(فالج کا سدباب کیسے ؟(ڈاکٹر عبدالمالک

Print Friendly, PDF & Email

فالج ایک ایسا مرض ہے جو دماغ میں خون کی شریانوں کے بند ہونے یا ان کے پھٹنے سے ہوتا ہے۔ جب فالج کا حملہ ہوتا ہے تو دماغ کے متاثرہ حصوں میں موجود خلیات آکسیجن اور خون کی فراہمی بند ہونے کی وجہ سے مرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جسم کی کمزوری اور بولنے، دیکھنے میں دشواری سمیت اور بہت سی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ اس سے جسم کا پورا، آدھا یا کچھ حصہ ہمیشہ کے لیے مفلوج ہوسکتا ہے۔
دنیا بھر میں رہن سہن کی وجہ سے ہونے والے امراض میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، جس کی سب سے بڑی مثال فالج کا مرض ہے، جو دنیا بھر میں معذوری کی سب سے بڑی وجہ بن کر اُبھرا ہے۔ یہ مرض موت کی دوسری بڑی وجہ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ فالج کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا بھر میں ہر دوسرے سیکنڈ میں کسی نہ کسی فرد کو فالج کا حملہ ہورہا ہے جس کے نتیجے میں یا تو وہ شخص موت کے منہ میں چلا جاتا ہے یا پھر زندگی بھر کے لیے معذور ہوجاتا ہے۔ ان حالات میں ورلڈ اسٹروک آرگنائزیشن نے دنیا بھر کے ماہرین اور حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فالج کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کریں۔ آرگنائزیشن نے فالج کے علاج میں یکسانیت لانے کی بھی اپیل کی ہے تاکہ تمام مریضوں کو اعلیٰ اور معیاری علاج میسر آسکے۔ دنیا میں ہر سال ایک کروڑ ستّر لاکھ افراد کو فالج کا حملہ ہوتا ہے جن میں سے ساٹھ لاکھ اموات حملے کے ابتدائی چند دنوں میں ہوجاتی ہیں۔ اس وقت کروڑوں لوگ فالج کے حملے کے بعد معذوری کی زندگی گزار رہے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ہر چھے میں سے ایک فرد کو زندگی کے کسی موڑ پر فالج کا حملہ ہوسکتا ہے۔ اس مرض کی صورت حال خصوصاً غریب ممالک میں نہایت ابتر ہے، جہاں شعور کی کمی کے باعث نہ صرف مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ ان کو علاج کی معیاری اور سستی سہولتیں بھی میسر نہیں۔
پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے، جہاں پر اکتالیس فیصد عوام رہن سہن کی بیماریوں کا شکار ہیں، اور ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی پانچ فیصد آبادی یا نوّے سے پچانوے لاکھ افراد فالج زدہ ہیں اور معذوری اور نیم معذوری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اب سے کچھ عرصہ پیشتر فالج کو ایسی بیماری تصور کیا جاتا تھا جس کا نہ تو کوئی علاج ہے اور نہ ہی اس سے بچاؤ ممکن ہے، مگر اب جدید تحقیق کی روشنی میں ہم یہ جانتے ہیں کہ فالج اُن بیماریوں میں سے ایک ہے جن سے نہ صرف بچاؤ ممکن ہے بلکہ ان کا علاج بھی میسر ہے۔ ہر سال ہزاروں لوگ فالج کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ معمولی کوشش اور احتیاط سے یہ سب لوگ نہ صرف زندہ رہ سکتے ہیں بلکہ انہیں معذوری سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق فالج سے بچاؤ کے مراکز قائم کرکے فالج کے مریضوں کو فوری طبی امداد دے کر موت اور مستقل معذوری سے بچایا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ملک میں ماہرینِ امراضِ دماغ و اعصاب کی شدید قلت ہے جس کی وجہ سے فالج کے مریضوں کو یا تو بالکل ہی علاج کی سہولیات میسر نہیں ہوتیں یا ان کے مرض کی صحیح تشخیص نہیں ہوتی۔ پاکستان کے بڑے شہروں کے سرکاری اسپتالوں میں بھی فالج سے بچاؤ اور علاج کے یونٹ موجود نہیں ہیں اور اس وقت پورے ملک میں فالج کے دس سے بھی کم مراکز کام کررہے ہیں۔
پاکستان میں فالج کے مریضوں کی مزید بدقسمتی یہ ہے کہ ان کو فالج کا سبب بننے والے خون کے لوتھڑے(Clots)کو تحلیل کرنے والی دوائیوں تک رسائی نہیں ہے۔ اس وقت پاکستان میں فالج کے مرض کا شکار ہونے والے صرف دس فیصد افراد کو بحالی کی سہولیات میسر ہیں، جبکہ نوّے فیصد افراد کو فالج کے بعد بحالی کی سہولیات کی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں ہوتا۔ ان کے معالج بھی اس سلسلے میں ان کی رہنمائی کم ہی کرتے ہیں۔ پاکستان میں فالج کے مریض کے علاج پر ہونے والے اخراجات اور بحالی پر بے پناہ پیسہ خرچ ہوتا ہے۔ اگرچہ صحیح اعداد و شمار موجود نہیں، لیکن ایک محتاط اندازے کے مطابق فالج زدہ ایک مریض کے علاج اور بحالی پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں جو صحیح رہنمائی کے نتیجے میں بچائے جا سکتے ہیں۔ نیورولوجی اویرنس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن اور پاکستان اسٹروک سوسائٹی گزشتہ کئی برس سے فالج سمیت دماغی و اعصابی امراض سے بچاؤ کے لیے مہمات چلا رہے ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے حکومتِ وقت کو 12 سفارشات پیش کی ہیں جن پر عملدرآمد کرکے پاکستان میں فالج کے مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ نیورولوجی اویرنس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن اور پاکستان اسٹروک سوسائٹی کی یہ سفارشات درج ذیل ہیں:
*فالج اور دل کے امراض سے متعلق عوامی شعور بیدار کیا جائے۔
*فالج سے بچاؤ کے لیے ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کی جائے۔
*ٹیچنگ اسپتالوں میں فالج کے علاج کے مراکز کا قیام عمل میں لایا جائے۔
*موجودہ سرکاری اسپتالوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات فراہم کی جائیں۔
*اسپتالوں میں فالج کے مریضوں کے لیے جدید ادویات فراہم کی جائیں۔
*دل کے امراض کے علاج کی طرز پر فالج کے مرض کی ایمرجنسی سروس شروع کی جائے۔
*ماہرینِ امراضِ فالج کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔
*پیعا میڈیکل اور ایمبولینس اسٹاف کی تربیت کی جائے۔
*فالج کے مریضوں کی بحالی کے لیے مراکز قائم کیے جائیں۔
*فالج کا سبب بننے والے عوامل سے بچاؤ کے اقدامات کیے جائیں۔
*ملک میں فالج کی صورت حال کی سخت نگرانی کی جائے۔
*فالج کے مریضوں کا مکمل ڈیٹا بیس تیار کیا جائے۔
ماہرین یہ تجویز کرتے ہیں کہ فالج کے علاج کے لیے نیشنل ٹاسک فورس تشکیل دی جائے جس میں ماہرینِ فالج، حکومتی شخصیات، این جی اوز، پیشنٹس سپورٹ گروپس اور میڈیا کو نمائندگی دی جائے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق فالج سے بچاؤ کی آسان ترکیب متحرک زندگی گزارنا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق دن بھر میں صرف دس منٹ کی ورزش کرنے سے فالج کا خطرہ ایک تہائی حد تک کم ہوجاتا ہے، کھانے میں نمک اور مرغن غذاؤں کا استعمال کم کیا جائے، سگریٹ نوشی بھی فالج کی ایک وجہ ہے، اس عادت کو ترک کرکے فالج سے بچا جاسکتا ہے۔
nn

Share this: