(بلاول بھٹو کا پہلا دورہ کوئتہ (اخوند زادہ جلال نور زئی

Print Friendly, PDF & Email

پیپلز پارٹی کے نوجوان سربراہ بلاول بھٹو زرداری 30 اکتوبر 2016ء کو مختصر دورے پر کوئٹہ آئے۔ ان کے لیے سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ دورے کا واحد مقصد سول ہسپتال میں زیر علاج، پولیس ٹریننگ کالج میں دہشت گرد حملوں میں زخمی نوجوان سپاہیوں کی عیادت اور اہلِ بلوچستان سے تعزیت اور اظہارِ ہمدردی کرنا تھا۔ بلاول بھٹو زرداری پہلی بار ایک سیاسی قائد کے طور پر کوئٹہ آئے۔ وہ نوجوان ہیں، ایک طویل سیاسی جدوجہد ان کی منتظر ہے۔ یقیناًمشکلات بھی اس راہ میں پیش آئیں گی۔ پیپلز پارٹی کے لیے ضروری ہے کہ بلوچستان میں بلاول بھٹو کے لیے جلسوں اور اجتماعات کا اہتمام کرے، خاص کر کوئٹہ میں سیاسی قوت کا مظاہرہ لازم ہے تاکہ بلوچستان کے اندر بے جان پیپلز پارٹی میں حرکت پیدا کی جاسکے۔ جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دورِ آمریت کے آخری سالوں میں بے نظیر بھٹو نے جارحانہ اور جاندار انداز میں ملکی سیاست میں داخل ہوئی تھیں۔ جب بے نظیر بھٹو کوئٹہ آئیں جہاں ان کا بھرپور استقبال ہواتھا۔ انھوں نے لیاقت پارک میں بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا اور اپنے خطاب میں آمریت کوللکارا تھا۔ یہ ان کا کوئٹہ میں پہلا جلسہ تھا۔ بے نظیر بھٹو نے کوئٹہ میں آخری خطاب غالباً 27 اکتوبر 2007ء کو کیا‘ یہ جلسہ ہاکی گراؤنڈ میں تھا۔ تب نواب زادہ حاجی لشکری رئیسانی پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدر تھے۔ چونکہ بے نظیر بھٹو پرویزی آمریت کے دوران ملک سے باہر تھیں، جب آئیں تو ملک کے مختلف شہروں میں سیاسی پروگراموں کا آغاز کیا، کوئٹہ کا جلسہ عام بھی اس تسلسل کا حصہ تھا۔پیپلز پارٹی تنظیمی لحاظ سے بہت کمزور ہے، البتہ جب نواب زادہ حاجی لشکری رئیسانی صدر تھے تو تنظیم کو توانا بنانے میں بہت حد تک کامیاب ہوگئے تھے۔ بے نظیر بھٹو، ہاکی گراؤنڈ میں ہونے والے جلسہ عام کی تیاریوں سے خوش نہ ہوئیں، حالانکہ پیپلز پارٹی نے اس جلسہ عام کو مثالی اور تاریخی بنانے کی حتی الوسع کوششیں کیں۔ تشہیری مہم پر پیسہ بھی لگا، یہاں تک کہ صوبے کے دیگر اضلاع سے بھی کارکنوں کو شریک کرایا گیا۔ مگر اس سب کے باوجود جلسہ کلی طور پر ناکام ثابت ہوا۔ یعنی بے نظیر بھٹو کی شخصیت کے شایانِ شان اجتماع نہ تھا۔ اُس وقت بے نظیر بھٹو کے چہرے پر خفگی اور برہمی کے آثار دیکھے جا سکتے تھے۔ بعد میں پارٹی رہنماؤں سے بے نظیر بھٹو نے جواب بھی طلب کیا تھا۔
جلسوں اور عوامی اجتماعات کا سلسہ جاری تھا، کراچی میں کارساز حملے کے بعد دہشت گرد راولپنڈی میں بے نظیر بھٹو کو مارنے میں کامیاب ہوگئے۔
2008ء کے انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی۔ ان انتخابات کا اے پی ڈی ایم کے فیصلے کے تحت جماعت اسلامی، پشتون خوا ملّی عوامی پارٹی، تحریک انصاف، بلوچستان نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی نے بائیکاٹ کر رکھا تھا۔ چنانچہ بلوچستان میں انتخابی نتیجہ بھی بہت مختلف سامنے آیا۔ نیشنل پارٹی، پشتون خوا ملّی عوامی پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی ووٹ بینک کی حامل جماعتیں ہیں۔ بے نظیر بھٹو کی موت کا سانحہ بھی تازہ تھا۔ اس طرح پیپلز پارٹی کو بلوچستان میں غیر متوقع کامیابی ملی۔ کئی آزاد ارکان ہوا کا رُخ دیکھ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔ یوں بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنی۔ اور نواب اسلم رئیسانی وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ یہ وہ نرالی حکومت تھی کہ جس میں حزبِ اختلاف سرے سے تھی ہی نہیں۔ تمام ارکان یا تو وزیر تھے یا مشیر۔ مخلوط حکومت میں شامل دیگر جماعتیں اپنے اپنے حصے کی وزارتوں اور دیگر عہدوں سے محظوظ ہورہی تھیں۔ البتہ پیپلز پارٹی اندرونی کشمکش میں تھی۔ صادق عمرانی معترض تھے اور جا بہ جا حکومت پر عوامی سطح پر تنقید کرتے رہتے تھے۔ نواب زادہ لشکری رئیسانی سینیٹر بنے۔ پیپلز پارٹی کے اس پانچ سالہ دور میں دہشت گردی بھی تسلسل سے جاری رہی۔ سیکورٹی ادارے دہشت گرد گروہوں کے خلاف متحرک ہوگئے۔ لشکری رئیسانی نے پارٹی کے اندر صادق عمرانی اور دیگر سے مسلسل اختلاف اور کچھ صوبے کے غیر یقینی حالات جس میں بلوچ اضلاع متاثر تھے،کے پیش نظر پیپلز پارٹی کو چھوڑ دیا اور سینیٹ کی رکنیت سے بھی استعفیٰ دے دیا۔ دوسری طرف نواب اسلم رئیسانی اور آصف علی زرداری کے درمیان بھی تعلقات خوشگوار نہ تھے، جس کا ایک سبب ریکوڈک کے منصوبے کے حوالے سے وفاق کی مزاحمت بھی تھا۔ بہرحال اس دہشت گرد ماحول کی وجہ سے نواب اسلم رئیسانی کی حکومت ختم ہوئی اور صوبے میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔ پیپلز پارٹی اپنے پانچ سالہ دورِ حکومت میں بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے میں قطعی ناکام ثابت ہوئی۔ ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کے واقعات میں بھی اسی دور میں اضافہ ہوا۔ گویا ’’روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا‘‘ کے مصداق حکمران حکومت کے مزے اُڑا رہے تھے اور بلوچستان کا مسئلہ فی الواقع ناسور بن گیا تھا۔ بالآخر 2013ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کا بلوچستان میں مکمل صفایا ہوگیا۔
اب بلاول بھٹو زرداری کے کندھوں پر ایک کمزور جماعت کو پھر سے مضبوط بنانے کا بوجھ آن پڑا ہے۔ انھوں نے کوئٹہ میں میڈیا سے بہت ساری باتیں کیں، ملکی سیاست اور نواز حکومت پر بھی اُنگلی اُٹھائی۔ چنانچہ ہم بلاول بھٹو کے وہ چند الفاظ بیان کرتے ہیں جو بلوچستان سے متعلق تھے۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’’وکلا معاشرے کا دانشور طبقہ ہوتا ہے، بلوچستان میں وکیل صوبے کے لیے ترقی پسند سوچ رکھتے ہیں، وکیل مسنگ پرسنز کی بازیابی کے لیے لڑتے اور عوام کی بات کرتے تھے، جنہیں شہید کیا گیا۔ اس کے بعد پولیس ریکروٹس کو شہید کیا گیا۔ حالانکہ میں نے ٹی وی پر دیکھا کہ پولیس کے ایک بڑے سرکاری افسر وزیراعلیٰ سے کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پولیس ریکروٹس ٹریننگ کے لیے آئے ہیں، ان کے ادارے (پولیس ٹریننگ کالج) کی
(باقی صفحہ 41پر)
دیوار تعمیر کی جائے۔ آصف علی زرداری کے دور میں یہاں این ایف سی ایوارڈ آیا، بلوچستان کو آغاز حقوقِ بلوچستان پیکیج دیا گیا، جس کے بعد سے بلوچستان کو پیسہ مل رہا ہے۔ ٹریننگ کالج کی چار دیواری حکومت کی ترجیح ہونی چاہیے تھے۔ جب اتنا بڑا سانحہ ہوا تو اس کے تین دن بعد وفاقی وزیر داخلہ گُڈ طالبان کے ساتھ فوٹو سیشن کررہے تھے، جس کا مجھے بے حد دکھ ہوا اور مجھے اس کا اندازہ ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو بھی اس کا دُکھ ہوا ہوگا۔ چودھری نثار گُڈ طالبان سے ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں۔ لال مسجد والوں کو تو کچھ نہیں کہا جاتا مگر کوئٹہ کے ایک سابق میئر (میر مقبول لہڑی) جن کا تعلق ہماری پارٹی سے ہے، جیل میں ہیں۔ انہیں سیاسی قیدی بنایا گیا ہے۔‘‘
بلاول بھٹو کی باتیں سرسری اور بے اثر تھیں، البتہ وہ پولیس ٹریننگ کالج کے سانحہ پر بے ساختہ روئے۔ بلوچستان کی صوبائی جماعت کے تنِ مُردہ میں جان ڈالنا بھی بلاول بھٹو کا امتحان ہے۔ لشکری رئیسانی اگر دوبارہ پیپلز پارٹی میں آتے ہیں تو پارٹی کے لیے کارآمد ثابت ہوں گے۔

Share this: