(امریکی انتخابات :(عمر ابراہیم

Print Friendly, PDF & Email

رواں سال کا جمہوری تماشا تمام ہوا۔ امریکہ میں سال بھر سے جاری ڈراما ختم ہوا۔ عالمی ذرائع ابلاغ پر ہر طرف دو جماعتی مہم کا شور رہا۔ ڈیموکریٹک اور ری پبلکن امیدواروں کا کردار اور قابلیتیں سرخیوں کا موضوع رہیں۔ یہ تاثر عام رہا کہ دونوں میں بہت فرق ہے۔ ایک آگ، دوسری پانی۔۔۔ ایک انتہا پسند، دوسری معتدل۔۔۔ ایک مرد، دوسری عورت۔۔۔ ایک اسلام دشمن، دوسری مسلمان دوست۔۔۔ ایک بدکردار، دوسری مہذب۔۔۔ ایک احمق، دوسری کٹھ پتلی۔۔۔ ایک اشتعال انگیز، دوسری معاملہ فہم۔۔۔ ایک جنگجو، دوسری امن پسند۔۔۔ اور ایک دنیا کے لیے خطرہ، جبکہ دوسری اچھے مستقبل کا پیغام۔ اس فرق پر امریکہ سمیت دنیا بھر کے دانشور عقل کے گھوڑے دوڑاتے رہے، تجزیوں اور تبصروں سے اخبارات اور جریدے سیاہ فرماتے رہے۔ امریکہ کے شاطر پروپیگنڈسٹ فرید زکریا مسلسل ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کے تیر چلاتے رہے۔ ڈیموکریٹک امیدوار ہلیری کلنٹن کے خلاف ای میلزکا اسکینڈل زوروں پر رہا۔ غرض ایسا لگتا تھا جیسے دونوں امیدوار ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے ڈیموکریٹک اور ری پبلکن کی پالیسیاں مختلف ہیں۔ ایسا تھا جیسے ری پبلکن مغرب اور ڈیموکریٹک مشرق میں ہو، جبکہ ایسا کچھ بھی نہیں۔ اصل میں دونوں ایک ہیں۔ انتخابی تماشا دراصل چار سالہ نیند کی گولیاں ہیں، جو سال بھر جمہورکو دی جاتی ہیں۔ مضمون کا مدعا یہ ہے کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات سے بیرونی یا خارجی دنیا کی صحت پر ہرگز کوئی اثر نہیں پڑتا، اور اچھا اثر تو کسی طور پر نہیں پڑتا۔ اس لیے کسی کی جیت یا ہار سے دنیا پر پڑنے والے اثرات پر تبصرے، تجزیے، خدشات، یا خوش فہمیاں محض ذرائع ابلاغ کا پیٹ بھرنے کی خاطر ہوتی ہیں۔
ایسا کیوں ہے؟ حقیقت کیا ہے؟ دراصل، امریکہ کے صدارتی انتخابات صرف اور صرف امریکہ پر غالب واحد حکومت کی تجدید کا عمل ہے، جس پر ہر انتخابات میں بھاری سرمایہ کاری ہوتی ہے۔ یہ واحد حکومت صہیونی سامراج کی ہے، اور نوقدامت پرست درباری ہیں۔ یہ حکومت مستقل اور مستحکم ہے۔ ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز اس حکومت کی دو شاخیں ہیں۔ اس حکومت کی پالیسیاں ایک ہی ہیں۔ اسرائیل کے ایما پر مشرق وسطیٰ میں مستقل جنگ اور قتل وغارت، اسلام کے خلاف عالمی جنگ، مسلمانوں سے نفرت کی عالمی مہم، دنیا بھرمیں جنگ سازی کے لیے اسلحہ اور مہلک ہتھیاروں کی فروخت، اور عالمی مالیاتی اداروں کے ذریعے عالمی معیشت کا استحصال ہی دو جماعتی حکومتوں کی مشترکہ پالیسیاں ہیں۔
امریکہ کی مستقل واحد حکومت کے کھلاڑی انتخابات کے موسم میں ڈیموکریٹک اور ی پبلکن گھوڑوں پر جوا کھیلتے ہیں، انہیں کھیل میں ہار جیت کا مزا ضرور ملتا ہے، مگر سرمایہ کہیں نہیں جاتا۔ دونوں گھوڑے اپنے ہی ہوتے ہیں۔ جو بھی جیت جاتا ہے، وہ چار سال میں چوگنا منافع سود سمیت کما کر دیتا ہے۔
ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں صہیونی سامراج کے مہرے ہیں۔ دونوں کی مہمات پر وال اسٹریٹ (دیوارِ گریہ کی گلی) سے تل ابیب تک دولت کی بارش ہوتی رہی ہے۔
صہیونی سرمایہ کار انتخابی مہم سے بھرپور لطف اٹھاتے ہیں۔ اپنے اس کھیل کو عالمی توجہ کا مرکز بناتے ہیں۔۔۔ کبھی ایک امیدوارکا غلغلہ ہوتا ہے، کبھی دوسرے امیدوارکا ولولہ ہوتا ہے۔
ایک وقت ایسا آیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پھکڑپن سے امریکہ کی منڈی متاثرہوئی، ساٹھ فیصد سرمایہ داروں کے شیئرز ہلیری کلنٹن کے حق میں بڑھ گئے۔۔۔ جبکہ چالیس فیصد سرمایہ دار ٹرمپ کی جانب رہے۔ اے بی سی پول کے دو الگ الگ جائزوں نے ٹرمپ کو آگے دکھایا اور پھر ہلیری کلنٹن کو دو پوائنٹس برتر ظاہرکیا۔ سوشلسٹ حلقوں میں ہلیری کلنٹن کو وال اسٹریٹ کا مہرہ پکارا جاتا رہا۔
غرض ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں ہی صہیونیت کے کٹھ پتلی مہرے تھے، خواہ حاکم بنتے یا حزبِ اختلاف کا حصہ۔ انتخابی مہم کے دوران ہر امیدوارکا سارا زور خود کو محض زیادہ سے زیادہ صہیونی اور سامراج کا بندہ، بندی ثابت کرنے پر رہا۔
ری پبلکن کے سب سے بڑے سرمایہ کار شدت پسند صہیونی شیلڈن ایڈلسن، ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ہلیری کلنٹن کے مقابلے میں ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی مفادات کا زیادہ قابل بھروسا تابعدار ہوسکتا تھا۔ جبکہ اسرائیل میں ڈیموکریٹ ہلیری کلنٹن کے لیے بہت زیادہ حمایت سامنے آئی۔ اسی طرح اسرائیل کی حمایت میں سب سے بلند آواز ہلیری کلنٹن کی سنائی دیتی رہی ہے۔ غرض امریکی کانگریس میں دونوں جماعتوں کے ارکان ہی اسرائیلی سیاہ کاریوں پر صاد فرماتے رہے ہیں، اور فرماتے رہیں گے۔ یوں امریکہ کی خارجہ پالیسیاں صہیونی پالیسیاں ہیں۔
دنیا کے لیے حتمی طور پر یہ سمجھ لینا لازم ہے کہ امریکہ میں کسی سیاسی تبدیلی سے خارجہ پالیسی کی پیش قدمی میں سرمو کوئی فرق واقع نہیں ہونے والا۔ انقرہ سے ریاض تک معاملات کی درستی کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ امریکہ کی صہیونی اسٹیبلشمنٹ کی حکمت عملی سمجھی جائے، اور انتخابات کے پتلی تماشے کو پتلی تماشا ہی سمجھا جائے۔ ڈیموکریٹس آئیں یا ری پبلکنز جائیں، جب تک امریکہ کی جمہوریت صہیون اسٹیبلشمنٹ کی گرفت سے نہیں نکلتی، عالمی نظام کی تقدیر داؤ پر لگی رہے گی۔

Share this: