کیا ہم شرمندہ ہی رہیں گے؟

Print Friendly, PDF & Email

اس وقت پاکستانی قیادت کہاں ہے؟ پاکستان سے وفاداری بنگلہ دیش میں جرم و سزائے موت ہے، مگر پاکستان میں مجرمانہ خاموشی اور سنگدلانہ لاتعلقی سے نوجوان نسل اور پاکستان کے لیے جان لٹانے پر آمادہ سرفروشوں کو کیا پیغام دیا جارہا ہے، یہی ناں کہ خدانخواستہ کل بھارت ساختہ علیحدگی پسند پاکستان دشمن اور دہشت گرد ٹولہ حملہ آور ہو تو مزاحمت کے بجائے فاتحین کا استقبال کرو، گلے میں ہار ڈالو! پاکستانی اشرافیہ حال مست ہے یا مال مست۔ پاکستان پر ضرب بنگلہ دیش میں لگے یا کراچی میں، اسے کوئی خاص پروا نہیں۔ کیا یہ ڈوب مرنے کا مقام نہیں کہ پاکستان سے محبت کرنے والوں کو پھانسی اور عمر قید کی سزائیں دی جارہی ہیں ۔ اگر امریکہ میں کوئی کتا سڑک پر پولیس کی دوڑ بھی لگواتا ہے تو ہمارے الیکٹرانک چینل اس کی خبر بڑے جوش و خروش سے دیتے ہیں۔ لیکن جو ظلم ہمارے پڑوس میں ہورہا ہے اس پر سب کو سانپ سونگھا ہوا ہے۔ ہماری سوسائٹی کو کوئی تکلیف نہیں۔ ایکس سروس مین خاموش کیوں ہے؟ اس نازک معاملے میں ان کی کوئی ذمہ داری نہیں بنتی؟ اور پاکستان سے ٹیکسٹائل کا کاروبار ڈھاکا منتقل کرنے والو! اپنی آنکھیں کھولو۔ بنگلہ دیشی قومیت کے حامل پاکستان کے وفاداروں کو پھانسیاں دی جارہی ہیں تو کل تمہارے کاروبار کس قدر محفوظ ہوں گے! آج بنگلہ دیش کے کوچہ و بازار میں پاکستان کے نام پر لاشیں گر رہی ہیں، خون بہہ رہا ہے، ساری دنیا حسینہ واجد کے تخلیق کردہ نام نہاد جنگی جرائم ٹریبونل پر ہنس رہی ہے اور اس کا مذاق اڑا رہی ہے، لیکن ہمارے روشن خیال میڈیا و حکمراں اس معاملے میں اپنے ضمیر کو تھپکیاں دے دے کر سلا رہے ہیں۔ نئے پاکستان میں ان کا کوئی والی وارث موجود نہیں۔ کوئی سیاسی مصلحتوں کی بنا پر خاموش ہے، تو کسی کی روشن خیالی نے اسے سچ بولنے سے روک رکھا ہے۔ جن قوموں کا حافظہ جواب دے جاتا ہے ان کا مستقبل مخدوش ہوجایا کرتا ہے۔ ہمارا حافظہ تو کب کا جواب دے چکا ہے۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ حکمران کچھ دن پہلے تک اُس بھارت سے بہتر تعلقات قائم کرنے کا اظہار کررہے تھے جس نے پاکستان کو دولخت کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ وہ بھارت جس نے مقبوضہ کشمیر میں غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے، جو کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے، انہیں شہید کررہاہے، پیلٹ گنوں سے انہیں اندھا کررہا ہے، تین مہینوں سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا نفاذ کیے ہوئے ہے، پاکستان کے دریاؤں پر آبی جارحیت کرکے اسے نخلستان سے ریگستان میں بدلنا جس کی قومی پالیسی ہے۔ وہی بھارت جس نے سمجھوتا ایکسپریس میں دہشت گردی کرکے درجنوں پاکستانیوں کو زندہ جلا دیا۔ افسوس کہ بنگلہ دیش کے سرخ پرچم پر بنا ہوا سورج فی الحال روشنی کے بجائے تاریکی پھیلا رہا ہے۔ حق و باطل کی جو کشمکش فی الحال سرزمین بنگلہ دیش میں برپا ہے، کوئی نئی نہیں۔ یہاں نہ حق کے عَلم بردار کبھی پسپا ہوئے ہیں نہ ہوں گے۔ بقول شاعر
ہے نور کی ظلمات سے یہ جنگ پرانی
لڑتا ہے اندھیروں سے ہمیشہ کوئی سورج
قرۃ العین کاشف/ ملیر کراچی
متحد و یکجان قوم
دنیا جانتی ہے کہ صرف اسلحہ اور سازو سامانِ جنگ سے جنگیں نہیں جیتی جاتیں۔ برّی، بحری اور فضائی قوت کی اہمیت اپنی جگہ۔۔۔ مسلح افواج کی شجاعت و بہادری بھی بجا۔۔۔ لیکن جنگیں اُس وقت تک پورے اعتماد و یقین کے ساتھ نہیں لڑی جا سکتیں جب تک پوری قوم متحد اور یکجان نہ ہو۔ 1965ء کی جنگ میں پورا پاکستان یکسو تھا۔ مشرقی اور مغربی پاکستان کے عوام ایک ہی جذبے سے سرشار ہوکر بھارت کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوگئے تھے۔
پاکستان موجودہ حالات میں حالتِ جنگ میں ہے۔ جب آپ کا روایتی دشمن آپ پر الزامات کی بارش برسا رہا ہو، آپ کو اپنے ملک کے اندر مسلح دہشت گردی اور فوجی کیمپوں پر حملوں کا ذمہ دار قرار دے رہا ہو، آپ کی سرحد پر گولہ باری کرکے عام افراد اور فوجی اہلکاروں کو شہید کررہا ہو، آپ کے دریاؤں کا پانی بند کرکے آپ کو قحط کا نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کررہا ہو، آپ کو للکارتے ہوئے کہہ رہا ہو کہ ’’ہم تمہیں ساری دنیا میں تنہا کردیں گے‘‘ تو اسے حالتِ جنگ ہی کہیں گے۔
حال ہی میں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا ہے۔ اور بھارت کو دوٹوک پیغام دیا گیا ہے کہ دفاعِ وطن کے عظیم مقصد کے لیے ہم سب متحد ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت کے خلاف سب سے زیادہ سرگرم سیاستدان عمران خان کو بھی اس کانفرنس میں ضرور جانا چاہیے تھا لیکن وہ نہیں گئے۔ تحریک انصاف کی جانب سے شاہ محمود قریشی اور شیریں مزاری نے شرکت کی تھی۔ انہوں نے اعلامیے کی تیاری میں بھی اہم کردار ادا کیا اور کھل کر کہا کہ ’’ہم وزیراعظم کی قیادت پر مکمل اعتمادکرتے ہیں‘‘۔
اس وقت حالات کا تقاضا ہے کہ ہمیں دشمن کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جانا چاہیے، ایک دوسرے کے مشکلات کو کم کرنا چاہیے، لیکن اس کے برعکس ہو یہ رہا ہے کہ ملک میں دودھ، گوشت، سبزی اور دیگر اشیائے ضرورت من مانی قیمتوں پر فروخت ہورہی ہیں، اور منافع خوروں کو پکڑنے کی کسی میں ہمت نہیں ہے۔ جو حکومت منافع خوروں کو قابو میں نہ رکھ سکے، اس کا وجود کہاں تسلیم کیا جاسکتا ہے! ’’اندھیر نگری چوپٹ راج‘‘ کی مثال ایسی ہی لولی لنگڑی جمہوریت پہ صادق آتی ہے۔ ہم آمریت اور جمہوریت کو ایک طرف رکھتے ہوئے صرف حکومت کی بات کرتے ہیں کہ جیسی لنگڑی لولی جمہوریت ہمارے مقدر میں لکھی ہے اسی کو مضبوطی سے پکڑنا اور اس کی دیکھ بھال کرنا ہے۔
لکشمیؔ ساحل/ ناظم آباد، کراچی
مسئلہ کشمیر اور ہماری ذمہ داریاں
میں آپ کے مؤقر جریدے کے توسط سے ارباب اختیار کی توجہ انتہائی اہم مسئلے کی جانب مبذول کروانا چاہتی ہوں۔ مسئلہ کشمیر عرصہ نصف صدی سے حل طلب ہے۔ آج بھی کشمیری عوام بھارتی جارحیت کا شکار ہیں اور اپنے اوپر ہونے والے مظالم کی وجہ سے دنیا کی توجہ اپنی جانب چاہتے ہیں۔
جناب عالی! پاکستان نے ہمیشہ ہی مظلوم کشمیری بھائیوں کی مدد کے لیے سیاسی و سفارتی سطح پر آواز بلند کی ہے۔ مگر آج مسئلہ کشمیر جس نہج پر ہے اسے ہمیشہ سے زیادہ ہی ہماری مدد و حمایت کی ضرورت ہے۔ آج کشمیری نوجوان اپنے ساتھی برہان وانی شہید کی قربانی کے بعد سے اب تک 200 سے زیادہ لوگوں کی قربانی دے چکے ہیں اور اپنے حق خودارادیت کے لیے پہلے سے زیادہ شدت سے میدان میں موجود ہم سے متقاضی ہیں کہ ہم ان کی دنیا بھر میں حمایت کا عَلم بلند کریں اور انہیں ان کا حقِ خودارادیت دلائیں۔ ہم کل بھی اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے تھے اور آج بھی کھڑے ہیں اور ان کی ہر سطح پر حمایت کرتے رہیں گے۔
نازیہ رفیق/ کیٹل کالونی کراچی
nn

Share this: