انتخاب

Print Friendly, PDF & Email

129ن
بیاء علیہم السلام کا مشن
اسلام کے متعلق یہ بات تو آپ مجملاً جانتے ہی ہیں کہ یہ تمام انبیاء علیہم السلام کا مشن ہے۔ یہ صرف محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن نہیں ہے، بلکہ انسانی تاریخ کے قدیم ترین دور سے جتنے انبیاء بھی خدا کی طرف سے آئے ہیں، ان سب کا یہی مشن تھا۔ اس کے ساتھ اجمالی طور پر یہ بھی آپ کو معلوم ہے کہ یہ سب نبی ایک خدا کی خدائی منوانے اور اسی کی عبادت کرانے آئے تھے۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ اس اجمال کا پردہ اٹھاکر ذرا آپ گہرائی میں اتریں۔ سب کچھ اسی پردے کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ تجسس کی نگاہ ڈال کر اچھی طرح دیکھیے کہ ایک خدا کی خدائی منوانے سے مقصد کیا تھا اور صرف اسی کی عبادت کرانے کا مطلب کیا تھا؟ اور آخر میں ایسی کون سی بات تھی کہ جہاں کسی اللہ کے بندے نے اعبدواللّہ مالکم من الٰہٍ غیرہ(اللہ کی بندگی کرو‘اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے) (الاعراف 65:) کا اعلان کیا اور ساری طاغوتی طاقتیں جھاڑ کا کانٹا بن کر اس کو چمٹ گئیں؟ اگر بات صرف اتنی ہی تھی جتنی آج کل سمجھی جاتی ہے کہ خدائے واحد کے سامنے سجدہ کرلو اور پھر باہر نکل کر حکومتِ وقت (جو بھی وقت کی حکومت ہو) کی وفاداری اور اطاعت میں لگ جاؤ تو کس کا سر پھرا تھا کہ اتنی سی بات کے لیے خوامخواہ اپنی وفادار رعایا کی مذہبی آزادی میں مداخلت کرتا؟
آئیے ہم تحقیق کرکے دیکھیں کہ خدا کے بارے میں انبیاء علیہم السلام کا اور دنیا کی دوسری طاقتوں کا اصل جھگڑا کس بات پر تھا؟
قرآن میں ایک جگہ نہیں، بکثرت مقامات پر یہ بات صاف کردی گئی ہے کہ کفار و مشرکین، جن سے انبیاؑ کی لڑائی تھی، اللہ کی ہستی کے منکر نہ تھے، ان سب کو تسلیم تھا کہ اللہ ہے اور وہی زمین و آسمان کا خالق اور خود ان کفار ومشرکین کا خالق بھی ہے۔ کائنات کا سارا انتظام اسی کے اشارے سے ہورہا ہے، وہی پانی برساتا ہے، وہی ہواؤں کو گردش دیتا ہے، اسی کے ہاتھ میں سورج اور چاند اور زمین سب کچھ ہیں:
(ترجمہ) ’’ان سے پوچھو کہ زمین اور جو کچھ زمین میں ہے، وہ کس کا ہے، بتاؤ اگر تم جانتے ہو؟ وہ کہیں گے اللہ کا ہے۔ کہو پھر تم غور نہیں کرتے؟ ان سے پوچھو، ساتوں آسمانوں کا رب اور عرشِ عظیم کا رب کون ہے؟ کہیں گے اللہ۔ کہو پھر تم اس سے ڈرتے نہیں؟ ان سے پوچھو، وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار ہے اور وہ سب کو پناہ دیتا ہے مگر کوئی اس کے مقابلے میں کسی کو پناہ نہیں دے سکتا؟ بتاؤ اگر تم جانتے ہو؟ وہ کہیں گے اللہ۔ کہو پھر تم کس دھوکے میں ڈال دیے گئے ہو؟‘‘ (المومنون:89-84)
’’اگر تم ان سے پوچھو کہ کس نے آسمانوں اور زمین کوپیدا کیا ہے؟ اور کس نے سورج اور چاند کو تابع فرمان بنا رکھا ہے؟ وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔ پھر یہ آخر کدھر بھٹکائے جارہے ہیں؟ ۔۔۔ اور اگر تم ان سے پوچھو کہ کس نے آسمان سے پانی اتارا اور کس نے مَری ہوئی زمین کو روئیدگی بخشی؟ وہ ضرور کہیں گے اللہ نے‘‘۔ (العنکبوت:63-61)
’’اور اگر تم ان سے پوچھو کہ تم کو کس نے پیدا کیا ہے؟ وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔ پھر آخر یہ کدھر بھٹکائے جارہے ہیں؟‘‘ (الزخرف:87)
ان آیات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ کے ہونے میں اور اس کے خالق ہونے اور مالکِ ارض و سما ہونے میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ لوگ ان باتوں کو خود ہی مانتے تھے۔ لہٰذا ظاہر ہے انہی باتوں کو منوانے کے لیے تو انبیاؑ کے آنے کی ضرورت تھی ہی نہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ انبیاؑ کی آمد کس لیے تھی اور جھگڑا کس چیز کا تھا؟
الٰہ کے معنی
الٰہ کے معنی آپ سب جانتے ہیں کہ معبود کے ہیں، مگر معاف کیجیے گا معبود کے معنی آپ بھول گئے ہیں۔ معبود کا مادہ عبد ہے، عبد بندے اور غلام کو کہتے ہیں۔ عبادت کے معنی محض پوجا کے نہیں ہیں، بلکہ بندہ اور غلام جو زندگی غلامی اور بندگی کی حالت میں بسر کرتا ہے، وہ پوری کی پوری سراسر عبادت ہے۔ خدمت کے لیے کھڑا ہونا، احترام میں ہاتھ باندھنا، اعترافِ بندگی میں سر جھکانا، جذبۂ وفاداری سے سرشار ہونا، فرماں برداری میں دوڑ دھوپ اور سعی و جہد کرنا، جس کام کا اشارہ ہو، اسے بجا لانا، جو کچھ آقا طلب کرے، اسے پیش کردینا، اس کی طاقت و جبروت کے آگے ذلت اور عاجزی اختیار کرنا، جو قانون وہ بنائے اس کی اطاعت کرنا، جس کے خلاف وہ حکم دے اس پر چڑھ دوڑنا، جہاں اس کا فرمان ہو سر تک کٹوا دینا۔۔۔ یہ عبادت کا اصل مفہوم ہے اور آدمی کا معبود حقیقت میں وہی ہے جس کی عبادت وہ اس طرح کرتا ہے۔
رب کا مفہوم
اور ’’رب‘‘ کا مفہوم کیا ہے؟ عربی زبان میں رب کے اصلی معنی پرورش کرنے والے کے ہیں، اور چونکہ دنیا میں پرورش کرنے والے ہی کی اطاعت و فرماں برداری کی جاتی ہے، لہٰذا رب کے معنی مالک اور آقا کے بھی ہوئے، چنانچہ عربی محاورے میں مال کے مالک کو رب المال اور صاحبِ خانہ کو رب الدار کہتے ہیں۔ آدمی جس کو اپنا رازق اور مربی سمجھے، جس سے نوازش اور سرفرازی کی امید رکھے، جس سے عزت اور ترقی اور امن کا متوقع ہو، جس کی نگاہِ لطف کے پھر جانے سے اپنی زندگی برباد ہوجانے کا خوف کرے، جس کو اپنا آقا اور مالک قرار دے اور جس کی فرماں برداری اور اطاعت کرے، وہی اس کا رب ہے۔
ان دونوں لفظوں کے معنی پر نگاہ رکھیے اور پھر غور سے دیکھیے، انسان کے مقابلے میں یہ دعویٰ لے کر کون کھڑا ہوسکتا ہے کہ میں تیرا الٰہ ہوں اور میں تیرا رب ہوں، میری بندگی و عبادت کر؟ کیا درخت، پتھر، دریا، جانور، سورج، چاند، تارے کسی میں بھی یہ یارا ہے کہ وہ انسان کے سامنے آکر یہ دعویٰ پیش کرسکے؟ نہیں، ہرگز نہیں! وہ صرف انسان ہی ہے جو انسان کے مقابلے میں خدائی کا دعویٰ لے کر اٹھتا ہے اور اٹھ سکتا ہے۔ خدائی کی ہوس انسان ہی کے سر میں سما سکتی ہے۔ انسان ہی کی، حد سے بڑھی ہوئی خواہشِ اقتدار یا خواہشِ انتفاع اسے اس بات پر ابھارتی ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کا خدا بنے، ان سے اپنی بندگی کرائے، ان کے سر اپنے آگے جھکوائے، ان پر اپنا حکم چلائے، ان کو اپنی خواہشات کے حصول کا آلہ بنائے۔ یہ خدا بننے کی لذت ایسی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی لذیذ چیز انسان آج تک دریافت نہیں کرسکا ہے۔ جس کو کچھ طاقت یا دولت، یا چالاکی یا ہوشیاری یا کسی نوع کا کچھ زور حاصل ہے، وہ یہی چاہتا ہے کہ اپنے فطری اور جائز حدود سے آگے بڑھے، پھیل جائے اور آس پاس کے انسانوں پر جو اس کے مقابلے میں ضعیف یا مفلس یا بے وقوف یا کسی حیثیت سے بھی کمزور ہوں، اپنی خدائی کا سکہ جما دے۔
اس قسم کی ہوسِ خداوندی رکھنے والے لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں اور دو مختلف راستے اختیار کرتے ہیں۔
ایک قسم اُن لوگوں کی ہے جن میں زیادہ جرأت ہوتی ہے، یا جن کے پاس خدائی کے ٹھاٹھ جمانے کے لیے کافی ذرائع ہوتے ہیں، وہ براہِ راست اپنی خدائی کا دعویٰ پیش کردیتے ہیں۔ مثلاً ایک وہ فرعون تھا جس نے اپنی بادشاہی اور اپنے لشکروں کے بل بوتے پر مصر کے باشندوں سے کہہ دیا کہ انا ربکم الاعلیٰ (النازعات:24) ’’میں تمہارا سب سے اونچا رب ہوں‘‘ اور ما علمت لکم من الٰہٍ غیری (القصص:38) ’’میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا اور بھی کوئی الٰہ ہے‘‘۔ جب حضرت موسیٰؑ نے اُس کے سامنے اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ پیش کیا اور اس سے کہا کہ تُو خود بھی الٰہ العالمین کی بندگی اختیار کر، تو اس نے کہا کہ میں تم کو جیل بھیج دینے کی قدرت رکھتا ہوں لہٰذا تم مجھ کو الٰہ تسلیم کرو۔ اسی طرح ایک وہ بادشاہ تھا جس سے حضرت ابراہیمؑ کی بحث ہوئی تھی، قرآن میں اس کا ذکر جن الفاظ کے ساتھ آیا ہے، انہیں ذرا غور سے پڑھیے:
’’تُو نے نہیں دیکھا اس شخص کو جس نے ابراہیمؑ سے حجت کی، اس بارے میں کہ ابراہیمؑ کا رب کون ہے، اور یہ بحث اُس نے اس لیے کی کہ اللہ نے اس کو حکومت دے رکھی تھی۔ جب ابراہیم ؑ نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جس کے ہاتھ میں زندگی اور موت ہے تو اس نے جواب دیا کہ زندگی اور موت میرے ہاتھ میں ہے۔ ابراہیم ؑ نے کہا: اچھا، اللہ تو سورج کو مشرق کی طرف سے لاتا ہے، تُو ذرا مغرب کی طرف سے نکال لا۔ یہ کافر ہکا بکا رہ گیا‘‘۔ (البقرہ:258)
غور کیجیے! وہ کافر ہکا بکا کیوں رہ گیا؟ اس لیے کہ وہ اللہ کے وجود کا منکر نہ تھا۔ وہ اس بات کا بھی قائل تھا کہ کائنات کا فرماں روا اللہ ہی ہے۔ سورج کو وہی نکالتا اور وہی غروب کرتا ہے۔ جھگڑا اس بات میں نہ تھا کہ کائنات کا مالک کون ہے، بلکہ اس بات میں تھا کہ انسانوں کا اور خصوصاً سرزمینِ عراق کے باشندوں کا مالک کون ہے۔ وہ اللہ ہونے کا دعویٰ نہیں رکھتا تھا بلکہ اس بات کا دعویٰ رکھتا تھا کہ سلطنتِ عراق کے باشندوں کا رب میں ہوں۔ اور یہ دعویٰ اس بنا پر تھا کہ حکومت اُس کے ہاتھ میں تھی، لوگوں کی جانوں پر وہ قابض و متصرف تھا، اپنے آپ میں یہ قدرت پاتا تھا کہ جسے چاہے پھانسی پر لٹکا دے اور جس کی چاہے جان بخشی کردے۔ یہ سمجھتا تھا کہ میری زبان قانون ہے اور میرا حکم ساری رعایا پر چلتا ہے۔ اس لیے حضرت ابراہیمؑ سے اُس کا مطالبہ یہ تھا کہ تم مجھے رب تسلیم کرو، میری بندگی اور عبادت کرو۔ مگر جب حضرت ابراہیمؑ نے کہا کہ میں تو اسی کو رب مانوں گا اور اسی کی بندگی و عبادت بھی کروں گا جو زمین و آسمان کا رب ہے اور جس کی عبادت یہ سورج کررہا ہے تو وہ حیران رہ گیا اور اس لیے حیران رہ گیا کہ ایسے شخص کو کیوں کر قابو میں لاؤں۔
یہ خدائی جس کا دعویٰ فرعون و نمرود نے کیا تھا، کچھ انہی دو آدمیوں تک محدود نہ تھی۔ دنیا میں ہر جگہ فرماں رواؤں کا یہی دعویٰ تھا۔ ایران میں بادشاہ کے لیے خدا اور خداوند کے الفاظ مستعمل تھے اور ان کے سامنے پورے مراسمِ عبودیت بجا لائے جاتے تھے، حالانکہ کوئی ایرانی ان کو خدائے خدائگاں (یعنی اللہ) نہیں سمجھتا تھا اور نہ وہ خود اس کے مدعی تھے۔ اسی طرح ہندوستان میں فرماں روا خاندان اپنا نسب دیوتاؤں سے ملاتے تھے ۔ چنانچہ سورج بنسی اور چندربنسی آج تک مشہور ہیں۔ راجا کو اَن داتا یعنی رازق کہا جاتا تھا اور اس کے سامنے سجدے کیے جاتے تھے، حالانکہ پریشور ہونے کا دعویٰ نہ کسی راجا کو تھا اور نہ پرجا ہی ایسا سمجھتی تھی۔ ایسا ہی حال دنیا کے دوسرے ممالک کا بھی تھا اور آج بھی ہے۔ بعض جگہ فرماں رواؤں کے لیے الٰہ اور رب کے ہم معنی الفاظ اب بھی صریحاً بولے جاتے ہیں۔ مگر جہاں یہ نہیں بولے جاتے وہاں اسپرٹ وہی ہے جو ان الفاظ کے مفہوم میں پوشیدہ ہے۔ اس نوع کے دعواے خداوندی کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ آدمی صاف الفاظ میں اور رب ہونے ہی کا دعویٰ کرے۔ نہیں، وہ سب لوگ جو انسانوں پر اس اقتدار، اس فرماں روائی و حکمرانی، اس آقائی و خداوندی کو قائم کرتے ہیں جسے فرعون اور نمرود نے قائم کیا تھا، دراصل وہ الٰہ اور رب کے معنی و مفہوم کا دعویٰ کرتے ہیں، چاہے الفاظ کا دعویٰ نہ کریں۔ اور وہ سب لوگ جو ان کی اطاعت و بندگی کرتے ہیں، وہ بہرحال ان کے الٰہ و رب ہونے کو تسلیم کرتے ہیں، چاہے زبان سے یہ الفاظ نہ کہیں۔
] مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے خطاب ’’اسلام کا نظریہ سیاسی‘‘ سے اقتباس[

Share this: