مقید‘ بروزن ’رسید‘

Print Friendly, PDF & Email

بلاول زرداری کی تو مجبوری ہے کہ اردو اور سندھی ان کی مادری زبان نہیں، کیونکہ محترمہ بے نظیر کو سندھی بھی نہیں آتی تھی۔ بلاول کو رومن اردو میں تقریر لکھ کر دی جاتی ہے۔ لیکن جنہیں اہلِ زبان ہونے کا دعویٰ ہے، وہ بھی تو اردو کو ذبح کررہے ہیں۔
خواجہ اظہارالحسن اردو بولنے والوں کے نام پر قائم ایک دھڑے کے خواجگان میں سے ہیں۔ 10 نومبر کو اپنی پریس کانفرنس میں فرما رہے تھے کہ ایم کیو ایم کا نیا مرکز فاروق ستار کے گھر میں قائم ہے اور ستار بھائی کے اہلِ خانہ ایک کمرے میں ’’مقید‘‘ ہیں۔ مقید بروزن مفید، رسید ارشاد فرمایا گیا۔ جب کہ اس پر تشدید ہے اور یہ بروزن ’’مذمت‘‘ ہے۔ ان کی خدمت میں ایک مصرع
میری جبیں مقیّد صحنِ حرم نہیں
ہماری رائے ہے کہ ایسے لوگوں کو تقریر لکھ کر دینے والے اعراب بھی لگایا کریں، ورنہ فاروق ستار بھی ابیض (اب۔ یض) کو ابیض بروزن نفیس پڑھیں گے۔
گزشتہ دنوں چینل ’اب تک‘ پر ایک مذاکرے یا مباحثے کی اینکر پرسن فریحہ ادریس نے اہلِ تشیع کا بالکل صحیح تلفظ کرکے جی خوش کردیا، حالانکہ اسی مجلس میں موجود پڑھے لکھے افراد تشیع بروزن شفیع، رفیع بولتے رہے۔ بہت پڑھے لکھے لوگوں سے بھی اہلِ تشیع کا تلفظ غلط ہی سنا۔ اس میں ’ی‘ پر تشدید ہے (تشی۔یُع) مطلب ہے اپنے آپ کو شیعہ ظاہر کرنا۔ اس کا وزن تبرّع، تبرک وغیرہ ہے۔
فرائیڈے اسپیشل میں ایک اچھا سلسلہ یہ ہے کہ اقبالؒ کے کچھ اشعار دے کر ان میں موجود مشکل الفاظ کے معنی دیے جاتے ہیں۔ اب تو نئی نسل کے لیے پورا اقبال ہی مشکل ہوگیا ہے۔ بہرحال شمارہ نمبر 45 میں جن مشکل الفاظ کے معانی دیے گئے ہیں ان میں ایک لفظ ’عیار‘ محتاجِ وضاحت تھا۔ اقبال کا مصرع ہے
قدرت کے مقاصد کا عیار اس کے ارادے
اقبال نے ایک ترکیب ’’زرِکم عیار‘‘ بھی استعمال کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہمارے بہت سے ساتھی عیّار سے تو واقف ہوں گے، عیار (بغیر تشدید کے) سے نہیں۔ عیار عربی کا لفظ ہے، بفتح اول۔ اس کو آسان الفاظ میں کسوٹی کہہ سکتے ہیں۔ یہ وہ کسوٹی نہیں جو کبھی ٹی وی چینل کا مقبول پروگرام ہوتا تھا۔ عیار کا مطلب ہے کسوٹی پر سونے، چاندی کا کھوٹا، کھرا پن دیکھنا، پرکھنا، سونا تولنے کا کانٹا۔ اس حوالے سے مرزا غالب کا ایک شعر ہے:
سکّہ شہ کا ہوا ہے روشناس
اب عیار آبروئے زر کھلا
برسبیل تذکرہ، عربی میں کسوٹی کو محک بھی کہتے ہیں اور غالب نے ایک شعر میں استعمال کیا ہے۔ رؤف پاریکھ ماہر لسانیات میں شمار ہوتے ہیں، اردو کے حوالے سے ان کی کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ پاریکھ کی پہچان بھی پرکھ سے ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاریکھ وہ لوگ ہیں جن کے اجداد سونے چاندی، ہیرے وغیرہ کی پرکھ کیا کرتے تھے۔
ایک عیّار تشدید کے ساتھ ہے اور یہ بھی عربی سے در آیا ہے۔ داستان امیر حمزہ کا ایک کردار عمروعیّار ہے جو بہت چالاک اور چلتا پرزہ ہے (ویسے یہ ساکن پرزہ کیا ہوتا ہے؟)۔ اس عیّار کا مطلب ہے بہت حرکت کرنے والا، آمدورفت کرنے والا۔ فارسیوں نے اسے چالاک، ہوشیار، مکار، فریبی کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔ داغ دہلوی کا ایک شعر ہے:
مکر جاتے ہو دل لے کے، یہ دلداروں کی باتیں ہیں
تمہاری تو وہ باتیں ہیں جو عیّاروں کی باتیں ہیں
اس حوالے سے مصحفی کی عیّاری دیکھیے:
اس کے کوچے میں اگر مجھ کو پکارے گا رقیب
میں بھی عیّار ہوں، آواز بدل جاؤں گا
یعنی آواز بدلنے کا فن بہت پرانا ہے جسے ’’ممکری‘‘ کہا جاتا ہے۔
اب ایک دلچسپ جملہ جس کی طرف ہمارے لاہوری افتخار نے توجہ دلائی ہے اور جناب مجاہد منصوری کے پورے احترام کے ساتھ کہ وہ ممتاز دانشور، کالم نگار اور صحافت کے استاد ہیں۔ وہ ’آئینِ نو‘ کے عنوان سے اخباری کالم لکھتے ہیں۔ 6 نومبر کو اپنے کالم میں لکھتے ہیں ’’ملک کے انتہائی پیچیدہ حالاتِ حاضرہ کے حوالے سے جو کچھ نوشتۂ دیوار پر لکھا ہے‘‘۔ افتخار مجاز کہتے ہیں کہ ہم نے تو ہمیشہ نوشتۂ دیوار ہی پڑھا ہے۔ کیا اتنا عالم فاضل شخص ایسی غلطی کرسکتا ہے؟ بھائی مجاز غلطی تو کوئی بھی کرسکتا ہے۔ ہوسکتا ہے یہی آئینِ نو ہو۔ اقبالؒ نے کہا تھا
آئینِ نو سے ڈرنا، طرزِ کہن پہ اڑنا
آپ طرز کہن پر اڑے ہوئے ہیں۔ ممکن ہے یہ نئی قسم کی دیوار ہو جس پر نوشتہ کے اوپر بھی کچھ لکھا جاتا ہو۔ محترم مجاہد منصوری غالباً منصورہ کالج ہالا کے پڑھے ہوئے ہیں جہاں سے فارغ ہونے والے منصوری کی نسبت استعمال کرتے ہیں۔ پھر وہ دانشور بھی ہیں اور ایک دانشور کچھ بھی کہہ اور لکھ سکتا ہے۔ ممکن ہے انہیں معلوم نہ ہو کہ ’’نوشتہ‘‘ کا مطلب ہے لکھا ہوا۔ لیکن ہم نے توکتنے ہی لوگوں سے نوشتہ کا تلفظ غلط ہی سنا۔ عموماً اس کا تلفظ بروزن ناشتہ کیا جاتاہے۔ جب کہ یہ ’نوش۔ تہ‘ بروزن فرشتہ ہے۔ ’ن‘ بالفتح اور واؤ بالکسر۔ عام مشاہدہ ہے کہ دیوار پر کچھ لکھا ہو تو کوئی اور آکر اس پر اپنا مطالبہ تحریر کردیتا ہے اور کوئی نیا مضمون بن جاتا ہے۔ ایک جملہ یہ بھی نظر سے گزرا ’’ملکہ حاصل رکھتے ہیں‘‘۔ ہوسکتا ہے ’’حاصل‘‘ کے اضافے سے زیادہ ملکہ ہوجاتا ہو۔ لیکن ملکہ ہی کیوں، بادشاہ یا ملک کیوں نہیں؟ وہ ملکہ جو حاصل ہوتا ہے اس میں پہلے دونوں حروف بالفتح یعنی زبر کے ساتھ ہیں۔ عربی کا لفظ اور مذکر ہے۔ مطلب ہے مہارت یا قوت جو علم و ہنر سے انسان کو حاصل ہوتی ہے۔ ملکہ حاصل ہونا، کمال تجربہ ہونا، مہارت ہونا۔ اور دوسری ملکہ بھی عربی کی ہے مگر مونث ہے۔ اس میں پہلے حرف پر زبر اور دوسرے پر زیر (بالکسر) ہے۔ ملک کی تانیث ہے، بادشاہ کی بیوی، مہال کی سب سے بڑی مکھی جس کا کام صرف انڈے دینا ہے۔
پچھلے شمارے میں عْنصُر کا تلفظ دیا تھا۔ لغت کے مطابق عیاں اور عیال بھی بالکسر اول ہیں یعنی پہلے حرف کے نیچے زیر۔ ہم اب تک ان دونوں الفاظ کو بالفتح یعنی زبر کے ساتھ پڑھتے رہے۔ سوچتے ہیں کہ لغت دیکھنا چھوڑ ہی دیں۔ فارسی میں عیال دار کی جگہ عیال مند استعمال ہوتا ہے۔ ایک عرصے کی مشق کے بعد ان الفاظ کو زیر کرنے میں مزا نہیں آرہا۔
ای میل پر علی گڑھ اردو کلب سے حضرت سلمان غازی بھی شامل ہوگئے ہیں۔ ان کے تبصرے کو اگلے شمارے میں شامل کریں گے۔

Share this: