اسی بنا پر اس کا ذکر کردیا، ورنہ اس کے والدین کا ہنوز احترام کرتے ہیں) کے نورِ چشم پرویز مشرف نے کر ڈالا۔ افغانستان کی قوم کو تو امریکہ نے ناکردہ گناہوں کی سزا دے دی، اس کے بعد جارج بش اوّل کے فرزند جارج بش دوم نے عراق پر منجملہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے اسلحہ کی تیاری، 11 ستمبر(2001) کی واردات کا الزام بھی تھوپ کر اپریل 2003ء میں وحشیانہ حملہ کردیا اور شہری آبادی پر Uranium Depleted گولے اور بم استعمال کرکے سارے ملک کی فضا میں تابکاری کا زہر پھیلا دیا۔ ادھر پاکستان پر بھی وقفے وقفے سے امریکہ کے قزاق طیارے بم برساتے رہے جس سے قبائلی علاقوں میں متاثرہ آبادی دمہ، تنفس، جلدی امراض اور سرطان کے عارضے میں مبتلا ہوتی رہی۔
میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کیا افغانستان، عراق اور پاکستان 11 ستمبر کی واردات میں ملوث تھے جن پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے؟ اس سارے سانحے میں سعودی عرب ان ملکوں پرامریکی جارحیت کی بالواسطہ یا بلاواسطہ معاونت کرتا رہا اور اندرون ملک چن چن کر القاعدہ کے جنگجوؤں کو ٹھکانے لگاتا رہا اور امریکہ سے داد و تحسین وصولتا رہا۔ خود خادم حرمین کی ذاتِ اقدس اور ان کے تخت و تاج کی حفاظت کے لیے امریکی برّی اور فضائی افواج سعودی عرب کی سرزمین اور ساحلوں پر موجود رہیں اور اب تک پہرہ دے رہی ہیں، جب کہ جوہری اسلحہ سے لیس امریکی طیارہ بردار بحری جہاز خلیج میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ ان کی موجودگی میں بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ سعودی حکام اپنے مخالف القاعدہ جنگجوؤں کے ذریعے نیویارک کے تجارتی مرکز، وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون پر فضائی حملے کراتے؟ امریکہ نے تو سعودی عرب کو اس طرح محصور کررکھا ہے اور اندرون ملک جاسوسی کا ایسا جال بچھا رکھا ہے کہ سعودی ’’حکمران‘‘ امریکہ کے یرغمالی بن کر رہ گئے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ اس واردات میں 19 نوجوانوں میں 12 سعودی باشندے شامل تھے اس لیے سی آئی اے کو شبہ ہوا کہ اس میں سعودی عرب کی حکومت کا ایما شامل تھا۔ اس کی وجہ شاید یہ ہوکہ اسی زمانے میں یہ خبر بازگشت کررہی تھی کہ ان میں سے دو سعودی نوجوانوں کی رہائش گاہ کے کرائے کی رقم مملکتِ سعودیہ کے عرصۂ دراز سے امریکہ میں مقیم سفیر بندر بن سلمان کی اہلیہ نے ادا کی تھی۔ کچھ عرصے بعد سفیر موصوف کا امریکہ سے تبادلہ کردیاگیا تھا۔ ان کڑیوں کو ملانے سے اس قیاس کو تقویت پہنچتی ہے کہ امریکی ایجنسیوں نے اس کی تہہ تک پہنچنے کی اپنے تئیں کوشش ضرور کی ہو گی اور دیگر قرائن سے اس نتیجے پر پہنچی ہوں گی کہ اس میں سعودی حکومت کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ لیکن سعودی عرب اور امریکہ میں جس نوعیت کے تعلقات ہیں ان کے پیش نظر یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ سعودی حکمران اس مذموم حرکت کا تصور بھی کرسکتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ سعودی عرب نے اس خطے میں امریکہ کی ہر مہم میں اعانت کی ہے خواہ وہ ایران، عراق، افغانستان میں امریکہ کی ننگی جارحیت ہو یا اس کی ایجنسیوں کی خفیہ کارروائی، مثلاً دراندازی، تخریب کاری، قتل، اغوا وغیرہ۔ یوں بھی سعودی عرب ایسی طاقت سے کیوں دشمنی کرے گا جو اس کی سلامتی کی ضامن ہے؟ اگر بالفرض کوئی سعودی شہزادہ یا اہلکار القاعدہ کا سہولت کار ہو تو بھی یہ اُس کا ذاتی فعل ہوگا، نہ کہ سعودی حکومت کا۔ اسی طرح یہ بات بھی کسی کے وہم و گمان میں نہیں آئی کہ امریکہ کے نمک خوار پاکستان کے حکمران بھلا افغانستان میں امریکی قابض فوج پر کیونکر حملہ کرا سکتے ہیں، 11 ستمبر کی واردات تو دور کی بات ہے۔ ہمیں اس کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے، یہ سارا فساد صہیونیوں کا پیدا کردہ معلوم ہوتا ہے۔ وہ ہر اُس ملک کو عدم استحکام کا شکار کردینا چاہتے ہیں جو فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کے خلاف نخیف سی آواز بھی اٹھاتا ہو۔ جب کہ سعودی عرب کی آواز میں بڑا وزن ہے۔ شاہ عبداللہ نے اسرائیل سے معمول کے تعلقات بحال کرنے کی جو شرط لگائی تھی (یعنی وہ جون 1967ء کی جنگ کے بعد فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کا انخلا کردے) اسے عرب لیگ سربراہ کانفرنس، اسلامی تنظیم برائے تعاون اور ایران، غرض کہ سارے عالم اسلام نے تسلیم کرلیا۔ چنانچہ بین الاقوامی برادری پر اس کا خاطر خواہ اثر ہوا، لہٰذا اب اسرائیل اس سے توجہ ہٹانے کے لیے امریکہ اور سعودی عرب میں کشیدگی پیدا کرانا چاہتا ہے، لیکن وہ اپنے مذموم عزائم میں ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتا، کیونکہ سعودی عرب اور امریکہ کے باہمی مفادات اسرائیل اور امریکہ کے باہمی مفادات سے کسی درجہ کم نہیں ہیں، لہٰذا امریکہ ان میں سے کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دے سکتا۔ اسے یہ بھی بخوبی معلوم ہے کہ سعودی عرب بھی امریکہ کے تزویراتی اور اقتصادی مفادات پر ضرب لگا سکتا ہے۔ اس کے اِس اقدام کو بیشتر مسلم ممالک کی حمایت حاصل ہوگی۔ اب وہ دن گئے جب صہیونیت کا گماشتہ ہنری کسنجر خلیجی ریاستوں کے تیل کے کنووں پر قبضہ کرنے کی دھمکی دیتا تھا۔ اگر اس نے ایسا کیا تو بقول شاعر (محمد میاں)؂
امریکہ کی بنیا شاہی بحرِ عرب میں ڈوبے گی
اور ساتھ میں اس کے دلالوں کی نیّا بھی ڈوبے گی
کاغذی ڈالر قلعہ بندی دھواں ہو جائے گی
پھٹ پڑے گا ایک دن محنت کا جب آتش فشاں

Share this: