دق وسل حکمت کی باتیں

Print Friendly, PDF & Email

و سِل کو مرض درنی بھی کہتے ہیں۔ جب یہ بیماری پھیپھڑے میں ہوتی ہے تو عام طور پر اس کو سل کہتے ہیں، اور جب آنتوں میں ہوتی ہے تو اسے دق کہا جاتا ہے۔ یہ جسم کے تقریباً ہر عضو میں ہوسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سل یا دق کا لفظ کسی خاص عضو کے مرض درنی کے لیے مخصوص نہیں ہے، بلکہ ہر عضو کے مرض پر سل یا دق کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ مثلاً سل ریوی (پھیپھڑوں کی دق)، سل کبدی (جگر کی دق)، سل کلوی (گردے کی دق) وغیرہ۔ یہی مرض (تدرن یا مرض درنی) جب گردن، بغل یا کنج ران کی گلٹیوں میں ہوتا ہے تو اس کو خنازیر کہتے ہیں۔ یہ شکایت زیادہ تر گردن کی گلٹیوں میں ہوتی ہے، اس کو عام زبان میں کنٹھ مالا کہا جاتا ہے۔
یہ بیماری ہر عمر میں اور ہر طبقے میں پائی جاتی ہے، اور پھیپھڑوں میں بہت عام ہے، اسی لیے پھیپھڑوں کی دق کو عام طور پر سل کہنے لگے، ورنہ دق میں جو دست آنے لگتے ہیں ان کو بھی اسہال سلی یعنی دق کے دست کہا جاتا ہے۔ اس بیماری کو ’’ٹی۔ بی‘‘ (T.B) بھی کہا جاتا ہے جو انگریزی کے لفظ ٹیوبر کلوسس کا مخفف ہے۔
دق و سِل کا مرض رطوبت کے اُن قطروں سے پھیلتا ہے جو کھانستے یا چھینکتے وقت سل کے مریض کے منہ یا ناک سے نکلتے ہیں، یا مریض کو چومنے یا اُس کے استعمال کی عام چیزوں مثلاً کھانے پینے کے برتنوں، پلنگ کی چادروں وغیرہ کے استعمال سے دوسروں کو لگ جاتی ہے۔ کبھی اُس گردو غبار سے پھیلتی ہے جس میں ’’ٹی۔ بی‘‘ کے جراثیم ہوتے ہیں، اور اُس گائے کے دودھ سے بھی لگ جاتی ہے جس کو یہ بیماری ہوتی ہے۔ غرض اس مرض کی چھوت لگ جانے کی بہت سی صورتیں ہوسکتی ہیں۔
یہ بیماری ماں یا باپ سے بچے میں منتقل نہیں ہوتی، بلکہ بچہ اس بیماری سے پاک و صاف پیدا ہوتا ہے لیکن دوسرے لوگوں کی طرح اس کو بھی اس بیماری کی چھوت لگ سکتی ہے۔
اگر جسم کی دفاعی طاقتیں، یعنی وہ قوتیں جو قدرت نے جسم کے اندر بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے پیدا کی ہیں، جراثیم پر غالب نہ آئیں تو اس بیماری کے جراثیم جو اکثر و بیشتر پھیپھڑوں میں رہتے ہیں، بڑھنا شروع کردیتے ہیں۔ جیسے ہی جراثیم پھیپھڑوں میں پہنچتے ہیں، جسم کی ان سے جنگ شروع ہوجاتی ہے۔ اگر جسم جنگ میں کامیاب ہوجائے تو ریشے دار غلاف ان جراثیم کو محصور کرلیتا اور چاروں طرف سے گھیر کر ان کو مقید کردیتا ہے، تاوقتیکہ وہ جراثیم جو جسم پر حملہ کرتے ہیں، تعداد میں بہت زیادہ نہ ہوں یا خاص طور پر بہت زیادہ زہریلے قسم کے نہ ہوں تو اکثر تندرست جسم ان کو اپنے حصار میں لے لیتا ہے اور اس طرح سے پہلی تعدی یا چھوت تندرست جسم میں مندمل ہوجاتی ہے اور انسان کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوتی۔ لیکن ایسا ہوسکتا ہے کہ دوبارہ چھوت لگ جائے، یا کمزور ہوتے چلے جانے والے شخص کی دماغی قوتیں کمزور پڑجانے کی وجہ سے جراثیم کو محصور نہ رکھ سکیں، یا بہت بڑی تعداد میں باہر سے جراثیم حملہ آور ہوجائیں۔
دق و سل شاذ و نادر نمایاں علامات و اشارات سے شروع ہوتی ہے۔ اس لیے مرض کی ابتدائی علامتوں کے بارے میں معلومات کو فروغ دینا نہایت ضروری ہے تاکہ عوام بر وقت خبردار ہوسکیں۔
کھانسی۔۔۔ اولین اور سب سے نمایاں چیز ہے، جو ستّر فیصد سے بھی زیادہ مریضوں کے لیے پہلی علامت ہوتی ہے۔ کبھی کبھی صبح سوکر اٹھنے کے بعد قدرے پریشان کن کھانسی آجاتی ہے۔ ممکن ہے حلق میں ذرا سی سرسراہٹ محسوس ہو۔ کبھی یہ ہوتا ہے کہ زکام بگڑ جانے کے بعد یا انفلوئنزا کے بعد کھانسی عرصہ دراز تک برقرار رہتی ہے۔ ابتدائی زمانے میں کھانسی کے ساتھ بلغم کا نکلنا کوئی لازمی نہیں۔ کبھی نکلتا ہے اور کبھی نہیں نکلتا۔
سب سے بہترین اور محفوظ طریقہ یہی ہے کہ جب بھی کھانسی ایک ماہ سے زائد قائم رہے تو اس کی طبی تحقیقات کرالی جائے۔
خون تھوکنا۔۔۔اس لحاظ سے ایک بڑی مفید علامت ہے کہ اس سے مریض اتنا ڈر جاتا ہے کہ فوراً طبی مشورہ حاصل کرنے کے لیے دوڑتا ہے۔ حالانکہ خون تھوکنا اس مرض کی ایک عام علامت ہے، پھر بھی یہ ضروری نہیں کہ جس کے گلے سے خون آجائے وہ دق ہی کا مریض ہو۔
سینے میں درد۔۔۔ ابتدائی دور میں ایک عام علامت ہے۔ یہ درد زیادہ تر سانس لینے میں ہوتا ہے۔
بخار۔۔۔ سے آدمی کو ہمیشہ یہی اندیشہ ہونا چاہیے کہ اس کا سبب دق ہے۔ حالانکہ اس بخار کی کوئی وجہ دریافت نہیں ہوسکی ہے۔ عموماً شام کو بخار آجاتا ہے۔ ابتدا میں یہ بہت ہلکا ہوتا ہے۔ اس ابتدائی بخار کا پتا چلانے کے لیے تھرمامیٹر کو منہ میں کم از کم تین منٹ بلکہ پانچ منٹ تک رکھنا چاہیے۔ اس بخار میں اکثر سردی کے موسم میں بھی رات کو پسینہ آجاتا ہے۔
بھوک اور وزن کی کمی۔۔۔ اور اس کی وجہ سے کبھی کبھی ایسی علامات ہوتی ہیں جو ہماری توجہ اپنی طرف مبذول کرا لیتی ہیں۔ جس وقت یہ خصوصیات کسی کو دکھائی دیں تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے سینے کا معائنہ کروائے۔ ہم اس سلسلے میں یہ مشورہ دیں گے کہ یہ لوگ اکثر اپنا وزن لیتے ہیں اور نتائج کو نوٹ کرتے ہیں۔
کمزوری اور توانائی کی کمی۔۔۔ بھوک کی کمی کے ساتھ بھی پیدا ہوسکتی ہے جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے، اور یوں بھی ایک نمایاں خصوصیت کے ساتھ ظاہر ہوسکتی ہے۔ بہت سے لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ وہ اپنا کام ٹھیک سے نہیں کرپاتے، یا پھر یہ بتاتے ہیں کہ وہ اتنا تھک جاتے ہیں کہ پھر کام نہیں کرسکتے۔ جو شخص پہلے تندرست رہ چکا ہے وہ اگر اس قسم کی علامتیں اپنے اوپر طاری ہوتے دیکھے تو اپنے سینے کی کیفت کے بارے میں شبہات پیدا ہوجانے چاہئیں۔
استغراق کی کمی۔۔۔ ان لوگوں میں زیادہ نمایاں ہوتی ہے جو دماغی کام کرتے ہیں۔ ذہن کو قابو میں رکھنا اور اپنے کام میں لگے رہنا بڑا دشوار ہوجاتا ہے۔
تنک مزاجی۔۔۔ بھی دق کے ابتدائی دور میں کبھی کبھی دکھائی دیتی ہے۔ ایک آدمی جو عام طور سے سیدھا سادہ اور خوش مزاج ہے وہ بلا کسی ظاہری سبب کے غیر معقول اور چڑچڑا ہوجاتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کے گھر والے پریشان ہونے لگتے ہیں۔
بدہضمی۔۔۔ ہمیشہ پیٹ کی خرابی ہی کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتی، کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ جن مریضوں کا زخم معدہ (PEPTIC ULCER) یا ہاضمہ کی دوسری خرابیوں کا مہینوں علاج ہوتا رہا ہے ان کے سینے کا اگر ایکس رے کرایا گیا تو پتا چلا کہ انہیں سل ریوی(PULMONARY TUBERCULOSIS) یعنی دق ہوگئی ہے اور مرض بہت آگے بڑھ چکا ہے۔
لہٰذا یہ ہیں وہ علامتیں جو دق کے ابتدائی دور میں پائی جاتی ہیں۔ اگر کسی کو یہ خیال ہو کہ اسے ان میں سے کوئی تکلیف ہورہی ہے تو اسے فوراً اپنے سینے کا معائنہ کروا لینا چاہیے۔
دق و سل سے محفوظ رہنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ باقاعدہ طور پر اپنا طبی معائنہ کراتے رہیں جس میں سینے کا ایکس رے بھی شامل ہے۔ یہ خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے ضروری ہے جن کو دق و سل کے مریض سے واسطہ رہتا ہے۔ سل کی دریافت کا سب سے یقینی ذریعہ ایکس رے ہی ہے۔ اگر ایکس رے کی تصویر ذرا بھی مشتبہ ہو تو اس کی تصدیق کے لیے دوسرے طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔
نئی دوائیں اس مرض میں بہت کارگر ثابت ہورہی ہیں۔ انتہائی ضروری یہ بات ہے کہ طویل عرصے تک آرام اور تازہ ہوا میں قیام کیا جائے۔ بہتر یہ ہے کہ کسی سینے ٹوریم میں رہا جائے، جہاں تیمار داری اور طبی اور سرجیکل کی امداد کا معقول انتظام اور موزوں غذا کا اہتمام ہو۔ علاج میں وقت لگنے کا انحصار اس بات پر ہے کہ مرض کس درجے میں ہے۔ ابتدائی درجے میں کسی سنگین بیماری کا علاج اس قدر آسان نہیں ہے جس قدر ابتدائی بیماری کا ہے، اسی کے ساتھ کسی بیماری کا علاج اس قدر مشکل نہیں ہے اگر مرض بڑھ چکا ہو۔
دق و سل سے مدافعت کی سب سے بہتر تدبیر یہ ہے کہ صحت مند عادات کو اختیار کیا جائے اور صحت کو خراب کردینے والے اطوار سے دور رہا جائے۔ مختلف قسم کی ضروری غذائیں کافی مقدار میں کھائی جائیں، ظاہر (جراثیم سے پاک کیا ہوا) دودھ وافر مقدار میں پیا جائے۔ ایسے لوگوں سے دور رہا جائے جو لاپروائی سے تھوکتے اور کھانستے ہیں۔کام کی زیادتی اور ایسے کھیلوں سے بچا جائے جن سے تھکان ہو جاتی ہو۔
ان لوگوں میں اس بیماری کے لگ جانے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے جو دق و سل کے مریض کے ساتھ ایک ہی مکان میں رہتے ہیں۔ ایک خاندان کے لوگوں کو مریض سے قریبی واسطہ رہتا ہے، اس لیے مریض کے جراثیم بہت آسانی کے ساتھ ان پر حملہ آور ہوسکتے ہیں۔ خاص طور پر پندرہ سے بیس پچیس سال تک کے افراد میں اس مرض کو قبول کرلینے کی استعداد زیادہ ہوتی ہے۔ ان حالات کے پیش نظر بہتر یہی ہے کہ دق و سل کے مریض سینے ٹوریم ہی میں رہ کر اپنا علاج کرائیں۔
ہر شخص کو سینے کا ایکس رے کرانا چاہیے۔ اس میں بہرحال کوئی نقصان نہیں ہے، بلکہ سراسر فائدہ ہی ہے۔ یہ اتنا آسان ہے جتنا تصویر کھنچوانا۔ اگر ایکس رے یہ بتائے کہ آپ کو ’’ٹی۔بی‘‘ نہیں ہے تو آپ کو اس کی تصدیق سے اطمینان ہوجائے گا، اور اگر ایکس رے سے یہ پتا چلے کہ آپ مریض ہیں تو ابتدائے مرض ہی سے علاج شروع کرا سکیں گے اور تاخیر کے نقصان سے بچ جائیں گے، اور آپ کے صحت یاب ہونے کا امکان بڑھ جائے گا۔
اگر ٹی بی کے مریض کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے ہیں تو خواہ آپ اپنے آپ کو تندرست سمجھتے ہوں، لیکن معالج کے پاس جاکر اپنا مکمل معائنہ کرائیں۔ گھر میں رہنے والوں میں سے ہر فرد کو اسی طرح اپنا مکمل معائنہ کرانا چاہیے اور اسی کے ساتھ ٹیوبر کولائن ٹیسٹ (TEST TUBERCULIN)بھی کرانا چاہیے۔
دق و سل کے مرض کو روکنے کے لیے کوشش کرنا ملک کے ہر باشندے کا فرض ہے، اور اس کی ایک تدبیر یہ بھی ہے کہ آپ بلاتاخیر اپنے سینے کا ایکسرے کرائیں۔
نگہداشت مابعد کو مؤثر طور پر انجام دینے کے لیے یہ مناسب خیال کیا گیا ہے کہ دق کے مریض کے علاج کو تین مرحلوں پر تقسیم کیا جائے۔ پہلا مرحلہ اُس وقت سے شروع ہوتا ہے جب مرض کی اوّلین تشخیص مکمل ہوجائے۔ اس مرحلے میں مریض کو براہِ راست دق وسل کے ہسپتال میں داخل کردینا نامناسب ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف یہ طریقہ بہتر سمجھا گیا ہے کہ پہلے مریض کو تحضیری کلینک (PRE-SANATORIUM CLINIC)کی زیر نگرانی رکھ کر اُسے اُس کے مرض کے بارے میں مفصل معلومات بہم پہنچائی جائیں تاکہ وہ مرض اور اس کے علاج اور خاص طور پر اگلے مرحلے یعنی ہسپتال میں داخلے کی اہمیت اور ضرورت کو اچھی طرح سمجھ لے۔ اگر اس مرحلے میں مریض کی تربیت مناسب انداز میں ہوجائے تو مریض کو ضروری عرصے تک ہسپتال میں قیام کرانے کے لیے معالجین کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی۔ ناسمجھ مریض ہی ہسپتال سے قبل ازوقت رُخصت پراصرار کرتے ہیں۔ اس مرحلے پر مریض کو یہ بات بھی سمجھانی چاہیے کہ اس کا مرض کس طرح دوسروں کو متاثر کرسکتا ہے اور اس سے حفاظت کی کیا تدابیر اُسے اختیار کرنی چاہئیں۔ نیز ہسپتال میں داخلے سے قبل کے عرصے کی ضروری ہدایات بھی دی جانی چاہئیں۔ مریض کو مناسب تعلیم وتربیت کے ذریعے سے ذہنی طور پر ہسپتال کے ماحول سے مانوس کرانا چاہیے اور اُسے یہ بات بھی سمجھا دینی چاہیے کہ غیر ضروری تاخیر اور احتیاطی تدابیر کا لحاظ نہ کرنے سے کیا نقصانات ہوسکتے ہیں۔
اس منصوبے کے دوسرے مرحلے کی ابتدا مریض کے ہسپتال میں داخلے سے ہوتی ہے۔ اس مرحلے میں مناسب معالجاتی تدابیر کے ساتھ ساتھ ایک منظم تعلیمی اور تربیتی پروگرام کے ذریعے مریض کو ضروری معلومات مہیا کی جاتی ہیں۔
تیسرا مرحلہ ہسپتال سے رخصت ملنے کے بعد سے شروع ہوتا ہے۔ مریض کے واپس گھر پہنچنے پر مقامی ٹی بی سینٹر کی ایک نرس اس کے گھر پہنچتی ہے اور سینٹر کے معالج کو ضروری معائنے اور جسمانی حالات کی رپورٹ دیتی ہے۔ اس مرحلے میں اُن مریضوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے جن میں دق و سل کے ساتھ دیگر عوارض و امراض بھی موجود ہوں، مثلاً ذیابیطس،کبرسنی کے عوارض، حمل، شراب کی عادت وغیرہ۔
دق و سل کے مریض عام طور پر ہسپتال سے رخصت ہونے کے بعد اپنی صحت کے بارے میں بے پروا ہوجاتے ہیں اور انہیں اس بات کا بالکل خیال نہیں رہتا کہ صحت یابی کی علامات اور مرض کے مکمل اختتام کے درمیان ایک ایسا وقفہ ہوتا ہے جس میں بہت زیادہ احتیاط اور توجہ سے علاج جاری رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
(باقی صفحہ 41پر)
مریض ابتدائی علاج کا ایک دور ختم کرتے ہی خود کو بہتر محسوس کرتا ہے اور اس کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے روزمرہ کا کام انجام دینے لگے۔ اگرچہ صحت یابی کی علامات ظاہر ہونے کے بعد بھی مریض کے ذہن پر مرض کا خوف باقی رہتا ہے۔ لیکن عام طور پر اس خیال سے کہ اس کے عزیز اور دوست اس کی بیماری کو بھول جائیں وہ کوشش کرتا ہے کہ جلد از جلد تمام کام انجام دینے لگے جو وہ صحت کی حالت میں انجام دیتا تھا۔
یہ صورت حال انتہائی خطرناک ہے، کیونکہ دق کے مریض پر ذرا سی بے احتیاطی کے نتیجے میں مرض کا دوبارہ حملہ عین ممکن ہے۔ مجوزہ دواؤں کا استعمال اگر معالج کی ہدایت کے مطابق ضروری عرصے تک پابندی سے نہ کیا جائے تو مرض کے دوبارہ حملے کی صورت میں علامات نسبتاً شدید ہوتی ہیں۔ اس سے دوسروں کو چھوت لگنے کا اندیشہ زیادہ ہوجاتا ہے اور جراثیم عام طور پر مؤثر ثابت ہونے والی مانع دق دواؤں کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا کرلیتے ہیں۔ اس لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ دق و سل کی ابتدائی تشخیص کے بعد سے مرض کے کلی خاتمے تک جو طویل عرصہ ہوتا ہے اس میں مریض کو معالج کی ہمہ وقت نگرانی میسر رہے۔

Share this: