(جواہرات (حکیم سید مجاہد محمود برکاتی

Print Friendly, PDF & Email

 (دوسرا اور آخری حصہ)
طبی خواص: مرجان تمام قسم کے جریان، ضعفِ معدہ، ضعفِ قلب، خفقان، وحشت، جریانِ خون، اسہال خون، سیلان الرحم اور عام کمزوری میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ آنکھوں کی جلن اور آشوبِ چشم میں بھی مفید ہے اور اس میں کوئی مضر اثر نہیں ہے۔
جدید سائنس نے کیلشیم کے جو فوائد بیان کیے ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ معدے کی تیزابیت کو توڑتا ہے، خون کے جمنے میں مدد دیتا ہے، اور خون کے جسم سے بہاؤ کو روکنے میں معاون ثابت ہوتا ہے، اور اسی طرح آئرن خون کا ہیمو گلوبن بنانے میں کام آتاہے اور اسی وجہ سے مرجان میں موجود کیلشیم خون کو روکنے میں اور آئرن خون بنانے میں مددگار ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ خون کی کمی اور اس سے پیدا شدہ اثرات اور خون کے بہاؤ وغیرہ کے لیے مرجان بہترین دوا ہے۔ علاوہ ازیں کیلشیم کو ڈاکٹر صاحبان ہڈیوں کی بیماریوں، دل کی بے قاعدہ حرکات، حاملہ عورتوں، بچوں کے دانت نکلتے وقت، فریکچر کے دیر سے بھرنے میں، خون بہہ جانے میں، آپریشن سے پہلے یا آپریشن کے بعد، دست آنے میں اور اعصاب کی کمزوری میں استعمال کراتے ہیں۔
جیسا کہ ہم نے ابھی ذکر کیا کہ مرجان دراصل کیلشیم ہی پر مشتمل ہے۔ اس لیے یہ عام جسمانی کمزوری اور قلب و ریہ کے افعال میں مفید ثابت ہوتا ہے۔ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ کیلشیم جسمِ انسانی کی ترکیب میں ایک اہم عنصر ہے۔ CAPILARIES کی پرورش بھی اسی پر منحصر ہے اور خون میں اس کا وجود ضروری ہے، نیز قلب وریہ کی نسیجوں میں کیلشیم خاص طور پر پایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے مرجان کو قلب وریہ کے لیے ایک ٹانک تسلیم کیا گیا ہے۔ یونانی طب میں مرجان، مروارید اور اسی قسم کے بہت سارے قدرتی کیلشیم ایک زمانے سے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔ حکماء قدیم بھی اس کو اعضاء رئیسہ کی تقویت کے لیے استعمال کراتے تھے کیونکہ کیلشیم کو علیحدہ استعمال کرانے کے بجائے قدرت میں پائے جانے والے کیلشیم کے خزانوں کا استعمال نہ صرف بے ضرر ہے بلکہ یہی ایک طرح سے بہتر طریقۂ استعمال ہے۔ اس کے علاوہ مرجان میں فولاد کا جزو بھی پایا جاتا ہے، اس لیے انسانی جسم میں فولاد کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مرجان نہایت مفید اور کارآمد دوا ہے۔ اس کے استعمال سے فولاد کے جذب ہونے یا نہ ہونے کا خدشہ نہیں رہتا کیونکہ یہ مرجان کی ترکیب میں شامل ہے کہ جب مرجان کے اجزا تحلیل ہوکر خون میں جذب ہوکر نسخہ کی غذا بن جائیں گے تو ساتھ ہی فولاد بھی جذب ہوکر خون میں تبدیل ہوجائے گا۔
خارجی استعمال: مرجان کے متعلق یہ بات مشہور ہے کہ یہ بیماریوں کی نشاندہی کرتا ہے، یعنی بیماری کے زمانے میں اس کی رنگت بدل جاتی ہے، اسی وجہ سے اسے INDICATIVE STONE بھی کہتے ہیں۔ اس کے پہننے سے انسان نظرِ بد اور ڈرؤانے خوابوں سے محفوظ رہتا ہے۔ نیز اس کا گلے میں پہننا اسقاط سے محفوظ رکھتا ہے۔
مروارید: مروارید کو عربی میں لولو اور انگریزی میں PEARL کہتے ہیں۔ اس کا شمار بھی جواہرات میں ہوتا ہے۔ اس کی بھی اپنی ایک شان ہے۔ یہ سفید، نیلے، گلابی اور سیاہی مائل بھورے رنگوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ ایک قدیمی اور قیمتی جواہر ہے اور قرآن پاک میں بھی اس کا ذکر موجود ہے۔ یہ کیلشیم کاربونیٹ، کیلسائیڈ اور آرگینک میٹر (ORGANIC METER)کا مرکب ہے۔ اس کا مزاج معتدل اور بعض کے نزدیک دوسرے درجے میں سرد و خشک ہے۔ یہ مقوی اعضائے رئیسہ ہے اور امراضِ چشم میں بھی مفید ہے۔ قابض اور حابس دم ہونے کی وجہ سے جریان، سیلان، کثرتِ حیض اور اسہال دم میں مستعمل ہے۔ دل کے اکثر امراض کا مؤثر علاج ہے۔ جسم سے خون زیادہ نکل جائے یا کثرتِ اسہال سے کمزوری پیدا ہوجائے تو اس کا استعمال اکسیر کا کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ منہ کی بدبو، منہ سے خون آنا، آنکھوں کا ورم، پیشاب کی جلن اور یرقان کی مؤثر دوا ہے۔ اگر ایسے بچے کو جو کہ 40 دن سے کم عمر کا ہو، مروارید سووہ استعمال کرایا جائے تو اسے چیچک اور خسرہ تمام عمر نہیں نکلے گی۔
مروارید میں کیمیائی اعتبار سے کیلشیم 90 فیصد، میگنیشیم 3 فیصد، زنک 2 فیصد اور باقی انتہائی قلیل دھاتی عناصر5 فیصد پائے جاتے ہیں۔ ادویاتی لحاظ سے مروارید کو دل کے امراض میں مفید پایا گیا ہے۔ جنون کی حالت میں مؤثر ہے۔ خفقان میں فائدہ دیتا ہے۔ ضعفِ معدہ میں قابلِ اعتبار ہے۔
مروارید میں کیلشیم نمایاں طور پر پایا جاتا ہے۔ جدید تحقیق کی رو سے کیلشیم عام جسمانی کمزوری میں مؤثر ہے۔ رعشہ، فالج، مرگی، کاہلی، دل کا دورہ، چکر آنا، ورم گردہ، زندگی سے بیزاری، نسیان یعنی حافظہ کی کمزوری، سر درد، مسوڑھوں سے خون، معدہ کی جلن، پیشاب کا خود نکل جانا، بانجھ پن، آدھے سر کا درد، کھانسی، ہڈیوں کا درد، رحم کا اپنی جگہ سے ہٹنا، بلڈ پریشر میں مفید ہے۔ دل کی دھڑکن میں باقاعدگی پیدا کرتا ہے۔ کیلشیم انسان کی تادم حیات ضرورت ہے۔ انسان کو تندرست، مضبوط ہڈیوں اور دانتوں میں والا بناتا ہے۔ عضلات اور اعصاب کے عمل کو بہتر طور پر قائم رکھتا ہے۔ کیلشیم کے استعمال سے جگر کا فعل بہتر ہوتا ہے۔ کیلشیم اینٹی السر خصوصیات کا حامل ہے۔ دل کے امراض میں مؤثر ہے۔الرجی میں بے حد مفید ہے۔ مروارید میں دوسرا عنصر میگنیشیم ہے جو انسانی زندگی میں بے حد مفید ہے۔ اعصاب کا بادشاہ ہے۔ اس کی کمی انسان کو دل کے امراض میں مبتلا کردیتی ہے، انسان میں خودکشی کا رجحان بڑھتا ہے۔ اس کے علاوہ آدھے سر کا درد اور مرگی میں مؤثر ہے۔ اعصاب کو قوت دیتا ہے۔
مروارید میں تیسرا عنصر زنک ہے۔ زنک کی کمی انسانی قوتِ مدافعت میں کمی پیدا کردیتی ہے۔ حقیقت میں زنک انسانی زندگی میں قوتِ مدافعت کا بادشاہ ہے۔ بچوں میں اس کی کمی سے ان کی نشوونما میں کمی آتی ہے، جلد خشک ہوجاتی ہے، جگر بڑھ جاتا ہے، بچہ ذہنی طور پر پس ماندہ ہوجاتا ہے اور مٹی کھانے کی طرف رغبت ہوجاتی ہے، تلی بڑھ جاتی ہے، خون میں کمی اور پاخانوں کی زیادتی اس عنصر کی کمی کے امراض ہیں۔ خواتین میں وقت سے پہلے بچے کی پیدائش، کم وزن کا بچہ پیدا ہونا، جلد کا کھردرا پن، بالوں کا گرنا، پیدائش کے فوراً بعد یرقان، ناخنوں کا بھدا ہونا، ٹوٹنا، رخساروں پر کیل مہاسے وغیرہ اسی عنصر کی کمی کا نتیجہ ہیں۔ زنک دمہ، کیڈمیم کے زہریلے پن، الرجی، گلے کی سوزش، وائرس کے حملے، قوتِ باہ کی کمی میں انتہائی مؤثر ہے۔ دائمی نزلہ زکام اس عنصر کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کولیسٹرول کو کم کرتا ہے، اعصاب کو تحریک دیتا ہے۔ زنک اینٹی وائرل خصوصیات کا حامل ہے۔
خارجی استعمال:مروارید کو کسی دھاگے میں پروکر کمر سے باندھنا اسقاطِ حمل کا بہترین علاج ہے۔ اس کا پہننا نیک مزاجی پیدا کرتا ہے۔ دل کو صبر و استقلال میسر آتا ہے۔ انسان کے اثراتِ روحانی کا جاذب ہے، اس لیے اس کو استعمال شدہ یعنی سیکنڈ ہینڈ نہیں پہننا چاہیے، کیونکہ یہ پرانے اثرات کو منتقل بھی کرتا ہے۔
موتیوں کا ذکر آیا ہے تو تھوڑا سا یہ بھی بتاتا چلوں کہ اکثر و بیشتر اخبارات میں یہ خبر آتی ہے کہ کراچی کے سمندر سے موتی کی دریافت۔۔۔ ساتھ ہی ماہرین کی رائے بھی ہوتی ہے کہ کراچی میں پہلی بار موتی نکلا ہے۔ لیکن حقیقت یہ نہیں ہے۔ کراچی کے سمندر سے موتی نکلتے ہوئے ایک عرصہ گزر چکا ہے۔ اور یہ موتی کراچی کھاڑی کے نام سے مشہور ہیں۔آج سے پندرہ سال پہلے کے بہترین آب دار موتی جو کہ میں نے خود نکالے تھے، نمونے کے طور پر ہمارے اسٹال پر موجود ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ مروارید سیاہ کے بھی چند دانے رکھے ہیں۔ کراچی کے موتیوں کے سلسلے میں میرا ایک مضمون نمایاں طور پر شائع ہوچکا ہے جس میں، مَیں نے خاص طور پر حکومت کی توجہ اس طرف دلائی تھی کہ جس طرح جاپان میں تجارتی بنیاد پر موتی پیدا کیے جاتے ہیں، اگر ہم بھی اسی طرح ایسے مراکز قائم کریں تو یقیناًکروڑوں روپے کا زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔ ہمارے ملک میں اس کام سے دلچسپی رکھنے والے حضرات موجود ہیں جو اسے صحیح طریقے پر چلانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، لیکن آج تک اس طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔
الماس یا ہیرا: ہیرا جسے انگریزی میں ڈائمنڈ (DIAMOND)کہتے ہیں، وہ واحد پتھر ہے جس میں صرف ایک ہی جزو یا عنصر ہے یعنی کاربن۔ اس کا مزاج سرد و خشک بدرجہ چہارم ہے اور یہ تمام پتھروں میں سب سے سخت ہے۔ اس کی چمک دمک اور خوبصورتی کی بنا پر ہر زمانے میں اس کی قدر و منزلت رہی ہے۔
یہ مقوی قلب و مقوی اعضائے رئیسہ ہے۔ لقوہ، فالج اور ادھ رنگ میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ہیرے کا کشتہ متعدد دیگر جسمانی عوارض کے لیے بھی مفید ہے مثلاً وجع المفاصل، تبخیر معدہ، دق اور سل کے لیے۔ یہ ذیابیطس میں اکسیر کا حکم رکھتا ہے، یہاں تک کہ لبلبہ کے ٹشوز میں ایک نئی زندگی پیدا کردیتا ہے اور بیٹاسیلز (BEETA CELLS)کو پھر سے انسولین بنانے کے قابل بنادیتا ہے۔
خارجی استعمال: ہیرے کا گلے میں باندھنا خوف اور دہشت کو دور کرتا ہے۔ اس کا روحانیت سے گہرا تعلق ہے۔ اس کو دیکھنے سے مسرت اور خوشی ہوتی ہے۔ اس کا نگینہ انگوٹھی میں پہننا مرگی سے محفوظ رکھتا ہے۔
سورج کی شعاعیں اس پر خاص طور پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ یہ اگر موافق نہ آئے تو انسان کو مشکلات میں مبتلا کردیتا ہے۔ یہ پتھر خوش قسمتی اور بدقسمتی دونوں کے لیے مشہور ہے۔
عقیق:عقیق کو انگریزی میں AGETE کہتے ہیں۔ مختلف مذہبی کتابوں میں اس کا ذکر موجود ہے، اس لیے اس کا شمار مذہبی پتھروں میں بھی ہوتا ہے۔ یہ بے شمار رنگوں میں پایا جاتا ہے مگر عقیق عینی بہترین عقیق مانا جاتا ہے۔ یہ سلیکا اور آئرن کا مرکب ہے۔ عقیق کو اگر شربتِ سیب کے ساتھ ملا کر استعمال کرایا جائے تو جنون کا نکسیر، معدے سے خون آنا، کثرتِ حیض اور ناسور وغیرہ کے امراض میں فائدہ مند ہے۔ عقیق خفقان اور سدہ جگر و طحال کا دافع ہے۔ اس کو پیس کر آنکھوں میں لگانے سے بصارت قوی ہوتی ہے۔ اس کا کشتہ پرانے سوزاک اور کہنہ زخموں کو مندمل کرتا ہے۔ زہریلے کیڑے مکوڑوں یا بچھو کے کاٹے کے زخموں پر عقیق کو باریک پیس کر مَلا جائے تو زہر کا اثر زائل ہوجاتا ہے اور زخم جلد بھر جاتا ہے۔ کولسہ کے ساتھ عقیق کا سفوف بناکر منجن کے طور پر استعمال کرنا مسوڑھوں سے خون کے بہنے کو بند کردیتا ہے۔ پیشاب کے راستے غیر ہضم شدہ اجزا یعنی فاسفیٹ وغیرہ کے لیے اس کا بنا ہوا کشتہ ازحد مفید ہے۔ اس کے علاوہ عقیق پھیپھڑوں سے خون آنے اور قے الدم کے لیے بھی اکسیر ہے۔
خارجی استعمال: غم اور غصے کو دور کرتا ہے۔ دنیاوی امور کے لیے اس کا پہننا معاون ثابت ہوتا ہے۔ یہ انسان کو مستقل مزاج بناتا ہے، حوصلہ بلند کرتا ہے اور سحر اور جادو کے اثر کو زائل کرتا ہے۔
لاجورد: اس کو انگریزی میں LAPISکہتے ہیں۔ یہ خوبصورت، نیلگوں اور چمک دار جوہر ہے۔ مزاج اس کا دوسرے درجے میں گرم و خشک ہے۔ یہ ایلومینیم، ابرق، کیلسائیڈ، پائی رائیٹ اور سلیکا کا مرکب ہے۔کہیں کہیں یہ سونے کی کان سے بھی نکلتا ہے اور اس میں سونے کے ذرات بھی شامل ہوتے ہیں اور یہ لاجورد سب سے فائدہ مند خیال کیا جاتا ہے۔ یہ مفرح اور مقوی قلب اور مصفی خون بھی ہے۔ اسے مالیخولیا اور جنون جیسے دماغی امراض کا شافی علاج تصور کیا جاتا ہے۔ یہ اخلاطِ غلیظہ کا مسہل ہے اور یہ واحد پتھر ہے جس میں قوتِ اسہال ہے، ورنہ تمام پتھر قابض ہوتے ہیں۔ لاجورد کو اگر سرکہ میں بھگو کر برص کے سفید داغوں پر لگایا جائے تو برص کے دھبے دور ہوجاتے ہیں۔ یہ بے خوابی دور کرتا ہے، نکسیر بند کرتا ہے۔ یرقان اور اختلاجِ قلب کے لیے مفید ہے۔ اس کے علاوہ آشوبِ چشم کے لیے بھی بہترین علاج ہے۔
میں معالج حضرات سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ لاجورد کے مرکبات دماغی امراض کے مریضوں کو استعمال کرائیں، ان شاء اللہ وہ یقیناًاسے بہت ہی مفید پائیں گے۔ لاجورو کے مرکبات، قرص لاجورد اور کیپسول لاجوردی عام دواخانوں پر دستیاب ہیں۔
لاجورد کی انگوٹھی پہننے سے جسم کے مسے کم ہوجاتے ہیں۔ دل کو سکون ملتا ہے۔ جو افراد رات کو خواب میں ڈرتے ہیں ان کے لیے اس کا گلے میں لٹکانا مؤثر علاج ہے۔ اس پتھر کو بڑا ہی بابرکت سمجھا جاتا ہے۔ یہ جوہر بھی پاکستان میں ہنزہ کے مقام پر کثرت سے پایا جاتا ہے۔
کہرباء:کہرباء جسے انگریزی میں AMBERکہتے ہیں، کا شمار بھی جواہرات میں ہوتا ہے۔ یہ بہت ہی دل کش اور خوش نما جوہر ہے۔ اس کے بہت سے رنگ ہیں مگر زیادہ تر زرد رنگ کا کہرباء دواؤں میں مستعمل ہے۔ یہ کاربن، ہائیڈروجن، آکسیجن اور سوسنگ ایسڈ کا مرکب ہے۔ اس کا مزاج گرم اور سرد، معتدل، دوسرے درجے میں خشک ہے۔ ہیرے کے بعد یہ واحد پتھر ہے جس میں 75فیصد کاربن پایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ ہیرے کی صفات کا حامل ہے مگر بے ضرر ہے۔ اصل میں کہرباء ایک درخت کا گوند ہے لیکن یہ آہستہ آہستہ خشک ہوکر مثل پتھر کے بن جاتا ہے۔ اکثر کہرباء میں دیکھا گیا ہے کہ مکھی، مچھر اور دیگر حشرات الارض کے پَر اور اعضا چمٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ کہرباء پہلے سیّال مادہ ہوتا ہے جو خشک ہوکر پتھر کی مانند بن جاتا ہے۔ انگریزی میں اس کو فوسلائزیشن کہتے ہیں۔ کہرباء میں مقناطیسی کشش بھی ہے۔ یہ گھاس اور تنکوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔
طبی خواص:یہ مفرح اور مقوی قلب ہے۔ دماغ اور جگر کے لیے مفید ہے۔ ریاحی دردوں میں بھی اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ معدہ اور آنتوں پر مقوی اور قابض اثر کرتا ہے۔ اندرونی اور بیرونی سیلان خون کو روکتا ہے۔ تازہ زخموں پر باریک پیس کر چھڑکنے سے سیلانِ خون بند ہوجاتا ہے۔ اسہال دموی اور خونیں بواسیر اور کثرتِ حیض میں ازحد مفید ہے۔ اس کی ایک خاص قسم ’’سمعی‘‘کہلاتی ہے۔ یہ ایک نایاب قسم ہے۔ ہمارے اسٹال پر کہرباء سمعی کے بھی چند دانے نمونے کے طور پر موجود ہیں۔
خارجی استعمال:کہرباء بچوں کو گلے میں پہنانے سے دانت جلدی نکلتے ہیں۔ یرقان کی زردی جسم سے دور کرنے کے لیے اسے گلے میں لٹکایا جاتا ہے اور یہ بات خاص طور پر دیکھنے میں آئی ہے کہ یرقان کی زردی جسم سے کم ہوجاتی ہے۔اہلِ روم کو اس پتھر سے بڑی عقیدت ہے۔ اس جوہر کا ذکر خوبصورت پتھر کی حیثیت سے انجیل میں موجود ہے۔
نیلم:یہ ایک قیمتی پتھر ہے جو کانوں سے نکلتا ہے۔ رنگت میں نیلا، براق اور بہت سخت ہوتا ہے۔ ذائقے میں شیریں اور کسیلا ہوتا ہے۔ اس پتھر میں عام طور پر چار دھاتوں کے نمکیات یعنی ایلومینیم، کرومیم، کوبالٹ اور ٹائی ٹینیم پائے جاتے ہیں۔
تفریح پیدا کرتا ہے، وسواس اور خفقان کو نافع ہے، آنکھ کو قوت دیتا ہے، پھوڑے پھنسی کو ختم کرتا ہے، دماغ کو قوت دیتا ہے، خشکی بڑھاتا ہے۔ دمہ، کھانسی، فساد صفراء و باہ کو ختم کرتا ہے، بواسیر کو مٹاتا ہے اور مادہ تولید کو بڑھاتا ہے۔
فیروزہ:معدنی پتھر ہے۔ اس کی رنگت سبز اور زردی مائل ہوتی ہے۔ اس میں مختلف قسم کے دھاتی عناصر پائے جاتے ہیں جن میں ایلومینیم، فاسفورس،کاپر اور آئرن شامل ہیں۔ یہ دل کو فرحت اور روح کو قوت بخشتا ہے۔ آنکھوں میں بطور سرمہ استعمال کرتے ہیں۔ دل و دماغ و معدہ کو قوت دیتا ہے، پاخانوں کو بند کرتا ہے، آنتوں کے زخم کو دور کرتا ہے، خفقان میں مفید ہے، گردے اور مثانے کی پتھری توڑتا ہے اور ہاضمہ بڑھاتا ہے۔
یشب:سنگِ یشب (عربی)، حجرایشت (فارسی)، سنگ یشم (انگریزی) ایک صاف و شفاف پتھر ہے۔ سفید، سبز اور خاکستری کئی قسم کا ہوتا ہے۔ ان میں سے سخت قسم عمدہ ہے۔ رنگ مختلف، مزاج سرد خشک اور بدرجہ دوم مقوی دل و دماغ اور معدہ ہے، دافع وسواس اور خفقان ہے، باطنی زخموں کے لیے اکسیر ہے۔ اس کا قلب پر لٹکانا خفقان اور وسواس کے لیے حکمائے قدیم نے نافع لکھا ہے۔ مشہور مرکبات خمیرہ ابریشم، حکیم ارشد والا، مفرح کبیر، مفرح شاہی۔
لعل: (عربی)، لعلِ بدخشان (فارسی)، لعل (انگریزی)، روبی مشہور عام قیمتی پتھر ہے۔ یہ یاقوت ہی کی قسم ہے لیکن یاقوت سے نرم ہے۔ یہ گول اور بڑا ہوتا ہے۔ رنگ سرخ اور چمک دار۔۔۔ مفرح مقوی دل و دماغ، روحانی و نفسانی ہے۔ اس کا سرمہ مقوی بصارت ہے۔ اس کا کشتہ سیلان الرحم کو بند کرتا ہے۔ مفرحات اور یاقوتی میں شامل کرتے ہیں۔
زہر مہرہ:(عربی)، حجر السم (فارسی)، فادزہر معدنی (انگریزی) مینرل بے سور۔
ماہیت: ایک معدنی پتھر ہے جو مختلف رنگوں کا ہوتا ہے۔
اقسام: اس کی بہت سی قسمیں ہیں، سب سے بہتر زہر مہرہ خطائی ہے جس کا معدن کوہستان خطاہے۔
مفرح، مقوی اعضائے رئیسہ اور تریاق سموم خفقان، ضعفِ قلب جیسے امراض میں استعمال کیاجاتا ہے۔ امراضِ وبائی مثلاً طاعون، ہیضہ میں بکثرت مستعمل ہے۔ ہر قسم کے زہر کو دفع کرنے کے لیے گھس کر پلایا جاتا ہے اور سانپ بچھو وغیرہ کے کاٹے کی صورت میں مقام گزیدہ پر گھس کر طلاء کیا جاتا ہے۔ اکثر مفرح و مقوی گولیوں اور معجونوں میں شامل کیا جاتا ہے۔
nn

Share this: