سلمان عابد

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان کی قومی سیاست کا جائزہ لیں تو اس میں مجموعی طور پر زیادہ سیاسی جماعتیں علاقائی سیاست میں سرگرم اور فعال سمجھی جاتی ہیں۔ اگرچہ علاقائی سیاسی جماعتوں کی اپنی اہمیت ہے اور ان کے اس کردار کو کسی بھی طور پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، لیکن علاقائی سیاست کے ساتھ ساتھ قومی سیاست کی اصل اہمیت ہوتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں قومی سیاست کمزور اور علاقائی سیاست مضبوط ہوتی جارہی ہے، جو اچھی علامت نہیں۔ قومی سیاسی جماعتیں جو پہلے ہی کمزور وجود رکھتی تھیں، لیکن بہرحال قومی سطح پر سنی، دیکھی اور محسوس کی جاسکتی تھیں، مگر اب لگتا ہے کہ قومی سیاسی جماعتوں کی ترجیحات بھی قومی سے زیادہ علاقائی سیاست اور اس کے مفادات کے تابع ہوکر رہ گئی ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب پاکستان پیپلز پارٹی کو وفاق کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ بے نظیر بھٹو کے بارے میں جیالے بڑے پُرجوش ہوکر یہ نعرہ بلند کرتے تھے ’’چاروں صوبوں کی زنجیر۔۔۔ بے نظیر بے نظیر‘‘۔ پیپلز پارٹی چاروں صوبوں میں اپنے تنظیمی وجود کی وجہ سے اپنی سیاست میں وفاق کی سیاست کو کلیدی اہمیت دیتی تھی۔ پیپلز پارٹی کے مخالفین کو پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے چاروں صوبوں میں اتحادوں پر مبنی سیاست کا تجربہ کرنا پڑتا تھا۔ لیکن بے نظیر بھٹو کے بعد آصف علی زرداری کی سیاست نے پیپلز پارٹی کو عملی طور پر ایک صوبے تک محدود کردیا ہے۔ یہ کام بغیر سوچے سمجھے نہیں ہوا بلکہ اس میں ان کی حکمت عملی بھی شامل ہے۔ اس عمل میں پیپلز پارٹی اور بالخصوص پنجاب کے لوگوں نے آصف زرداری کی سیاسی حکمت عملی کے مقابلے اور مزاحمت پر جو کمزوری دکھائی ہے اس کا خمیازہ پارٹی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اس بات کا احساس پنجاب میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو ہے، لیکن وہ زرداری کی سیاست اور بلاول بھٹو کی سیاسی مجبوریوں یا کمزوری کے باعث عملاً خاموش ہیں۔ ہمیں بے نظیر بھٹو کو داد دینی چاہیے کہ وہ آخری دم تک وفاق کی سیاست کرتی رہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ آصف علی زرداری اور خود بلاول بھٹو کی سیاسی ترجیحات بے نظیر بھٹو سے خاصی مختلف ہیں۔ کچھ تاثر بلاول بھٹو نے دیا تھا کہ وہ ماں کے طرزِ سیاست کو ہی آگے بڑھائیں گے، لیکن پھر جلد ہی آصف علی زرداری کی سیاست کا شکار ہوگئے، اور ممکن ہے وہ اپنی خواہش سے نہ ہوئے ہوں لیکن سیاسی مجبوریوں کے باعث انھیں یہ کڑوی گولی ہضم کرنا پڑی۔ حالانکہ پیپلز پارٹی میں آج بھی یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ وفاقی سیاست میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ اس کی حالیہ قیادت نے یہ طے کرلیا ہے کہ ہمیں ایک خاص دائرۂ کار میں رہ کر ہی سیاست کرکے حکمرانی کے نظام کا حصہ بننا چاہیے۔
اسی طرح وفاق کی سیاست میں مسلم لیگ(ن) کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ نوازشریف کو ہمیشہ سے پیپلز پارٹی کی سیاست کا متبادل سمجھا جاتا ہے، یہ سوچ غلط بھی نہیں تھی۔ یہی وجہ تھی کہ پیپلزپارٹی مخالف اتحادی سیاست کے تجربے کے نتیجے میں نوازشریف اور ان کی جماعت مسلم لیگ(ن) ایک بڑی طاقت بن کر سامنے آئی۔ لیکن کیونکہ نوازشریف کی سیاست کا اہم محور ہمیشہ سے پنجاب ہی رہا ہے، ان کو جب بھی اقتدار ملا تو اس میں بڑا حصہ پنجاب کا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کو پنجاب کی سیاست کی بنیاد پر جو قومی جگہ دیگر صوبوں میں سیاست کے لیے ملی، وہ اس کا مؤثر فائدہ نہیں اٹھا سکی۔ یہ عمل شعوری طور پر اور دیگر صوبوں کی سیاست کے معاملات سے لاتعلقی کے نتیجے میں ہوا۔ مسلم لیگ (ن) نے محض پنجاب کو ہی اپنی سیاست کا محور بنالیا ہے اور اسی کو بنیاد بناکر وہ اقتدار کی سیاست کے کھیل کا کھلاڑی رہنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر صوبوں میں موجود مسلم لیگ(ن) سے وابستہ افراد میں پارٹی قیادت کے فیصلے یا طرزعمل پر سخت مایوسی پائی جاتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے دیگر صوبوں کے کئی اہم لوگ یا تو پارٹی کو خیرباد کہہ کر دیگر پارٹیوں میں شامل ہوگئے ہیں یا عملی سیاست سے لاتعلقی اختیار کرکے پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ پارٹی قیادت کو اس بات کا بالکل بھی احساس نہیں کہ اس کے طرزِ سیاست اور پنجاب کو بنیاد بناکر دیگر صوبوں سے لاتعلقی اور عدم دلچسپی کی سیاست سے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ساتھ قومی سیاست کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ جب قیادت خود اپنے دائرۂ کار کو محدود کرکے سیاست کرتی ہے تو اس کا مجموعی نقصان اس کی جماعت اور سیاست کو ہی ہوتا ہے۔
یہی حال ہمیں تحریک انصاف کا نظر آتا ہے جو پنجاب اور خیبر پختون خوا تک محدود نظر آتی ہے۔ عمران خان تبدیلی کے نعرے پر سیاست میں آئے تھے اور ان کے بقول وہ پورے پاکستان میں کام کرکے نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں اور یہ تبدیلی ایسی ہوگی جو منصفانہ اور شفاف ہو۔ لیکن ان دعووں کے باوجود عمران خان باقی دو صوبوں سندھ اور بلوچستان کی سیاست سے عملی طور پرباہر ہیں۔ وہ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اگر وہ ان دو صوبو ں یعنی پنجاب اور خیبر پختون خوا میں اپنی برتری ثابت کردیں تو اقتدار کی سیاست میں ان کو بڑا حصہ مل سکتا ہے۔ حالانکہ وہ پورے ملک میں تبدیلی کی بات کرتے ہیں، لیکن سندھ کی دیہی اور شہری سیاست اور بلوچستان سے عملاً لاتعلق نظر آتے ہیں۔ اور ان کی یہ عدم دلچسپی پارٹی کے اندر بھی بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن ہے، حالانکہ تحریک انصاف کو کراچی میں 2013ء کے انتخابات میں اچھا ووٹ ملا اور شہری سیاست میں ایم کیو ایم کو انہوں نے چیلنج بھی کیا، لیکن وہ اس کے بعد وہاں مؤثر انداز میں کام نہیں کرسکے۔ عملی طور پر تحریک انصاف بھی مسلم لیگ (ن) کی حکمت عملی پر آگے بڑھ رہی ہے کہ ہمیں پنجاب کو فتح کرکے ہی اقتدار کی سیاست کا حصہ بننا ہے۔ حالانکہ جو خامیاں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی تھیں ان سے فائدہ اٹھاکر تحریک انصاف دیگر صوبوں میں بھی اپنی سیاسی پوزیشن کو مستحکم کرسکتی تھی، لیکن اس کی سیاسی ترجیحات نے عملی طور پر اسے دو صوبوں کی سیاست سے باہر کیا ہوا ہے۔ جماعت اسلامی بھی اگرچہ چاروں صوبوں میں اپنا وجود رکھتی ہے، اس کا تنظیمی ڈھانچہ بھی موجود ہے اور اس کی سیاسی سرگرمیاں بھی چاروں صوبوں میں ہوتی ہیں۔ لیکن انتخابی سیاست میں اپنی کمزور حیثیت کی وجہ سے اسے اتحادی سیاست کے سہارے ہی انتخابی میدان میں کودنا پڑتا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختون خوا میں، جے یو آئی خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں، ایم کیو ایم کراچی اور کچھ اندرون سندھ کے شہری علاقوں تک، جبکہ سندھ اور بلوچستان کی علاقائی جماعتیں اپنے اپنے صوبے تک ہی محدود ہیں۔ یہ علاقائی جماعتیں انتخابی سیاست میں وفاق پر مبنی جماعتوں کے ساتھ اپنے سیاسی معاملات طے کرکے کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر اقتدار یا قومی سیاست میں حصہ دار بنتی ہیں۔ ان جماعتوں نے خود ہی ایک محدود کردار کو طے کرکے علاقائی سیاست کرنے کو ترجیح دی ہے۔
بنیادی طور پر بڑی قومی سیاسی جماعتوں کے چاروں صوبوں میں اثرونفوذ کا سیاسی طور پر سکڑنا جمہوری اور قومی سیاست کے لیے اچھا شگون نہیں۔ اگرچہ ان جماعتوں کی دیگر صوبوں میں تنظیم یا ڈھانچہ موجود ہے، لیکن یہ پارٹیاں عملی طور پر اپنے آپ کو مخصوص علاقوں یا صوبوں تک محدود کرکے سیاست کررہی ہیں۔ اسی طرح اگر ہم بڑی سیاسی جماعتوں کی کچن کیبنٹ یا سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی، کور کمیٹی سمیت پارٹی کے قومی عہدیداروں کی جانب دیکھیں تو اس میں ہمیں چاروں طرف پنجاب سے نامزدگیوں کی برتری نظر آتی ہے۔ بڑی سیاسی جماعتوں اور بالخصوص مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف کا یہ رویہ چھوٹے صوبوں میں احساسِ محرومی اور تعصب کو جنم دیتا ہے۔ کیونکہ چھوٹے صوبوں کے اہم لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کو نظرانداز کرکے پارٹی قیادت پنجاب کے لوگوں کو زیادہ سیاسی وزن دیتی ہے اور ان ہی کے اردگرد سیاسی قیادت کا جال بھی بچھا ہوا ہے۔ اس لیے جب چھوٹے صوبوں سے پنجاب کی بالادستی یا ان پر وہاں سے فیصلے مسلط کرنے کی صدائیں آتی ہیں تو اس میں کچھ وزن بھی ہوتا ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو بالترتیب پنجاب اور سندھ میں ووٹ بینک کے حوالے سے اپنے مخالفین پر برتری حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقتدار کی سیاست میں ان دونوں جماعتوں کا ہمیشہ سے اہم حصہ رہا ہے۔ لیکن ان دونوں جماعتوں کے لیے دونوں صوبوں میں اپنی برتری کو لمبے عرصے تک قائم رکھنا موجودہ سیاسی حکمت عملی کے تحت آسان نہیں۔ پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کو تحریک انصاف کا سامنا ہے، جو پنجاب کی سیاست میں اپنا اثرو نفوذ بڑھا رہی ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی بڑی طاقت ہے لیکن سندھ کے بعض شہروں میں اس کی گرفت کمزور ہوئی ہے۔ کراچی، حیدرآباد سمیت بعض اضلاع میں ایم کیو ایم کو برتری حاصل ہے۔ اس لیے اگر کچھ سیاسی جماعتیں یہ سوچ رہی ہیں کہ وہ اپنی موجودہ سیاسی حکمت عملی کے تحت اپنی سیاسی طاقت کو برقرار رکھ سکیں گی، تو یہ آسان نہیں ہوگا۔ کیونکہ اب سیاست کے طور طریقے بدل رہے ہیں اور لوگوں کو بھی سمجھ میں آرہا ہے کہ بڑی سیاسی جماعتوں کی سیاست میں عملی طور پر ہم کہاں کھڑے ہیں اور کس انداز سے بڑی سیاسی قیادتیں ہمارا سیاسی استحصال کرکے اپنی سیاست کو مضبوط کررہی ہیں۔
سندھ میں پیپلز پارٹی کے طرزِ حکمرانی پر بھی بڑے سوالات ہیں۔ اصل میں سندھ کا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں پیپلز پارٹی کے مقابلے میں مسلم لیگ(ن) یا تحریک انصاف نے متبادل کے طور پر مضبوط قدم نہیں جمائے۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ کے ووٹر سمجھتے ہیں کہ ابھی ان کے پاس پیپلز پارٹی کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ اگر واقعی مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف نے وہاں مستقل بنیادوں پر سیاست کی ہوتی تو کوئی متبادل سیاست کا امکان پیدا ہوسکتا تھا۔
اس طرز کی سیاست کا سب سے بڑا نقصان قومی سطح پر بڑے سیاسی معاملات پر ہوتا ہے۔ کیونکہ جب آپ اپنی سیاست کے دائرۂ کار یا فریم ورک کو قومی، علاقائی اور عالمی سطح کی سیاست کے ساتھ جوڑ کر نہیں دیکھیں گے تو کوئی بہتر کردار بھی آپ کا نہیں بن سکے گا۔ عمومی طور پر اس رویّے سے قومی سیاست کے معاملات پر لاتعلقی کی سوچ تقویت پکڑتی ہے اور انتخابی اور علاقائی سیاست کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ حالانکہ علاقائی سیاست سے مراد کسی بھی طور پر قومی سیاست کے معاملات اور اس میں ہونے والی فیصلہ سازی کے عمل سے لاتعلقی نہیں۔ اس عمل کے ساتھ ہم چاروں صوبوں کی اکائیوں کو بھی اپنے ساتھ نہیں جوڑ سکتے اور اس کا بڑا نقصان قومی سیاست کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ہماری قومی سیاست سے وابستہ افراد اس رویّے پر غور کریں کہ اُن کا طرزعمل کیسے وفاق اور عالمی سطح پر ہماری سیاست کو کمزور کرنے کا سبب بن رہا ہے۔آج جو خطرات ہمیں داخلی اور بالخصوص خارجی محاذ پر علاقائی اور عالمی سیاست کے تناظر میں درپیش ہیں ان کا علاج قومی فکر اور سیاست ہی کے تحت فیصلے سے جڑا ہوا ہے۔ یہ جو ہم صوبائی بنیاد پر سندھ، پنجاب سیاسی کارڈ کھیلتے ہیں اور صوبائی نعرے لگاکر سیاسی لوگوں کی سوچ کو محدود کرتے ہیں اس سے قومی سیاست سیاسی تنہائی کا شکار ہوتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہماری سیاست میں آج جو سطحی طرز کی سیاست کا جال بچھا ہوا نظر آتا ہے، یہ کمزور ہوگا اور بہتر طور پر قومی سیاست کے معاملات میں ہم اپنا کردار ادا نہیں کرسکیں گے۔
nn

Share this: