شاہد شیخ

Print Friendly, PDF & Email

سیاست میں کارکنان کی اخلاقی تربیت کا اہتمام سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے، مگر صد افسوس کہ پاکستان میں موجود اکثر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین نے اس طرف توجہ نہیں دی، جس کے باعث گزشتہ چند دہائیوں سے کارکنان میں برداشت کا رویہ پاکستان کی سیاست میں ناپید سا ہوگیا ہے۔ مگر کارکنان کی اصلاح کے سلسلے میں جماعت اسلامی ہی واحد سیاسی جماعت ہے جس کی قیادت روزِ اوّل سے ہی مرکز سے لے کر حلقہ کی سطح تک تربیت کا اہتمام کرتی ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ دنوں مسجد الہدیٰ نارتھ کراچی میں جماعت اسلامی کراچی ضلع وسطی کے تحت ایک روزہ دعوتی و تربیتی اجتماع عام کا اہتمام کیا گیا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جبکہ خصوصی شرکت امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کی۔ کارکنان کے فلک شگاف نعروں کی گونج میں انہیں جلوس کی شکل میں جلسہ گاہ کی طرف لایا گیا۔ اجتماع سے جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن، معروف دانشور اور سینئر تجزیہ کار شاہنواز فاروقی، مولانا ضیاء الرحمن فاروقی ،امیر ضلع وسطی منعم ظفراور سیکریٹری ضلع محمد یوسف نے بھی خطاب کیا۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا کہ کراچی عاشقانِ مصطفی اور محبانِ وطن کا شہر ہے۔ ماضی میں اس کا تشخص خراب اور چہرہ مسخ کیا گیا۔ کراچی اب دوبارہ اپنی ماضی کی حیثیت میں سامنے آئے گا اور ان شاء اللہ عالم اسلام کی قیادت کرے گا۔ جماعت اسلامی نے نہ ماضی میں کراچی کے عوام کو تنہا چھوڑا ہے اور نہ آئندہ چھوڑے گی۔ سراج الحق نے کہا کہ غربت، مہنگائی اور ظلم کے خاتمے کا واحد ذریعہ نظام مصطفی کا قیام ہے۔ جماعت اسلامی ملک میں حقیقی اسلامی اور جمہوری نظام کے قیام کی جدوجہد کررہی ہے۔ عوام اس جدوجہد میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔ امیر جماعت نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی تمام تر مسالک اور علاقائی و لسانی عصبیت سے بالاتر ہوکر ظلم کے نظام کے خاتمے اور عدل و انصاف کے نظام کے قیام کی داعی ہے، اور یہی ہماری دعوت، ہماری سیاست اور عبادت ہے۔ ہم اس ملک میں اللہ کے دین کا غلبہ اور اس کے نتیجے میں جنت کا حصول اور شفاعتِ رسول ؐ چاہتے ہیں۔ حکومت ہمارا مقصد نہیں بلکہ اصل مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے۔ ہماری کامیابی وزارت، امارت، دولت اور شہرت میں نہیں بلکہ صرف رضائے الٰہی کے حصول میں ہے۔ سراج الحق نے کہا کہ جہاد، علمائے کرام اور منبر و محراب کو بدنام کرنا امریکہ اور مغرب کا ایجنڈا تو ہوسکتا ہے لیکن ایک اسلامی مملکت کا ایجنڈا نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ظالم حکمرانوں اور کرپٹ اشرافیہ نے مل کر ملک اور قوم کو تباہ کیا ہے، قومی خزانے کو لوٹا ہے۔ پی آئی اے، پاکستان اسٹیل مل سمیت دیگر قومی اور حساس اداروں کو اپنی کرپشن اور بدانتظامی سے تباہ کیا ہے۔ لیکن اس کا خمیازہ ملک کے عوام اور ملازمین بھگت رہے ہیں۔ قومی اداروں سے کرپشن اور بدانتظامی ختم کرکے ان کو بحال اور اپنے پیروں پر کھڑا کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج عالمِ اسلام کے خلاف عالمِ کفر متحد ہے، ہمیں اپنے اندر اتحاد اور یکجہتی پیدا کرنی ہوگی۔ جماعت اسلامی، پاکستان کی ملت اور امتِ مسلمہ کو ایک اللہ اور نبی مہربان ؐ کے مرکز ومحور پر جمع کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ عشق مصطفی ؐ کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں۔
امیر کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے لیے ایک بہترین متبادل قیادت کی صورت میں موجود ہے۔ ہم نے مشکل اور کٹھن حالات میں بھی دعوت و تبلیغ اور عوامی خدمت کا فریضہ انجام دیا ہے اور آئندہ بھی یہ کام جاری رکھیں
(باقی صفحہ 41پر)
گے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی آئینی اور جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ اسلامی انقلاب اور معاشرے میں مؤثر تبدیلی کے لیے ہم جدوجہد کررہے ہیں اور انتخابات انقلاب کی طرف پیش قدمی کا ایک ذریعہ اور جدوجہد کا اہم مرحلہ ہے۔
سینئر تجزیہ کار شاہنواز فاروقی نے ’’نظریاتی جدوجہد کے تقاضے‘‘ کے موضوع پر اظہار خیال کیا اور کہا کہ سید مودودیؒ کی فکر کا خاصہ یہ ہے کہ انہوں نے نہ صرف ’’حق‘‘ بیان کیا بلکہ ’’باطل‘‘ کی تفہیم بھی کی۔ آپ کی برپا کردہ تحریک آج پوری دنیا میں برگ و بالارہی ہے ۔ اس تربیت گاہ سے مولانا ضیاء الرحمن فاروقی اور امیر ضلع منعم ظفر خان نے بھی خطاب کیا۔
اس موقع پر سجادہ نشین حسنین علی کاظمی اور نارتھ ناظم آباد یو سی 20 سے پیپلز پارٹی اور اے این پی سے تعلق رکھنے والوں نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی۔ سراج الحق نے ان کا خیرمقدم کیا اور دعوتی کتب کا تحفہ دیا۔
ایک روزہ تربیت گاہ کا اختتام سراج الحق کی دعا پر ہوا۔

Share this: