(مقاصد اور اہداف کیا ہیں؟(حامد ریاض ڈوگر

Print Friendly, PDF & Email

فرائیڈے اسپیشل: جماعت اسلامی کے 28 سے 30 اکتوبر تک ہونے والے اجتماع کے مقاصد اور اہداف کیا ہیں؟ اور آپ اس اجتماع سے کیا توقعات رکھتے ہیں؟
ذکر اللہ مجاہد: ڈوگر صاحب! دنیا جانتی ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کی وہ واحد دینی و سیاسی جماعت ہے جو مرکز سے لے کر گلی محلے تک لاکھوں تربیت یافتہ، مخلص اور دیانت دار لوگوں کی ٹیم اپنے جلو میں لیے ہوئے ہے جو پاکستان کے نظریے اور جغرافیے کی حفاظت کے لیے جان تک قربان کرنے کا جذبہ اپنے اندر رکھتے ہیں، مگر ملک کی یہ بدقسمتی ہے کہ یہاں اقتدار ہمیشہ اُن جماعتوں کو ملا، یا دلوایا گیا جو جماعتیں نہیں بلکہ لمیٹڈ کمپنیاں ہیں۔ ان میں چند بااثر اور پیسے والے لوگ جمع ہیں جن کا سرپرست ایک خاندان ہے۔ جس کا نتیجہ قوم کے سامنے ہے کہ وہ مملکتِ خداداد جو لاکھوں جانوں کی قربانیوں کے بعد حاصل کی گئی مگر اپنے قیام کے کچھ ہی سال بعد افتراق اور انتشار کا شکار ہوکر دو ٹکڑے ہوگئی۔ قیام پاکستان کے وقت ملک ایک پیسے کا بھی مقروض نہیں تھا۔ جب کہ آج یہاں کا ہر بچہ لاکھوں کا مقروض ہے۔ ملک کے وہ ادارے جو نہ صرف خود منافع بخش اور کامیاب تھے بلکہ انہوں نے دنیا میں کئی کامیاب اداروں کو وجود بھی دیا، آج ان کا اپنا وجود خطرے میں ہے۔ لوٹ مار اور کرپشن کا ایسا بازار گرم ہے جو ہر فرد کی نظر میں ہے۔ پانامہ لیکس تو محض ایک کہانی ہے جو سامنے آئی ہے، ایسی بے شمار کہانیاں جگہ جگہ بکھری پڑی ہیں۔ ملک کا ان حالات سے چھٹکارا اسی صورت میں ممکن ہے کہ قوم کے سامنے ایسی قیادت پیش کی جائے جو اسے دلدل سے نکال سکے اور منجدھار میں پھنسی پاکستان کی کشتی کو کنارے تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ ایسی قیادت جماعت اسلامی کے سوا کسی دوسری سیاسی جماعت کے پاس نہیں، جو نہ کسی خاندان کی اسیر ہے، نہ اس پر مفاد پرستی کا الزام ہے، نہ یہ طالع آزماؤں کے شکنجے میں جکڑی ہوئی ہے، اور نہ ہی خاندانی بادشاہت کا شکار ہے، بلکہ یہ صحیح معنوں میں ایک جمہوری اور نظریاتی جماعت ہے۔ حالیہ اجتماع کا سب سے بڑا مقصد جماعت اسلامی کے اس روشن اور خوبصورت چہرے کو قوم کے سامنے پیش کرنا ہے۔ اس اجتماع سے پورے پنجاب سے آنے والے جماعت کے کارکنان میں یہ جذبہ اور ولولہ بیدار کرنا مطلوب ہے کہ وہ اتنی شاندار جماعت کو پاکستانی قوم کے سامنے اس طرح پیش کریں کہ لوگ مسلسل بے وقوف بنانے والوں سے چھٹکارا پاکر جماعت اسلامی پر اعتماد کریں۔
فرائیڈے اسپیشل: اجتماع میں کتنے افراد کی شرکت متوقع ہے اور ان کے لیے آپ نے کیا انتظامات کیے ہیں؟
ذکر اللہ مجاہد: اس اجتماع میں پنجاب بھر سے جماعت اسلامی کے 25 ہزار کے قریب ارکان، امیدواران اور منتخب افراد شریک ہورہے ہیں، جن کے لیے کم و بیش 12 ایکڑ پر محیط اجتماع گاہ بنائی گئی ہے جس میں ان کے لیے وضو، نماز، قیام و طعام اور دیگر روزمرہ ضروریات کا اچھا اور منظم بندوبست کیا جارہا ہے۔ خوبصورت پنڈال اور ایک بڑا اسٹیج بنایا گیا ہے۔ یہ عارضی شہر 28 سے 30 اکتوبر تک آباد رہے گا۔
فرائیڈے اسپیشل: اس اجتماعِ ارکان کی انفرادیت کیا ہوگی؟
ذکر اللہ مجاہد: اجتماع کے پروگرام کا ایک اہم حصہ شرکاء کی ذاتی تربیت اور تزکیہ سے متعلق ہے، جس میں اللہ اور اس کے رسول ؐ اور مملکتِ اسلامیہ سے وفاداری کو محور بناتے ہوئے کردار سازی کا اہتمام کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اس اجتماع میں شرکاء کو عوام تک جماعت اسلامی کی جدوجہد اور منشور پہنچانے کے لیے اقدامات سے متعلق رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ اجتماع کا ایک اہم سیشن ’’برہان مظفر وانی شہید‘‘ کانفرنس ہے جس میں تحریکِ آزادئ کشمیر سے وابستہ اہم رہنما خطاب کریں گے۔ اجتماع کا نقطۂ عروج ’’کرپشن مٹاؤ پاکستان بچاؤ مارچ‘‘ ہوگا جس کی قیادت امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کریں گے۔ اس مارچ میں عوام کو بھی شرکت کی دعوت دی جارہی ہے، کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ کرپشن ایک ایسا ناسور ہے جس نے ملک کے تمام اداروں کی جڑیں کھوکھلی کرکے رکھ دی ہیں، اس کا خاتمہ کیے بغیر ملک اور اس کی معیشت کو سنبھالنا مشکل ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: کیا کانفرنس میں عالمی اسلامی تحریکوں کے رہنماؤں کی شرکت بھی متوقع ہے؟
ذکر اللہ مجاہد: دنیا بھر میں حالات اسلامی تحریکوں کے لیے نہایت پریشان کن ہیں اور اس صورت حال میں اہم شخصیات کا اپنے ملکوں سے نکلنا خاصا مشکل ہے۔ ہم نے اس کے باوجود دعوت دی ہے اور امکان ہے کہ بعض اہم عالمی رہنما اجتماع میں تشریف لائیں گے۔
فرائیڈے اسپیشل: ملک کو درپیش سیاسی صورت حال پر اس اجتماع کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
ذکر اللہ مجاہد: جماعت اسلامی نے چاروں صوبوں میں بڑے اجتماعات منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ابھی چند روز قبل صوبہ خیبر پختون خوا میں منعقدہ اجتماع عام میں لاکھوں مرد و خواتین کی شرکت نے ثابت کیا ہے کہ جماعت اسلامی ملک کی منظم ترین قوت ہے جو ملک کے حالات تبدیل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ 2018ء کے عام انتخابات سے تقریباً ڈیڑھ سال قبل یہ اجتماعات قوم کو یہ پیغام دیں گے کہ جماعت اسلامی عوام کی امیدوں کا مرکز بنے گی اور قوم باصلاحیت، دیانت دار اور اچھی قیادت کو آگے آنے کا موقع ضرور دے گی۔ اس طرح یہ اجتماعات ملک میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔ یہ بات بھی اہم اور توجہ طلب ہے کہ سراج الحق جیسی متحرک، باصلاحیت اور قابلِ اعتماد قیادت قوم اور جماعت اسلامی کو دستیاب ہے جو دو دفعہ صوبہ خیبر کے وزیر خزانہ رہے اور اپنوں ہی نہیں غیروں نے بھی ان کی کارکردگی اور صلاحیتوں کا اعتراف کیا، اور اس دور کے تمام صوبوں کے وزرائے خزانہ سے بڑھ کر سراج الحق صاحب نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
nn

Share this: