آزاد کشمیر: نیلم جہلم اور کوہالہ ہائیڈرل پروجیکٹ کی تباہ کاریاں

Print Friendly, PDF & Email

نیلم جہلم ہائیڈرل پروجیکٹ اپنی وسعت اور اہمیت کے اعتبار سے ملک میں پن بجلی کے چند بڑے منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ پاک چین دوستی اور تعاون کا ایک بڑا ثبوت بھی ہے۔ برسوں سے دونوں ملکوں کے انجینئروں اور محنت کشوں نے باہمی تعاون سے اس منصوبے کی تکمیل کو یقینی بنایا۔

اس منصوبے سے مظفرآباد کا وسیع و عریض رقبہ ہی متاثر نہیں ہوا بلکہ بہت سی انسانی آبادی بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ اسی پر اکتفا نہیں ہوا بلکہ مظفرآباد شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے گزرنے والے دریائے نیلم کے پانی کو سرنگوں میں موڑنے سے خطے کا ماحول اور پینے کے پانی کے لحاظ سے انسانی آبادی بھی متاثر ہورہی ہے۔

ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب شفاف نیلگوں پانی کے حامل دریائے نیلم کا رخ مظفر آباد کے بجائے نوسہری کی سرنگوں کی طرف مڑ جائے گا تو اس سے مظفر آباد کے وسط سے گزرنے والا دریائے نیلم راولپنڈی کے مشہور زمانہ گندے نالے ’نالہ لئی‘ کی شکل اختیار کرجائے گا جس سے علاقے کا درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ جائے گا اور پینے کے صاف پانی کی شدید قلت ہوجائے گی۔

ابھی بھی زیرِ زمین سرنگوں کی وجہ سے بے شمار چشمے خشک ہوگئے ہیں۔ باقی کسر مسلسل خشک سالی اور بارشوں کی کمی نے پوری کردی ہے۔ پانی کی قلت کی وجہ سے لوگ آلودہ اور مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں۔

نیلم جہلم پروجیکٹ کی کوکھ سے جنم لینے والے المیے سے انسان ہی نہیں، چرند وپرند بھی متاثر ہورہے ہیں۔ یہ صدیوں کے فطری دھاروں کا رخ موڑنے کی ہی کوشش ہے۔ فطرت کے اصول کو بدلنا آسان کام نہیں۔ اس کے مضر اثرات سے انسانی آبادیوں کو بچانا بھی ضروری ہوتا ہے۔

نیلم جہلم پروجیکٹ کی ان تباہ کاریوں کا سوال منصوبے کے آغاز سے ہی اُٹھنا شروع ہوگیا تھا، اس لیے اس منصوبے کے مضر اثرات کو کم کرنے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی اور اقدامات بھی نیلم جہلم پروجیکٹ کا حصہ تھے، جس میں دریائے نیلم پر چھوٹی چھوٹی جھیلوں کا قیام، اور پینے کے پانی کا بڑا منصوبہ بھی شامل تھا، اور متاثرین کی مکانیت کے مسئلے کے حل کے لیے کچھ اقدامات شامل تھے۔ اب جبکہ نیلم جہلم پروجیکٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں ہے اور اگلے چند ماہ بعد غیر ملکی ماہرین بھی اپنی مشینری سمیٹ کر واپسی کی راہ لیں گے تو پیچھے مظفرآباد کے درماندہ حال عوام ماحولیاتی تباہی کا سامنا کرنے کے لیے تنہا رہ جائیں گے۔ اس لیے یہ مطالبہ سامنے آرہا ہے کہ حکومتِ آزادکشمیر کو یہ معاملہ وفاق اور وزارتِ پانی و بجلی کے حکام کے سامنے اُٹھانا چاہیے۔

نیلم جہلم پروجیکٹ کے ساتھ اس کے مضر اثرات اور منفی نتائج سے نمٹنے کے لیے تجویز کیے گئے اقدامات پر بھی عمل درآمد لازمی ہے۔ اگر چند ماہ میں اس پر عمل نہ ہوا تو متاثرینِ نیلم جہلم مدتوں تک اپنی قسمت کو روتے اور احتجاج کرتے رہیں گے۔ دوردراز کے لوگ نیلم جہلم کی روشنیوں سے مستفید ہوتے رہیں گے اور اس پروجیکٹ کے فریاد کناں اور احتجاجی متاثرین ’’چراغ تلے اندھیرا‘‘ کی عملی تصویر بن کر رہ جائیں گے۔ ملک کو ترقی کی دوڑ میں پوری طرح شریک رکھنے کے لیے آزادکشمیر کے عوام اور سرزمین نے سود وزیاں سے عاری اور رائلٹی اور دوسرے حساب کتاب سے بے نیاز ہوکر ہمیشہ اپنا دل اور دامن وسیع رکھا ہے۔ 1960ء کے عشرے میں کشمیریوں کی قبروں پر تعمیر ہونے والا منگلا ڈیم اس جذبۂ تعاون کا بہترین شاہکار ہے۔ آج بھی منگلا ڈیم میں تیرتے ہوئے مساجد کے مینار اور پانیوں میں سے جھانکتے قبروں کے کتبے اہلِ کشمیر کے ایثار و قربانی کی کہانی سنا رہے ہیں۔ ترقی اور عروج کے سفر میں قوموں کا یہی جذبہ ان کا زادِ راہ ہوتا ہے۔ اتحاد اور ایثار سے کام لینا ہی قوموں کو عظمت کی منزلوں سے ہمکنار کرتا ہے، مگر یہ بات فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ اس سفر کا ایک اہم سنگِ میل انصاف بھی ہوتا ہے۔ انصاف اور برابری کا اصول اپنائے بغیر ترقی کی منزل دور ہوتی چلی جاتی ہے۔

آج جب پاکستان سی پیک کے گیم چینجر منصوبے کی تکمیل کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس کے لیے توانائی اور راہداری کے بہت سے تقاضوں کا پورا ہونا ضروری ہے تو آزادکشمیر کے عوام ایک بار پھر ماضی کی روایات پر چلتے ہوئے اپنے گھروں، کھیتوں، باغات، قبرستانوں، دریاؤں، پہاڑوں، انسانی زندگی کے لیے ضروری ماحولیات، جنگلی حیات کی قربانی دے رہے ہیں۔ آزادکشمیر کی سرزمین پر پن بجلی کے کئی بڑے منصوبوں پر کام ہورہا ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے ضروری لوازمات پورے کیے جارہے ہیں۔

ایک عمومی شکایت یہ ہے کہ واپڈا اور وزارتِ پانی وبجلی جیسے طاقتور وفاقی اداروں کی طرف سے اس کام میں آزادکشمیر حکومت کو خاطر میں نہیں لایا جارہا۔ کوہالہ ہائیڈل پروجیکٹ کے حوالے سے پہلے تو دبے لفظوں میں شکایات سنائی دیتی تھیں، اب یہ احتجاج اخبارات، کھلے مطالبات اور کانفرنسوں تک پہنچ چکا ہے۔کل یہ احتجاج چوکوں اور سڑکوں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ احتجاج کی ایک چنگاری جو اپنے اندر شعلہ بننے کی صلاحیت رکھتی ہے، کا اندازہ مظفر آباد میں ہائیڈل منصوبوں کی تعمیر سے ماحول پر پڑنے والے مضر اثرات کے حوالے سے منعقدہ ایک گول میز کانفرنس کے بارہ نکاتی اعلامیے سے لگایا جا سکتا ہے جس میں کوہالہ پروجیکٹ اور اس سے منسلک معاملات و مسائل کے حوالے سے کئی اہم مطالبات اور اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ اعلامیے کے مطابق حکومتِ آزاد کشمیر وفاقی اداروں کے ساتھ معاملات طے ہوئے بغیر کوہالہ ہائیڈل پروجیکٹ کی تعمیر کی منظوری نہ دے۔ آزاد کشمیر لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کی دفعہ چار کو ختم کردیا جائے۔ تمام ہائیڈل پروجیکٹ کے معاہدے آزاد کشمیر حکومت سے کیے جائیں۔ آئینِ پاکستان کے تحت آزادکشمیر کے عوام کو یہاں کے وسائل پر حق دیا جائے۔ کوہالہ ہائیڈل پروجیکٹ کی تعمیر سے انسانی، نباتاتی اور حیوانی زندگی پر منڈلانے والے سنگین خطرات کا تدارک کیا جائے۔ انسانی زندگی پر اثرانداز ہونے والی تعمیرات سے گریز کیا جائے اور ہائیڈل منصوبوں پر قومی اسمبلی میں بحث کی جائے۔ خطے کے وسائل پر کشمیر کونسل، واپڈا اور پی آئی بی کے اختیارات ختم کیے جائیں۔

مطالبات کی اس فہرست میں کوئی نکتہ بھی ایسا نہیں جسے ناروا اور ناقابلِ عمل کہا جاسکے۔ یہ اُس متاثرہ علاقے کے عوام کی  اجتماعی دانش کا نچوڑ ہے جو اس وقت ملک کی پن بجلی کی ضرورت کو پورا کرنے میں پیش پیش ہے اور مختلف انداز سے اس کی قیمت چکانے پر بھی آمادہ وتیار ہے۔ سردست تو اس ایثار کا جواب ظالمانہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی صورت میں مل رہا ہے اور آزادکشمیر کے پانیوں کا خودساختہ مالک و مختار ادارہ واپڈا آزادکشمیرکو نادہندہ قرار دے رہا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ترقی اور عروج کے لیے انصاف کا تقاضا پورا کرنا ضروری ٹھیرتا ہے۔ انصاف اور برابری سے انکارکو اس راہ میں اسپیڈ بریکر لگانے کے سوا اور کیا نام دیا جا سکتا ہے! اس رویّے کے حامل وفاقی اداروں واپڈا اور وزارتِ پانی وبجلی کو اپنے کردار کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے، وگرنہ چنگاری کے شعلہ بننے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔

Share this: