جرمن حکومت کا نفرت انگیز مواد نہ ہٹانے پر فیس بک اور ٹوئٹر کے خلاف جرمانے پر غور

Print Friendly, PDF & Email

جرمنی نے فیس بک، گوگل اور ٹوئٹر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نفرت انگیز جملے حذف کرے، جب کہ بعض سیاست دانوں نے کہا ہے کہ ان کمپنیوں پر جرمانے بھی عائد کیے جائیں۔
جرمنی میں شامی اور دیگر پناہ گزینوں کی آمد کے بعد جرمن وطن پرست افراد کی جانب سے ان تارکین کے متعلق نفرت پر مبنی پیغامات دیواروں سے لے کر سوشل میڈیا پر بھی نمایاں ہیں اور ان میں بہت تیزی آتی جارہی ہے۔ جرمن چانسلر اینجلا مرکل کے اہم ساتھی والکر کوڈر نے کہا ہے کہ فیس بک نے نفرت انگیز جملے اب تک نہیں ہٹائے اور اس پر جرمانہ عائد ہونا چاہیے۔ جرمنی کے ممتاز اخبار ’ڈیر اشپیگل‘ سے بات کرتے ہوئے والکرکا کہنا تھا کہ ہمارا ضبط ختم ہورہا ہے اور اگر مزید ایک ہفتے تک گوگل، ٹوئٹر اور فیس بک یہ نفرت انگیز مندرجات نہیں ہٹاتے تو ان پر 50 ہزار یورو (54 ہزار ڈالر) کا جرمانہ عائد ہونا چاہیے۔
دوسری صورت میں جرمن سیاست دانوں نے اپنے ملک میں ان ویب سائٹس اور سوشل میڈیا کے لیے سگریٹ کی طرح انتباہی اور خبردار کرنے والے نوٹس لگانے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔ والکر نے مزید کہا ہے کہ ان ویب سائٹس سے ایسے لوگوں کے آئی پی ایڈریس فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا جائے جو نفرت انگیز بیانات پوسٹ کررہے ہیں۔
واضح رہے کہ جرمنی میں اب تک 9 لاکھ تارکینِ وطن آچکے ہیں اور ان کی آمد پر جرمن عوام اپنے غم و غصے اور نفرت کا اظہار کررہے ہیں، جب کہ ان تینوں ویب سائٹس نے ایک سال قبل عہد کیا تھا کہ وہ نفرت انگیز پیغامات 24 گھنٹے میں ہٹادیں گے۔

Share this: