(سی پیک کے مغربی روٹ کا تنازع (عالمگیر آفریدی

Print Friendly, PDF & Email

اسپیکر خیبر پختون خوا اسمبلی اسد قیصر نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے میں مغربی روٹ کے لیے وفاقی حکومت کے وعدوں پر عمل درآمد کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کردی ہے۔ آئینی درخواست میں 28 مئی2016ء کی کل جماعتی کانفرنس میں وزیراعظم کے مغربی روٹ کے حوالے سے فنڈ مختص کرنے اورترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے اعلان پرعمل درآمد کو یقینی بنانے کے علاوہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مغربی روٹ پر منصوبے کے مطابق 8 صنعتی بستیاں قائم کی جائیں اور ان صنعتی بستیوں کو گیس، بجلی، ریلوے لائن، فائبر آپٹکس سمیت دیگر سہولیات میسرکی جائیں، اور مغربی روٹ میں شامل تمام منصوبوں کی فزیبلٹی رپورٹ مکمل کرکے اس پر کام کا آغاز کیا جائے۔ رٹ پٹیشن میں وفاق کو بذریعہ صدرِ مملکت، وزیراعظم کو بذریعہ سیکرٹری، وفاقی سیکرٹری پلاننگ، وفاقی سیکرٹری مواصلات، چیئرمین این ایچ اے، وفاقی سیکرٹری ریلوے اور سیکرٹری فنانس ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے۔ رٹ میں بتایا گیا ہے کہ درخواست گزار صوبائی اسمبلی کا اسپیکر ہے اور صوبے بھر کا نمائندہ ہونے کے ناتے صوبے کے اجتماعی مفادِعامہ کی ذمہ داری بھی درخواست گزار کے سر ہے۔ خیبر پختون خوا اسمبلی نے مغربی روٹ کے حوالے سے دو قراردادیں بھی منظور کی ہیں کیونکہ سی پیک کا منصوبہ 2015ء میں منظور ہوا اور وفاق نے اس کے مغربی روٹ کے حوالے سے فنڈ کا جو حصہ مختص کیا تھا اس کی حمایت میں صوبائی اسمبلی دو قراردادیں منظور کرچکی ہے، لیکن مشرقی روٹ کی بااثر اور مضبوط لابی مغربی روٹ کا فنڈ اور بڑے منصوبے اب مشرقی روٹ کی جانب منتقل کررہی ہے اور اس حوالے سے صوبائی حکومت میں تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ 28 مئی 2015ء کو وزیراعظم نے مغربی روٹ کا منصوبہ ترجیحی بنیادوں پر بنانے کا اعلان کیا تھا اور اس اعلان میں کہا گیا تھا کہ مغربی روٹ سی پیک کا حصہ ہوگا جسے پہلے مکمل کیا جائے گا اور مغربی روٹ میں جو شہر اورٹاؤن آرہے تھے ان کے ناموں کا بھی اعلان کیا گیا تھا، اور اس اعلان کو صوبائی حکومت نے خوش آئند قرار دیا تھا، تاہم اس اعلان کے بعد جو نقشہ جاری ہوا اور 2015-16ء کے بجٹ میں جو فنڈ مختص ہوئے اور فزیبلٹی رپورٹ سامنے آئیں تو اس میں باقاعدہ ذکر کیاگیا تھا، اور ان فیصلوں کی روشنی میں خیبر پختون خوا کے وزیراعلیٰ نے مغربی روٹ میں شامل کرنے کے لیے منصوبے وفاق کے حوالے کیے، جن میں پشاور سے نوشہرہ ریلوے ٹریک، نوشہرہ مردان چارسدہ اور پشاور ریلوے ٹریک، ڈیرہ اسماعیل خان تا پشاور ریلوے ٹریک، ڈیرہ اسماعیل خان تا پشاور موٹروے، اورکرک تا ٹیکسلا براستہ کوہاٹ جھنڈ موٹر وے کے منصوبے شامل ہیں، اور بعدازاں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے مغربی روٹ پر صنعتی بستیوں کے قیام کی تحریری یقین دہانی کرائی تھی اور 17مئی 2016ء کو سی پیک پر وفاقی کمیٹی نے صوبائی حکومت کے ساتھ ملاقات کی اور یہ یقین دہانی کرائی کہ یہ ایک قومی منصوبہ ہے اور 28 مئی 2015ء اور 15جنوری 2016ء کے فیصلوں پر مکمل عمل درآمد ہوگا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مغربی روٹ کے حوالے سے شکوک وشبہات زیادہ ہونے لگے اور اب یہ معلوم ہوا ہے کہ سی پیک کے منصوبے سے مغربی روٹ کو نکال دیا گیا ہے اور متبادل روٹ شامل کیا گیا ہے جو صرف ڈیرہ اسماعیل خان سے گزرے گا۔ بدنیتی کی بنا پر دہشت گردی سے متاثرہ صوبے کو نظرانداز کردیا گیا ہے اور ملک کی تقدیر بدلنے والے سی پیک منصوبے سے کوہاٹ، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں کے پسماندہ اضلاع مستفید نہیں ہوسکیں گے، جبکہ مغربی روٹ کو نکالنے کے حوالے سے وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا کا بیان ریکارڈ پر ہے، کیونکہ چینی سفارت کار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مغربی روٹ کا منصوبے میں ذکر ہی نہیں ہے۔ رٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سی پیک منصوبہ 46 ارب امریکی ڈالر کا منصوبہ ہے اور وفاقی حکومت 6 نومبر 2016ء کو اس میں سے36 ارب امریکی ڈالر صرف پنجاب میں خرچ کرنے کا اعلان کرچکی ہے۔ رٹ پٹیشن میں وزیراعظم کے اعلانات پر عمل درآمد کرانے اور مغربی روٹ کو سی پیک منصوبے میں شامل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
سی پیک منصوبے کے مغربی روٹ کے ایشو پر اسپیکر صوبائی اسمبلی کی جانب سے ہائی کورٹ میں رٹ دائر کروانے کے علاوہ جہاں وزیراعلیٰ پرویز خٹک مغربی روٹ کے ایشو پر خاصے جارحانہ انداز میں بیانات جاری کررہے ہیں وہاں صوبے کی دیگر جماعتوں کا بھی ان دنوں پسندیدہ اور ہاٹ فیورٹ موضوع وفاق کے خلاف احتجاج کے ساتھ ساتھ مغربی روٹ کی بحالی اور اس ضمن میں وفاقی حکومت کو ہدفِ تنقید بنانا ہے۔ اس ضمن میں صوبے کی اُن جماعتوں سمیت جو نہ صرف وفاقیت پر یقین رکھتی ہیں بلکہ جن کی سیاست وفاق کے گرد گھومتی ہے، تمام سیاسی جماعتیں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے وفاقی حکومت کو یک طرفہ طور پر ہدفِ تنقید بناتے ہوئے میدان میں نکل آئی ہیں، جو اس طرح کے ایشوز میں بالعموم دیگر صوبوں کی ناراضی کے پیش نظر محتاط رویہ اپناتی ہیں۔ البتہ اس ایشو کو قوم پرست جماعتیں بڑے دھڑلے سے اپنی سیاسی بقا اور اپنی سیاست کی دکان چمکانے کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔ اس سلسلے میں ماضئ قریب کی سب سے نمایاں مثال کالا باغ ڈیم کا ایشو رہا ہے جس پر خیبر پختون خوا کے علاوہ سندھ کی قوم پرست جماعتوں کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی جیسی وفاق پرست جماعت بھی احتجاج کرتی رہی ہے۔ خیبر پختون خوا کی حد تک کالا باغ ڈیم کے ایشو کو عوامی نیشنل پارٹی نے جس مؤثر انداز میں اپنے حق میں کیش کرانے کی کوشش کی، یہ ان ہی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ ایک موقع پر کالاباغ ڈیم کا ایشو اور اے این اپی لازم وملزوم بن گئے تھے۔ اے این پی نے ماضی میں کالاباغ ڈیم پر جو کامیاب سیاست کی یہ شاید اسی کا اثر ہے کہ اب صوبے کی کوئی بھی قابلِ ذکر جماعت سی پیک کے مغربی روٹ کے ایشو پر کسی بھی طرح پیچھے رہنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ان دنوں اس موضوع پر ویسے تو صوبے کی حکمران جماعت پی ٹی آئی کچھ زیادہ ہی شور مچا رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ جہاں حکومت میں شامل اس کی اتحادی جماعتیں قومی وطن پارٹی اور جماعت اسلامی سی پیک کے ایشو پر خاصی متحرک نظر آتی ہیں وہاں اپوزیشن کی جماعتیں اے این پی اور پیپلز پارٹی بھی اس گرم ایشو پر دوسری جماعتوں سے پیچھے رہنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ صوبے میں اپوزیشن کی دو جماعتوں مسلم لیگ(ن) اور جمعیت علماء اسلام (ف) کا اس ایشو پر مؤقف باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ اس حوالے سے مسلم لیگ(ن)
(باقی صفحہ 41پر)
کی سیاسی مجبوری تو قابلِ فہم ہے، البتہ جمعیت (ف) کی خاموشی یا باَلفاظِ دیگر اس ایشو پر وفاقی حکومت کی حمایت کو سیاسی مبصرین جمعیت (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی مخصوص سیاست کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ یہاں اس امر کی نشاندہی بھی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ جس دن اسپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر سی پیک کے مغربی روٹ کے ایشو پر ہائی کورٹ میں رٹ داخل کروا رہے تھے اسی دن ایکنک کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ہونے والے ایک اہم اجلاس میں سی پیک کے مغربی روٹ کے لیے برہان تا ڈیرہ اسماعیل خان موٹر وے کی تعمیر کے لیے ایک کھرب 22 ارب روپے کے فنڈ کے علاوہ مغربی روٹ کی 220 کلوواٹ کی ڈیرہ اسماعیل خان کی ڈبل سرکٹ ٹرانسمیشن لائن کی منظوری بھی دی جا رہی تھی۔ یہی نہیں بلکہ ان ہی ایام میں کاشغر سے تین سو ٹرکوں پر مشتمل چین کا پہلا تجارتی قافلہ گوادر کی جانب جانے کے لیے خیبر پختون خوا کے جنوبی اضلاع اور بلوچستان کے خیبر پختون خوا کی سرحد پر واقع شہر ژوب سے براستہ کوئٹہ گوادر کی جانب رواں دواں تھا جس کی سیکورٹی کے لیے جگہ جگہ انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ متذکرہ بالا ایکنک اجلاس میں مغربی روٹ کے لیے مختص کیے گئے فنڈز اور چین کے پہلے تجارتی قافلے کا خیبر پختون خوا کے جنوبی اضلاع سے گزرنا، نیز پچھلے سال وزیراعظم محمد نوازشریف کی کل جماعتی کانفرنس میں مغربی روٹ پر کرائی جانے والی یقین دہانی کو مدنظر رکھتے ہوئے مغربی روٹ کے ایشو پر غیر ضروری شور مچانے پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں یہ سب کچھ محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے کررہی ہیں۔ ویسے بھی ماضی میں چونکہ ہمارے ہاں اس طرح کے ترقیاتی منصوبوں پر سیاست ہوتی رہی ہے اس لیے سی پیک کے مغربی روٹ کے ایشو پر فی الوقت حتمی طور پر کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ یہاں سی پیک کے ایشو پر احتجاج کرتے ہوئے ہمیں جہاں اس عظیم منصوبے کے خلاف دشمن کے مکروہ عزائم کو ذہن میں رکھنا ہوگا، وہاں پارلیمنٹ، جمہوریت، آزاد عدلیہ اور میڈیا کی موجودگی کو بھی اہمیت دیتے ہوئے اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ ان مؤثر آئینی اداروں کی موجودگی میں کسی کے لیے بھی وفاق کے اس اہم منصوبے کو ہائی جیک کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا جتنا بعض لوگوں کا خیال ہے۔ ہاں اس حوالے سے یہ بات خوش آئند اور مثبت پہلو کی حامل ہے کہ خیبر پختون خوا کی سیاسی جماعتوں کی بیداری اور تحرک سے کسی کے لیے بھی اس اہم منصوبے میں نقب لگانا اور اسے ہائی جیک کرکے مغربی روٹ کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

Share this: