کشمیر

Print Friendly, PDF & Email

دستِ قدرت نے خطۂ کشمیر کو رنگارنگ پوشاک بدلنے کی صلاحیت سے نواز رکھا ہے۔ اِن دنوں خزاں کا دور دورہ ہے۔ کشمیر کی وادیاں، کوہسار، کھیت اور باغات گرمیوں کا سبز لباس اُتار رہے ہیں اور اب یہ خطہ خزاں کی علامت زرد چادر اوڑھ رہا ہے۔ ہفتوں اور دنوں کی بات ہے کہ جاڑے کا نقارہ بج اُٹھے گا اور سبز سے زرد ہوجانے والے کوہ و دمن برف کی سفید پوشاک پہن لیں گے۔ بدلتے ہوئے موسم کے ساتھ ہی آج کشمیر کے بلند وبالا پہاڑوں پر پُررونق سیاحتی مقامات انسانی قدموں کے بوجھ سے آزاد اور فطرت سے قریب ہونے لگے ہیں۔ انسانی زندگی پہاڑوں سے واپس آبادیوں کی طرف سمٹ رہی ہے۔ اب کشمیر کی بلندیوں کا سکوت ہوگا یا جنگلی جانوروں اور پرندوں کی آوازیں۔
البتہ آج بھی اکثر ان بلند ترین پہاڑوں کا سکوت گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ سکوت ریاست جموں وکشمیر کے سینے پر کھنچی اس لکیر کے دائیں بائیں پاکستان اور بھارت کی افواج کے مابین ہونے والی فائرنگ اور گولہ باری کے سبب ٹوٹ رہا ہے جسے عرفِ عام میں کنٹرول لائن کہا جاتا ہے۔ اوڑی حملوں کے بعد کنٹرول لائن خوفناک کشیدگی کا منظر پیش کررہی ہے، جہاں ایک خاردار تار کے دو جانب جنوبی ایشیا کی دو مضبوط افواج آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی ہیں۔ کبھی کبھار ٹرائیگر پر رکھی اُنگلی دب جاتی ہے اور پہاڑ شعلے اُگلنے لگتے ہیں۔ کہنے کو تو یہ ایک لکیر اور انگریزی زبان کے دو لفظوں کا مجموعہ ہے لیکن ان دو لفظوں کی تہہ میں انسانیت کو درپیش المیوں، المناک داستانوں اور دکھ و فراق کا ایک جہان آباد ہے۔ رکاوٹوں اور مسافتوں کی کوکھ سے جنم لینے والی ایک طویل کہانی، جو 69 برس سے رقم ہوتی ہی چلی جارہی ہے اور مستقبل قریب میں بھی یہ آخری موڑ مڑتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ کنٹرول لائن درحقیقت ایک قطعہ زمین اور اس کے بسنے والے انسانوں کو ہی تقسیم نہیں کرتی بلکہ یہ خونیں رشتوں، انسانی جذبوں اور ملن وملاپ کے خوابوں کو بھی ایک نوکدار خنجر اور خاردار تار سے جدا کرتی ہوئی آگے بڑھتی ہے۔ کنٹرول لائن کی اسٹرے ٹیجک اہمیت اور اس پر کشیدگی اکثر دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کا موضوع بنتی ہے، مگر اس لکیر کے کھنچنے سے انسانی زندگی پر مرتب ہونے والے اثرات پر بہت کم لکھا گیا ہے۔ اس لکیر کے کھنچنے سے گھر اور خاندان اس بری طرح تقسیم ہوگئے کہ موجودہ دنیا میں اس کی چند ہی مثالیں ہوں گی۔
کشمیر کے جسد پر قائم طویل اور بلند خاردار تار کی سنگینی کسی طور پر بھی دیوارِ برلن اور اسرائیل کی باڑھ سے کم نہیں۔1947ء میں جب برصغیر تقسیم ہوا تو نیم خودمختار مسلم اکثریتی ریاست جموں وکشمیر کا مستقبل بھی اُلجھاؤ کا شکار ہوتا چلا گیا۔ مسلمان اکثریت کی حامل اس ریاست کا حکمران ہندو ڈوگرہ مہاراجا ہری سنگھ تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو حکمران اور مسلمان آبادی کی دومتضاد حقیقتیں الجھتی چلی گئیں۔ پاکستان کی جانب سے قبائلی لشکر کشمیر میں داخل ہوئے تو مہاراجا سری نگر سے جموں فرار ہوکر بھارت سے مدد کا طالب ہوا۔ پنڈت نہرو نے مہاراجا سے بھارت سے الحاق کی شرط پر مدد دینے کی ہامی بھری۔ چار وناچار مہاراجا نے الحاق کے حوالے سے بھارتی حکمرانوں کی لکھی گئی الحاق کی دستاویز پر دستخط کردئیے، اور یوں 27 اکتوبر 1947ء کو بھارت کی فوجیں سری نگر ائرپورٹ پر اتر گئیں، جس کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے محاذ پر باقاعدہ جنگ چھڑگئی۔ بھارتی وزیراعظم پنڈت نہرو نے اقوام متحدہ سے یہ کہہ کر جنگ بندی کرانے کی درخواست کی کہ کشمیر میں حالات معمول پر آتے ہی رائے شماری کرائی جائے گی۔ اقوام متحدہ نے یہ درخواست قبول کرکے جنگ بندی کے لیے اقدامات کرنا شروع کیے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے جنگ بندی کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے اقوام متحدہ کا کمیشن برائے پاک وہند کے نام سے کمیشن قائم کیا۔24 جنوری 1949ء کو اس کمیشن کے تحت اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کا گروپ جنگ بندی قائم کرنے کے لیے خطے میں پہنچا۔ یہ مبصرین اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے مقرر کردہ فوجی مشیر کی نگرانی میں کام کررہے تھے۔ اس سے پہلے جنوری 1948ء میں اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے ایک اجلاس میں قرارداد نمبر 39 منظور کی جس کے تحت جنگ بندی اور مصالحت کے لیے اقوام متحدہ کا کمیشن برائے انڈیا پاکستان قائم کیا گیا۔ بعد ازاں قرارداد نمبر47 منظور کی گئی جس کے تحت کمیشن کا دائرہ وسیع کردیا گیا اور کمیشن کی مدد کے لیے فوجی مشیر کی سربراہی میں مبصرین کا گروپ قائم کیا گیا جس کا کام جنگ بندی کی خلاف ورزی کو غیر جانب داری سے ہیڈ کوارٹر کو رپورٹ کرنا تھا۔ ان ابتدائی انتظامات کے بعد اقوام متحدہ کے نمائندوں کی موجودگی میں 27 جولائی1949ء کو کراچی میں پاکستان اور بھارت کے فوجی کمانڈروں کے درمیان جنگ بندی کا باضابطہ معاہدہ طے پایا جسے معاہدۂ کراچی کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے میں بھارت کی نمائندگی آرمی چیف اسٹیونٹ ملاناہ شرینگیش، پاکستان کی نمائندگی میجر جنرل جے کیتھرون نے کی، جبکہ اقوام متحدہ کی نمائندگی یو این کمیشن فار انڈیا پاکستان کے نمائندوں ہیر نانڈو سیمپر اور ایم ڈیلوائی نے کی۔ اس طرح پاکستان اور بھارت کی افواج کے مابین جنگ بندی کا باقاعدہ معاہدہ طے پایا اور فوجوں کے قدم جہاں تھے وہیں رک گئے، اور اس اچانک اور بے تُکے سیزفائر کے نتیجے میں 740 کلومیٹر طویل سیز فائر لائن وجود میں آگئی، اور یوں ریاست جموں و کشمیر ایک ایسی غیر فطری تقسیم کا شکار ہوئی جس کا خمیازہ دونوں طرف کے منقسم خاندان اور اس خونیں لکیر کے دونوں جانب رہنے والے لاکھوں عوام سات عشروں سے بھگت رہے ہیں۔
1951ء میں سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایک اور قرارداد کے ذریعے اقوام متحدہ کا کمیشن توڑ دیا گیا، مگر جنگ بندی کی نگرانی کے لیے مبصرین کا کردار بحال رکھا گیا۔ یہ مبصرین 69 برس بعد بھی سری نگر اور مظفر آباد میں موجود ہیں۔ جب بھی کنٹرول لائن پر تصادم شروع ہوتا ہے تو فوجی وردی میں ملبوس نیلی ٹوپیوں والے یہ مبصرین گاڑیوں میں دائیں بائیں بھاگتے نظر آتے ہیں۔ یہ مبصرین دونوں افواج کے مابین کسی تصادم میں براہِ راست فریق نہیں بن سکتے مگر تصادم کے واقعات کو غیر جانب داری سے رپورٹ کرکے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل تک باقاعدگی سے پہنچاتے ہیں۔ سری نگر اور مظفرآباد میں جب بھی حقِ خودارادیت کے مطالبات کی حمایت میں مظاہرے ہوتے ہیں تو اکثر مظاہرین کا رخ انہی مبصرین کے دفاتر کی طرف مڑ جاتا ہے، جو وہاں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نام یادداشت پیش کرتے ہیں۔ یہ مبصرین اب تک بلاشبہ لاکھوں یادداشتیں وصول کرچکے ہیں۔ 1950ء کی دہائی کے وسط تک سیز فائر لائن کے دونوں جانب آمدورفت محدود پیمانے پر جاری رہی، اس کے بعد یہ عارضی لکیر دائمی تقسیم اور جدائی کی علامت بن کر رہ گئی۔ 1971ء تک یہ لکیر سیزفائر لائن کہلاتی رہی۔1971ء میں مشرقی محاذ کی لڑائی مغربی پاکستان تک پھیل گئی اور دونوں افواج نے کنٹرول لائن کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش میں پیش قدمی کی، جس کے بعد1972ء میں بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی اور پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان شملہ معاہدہ ہوا، جس میں سیزفائر لائن کو کنٹرول لائن کا نام دیا گیا۔ نام کی اس تبدیلی کی بھارت نے اپنی ہی تشریح شروع کردی۔ بھارت نے نام کی تبدیلی کے بعد یہ مؤقف اختیار کیا کہ اب پاکستان اور بھارت تمام معاملات کو دوطرفہ بنیادوں پر حل کرنے کے پابند ہیں، اب کسی تیسرے فریق کی موجودگی کا جواز ختم ہوگیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارت نے دہلی اور سری نگر میں اقوام متحدہ کے مبصرین کے پاس جنگ بندی کے واقعات رپورٹ کرانے کا سلسلہ ختم کردیا، مگر پاکستان نے اس مؤقف کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور وہ کسی بھی ناخوش گوار واقعہ کی رپورٹ فوجی مبصرین کے پاس درج کراتا ہے۔ ان دنوں چونکہ کنٹرول لائن پر حالات کشیدہ ہیں تو فضاؤں میں پاک فوج کے ایف سولہ طیارے گڑگڑاہٹ بکھیرتے اور زمین پر اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کی گاڑیاں دھواں اُڑاتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
کنٹرول لائن کے نام اور رنگ جدا ہیں۔ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والی لکیر لائن آف کنٹرول (LOC)، جبکہ چین اور کشمیر کو جدا کرنے والی لکیر لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) کہلاتی ہے، جبکہ پاکستان اور مقبوضہ علاقے کو تقسیم کرنے والی حد بندی کو ورکنگ باؤنڈری کہا جاتا ہے۔کنٹرول لائن کا بڑا المیہ یہ ہے کہ اس نے خاندانوں کو تقسیم کردیا ہے۔ مقبوضہ علاقے کو پاکستانی علاقوں اور وسط ایشیا تک ملانے والے تمام تاریخی قدرتی راستے اس لکیر کے باعث بند ہوگئے ہیں ،جس کے وادئ کشمیر کی سماجی،کاروباری، ثقافتی زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس لکیر کے ناموں کی طرح رنگ بھی جدا ہیں۔ کہیں یہ دریائے نیلم کی شکل میں موجود ہے اور کہیں ایک کھیت اور جنگل کو تقسیم کرنے والے خاردار تاروں کے گچھے اور فوجی چوکی کی صورت، اور کہیں محض ایک چھوٹی سی ندی یا خشک ہوجانے والے نالے کا نام لائن آف کنٹرول ہے۔ بھارت نے 1990ء کے بعد اسرائیل کے تجربات اور ٹیکنالوجی سے فائدہ اُٹھا کر کنٹرول لائن پر خاردار تار کی باڑھ اور پختہ بنکر تعمیر کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ پاکستان نے اس سلسلے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ 1990ء کی پوری دہائی کنٹرول لائن پر فائرنگ اور گولہ باری میں گزری۔ اس دوران بھارتی فائرنگ اور گولہ باری سے آزاد کشمیر کے سیکڑوں شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ بہت سے لوگ فائرنگ کے باعث ہاتھ پاؤں سے محروم ہوئے اور بہت سوں نے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کی۔2003ء میں پاکستان اور بھارت کی افواج کے مابین کنٹرول لائن پر سیزفائر ہوا اور اس کا فائدہ اُٹھاکر بھارت نے کنٹرول لائن پر 550 کلومیٹر طویل خاردار باڑھ مکمل کرلی۔
بارہ فٹ بلند حساس برقی آلات، الارم سسٹم، قدموں کی چاپ اور دھمک سے کام کرنے والے خودکار نظام، زیرزمین بارودی سرنگوں اور طاقتور روشنیوں سے مزین یہ باڑھ انسانوں کے خوابوں کا خون تو ثابت ہوئی مگر اس سے قیمتی اور نایاب جنگلی حیات بھی بری طرح متاثر ہوئی۔ اس سال کے اوائل میں عالمی خبر رساں ادارے سے وابستہ ایک کشمیری صحافی سجاد قیوم میرکی تحقیقی رپورٹ عالمی ذرائع ابلاغ میں خصوصی دلچسپی کا موضوع بنی تھی۔”Fenced in The Kshmir: barrier that is endangering wildlife” کے عنوان سے شائع ہونے والی اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ کنٹرول لائن پر باڑھ سے جنگلی جانوروں کی نقل و حرکت محدود ہوگئی ہے۔ خوراک کی تلاش اور زندگی بچانے کے لیے اب یہ جانور مقبوضہ علاقے کی بلند پہاڑی چوٹیوں اور جنگلوں کی طرف نہیں جا سکتے، اس لیے انہیں آزادکشمیر کی آبادیوں کی طرف رخ کرنا پڑتا ہے، جہاں لوگ اپنے بچاؤ کے لیے ان جانوروں کو ہلاک کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کنٹرول لائن پر باڑھ لگنے کے چند برس بعد ہی سال 2007ء میں خوراک کی تلاش میں انسانی آبادیوں کی طرف نکل آنے والے پینتیس عام چیتے، پانچ ریچھ اور کئی بھورے ریچھ انسانوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ یوں کنٹرول لائن اور اس پر لگی باڑھ انسانوں کے ساتھ ساتھ نایاب جنگلی حیات کو بھی بری طرح متاثر کررہی ہے۔ کنٹرول لائن مکمل خاموش اور امن کی لکیر ہو تب بھی اس کی سفاکی کچھ کم نہیں ہوتی، مگر جب یہ لکیرگولیوں کے تبادلے کی زد میں آئے تو المیہ دوچند ہوجاتا ہے۔ کنٹرول لائن نے خاندانوں اور رشتوں کو تقسیم کررکھا ہے۔ کئی مقامات پر یہ لکیر ایک گاؤں کو تقسیم کرتی ہے، جس کے ایک جانب ماں ہے تو چند گز کی دوری پر بیٹا۔۔۔ ایک طرف بھائی ہے تو دوسری جانب بہن۔ بارہا ایسا بھی ہوا کہ کنٹرول لائن کی دوسری جانب ماں کا جنازہ اُٹھ رہا تھا تو دور سامنے بیٹا تابوت کو کندھا دینے کی حسرت لیے بے بسی کے آنسو بہا رہا تھا کیونکہ اس دکھ کے بیچ کنٹرول لائن تھی۔ آج بھی 1990ء میں مقبوضہ کشمیر سے آنے والے مہاجرین وادی نیلم میں کیرن کے خوبصورت مقام پر دریا کے دائیں کنارے جمع ہوتے ہیں تو بائیں کنارے پر مقبوضہ کشمیر میں اُن کے عزیز و اقارب جمع ہوتے ہیں، دونوں طرف کاغذ پر تحریر لکھی جاتی ہے اور اسے ایک پتھر کے ساتھ مضبوطی سے باندھ کر دریا کے دوسری جانب اُچھال دیا جاتا ہے۔ دریائے نیلم کے دوکناروں پر کھڑے لوگ اپنے عزیز و اقارب کو دیکھتے، ہاتھ ہلاتے اور بلائیں لیتے ہیں۔ کنٹرول لائن کی سختی کے باعث چند ساعتوں کی مسافت کچھ یوں طویل ہوکر رہ گئی ہے کہ منقسم خاندان کے ایک فرد کو سری نگر سے جموں اور امرتسر سے لاہور اور راولپنڈی سے ہوتے ہوئے مظفرآباد کا سفر اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اس میں تین دن اور ہزاروں روپے کے اخراجات آتے ہیں۔2005ء میں کنٹرول لائن پر تین مقامات پر محدود آمدورفت اور2008ء میں محدود تجارت کا آغاز ہوا۔ برسوں گزرنے کے باوجود یہ عمل نمائشی ہے اور اس سے کنٹرول لائن کی سختی اور کرب ناکی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ کنٹرول لائن جب گرم ہوجائے تو دوطرفہ فائرنگ کی زد عام کشمیری پر پڑتی ہے۔ بھارتی فوج تو نشانہ تاک کر شہریوں پر گولیاں برساتی ہے مگر پاک فوج مقبوضہ علاقے کی آبادی کو ہر ممکن حد تک بچانے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کے باوجود کنٹرول لائن کے باسی ہر وقت کچھ ہوجانے کے خوف کا شکار رہتے ہیں۔ 1990ء کی دہائی میں کنٹرول لائن کے قریبی علاقوں نے بھارتی گولہ باری کے باعث بے پناہ مصائب کا سامنا کیا۔ گھر ماتم کدے بن گئے۔۔۔ کھڑی فصلیں، مویشی، دکانیں، سرکاری دفاتر سمیت ہر شے گولہ باری کی زد میں تھی۔ وادی نیلم کا ایک شہری محمد افضل آج بھی اُن دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہتا ہے:
’’بھارتی فائرنگ کے دنوں کو یاد کرکے آج بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، جب اپنی آبادیوں اور بستیوں میں جانے سے خوف آتا تھا اور رات گھروں کے قریب تعمیر کردہ مورچوں میں بسر ہوتی تھی۔ شاہراہِ نیلم پر سفر کرتے ہوئے جسم میں سنسناہٹ محسوس ہوتی تھی کہ مبادا کب دریائے نیلم کے دوسرے کنارے سے کسی بھارتی فوجی کی گولی آلگے۔ بھارتی فوجی گولیاں مارکر زخمیوں کے تڑپنے کا لطف لیتے تھے اور راہ گیر اپنے پیدل چلتے ساتھی کے قریب جانے سے گریزاں رہتے تھے کہ دوسری گولی ان کا کام بھی تمام کرسکتی تھی‘‘۔
محمد افضل کا کہنا تھا کہ’’ آج بھی ایک گولی چلنے کی افواہ سے سیاحوں سے بھری وادی اور چہل پہل سے بھرے بازاروں میں زندگی کی نبض ڈوبنے لگتی ہے‘‘۔
1990ء میں کشمیر میں عوامی مزاحمت کا آغاز ہوا اور بھارتی فوج کے مظالم سے تنگ آکر ہزاروں کشمیری نوجوان فلک بوس پہاڑوں، گھنے جنگلات اور برفانی گلیشیرز کو عبور کرکے آزاد کشمیر آنے لگے تو کنٹرول لائن ایک اور المیے کی گواہ بن گئی۔ کشمیری نوجوان کنٹرول لائن پر راہ بھٹک کر برفانی طوفانوں کی نذر ہوگئے،کھائیوں میں گرگئے یا بھارتی فوج کی فائرنگ کی زد میں آگئے۔ ان کی لاشیں وہیں سڑتی رہیں اور یہ بے روح جسم چیل کوّوں کے پیٹ کا ایندھن بن گئے۔ ان نوجوانوں کی مائیں آج بھی سری نگر میں اپنے بیٹوں کی واپسی کی راہ تک رہی ہیں۔ 69 برس گزر گئے، خونیں لکیر کا نام سیزفائر لائن سے کنٹرول لائن پڑ گیا، مگر کشمیریوں کے لیے اس لکیر کی حیثیت اور نوعیت تبدیل نہیں ہوئی۔ ان کے لیے یہ ایک ناپسندیدہ اور نفرت کی لکیر رہی اور بارہا آزادکشمیر کے مشتعل لوگوں نے کنٹرول لائن کو توڑنے کی کوشش کی۔ 1958ء میں چودھری غلام عباس کی قیادت میں مسلم کانفرنس،1991ء میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور 1992ء میں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ امان اللہ خان کی قیادت میں کنٹرول لائن توڑنے کی کوششیں ہوئیں، جو بارآور نہ ہوسکیں۔ ایک مارچ کو بھارتی فوج نے گولیاں چلا کر منتشر کیا اور کئی طلبہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ چودھری غلام عباس اور امان اللہ خان کے مارچ پاکستان اور آزادکشمیر کی حکومتوں نے کنٹرول لائن کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی روک دئیے تھے۔ یوں ریاست جموں وکشمیر کو تقسیم کرنے والی یہ خونیں لکیر کشمیریوں کے لیے کبھی پُرتقدس سرحد نہیں بن سکی۔ اب ایک بار پھر جہاں کنٹرول لائن دونوں افواج کے مابین پوری طرح گرم ہے وہیں آزادکشمیر کی ایک سیاسی جماعت نے 23 نومبر کو کنٹرول لائن توڑنے کے لیے مارچ کی کال دے رکھی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اِس بار’اس بحر کی تہہ سے اُچھلتا ہے کیا؟‘
nn

کشمیر

Share this: