(اقبال وفکر اقبال پر چند کتب (ملک نواز احمد اعوان

Print Friendly, PDF & Email

نام کتاب
:
اقبال۔۔۔دیدۂ بینائے قوم
مصنف
:
ڈاکٹر تحسین فراقی
صفحات
:
206 قیمت 350 روپے
ناشر
:
پورب اکادمی۔ اسلام آباد
فون نمبر
:
051-2317092
ای میل
:
poorab_academy@yahoo.com
ویب سائٹ
:
www.poorab.com.pk
بارہ گراں قدر مقالات پر مشتمل یہ کتاب تفہیم اقبال کے سلسلے میں ممد و معاون ہے۔ فکرِ اقبال کے مختلف گوشوں کی وضاحت عمدگی سے کرتی ہے۔ ڈاکٹر تحسین فراقی تحریر فرماتے ہیں:
’’اقبال کے فکر و فن سے میری محبت نے ’’اقبال۔۔۔ چند نئے مباحث‘‘ (اشاعتِ اول 1997ء) کے بعد بھی مجھے سرگرم عمل رکھا۔ پیش نظر مجموعۂ مقالات اقبال سے میرے اسی قلبی ارتباط اور باطنی اضطراب کا حاصل ہے۔ اگرچہ دو ایک مستثنیات کو چھوڑکر اس مجموعے کے بیشتر مقالات مختلف اوقات میں ملکی اور بین الاقوامی مجالس میں پڑھے گئے اور بعد ازاں ممتاز فکری و تحقیقی مجلات میں شائع ہوئے، مگر قارئین سب میں ایک فکری داخلی وحدت کا سراغ بہ آسانی لگا سکیں گے۔
یہ مقالات 1997ء کے اواخر سے 2014ء تک کے عرصے کو محیط ہیں اور ان میں فکرِ اقبال کی متعدد قابلِ ذکر جہات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ میرا ایقان ہے کہ اقبال نہ صرف عالم اسلام کے اتحاد، ارتقاء اور نشاۃِ ثانیہ کے ضامن ہیں بلکہ ان کا آفاقی پیغام اپنے اندر اقوام عالم کی تقدیروں کو بدلنے کی غیر معمولی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اقبال نے جن ابدی، فکری اور روحانی سرچشموں سے حیات افروز تصورات کشید کیے ہیں، وہ زندگی اور زمانے کی پے درپے گردشوں کے باوجود کبھی دھندلا نہیں پائیں گے اور اربابِ فکر و دانش ان سے مدتوں فیض یاب ہوتے اور حیاتِ تازہ پاتے رہیں گے۔ نہ صرف لوحِ شاعری پر لکھی اقبال کی تحریریں ہمیشہ بہار رہیں گی بلکہ ان کی متعدد نثری تحریروں کا جوبن بھی بہت حد تک ’’دامنِ دل می کشد‘‘ کی برہان مہیا کرتا رہے گا۔
پیشِ نظر مقالات نہ صرف معروف پاکستانی مجلات مثلاً اورینٹل کالج میگزین، معیار، مخزن، سیّارہ، ماہِ نو، بازیافت اور ادبیات وغیرہ میں شائع ہوئے، بلکہ ان میں سے کچھ غیرملکی رسائل مثلاً ’’نامۂ پارسی‘‘ (تہران)، ’’آئینۂ پژوہش‘‘ (قم)، ’’دانش‘‘ اور ’’شاعر‘‘ (بمبئی) میں بھی طبع ہوئے۔
’’ایران میں اقبال شناسی کے دس برس‘‘ (1995ء۔2005ء) فارسی میں ترجمہ ہوکر تین ایرانی مجلّوں میں شائع ہوا، اور اقبال اور رومی والا مقالہ آئینۂ میراث (تہران) کے رومی نمبر (شمارہ38) میں طبع ہوا۔ اوّل الذکر مقالہ بڑا ہنگامہ خیز ثابت ہوا، اور اگر یہ کہا جائے کہ یہ ایران میں اقبال شناسی کا پہلا بے لاگ اور مفصل جائزہ ہے تو غلط نہ ہوگا۔ علمیات کے باب میں مَیں اس نقطۂ نظر کا مؤید ہوں کہ کسی بھی لکھنے والے کی تحریروں کا تجزیہ ان کی کلیّت میں ہونا چاہیے، جزوی مطالعات ہمیشہ اتھلے، سطحی اور ناانصافی پر مبنی ہوتے ہیں۔ بہت سے معروف ’’اقبال شناس‘‘ ایرانی، اقبال کے فارسی کلام سے تو آگاہی رکھتے ہیں مگر ان کی اردو شاعری اور نثری تحریروں (انگریزی، اردو) سے زبان کے نہ جاننے کے باعث واقف نہیں ہوپاتے، لہٰذا ان کے مطالعات اطمینان بخش نہیں ہوتے اور فکرِ اقبال کی ادھوری اور ناقص تصویر پیش کرتے ہیں۔
زیرنظرکتاب میں دیگر مضامین کے علاوہ میرے دو تازہ تر مقالے بھی شامل ہیں جو ’’عالمگیریت کی صورت حال اور فکرِ اقبال‘‘ اور ’’اقبال اور ہیگل۔۔۔چند معروضات‘‘ کے زیرعنوان لکھے گئے۔ پہلا مقالہ خلیفہ عبدالحکیم یادگاری لیکچر کے طور پر مارچ 2014ء میں ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ کے زیراہتمام ایک علمی مجلس میں پڑھا گیا، اور دوسرا دائرۂ معارف اقبال (جامعہ پنجاب) کی جلد سوم کے لیے اسی برس لکھا گیا۔ یہ دونوں مقالات بڑے مفصل ہیں اور قارئین کی توجہ کے مستحق۔ اگر پہلے مقالے میں ہماری معاصر تہذیبی صورت حال کی حشر سامانیوں کے تناظر میں فکرِ اقبال کی معنویت کو اجاگر کرنے کی سعی کی گئی ہے تو مؤخر الذکر میں اقبال اور ہیگل کی فکریات کا تفصیلی جائزہ مرتب کیا گیا ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ ہیگل سے ابتدائی تاثر پذیری کے مراحل سے گزر کر اقبال ثبات اور دستورِ حیات کی طلب میں ہیگلی فکر سے بہ مراتب دور ہوتے گئے۔ اس ضمن میں نہ صرف ’’ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام‘‘ اقبال کی نظم ان کے تصورِ حیات کی بلیغ اور ناطق گواہی مہیا کرتی ہے، بلکہ پیام مشرق کی نظم ’’ہیگل‘‘ بھی اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ ’’محسوس‘‘ کے بغیر ’’معقول‘‘ محض ایک ادھوری سچائی ہے:
مقالہ ’’اقبال دیدۂ بینائے قوم‘‘2002ء میں لکھا گیا اور اسی سال ’’ماہِ نو‘‘ کے نومبر 2002ء کے شمارے میں شائع ہوا۔ یہی مقالہ اب اس کتاب کا سرِعنوان بھی ہے اور کتاب کا اوّلین مقالہ بھی۔ مجھے امید ہے کہ زیرنظر کتاب اربابِ فکر وفرہنگ کے لیے موجبِ توجہ ہوگی۔ اپنے علم کی حد تک اس کے مشمولات پر نظرثانی کرلی گئی ہے، پھر بھی اندیشہ ہے کہ اس میں متعدد فروگزاشتیں ہوں گی۔ اصحابِ نظر سے امید کی جاتی ہے کہ وہ کتاب میں موجود ایسی کوتاہیوں اور فروگزاشتوں کی نشاندہی میں تامل نہیں کریں گے۔ زیرنظر مقالات میں دو ایک مقامات پر تکرارِ مطالب کا امکان ہے۔ قارئین سے درخواست ہے کہ اپنی کریم النفسی کو کام میں لاتے ہوئے ایسے موارد سے چشم پوشی فرمائیں۔
میں ملک کے معروف اشاعتی ادارے پورب اکادمی اسلام آباد کے مہتمم جناب صفدر رشید کا ممنون ہوں جن کے زیراہتمام یہ کتاب شائع ہونے کا اعزاز حاصل کررہی ہے۔‘‘
کتاب درج ذیل مقالات پر مشتمل ہے:
اقبال۔۔۔ دیدۂ بینائے قوم، نیا نظام عالمِ اورفکرِ اقبال، اقبال کا تصورِ تہذیب، فکرِ اقبال کی عصری معنویت، اسلامی ادب کی ترویج میں اقبال کا کردار، اقبال کے شعر و فلسفہ پر رومی کے اثرات، علامہ اقبال اور اتحادِ عالم اسلامی، اقبال اور ہیگل۔۔۔ چند معروضات، عالمگیریت کی صورت حال اور فکرِ اقبال، ایران میں اقبال شناسی کے دس برس، بانگِ درا کا پہلا مکمل انگریزی ترجمہ، کلیاتِ باقیاتِ شعرِ اقبال۔۔۔ ایک تجزیہ۔
’’اقبال۔۔۔ دیدۂ بینائے قوم‘‘ اقبالیات میں وقیع اضافہ ہے۔ اس کے مطالعے سے علم کی بڑی مقدار کا حصول ہوتا ہے۔ مناسب ہوگا ہم ایک اقتباس کتاب سے قارئین کرام کی خدمت میں پیش کریں۔ ڈاکٹر تحسین فراقی فرماتے ہیں:
’’خواتین و حضرات! حضرت علامہ اقبال ایک فرد نہیں، ایک دبستان تھے۔۔۔ برکت، خیر، صداقت، ایثار، روشنی، حلاوت اور حرارت کا زندۂ جاوید دبستان۔ تاریخ کے ایک خاص موڑ پر مسلم کلچر کی بساط پر اقبال جیسے نابغہ کا ظہور عطیۂ الٰہی کے مصداق تھا۔ اقبال کے نزدیک اسلام نہ تو زمانۂ انحطاط کے خانقاہ نشینوں کے مراقبوں کا تختۂ مشق ہے، نہ واعظوں کا وسیلۂ رزق، نہ ملوکیت کا معین ہے نہ ژولیدہ مو، آشفتہ مغز سیکولر دانشوروں کی پریشاں خیالی کا مؤید۔۔۔ بلکہ قم باذن اللہ کی گرمی اور حرارت سے مملو ایک زندہ حقیقت الحقائق ہے جس سے انسانی حیات کے ٹھنڈے چولہے گرم ہوتے ہیں، اور دل رزم گہِ حیات کا امین بنتا ہے۔ باعثِ ننگ ہے ایسے دانشوروں کا وجود جو قلب کے رہزن اور نظر کے ابلیس بن کر دھڑلے سے دن دہاڑے ابنِ آدم کے سکون اور سکینت کے قافلے لوٹ لیتے ہیں۔ اور لائقِ مبارک باد ہے اقبال جیسے رحمتِ ربانی سے الہام یافتہ اربابِ نظر کا وجود، جن کے زندہ افکار کے فیض سے انسانیت کو پورے قد سے بڑھنا اور کھڑا ہونا نصیب ہوتا ہے۔ (’’علامہ اقبال اور اتحادِ عالم اسلامی‘‘۔ ص 112)
کتاب مجلّد ہے اور نیوز پرنٹ پر خوبصورت طبع کی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔
نام کتاب
:
جہاتِ اقبال
مصنف
:
ڈاکٹر تحسین فراقی
صفحات
:
207 قیمت 400 روپے
ناشر
:
بزمِ اقبال۔2 کلب روڈ۔ لاہور
فون
:
042-39200851
زیرنظرکتاب جہاتِ اقبال کا دوسرا ایڈیشن ہے۔ پہلا ایڈیشن 1993ء میں طبع ہوا تھا۔ عرصے سے کتاب نایاب تھی۔ بزم اقبال اور اس ادارے کے ڈائریکٹر جناب محمد حنیف شاہد شکریے کے مستحق ہیں کہ ان کی کرم فرمائی سے یہ اہم کتاب خاص و عام کی دسترس میں ہے۔
کتاب نو مقالات پر مشتمل ہے جو درج ذیل ہیں:
’’تصورِ الٰہ اور عبادت کا مفہوم‘‘، ’’مسلم فلسفے میں زمان کا مسئلہ‘‘، ’’جمہوریت اقبال کی نگاہ میں‘‘، ’’عصری مسائل اور فکرِ اقبال‘‘، ’’علامہ اقبال اور مسلم نشأۃِ ثانیہ‘‘، ’’اقبال نامہ، مرتّبہ شیخ عطاء اللہ۔۔۔ چند گزارشات، چند تصحیحات‘‘، جلوہ خوں گشت ونگاہے بتماشانر سید‘‘، ’’مطالبِ اقبال‘‘، ’’مسائلِ اقبال‘‘، ’’اشاریہ‘‘۔
اس کتاب کی خوبیوں میں ایک اس کا اشاریہ بھی ہے جو ہر علمی کتاب میں ضرور شامل ہونا چاہیے۔
جناب مرزا ادیب صاحب تحریر فرماتے ہیں:
’’یہ مضامین مصنف نے 1983ء سے لے کر 1992ء کی درمیانی مدت میں لکھے ہیں، یعنی ان مضامین کے تحریری عمل میں کم و بیش دس برس کے شب و روز صرف ہوئے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان مضامین کی اشاعت کتابی صورت اختیار کرنے سے پیشتر پاک و ہند کے بعض ممتاز ادبی مجلات میں ہوچکی ہے۔ اپنے مجموعی تاثر کی نشان دہی کرتے ہوئے میں پہلی بات یہ عرض کروں گا کہ ڈاکٹر فراقی نے موضوعات کے انتخاب میں مشکل پسندی کا ثبوت دیا ہے۔ تحسین فراقی نے اس رجحان یعنی مشکل پسندی کے زیراثر صرف انہی موضوعات پر نظرِ انتخاب ڈالی ہے جن کے لیے زیادہ گہری نظر، دقتِ نظر اور وسیع و عمیق نظر کی ضرورت ہے، اور ایک سچے متخصص اقبالیات کو یہی رویہ زیب دیتا ہے۔
ڈاکٹر تحسین فراقی کے بارے میں یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ انھوں نے بہت کم مدت میں اردو ادب کو اتناکچھ دے دیا ہے کہ ان کی تیز رفتاری پر مسرت سے زیادہ حیرت ہوتی ہے۔
جناب ڈاکٹر تحسین کے اس کارنامے کو، جو جہاتِ اقبال کے نام سے چھپ کر منظرعام پر آرہا ہے، ایک بڑا کارنامہ سمجھتا ہوں۔ اس کی توصیف و تحسین دل کی گہرائیوں سے کرتا ہوں، مگر مجھے اس موقع پر جو خاص خوشی ہوئی ہے اس کی ایک خاص وجہ ہے۔ تحسین فراقی جس تدریسی ادارے (اورینٹل کالج) سے منسلک ہوکر ایک معلم کے فرائض ادا کررہے ہیں اس کی ایک عظیم علمی روایت مسلّم ہے، یہ علمی روایت ان عظیم استادوں کے دم سے قائم ہوئی ہے جو ادوار گزشتہ میں اس ادارے سے وابستہ رہے ہیں۔ میری خوشی کی وجہ یہ ہے کہ تحسین نے اپنی علمی و ادبی کاوشوں سے اس عظیم روایت کو زندہ رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اللہ انہیں اس کی مزید توفیق دے!‘‘
کتاب مجلّد ہے، سفید کاغذ پر چھپی ہے، خوبصورت رنگین سرورق سے آراستہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔
نام کتاب
:
شذراتِ فکرِ اقبال
مرتّبہ
:
ڈاکٹر جسٹس جاوید اقبال
ترجمہ
:
ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی
صفحات
:
172 قیمت 200 روپے
ناشر
:
ڈاکٹر تحسین فراقی،ناظم مجلسِ ترقی ادب،2کلب روڈ۔ لاہور
فون نمبر
:
042-99200856
042-99200857
ای میل
:
majlista2014@gmail.com
ویب گاہ
:
www.mtalahore.com
بیاضِ اقبال جو 1910ء کے درمیانی چند ماہ کی منتشر نگارشات کا مجموعہ ہے جسے ڈاکٹر جاوید اقبال نے 1961ء میں STRAY REFLECTION کے نام سے شائع کردیا۔ مجلسِ ترقی ادب نے اقبال کے صد سالہ جشنِ ولادت کے سلسلے میں دیگر یادگاری تالیفات کے ساتھ بیاض کے اردو ترجمے کو بھی اپنے طباعتی پروگرام میں شامل کرلیا۔ موجودہ اشاعت اس کی طبع سوم ہے۔ ڈاکٹر افتخار تحریر فرماتے ہیں:
’’بیاض کی ان منتشر تحریروں کے متنوع موضوعات اور نو بہ نو افکار کا جائزہ لیجیے تو بقول مرتب: ’’اقبال کے ذہن کی توانائی، ہمہ گیری اور خلاّقی کی جھلک نظر آئے گی‘‘۔ ان کا متحرک و متجسس ذہن مختلف زاویوں سے گردوپیش کی زندگی کا مشاہدہ کرتا ہے اور فن، ادب، سیاست، مذہب، تاریخ، تہذیب، معاشرت، غرض ہر شعبۂ حیات سے متعلق کوئی انوکھا، انفرادی تاثر پیش کردیتا ہے۔ لیکن ان بکھرے بکھرے خیالات کی مدھم لہروں کے دوش بدوش وہ پرخروش موجیں بھی ہیں جن سے پتا لگتا ہے کہ فکرِ اقبال کے مرکزی دھارے کا بہاؤ کس رخ پر ہے۔‘‘
یہ بیاض فکرِ اقبال کے ارتقا کے اہم ترین دور کی وضاحت کرتی ہے اور اس قابل ہے کہ اس کو بار بار پڑھا جائے اور اس سے استفادہ کیا جائے۔
کتاب سفید کاغذ پر طبع ہوئی۔ مجلّد ہے۔ ڈاکٹر افتخار نے جامع مقدمہ لکھا ہے۔ تعارف ڈاکٹر جاوید اقبال کا تحریر کردہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔
نام کتاب
:
اقبال سوانح اور افکار
مصنف
:
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
صفحات
:
152 قیمت 250 روپے
ناشر
:
یو ایم ٹی پریس۔ یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی۔ C-11 جوہر ٹاؤن لاہور
فون نمبر
:
+92-42-35212801-10
فیکس
:
+92-42-35212819
برقی پتا
:
umtpress@umt.edu.pk
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی حفظہ اللہ (پ 1940ء) محقق، نقاد، ادیب، استاد سابق صدر شعبہ اردو پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج لاہور۔ اقبالیات ان کی تحقیق اور دلچسپی کا خاص موضوع ہے۔ ان کی چوالیس کتابوں میں سے نصف، اقبال اور اقبالیات کے کسی نہ کسی پہلو سے متعلق ہیں۔ ان کی نگرانی میں اقبالیات پر ڈاکٹریٹ اور ایم فل کی سطح کے پچاس تحقیقی مقالے لکھے گئے ہیں۔ وہ علامہ اقبال پر مختلف ممالک (پاکستان، برطانیہ، بھارت، بیلجیم، ترکی، اسپین، جاپان اور ایران) میں منعقدہ درجن بھر قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں مقالات پیش کرچکے ہیں۔ ان دنوں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اقبالیات سے بطور پروفیسر وابستہ ہیں۔
علامہ محمد اقبال (1877 ء۔1938ء) کی معروف حیثیت ایک شاعر کی ہے مگر فی الحقیقت وہ بلند پایہ فلسفی، دانشور اور مفکر تھے۔ انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے ملتِ اسلامیہ کو ایک ولولۂ تازہ عطا کیا۔ برعظیم کے مسلمانوں کو 1930ء میں خطبۂ الٰہ آباد کے ذریعے ایک علیحدہ مسلم مملکت (پاکستان) کا تصور عطا کیا۔ وہ اسلامی نشاۃِ ثانیہ کے عَلم بردار تھے۔ ان کی شاعری اور فکر ہمارے لیے نشانِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
زیر نظر کتاب ’’اقبال: سوانح اور افکار‘‘ اقبال کے سوانح اور شخصیت کے بارے میں مختصر مگر جامع معلومات مہیا کرتی ہے۔ اقبال کی جملہ تصانیف نظم و نثر کا تعارف بھی اس میں شامل ہے، مزید برآں اس میں علامہ اقبال کے اہم افکار و تصورات (خودی، بے خودی، عقل، عش، فقر، مردِ کامل، تہذیبِ مغرب، اشتراکیت، سرمایہ داری، اجتہاد، حیثیتِ نسواں وغیرہ) کو بھی مختصر اور قابلِ فہم انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ کم ضخامت کتاب قاری کو اقبال کے بارے میں بہت سی ضخیم کتابوں سے بے نیاز کردیتی ہے۔
مصنف کتاب ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی تحریر فرماتے ہیں:
’’پنجاب یونیورسٹی لاہور نے 1960ء کے عشرے میں ’’تاریخ ادبیاتِ مسلمانانِِ پاک و ہند‘‘ کے نام سے علمی و ادبی تحقیق کا ایک شعبہ قائم کیا تھا۔ اس نے متعدد جلدوں میں برعظیم کے اردو، فارسی، عربی، بنگالی اور ہندی ادب کی تواریخ شائع کیں۔ اس کے بعد اس شعبے کی بساط لپیٹ دی گئی۔
ایک عرصے بعد ان تواریخ پر نظرثانی اور اضافوں کی ضرورت محسوس ہوئی۔ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران نے شعبے کو بحال کرکے ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا (پروفیسر ایمریطس) کو اردو ادب کی پانچ جلدوں پر نظرثانی کا کام سونپا۔ خواجہ صاحب نے سابقہ مضامین پر نظرثانی کے ساتھ متعدد نئے مضامین لکھے اور لکھوائے۔ زیرنظر مضمون (جسے کتابی صورت میں شائع کیا جارہا ہے) خواجہ صاحب کی فرمائش پر لکھا گیا تھا۔ یہ تاریخ ادبیات (اردو) کی پانچویں جلد میں شامل ہے۔
محترم خواجہ صاحب کے خیال مں گریجوایشن، پوسٹ گریجوایشن اور مقابلے کے امتحانات کے امیدواروں کے لیے اس کا مطالعہ مفید و معاون ہوگا۔ چنانچہ راقم نے اس پر نظرثانی کرکے آخر میں فکرِ اقبال کے کچھ اور اہم پہلوؤں پر بھی مختصر شذرات شامل کردیے ہیں۔
میں یو ایم ٹی پریس کا شکر گزار ہوں کہ اس کے اربابِ حل و عقد نے اس کتاب کی اشاعت میں دلچسپی لی۔ سائنسی اور انتظامی علوم کے طلبہ ان معلومات کو مفید پائیں گے۔‘‘
کتاب چار حصوں میں منقسم ہے۔ پہلے حصے میں علامہ محمد اقبال کے سوانح جامعیت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ دوسرے حصے میں تصانیف اور آثار یعنی شاعری کے مجموعے، اقبال کا متروک کلام، اقبال کی نثر، مکاتیب کے مجموعے، ملفوظات کے مجموعے، درسی کتابیں مذکور ہیں۔ تیسرے حصے میں افکار و تصورات (1) کے تحت تصورِ خودی، تصورِ بے خودی، تصورِ فقر، تصورِ عشق، تصورِ عقل، مردِ کامل، نظریۂ تصوف، تصورِ تعلیم، سرمایہ داری، اشتراکیت، فاشزم، جمہوریت، نظریہ فن اقبال بطور فن کار، چوتھے حصے میں افکار و تصورات (2) میں علامہ اقبال اور قرآن حکیم، اقبال اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، اقبال اور اجتہاد، اقبال اور خواتین کو موضوع بنایا ہے۔
کتاب عمدہ سفید کاغذ پر خوبصورت طبع کی گئی ہے۔ حسین و جمیل رنگین سرورق سے مزین ہے۔ اقبالیات کی لائبریری میں وقیع اضافہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔
نام کتاب
:
علامہ اقبال اور میرِ حجاز صلی اللہ علیہ وسلم
مصنف
:
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی
صفحات
:
80 قیمت75 روپے
ناشر
:
منشورات۔8E منصورہ ملتان روڈ۔ لاہور 54790
فون نمبر
:
042-35252210
042-35252211
فیکس
:
manshurat@gmail.com
manshurat@yahoo.com
خوبصورت موضوع پر لکھی اس خوبصورت کتاب کا یہ تیسرا ایڈیشن ہے۔ اس میں علامہ اقبال کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گہرے تعلق اور بے پایاں محبت کو موضوع بنایا گیا ہے۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ تحریر فرماتے ہیں:
’’(علامہ کے) زندگی کے آخری ایام میں پیمانۂ عشق اس طرح لبریز ہوا کہ مدینہ کا نام آتے ہی اشکِ محبت بے ساختہ جاری ہوجاتے۔ وہ اپنے اس کمزور جسم کے ساتھ مدینۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر نہ ہوسکے لیکن اپنے مشتاق اور بے تاب دل، نیز اپنی قوتِ تخیل اور زورِ کلام کے ساتھ انہوں نے حجاز کی وجد انگیز فضاؤں میں بار بار پرواز کی، اور ان کا طائرِ فکر ہمیشہ اسی آشیانے یا آستانے پر منڈلاتا رہا۔‘‘
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے علامہ کی محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دل گداز تذکرہ اس حسین اسلوب میں لکھے مقالے میں مرتب کردیا ہے۔ بقول علامہ
ہر کہ عشقِ مصطفی سامانِ اوست
بحر و بر در گوشۂ دامانِ اوست
اردو زبان کے عظیم محقق اور استاد ڈاکٹر نجم الاسلام کی وقیع رائے ہے:
’’آپ کی کتاب ’’علامہ اقبال اور میرِ حجاز صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کئی مرتبہ دیکھ چکا ہوں۔ حالانکہ صغیرالجسم ہے مگر کبیرالعلم ہے۔ گو کہ یہ ایک مختصر کتاب ہے لیکن قدر و قیمت کے اعتبار سے ایک وزن رکھتی ہے۔ اس میں علامہ اقبال اور میرِ حجاز صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر تمام ضروری باتیں آگئی ہیں۔‘‘
منشورات تحریکِ اسلامی کا عظیم ادارہ ہے جس نے پانچ سو کے قریب کتابیں مختلف اسلامی موضوعات پر شائع کی ہیں، اس کتاب کے علاوہ شاعرِ مشرق علامہ اقبال پر منشورات کی شائع کردہ کتب میں محترم قاضی حسین احمد کے قلم سے ’’اقبال کا پیغام امتِ مسلمہ کے نام‘‘، مجاہدِ اعظم کشمیر سید علی گیلانی کے قلم سے ’’اقبال روحِ دین کا شناسا‘‘ اور اسکول کے طلبہ و طالبات کو فکرِ اقبال سے روشن کروانے کے لیے ایک عمدہ خوبصورت کتاب ’’کلامِ اقبال‘‘ بھی شائع کی ہے۔
کتاب خوبصورت سفید کاغذ پر طبع ہوئی ہے۔ حسین رنگین سرورق سے مزین ہے۔
۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔
نام کتاب
:
RELIGIOUS TOLERANCE
IN
IQBAL`S PHILOSOPHY
مصنف
:
ڈاکٹر زاہد منیر عامر
صفحات
:
190 قیمت 600 روپے
ناشر
:
فرخ سہیل گویندی۔ جمہوری پبلی کیشنز
2 ایوانِ تجارت روڈ ،لاہور
فون
:
042-36314140
042-36283098
ای میل
:
info@gumhooripublications.com
ویب
:
www.gumhooripublications.com
اس نہایت خوبصورت علمی و ادبی کتاب کے مصنف ڈاکٹر زاہد منیر عامر استاد، شاعر، محقق، نقاد، میڈیا ایکسپرٹ اور اعلیٰ اخلاق کے حامل خوبصورت انسان ہیں۔ جامعۃ الازہر مصر میں بحیثیت وزٹنگ پروفیسر پڑھاتے رہے ہیں۔ انھوں نے عالمی کانفرنسوں، سیمیناروں اور ورکشاپوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ انھوں نے تحقیقی مقالات اور لیکچر جرمنی، شام، فرانس، سوئٹزرلینڈ‘ اسپین، مصر، اردن، ماریشس، لبنان، ایران وغیرہ میں پڑھے اور دیے۔ تیس سے زیادہ کتب کے مصنف ہیں اور ان کے 370 سے زائد مقالات علمی رسائل میں شائع ہوچکے ہیں۔ ان کی تخلیقات کا ترجمہ عربی، فرانسیسی، انگریزی، فارسی اور پنجابی زبانوں میں ہوچکا ہے۔ ٹیلی ویژن کے مختلف چینلوں پر چار سو سے زیادہ لیکچر دے چکے ہیں۔ الجامعۃ الازہر مصر میں وزٹنگ پروفیسر مقرر ہوئے۔ اس دوران میں انھوں نے فکرِ اقبال کو عرب دنیا میں پھیلانے کے لیے عرب میڈیا میں جو مقالات لکھے وہ اس کتاب میں جمع کردیے ہیں۔ اس کتاب کے محتویات درج ذیل ہیں: کتاب دو حصوں میں منقسم ہے۔ حصہ اول میں مقالات اور دوسرے حصے میں علمی اسفار شام،اردن، لبنان وغیرہ کی روداد ہے۔
Part One:
1.Iqbal- An Introduction
2.Muhammad Iqbal`s Concept of Islam.
3.Religious Tolerance and Muhammad Iqbal`s Philosophy
4.Feathers of a nightingale, wings of falcon and the nameless ages. (Iqbal on Passionate love.)
5.Iqbal`s Passion for the Arab World.
6.Palestine: An Unheard Voice
7.Iqbal`s Rationale of an Independent Homeland for the Muslims of South Asia
Part Two: Travelogues on Iqbal Studies.
8.Japan: Miracle of the Translation
9. Syria: (I) After Night I saw a Dawn Bright
(ii) Manliness Lies in respecting Man
10.Jordan: Message of Life on the Coast of Dead Sea
11. Lebanon: Iqbal Studies Urdu and Lebanon.
By the same author
انگریزی زبان میں اقبالیات میں وقیع اضافہ ہے۔ کتاب کے پروف احتیاط سے نہیں پڑھے گئے۔ امید ہے آئندہ ایڈیشن میں اغلاط درست کردی جائیں گی۔ کتاب مجلّد ہے اور عمدہ سرورق سے مزین ہے۔
nn

Share this: