داغ کی زباں پہ داغ

Print Friendly, PDF & Email

کبھی جسارت کی لوح پر یہ مصرع درج ہوتا تھا :
ہمیں کو جرأتِ اظہار کا سلیقہ ہے
اس پر کئی اعتراضات وارد ہوئے کہ ’ہمیں‘ کی جگہ ’ہم ہی‘ ہونا چاہیے۔ اس طرح مصرع کا وزن تو بگڑتا ہی، لیکن اعتراض کرنے والوں کا زور اس پر تھا کہ ’ہمیں‘ غلط ہے۔ اس پر اساتذہ کے شعروں سے کئی مثالیں بھی دی گئیں جیسے ’’نظریں بھی ہمیں پر، پردہ بھی ہمیں سے‘‘، یا ’’ہمیں جب نہ ہوں گے تو کیا رنگِ محفل‘‘۔ وغیرہ۔
یہ ہمیں یوں یاد آگیا کہ سرکار کی سرپرستی میں شائع ہونے والے رسالے ’اخبار اردو‘ میں ایک مضمون ہے ’’اردو کو دفتری زبان کیوں بنایا جائے؟‘‘ اس میں مضمون نگار نے اپنے طور پر داغ دہلوی کے مشہور شعر کی اصلاح کردی ہے کہ:
اردو ہے جس کا نام ہم ہی جانتے ہیں داغؔ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
غنیمت ہے کہ داغ دہلوی دنیا سے اٹھ گئے ورنہ ’ہمیں‘ کی جگہ ’ہم ہی‘ لکھنے پر نجانے کیا کر بیٹھتے۔ مضمون نگار کو شاعری اور اوزان سے کوئی شغف ہے یا ہمارے جیسے ہیں، ورنہ ’’ہم ہی‘‘ سے تو مصرع بے وزن ہوجاتا ہے۔ ’ہم ہی‘ میں چار حروف ہیں، جب کہ ’ہمیں‘ میں تین ہیں، نون غنہ شمار نہیں کیا جاتا۔
اسلام آباد سے شائع ہونے والا ’اخبار اردو‘ ادارہ فروغِ قومی زبان کے تحت شائع ہوتا ہے جو پہلے مقتدرہ قومی زبان کہلاتا تھا۔ یہ ’’قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن‘‘ کی نگرانی میں قومی زبان کو فروغ دے رہا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ’’ڈویژن‘‘ کا بھی اردو ترجمہ کرلیا جاتا، مثلاً شعبہ یا ادارہ۔ اس سے رسالے کا دبدبہ کم نہ ہوتا۔ اس کا دبدبہ تو صحیح اردو لکھنے یا اغلاط سے گریز کرنے سے قائم ہوسکتا ہے۔ یہ دیکھ کر اچھا لگا کہ مندرجات کے صفحے پر ’’پتا‘‘ کا صحیح املا دیا گیا ہے، لیکن اسی صفحے (صفحہ اوّل) پر ضروری اطلاع کے ضمن میں یہ ’’پتہ‘‘ ہوگیا ہے۔ دونوں میں کون سا صحیح ہے؟ شمارہ ستمبر، اکتوبر 2016ء میں صفحہ 37 پر کرن داؤد بٹ کی غزل ہے جس کا پہلا مصرع ہے
کوئی موسم صدا نہیں رہتا
یہ خاتون اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو خواتین یونیورسٹی کوئٹہ ہیں۔ چنانچہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انہیں ’سدا‘ اور ’صدا‘ میں فرق معلوم نہیں ہوگا۔ رسالے کے نامور مدیروں کو توجہ دینی چاہیے تھی۔ رسالے کے مرتبین کو تین مضامین ’’ڈاکٹر فرمان فتح پوری سے مکالمہ‘‘، ’’عبداللہ جان جمالدینی کی ادبی خدمات‘‘ اور ’’نعت کی نودریافت دنیا‘‘ اتنے پسند آئے کہ دو دو بار لگا دیے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسالہ سرکاری ادارے کے تحت شائع ہوتا ہے۔ ہم فہرست میں دیے گئے مضامین ڈھونڈتے ہی رہ گئے۔ صفحہ 33 پر میر تقی میرؔ کا ایک شعر دیا ہے:
کہتے نہ تھے میر مت کڑھا کر
دل ہو نہ گیا گداز تیرا
میرؔ کے دیوان میں دوسرے مصرع میں ’نہ‘ کی جگہ ’نا‘ ہے اور یہ اردو روزمرہ کے مطابق ہے۔
ان باتوں کی نشاندہی اس لیے کردی ہے کہ یہ ادارہ فروغِ قومی زبان کا رسالہ ہے اور اس کا نام ’اخبار اردو‘ ہے۔ کچھ اور نام رکھ لیں تو ہم قطعاً توجہ نہیں دیں گے۔
محترم مفتی منیب الرحمن ایک بڑے عالم ہیں۔ گزشتہ دنوں ان کے ایک مضمون کی پہلی سطر ہے ’’جدید میڈیکل سائنس کی ارتقا کا عمل جاری ہے‘‘۔ ان کی تحریر زبان و بیان کے اعتبار سے سند ہوتی ہے۔ لیکن ’’ارتقا‘‘ مونث نہیں مذکر ہے۔ یہ عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے اوپر چڑھنا۔ یہ غالباً کمپوزنگ کا سہو ہے۔
پچھلے شمارے میں ایک نئے قاری جناب سلمان غازی کا ذکر ہوا تھا جن کا تعلق غالباً علی گڑھ اردو گروپ سے ہے۔ انہوں نے ’مشکور‘ کی بحث کو آگے بڑھایا ہے۔ لکھتے ہیں کہ ’’جب ہم اردو میں درآمد شدہ عربی یا فارسی کے الفاظ کو انہی زبانوں کے الفاظ سمجھتے ہیں جہاں سے وہ آئے ہیں تو مسئلہ پیش آتا ہے۔ اب ان کو اردو کے الفاظ سمجھنا چاہیے جو اصل کے لحاظ سے عربی، فارسی یا انگریزی سے ماخوذ ہیں۔ یہ میری رائے نہیں بلکہ مولانا حالی کی رائے ہے (مقدمہ شعر و شاعری)، اس لیے ایسے الفاظ اب اردو کے ہوگئے اور انہی معنوں میں استعمال ہوں گے جو انہیں اہلِ علم بلکہ اہلِ زبان نے دیے ہیں۔ پھر مولانا ماہرالقادری ہی کیوں، مولانا شبلی نعمانی جیسے جید اہلِ علم اور اہلِ زبان ہی کی سند کیوں نہ پیش کی جائے۔ ان کا ایک شعر ہے:
آپ کے لطف و کرم سے مجھے انکار نہیں
حلقہ در گوش ہوں، ممنون ہوں، مشکور ہوں میں
مولانا حالی کا تعلق دہلی مکتبِ فکر سے ہے اور مولانا شبلی کا اودھ سے۔ اس لیے دونوں طرف کے لوگوں کو اب لفظ مشکور پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ لغات اہلِ زبان بناتے ہیں جس میں غلطی کا امکان ہے، بلکہ اردو لغات میں تو بے شمار غلطیاں ملیں گی، کیونکہ آج تک ان پر نظرثانی کی نوبت نہیں آئی۔ اس لیے جن الفاظ کا اہلِ زبان نے کثرت سے استعمال کیا ہے ان کے لیے لغت دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں‘‘۔
سلمان غازی صاحب تو خود بڑے اہلِ علم ہیں۔ ان کا ایک پرانا مضمون ’’اردو ہے جس کا نام‘‘ ہمارے سامنے ہے۔ اس سے بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
لوگ ہمیں پتا نہیں کیا سمجھ بیٹھے ہیں۔ جس طرح اخبارات و رسائل میں دینی مسائل پر فتویٰ طلب کیا جاتا ہے، اسی طرح ہم سے مشکل الفاظ کے معانی دریافت کرنے لگے ہیں۔ لاہور سے ایک صاحب نے پوچھا ہے کہ ہلاک اور جاں بحق میں کیا فرق ہے؟ ان میں معانی کا تو کوئی فرق نہیں، بس استعمال میں فرق کیا جاتا ہے۔ جو شخص ہلاک ہوتا ہے اس کی جان بھی حق کی طرف ہی جاتی ہے۔ لیکن مسلمان کے لیے عموماً جاں بحق استعمال کیا جاتا ہے۔ ناگہانی موت کے لیے بھی ہلاک استعمال ہوتا ہے۔ جیسے حادثے میں اتنے ہلاک ہوگئے۔ فلاں شخص ڈوب کر ہلاک ہوگیا، وغیرہ وغیرہ۔ جاں بحق کا مطلب ہے جان حق کی طرف گئی۔ ہلاک بھی عربی کا لفظ ہے مطلب ہے نیستی، نیست ہونا، مرجانا۔ فارسیوں نے قتل کرنا، تلف کرنا، قتل ہونا اور مجازاً مشتاق، آرزومند کے معانی میں استعمال کیا ہے۔ علامہ اقبال کا مصرع ہے
میں قتیل شیوہ آزری، تو ہلاک جادوے سامری
اور آرزومند، مشتاق کے معنوں میں غالب کا شعر ہے:
مشہدِ عاشق سے کوسوں تک جو اگتی ہے حنا
کس قدر یارب ہلاک حسرتِ پابوس ہے
ہلاک کنایتہً مضمحل، تھکا ہوا کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے، مثلاً
دل جب اس کا بہت ہلاک ہوا
تب گریبانِ صبح چاک ہوا
بھارت کے اردو اخبارات نے ہلاک سے مہلوک بنایا ہے، یعنی ہلاک ہونے والا۔ بہت مناسب ہے۔ لیکن پاکستان میں یہ لفظ استعمال نہیں ہورہا۔ اس میں کوئی حرج تو نہیں۔

Share this: