(روس کے علاوہ تیسری دنیا (پروفیسر شمیم اختر

Print Friendly, PDF & Email

برکس (BRICS) روس کے علاوہ تیسری دنیا کی صنعتی و اقتصادی طور پر ابھرتی ہوئی پانچ ریاستوں پر مشتمل تنظیم ہے جو رکن ممالک کے ناموں کے پہلے حروف پر مبنی ہے۔ ان ریاستوں کے نام یہ ہیں: برازیل، روس، انڈیا (بھارت)، چین اور جنوبی افریقہ۔ ان میں روس کسی طور پر بھی ترقی پذیر ملک نہیں کہلایا جاسکتا کیونکہ وہ امریکہ کے مساوی اور اس کی مدمقابل عظیم تر طاقت ہے۔ لہٰذا اس تنظیم میں اُس کی رکنیت کا بظاہر کوئی جواز نہیں بنتا، کیونکہ برکس کے قیام کا مقصد عالمی معیشت پر جی۔8 (جو روس کے اخراج کے بعدG-7 ہوگئی ہے) پر مغربی استعماری ٹولے کی اجارہ داری توڑنا ہے۔ دراصل یہ کام تو ناوابستہ اقوام کا تھا جس نے 1970ء کی دہائی تک بڑا فعال کردار ادا کیا تھا اور کثیر الاقوامی کمپنیوں کے استحصالی ہتھکنڈوں کے سدباب کے لیے قراردادیں منظور کی تھیں، لیکن اس کا سب سے بڑا کارنامہ 1974ء میں منصفانہ بین الاقوامی اقتصادی نظام کی قرارداد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے منظور کرانا تھا۔ اس میں ترقی یافتہ، متمول ممالک پر یہ فرض عائد کیا گیا تھا کہ وہ پسماندہ ممالک کو ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے اپنی قومی پیداوار GNP کی ایک فیصد رقم فراہم کریں، نیز نئی ٹیکنالوجی یا متبادل ٹیکنالوجی فراہم کریں جو ان کے مخصوص حالات اور منصوبوں کے لیے کارآمد ہو۔ اسی طرح دولت م ند صنعتی ممالک ،پسماندہ (ترقی پذیر) ممالک کی مصنوعات درآمد کریں اور ان پر قدغن یا محصول نہ عائد کریں وغیرہ وغیرہ۔ انھی دنوں سے پس ماندہ (ترقی پذیر) ممالک کے لیے جنوب کی، جبکہ دولت مند صنعتی ممالک کے لیے شمال کی اصطلاح استعمال کی جانے لگی۔ اوّل الذکر یعنی جنوب کی مؤثر نمائندگی ناوابستہ اقوام کی تنظیم NAM کیا کرتی تھی اور یہ تنظیم پسماندہ ممالک پر دولت مند صنعتی ممالک بالخصوص امریکہ اور بین الاقوامی مالیاتی تنظیم اور عالمی بینک کے ایک کھرب ڈالر واجب الادا قرض کی تنسیخ کا پُرزور مطالبہ کرتی رہی ہے۔ لیکن سوویت یونین کی تحلیل کے بعد تو جیسے NAM کی ہوا نکل گئی جبکہ جنوب کے ممالک پر امریکی استعماری ٹولے کی جارحیت حتیٰ کہ امریکی فوجی قبضے جیسے جرائم پر NAM نے چپ سادھ لی۔ میری مراد افغانستان اور عراق پر امریکی حملے اور قبضے سے ہے۔ واضح رہے افغانستان اور عراق ناوابستہ اقوام NAM کے بنیادی اراکین تھے اور ان پر وحشیانہ حملے اور قبضے کے باوجود NAM خاموش رہی بلکہ اس کے اراکین شام اور پاکستان نے عراق اور افغانستان پر امریکی حملے کی اعانت کی، جبکہ ناوابستہ اقوام کے پروہت بھارت نے طالبان پر فضائی بمباری کرنے والے طیاروں کو نہ صرف اپنے فضائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی بلکہ انہیں دورانِ جنگ ایندھن بھی فراہم کرتا رہا۔ اب تو بھارت امریکہ سے فوجی معاہدہ کرنے کے بعد ناوابستہ اقوام کے منشور کی رو سے اس ادارے کی رکنیت کا حامل نہیں رہا کیونکہ NAM کے منشور کے مطابق ناوابستہ اقوام کی رکنیت کی اہل وہی ریاست ہوگی جو بڑی طاقتوں کی باہمی رقابت میں فریق نہ بنے، بالخصوص کسی بڑی طاقت سے فوجی معاہدہ نہ کیا ہو۔ یوں بھی NAM کے بنیادی اراکین میں افغانستان، عراق، مصر اور سابق یوگوسلاویہ یا توحقِ رکنیت کھو چکے ہیں یا ٹوٹ پھوٹ کر غیر مؤثر ہوگئے ہیں جیسے یوگوسلاویہ، جو سوویت یونین کی طرح منتشر ہوچکا ہے، اور شاید سربیا اس کے تسلسل اور جانشینی کا دعویٰ کرسکتا تھا، مگر اب نہ تو اس میں کوئی وزن باقی رہا نہ ہی اس کی کوئی ساکھ ہے۔
البتہ ناٹو قزاق ٹولے کی یوکرین، جارجیا، لٹویا، لتھوینیااور اسٹونیا میں پیش قدمی کے باعث روس میں شدید لیکن فطری ردعمل ہوا جبکہ مشرقی ایشیا میں شمال و جنوبی بحیرہ چین میں واقع مجمع الجزائر ڈائیو/ سنکاکو اور SPRATLY پر چین کے تاریخی دعویٰ ملکیت کے باعث اس کے اور جاپان، فلپائن، ویت نام ، تائیوان، ملائشیا کے مابین اختلافات میں امریکی مداخلت کے باعث عوامی جمہوریہ چین اور امریکہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے نئی سرد جنگ کی سی کیفیت پیدا ہوگئی ہے جس میں امریکہ، جاپان، فلپائن، ویت نام ایک طرف، جبکہ عوامی جمہوریہ چین، کمبوڈیا اور لاؤس دوسری طرف صف آرا نظر آتے ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا یا ایشیائی بحرالکاہل کے اس تنازعے میں امریکہ تو پہلے ہی کود پڑا لیکن اس میں اپنے بحرہند یا جنوبی ایشیائی حلیف بھارت کو بھی گھسیٹ لیا۔ یہ صورت حال پاکستان کے موقع پرست حکمرانوں کے لیے بڑی آزمائش کی گھڑی ہے۔ یوں تو یہ امریکہ کے نمک خوار ہیں اور ہمیشہ اس کے لقمہ تر کے منتظر رہتے ہیں، لیکن جب امریکہ پاکستان کے جوہری اسلحہ خانے کو تباہ کرنے کا حکم دیتا ہے تو پاکستان کی محافظ اور وفادار مسلح افواج آڑے آجاتی ہیں، چنانچہ انہیں سپر ڈالنے پر مجبور کرنے کے لیے امریکی استعمار اور اس کے بھارتی گماشتے پاکستان میں دہشت گردی برپا کرکے اسے عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے امریکی استعمار نے انسداد دہشت گردی کی آڑ میں پاکستان کے طول و عرض میں بلیک واٹر اور اسپیشل فورسز (خصوصی عسکری دستے) کا جال بچھادیا ہے، جبکہ مقبوضہ افغانستان میں پاکستان کی سرحد سے متصل مقامات پر بھارت کی مخبر ایجنسی RAW کے مراکز قائم کردیے گئے ہیں، جس کے گماشتے دراندازی کرکے بلوچستان میں تخریب کاری کی وارداتیں کرتے ہیں جس کا شرمناک مظاہرہ زیارت میں قائداعظم کی آرام گاہ جہاں بانی پاکستان کی روزمرہ کے استعمال کی اشیاء محفوظ تھیں، بم د ھماکے سے تباہی میں کیا جاسکتا ہے۔ حکومت کو یہ مسئلہ بھارت سے مذاکرات کے دوران اٹھانا چاہیے تھا کہ یہ حرکت اس کے گماشتوں کی ہے، بعد ازاں را کے حاضر ملازمت کرنل کل بھوشن کی رنگے ہاتھوں گرفتاری اور اس کے انکشافات بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی غمازی کرتے ہیں۔ پاکستان کے سرکاری اور غیر سرکاری میڈیا میں اس کا بڑا چرچا رہا اور پاکستان کے سفارت کاروں نے امریکہ، یورپ، مشرق وسطیٰ میں حکومتوں اور رائے عامہ کو باخبر رکھنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی لیکن اس کے باوجود امریکی اور یورپی میڈیا نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا، نہ ہی ان کی حکومتوں نے اسے درخورْ اعتنا سمجھا۔ یوں مقبوضہ کشمیر69 سال سے بھارتی درندوں کی شکارگاہ رہا جہاں 80 ہزار تا ایک لاکھ کشمیری شہید کیے جاچکے ہیں اور یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہتا ہے۔8جولائی سے برہان وانی نامی نوجوان حریت پسند کے ماورائے عدالت قتل کے بعد تو ساری کشمیری قوم بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی جسے کرفیو لگا کر گھروں میں بند کرنے کی ناکام کوشش کی گئی لیکن عوام کا سیلِ رواں تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا، اسے روکنے کے لیے بھارت کی قابض فوج نے تاک تاک کر مظاہرین پر پیلٹ گن سے گولیاں برسائیں جو ان کی آنکھوں، چہروں اور سینوں کو چھلنی کرتی جارہی ہیں، چنانچہ سو روز میں 110 افراد شہید، 1133 بینائی سے محروم،15 ہزار زخمی، 8 ہزار گرفتار کیے جاچکے ہیں جبکہ دو ہزار مکانات کو توڑ پھوڑ ڈالا گیا اور حریت کانفرنس کے رہنماؤں کو کالے قانون ARMY SPECIAL POWERS ACTکے تحت قید کردیا گیا ہے۔(جسارت منگل 18 اکتوبر 2016ء)
کشمیریوں کی نسل کشی پر پردہ ڈالنے کے لیے بھارت نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دفاتر بند کردیے ہیں اور اس کے نمائندوں کو ملک بدر کردیا ہے، حتیٰ کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ہائی کمشنر کو تحقیقات کے لیے مقبوضہ کشمیر میں آنے کی اجازت نہیں دی گئی، نہ ہی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون، امریکی انتظامیہ، اسلامی تنظیم برائے تعاونOIC کی حقائق معلوم کرنے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں اپنے نمائندے بھیجنے کی درخواست قبول کی گئی، تاہم بھارت کے ہاتھوں ایک کروڑ کشمیری عوام کی نسل کشی دنیاکی نظروں سے پوشیدہ نہ رہ سکی۔ وزیراعظم پاکستان نوازشریف، ان کے مشیر سلامتی جناب سرتاج عزیز نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس عام کے موقع پر ایک ایک کرکے تمام بیرونی ممالک کے نمائندوں کو مقبوضہ کشمیر میں جاری قتل عام کی ویڈیو فلمیں دکھائیں، خاص کر نوازشریف نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر اور نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلطان اور بان کی مون کو کشمیری عوام پر بھارتی فوج کے انسانیت سوز مظالم کی تصاویر دکھائیں، تاہم ان کے منہ سے ان کی ہمدردی کا ایک لفظ بھی نہ پھوٹا۔ بان کی مون نے تو اپنے خطبے میں کشمیریوں کے قتل عام پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ حد تو یہ ہے کہ حج کے مقدس ترین موقع پر امام کعبہ نے اپنے خطبے میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی قابض فوج کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام پر اظہار، افسوس تک نہ کیا۔
یہ عالمی بے حسی نہیں ہے بلکہ پاکستان کے خلاف خاموش سازش ہے۔ اس میں بھلا نوازشریف، سرتاج عزیز یا ملیحہ لودھی کا کیا قصور ہے؟ بعض نادان مبصرین کہتے ہیں کہ حکومت کی کوئی خارجہ پالیسی ہی نہیں ہے۔ اس کے ثبوت میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ پاکستان کا کوئی وزیر خارجہ ہی نہیں ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اگر پاکستان کا کوئی وزیر خارجہ ہوتا تو سلامتی کونسل بھارت کی مذمت کرتی اور اسے مقبوضہ کشمیر میں رائے شماری پر مبنی قرارداد پر عملدرآمد کی ہدایت کرتی!
جواہرلال نہرو کے سارے دورِ حکومت میں کوئی وزیر خارجہ نہیں تھا، نہ ہی ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں کوئی وزیر خارجہ تھا۔ دونوں انتہائی لائق، دیانت دار اور وفادار ماہرینِ امورِ خارجہ کے مشوروں اور اعانت سے ریاست کے مفاد پر مبنی خارجہ پالیسی پر عمل پیرا تھے اور خود بھی اس کے ماہر تھے۔ میں نوازشریف کا حامی نہیں ہوں لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ (1) انہوں نے قومی سطح پر پانچ فروری کو یوم کشمیر منانے کی روایت ڈالی جو آج تک باقی ہے۔(2) انہوں نے حکومتِ پاکستان کو مئی1998ء میں بھارت کے جواب میں تجرباتی جوہری دھماکے سے باز رکھنے کے لیے امریکی صدر کلنٹن کے پانچ بار ٹیلی فون کرنے کے باوجود دھماکا کیا۔ کیونکہ اُس وقت منتخب حکومت اور عسکری قیادت میں مکمل ہم آہنگی تھی جو آج نہیں محسوس ہوتی۔ اس کا ثبوت وزیراعظم ہاؤس میں سلامتی سے متعلق خفیہ اجلاس میں بعض اہم سیاسی شخصیات کی جانب سے عسکری قیادت پر عائد کردہ الزامات کی ڈان میں متنازع رپورٹ ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عسکری قیادت نے اس کا سخت نوٹس لیا ہے کیونکہ کور کمانڈروں کے حالیہ اجلاس میں اس پر بڑی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس کے بعد مسلح افواج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے دوران اس کا ذکر (ایکسپریس 16 اکتوبر 2016ء) اس بات کا عندیہ ہے کہ عسکری قیادت اس واقعہ سے صرفِ نظر کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس ’’خبر‘‘کی بنا پر پاکستان مخالف طاقتوں یعنی امریکہ، بھارت اور اشرف غنی جنتا نے بقول چودھری نثار پاکستان کو چارج شیٹ کردیا ہے۔ اسی وجہ سے بھارت نے برکس سربراہ کانفرنس میں اڑی کی واردات کی مذمت کرنے اور جیشِ محمد اور لشکرِ طیبہ کو عالمی دہشت گرد تنظیمیں قرار دینے کا مسودہ پیش کیا تھا لیکن اسے عوامی جمہوریہ چین نے غیر متعلقہ ثابت کرکے ناکام بنادیا (ایکسپریس 17 اکتوبر 2016ء)۔ نہ صرف چین بلکہ دیگر اراکین نے بھی اسے مسترد کردیا کیونکہ برازیل، روس، جنوبی افریقہ اور عوامی جمہوریہ چین میں سے کوئی بھی ان تنظیموں کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں تصور کرتا۔ اس سے قبل بھی بھارت اور امریکہ کو سلامتی کونسل میں انہیں دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کرانے میں ناکامی ہوئی تھی۔ دراصل برکس کے اغراض و مقاصد وہی ہیں جو ناوابستہ اقوام کے مقاصد ہوا کرتے تھے یعنی عالمی تجارتی، اقتصادی نظام میں جنوب (پسماندہ ترقی پذیر ممالک) کے مفاد کا تحفظ اور استحصالی اقتصادی نظام کے بجائے عادلانہ نظام کا قیام۔ لیکن اب بھارت امریکہ کا عسکری حلیف اور کاروباری شراکت دار بن گیا ہے اس لیے وہ برکس میں امریکہ کے ففتھ کالم کا کام کرے گا، اور جس طرح اُس نے NAM کو مفلوج کردیا اسی طرح برکس (BRICS) کو عضوِ معطل بنادے گا۔ نیز اب ترکی دنیا کی پندرھویں اقتصادی قوت بن کر ابھر رہا ہے، لہٰذا BRICS میں اس کی شمولیت لازمی ہوگئی ہے، کیونکہ ترکی نہ صرف اقتصادی اور تجارتی حیثیت سے مستحکم ہے بلکہ NATO میں ہوتے ہوئے بھی وہ آزاد خارجہ پالیسی کا علم بردار ہے، لہٰذا وہ BRICS کی رکنیت کا اہل ہے، اور یوں بھی اس تنظیم میں عالم اسلام کی کوئی نمائندگی نہیں ہے، لہٰذا اس میں ترکی کی شمولیت وقت کی فوری ضرورت ہے۔
تنازع کشمیر پر بڑی طاقتوں کی توجہ مرکوز کرانے کے لیے حکومتِ پاکستان کو ہمت کرکے امریکہ کو جتادینا ہوگا کہ اگر کشمیری عوام کی خواہش کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارت کو بین الاقوامی تحویل میں کرائی گئی رائے شماری پر عملدرآمد پر مجبور نہیں کرسکتا تو پاکستان افغانستان میں مصالحت کے حل میں قطعاً شریک نہیں ہوگا، نہ ہی افغانستان پر قابض امریکی فوج کو اپنی سرزمین سے رسد کی ترسیل کی اجازت دے گا۔
nn

Share this: