(بلاول بھٹو زرداری کی خوش فہمیاں (حامد ریاض ڈوگر

Print Friendly, PDF & Email

پیپلزپارٹی نے لاہور کے اُس وقت کے پوش ترین علاقے گلبرگ میں واقع ڈاکٹر مبشر حسن کی وسیع و عریض کوٹھی میں جنم لیا۔ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے چہیتے اور اُن کی کابینہ کے اہم رکن ذوالفقار علی بھٹو نے جب ایوب خان کے اقتدار کے سورج کو گرہن لگتا محسوس کیا تو کابینہ سے استعفیٰ دے کر اسی ایوب خان کے خلاف محاذ آرائی کا آغاز کردیا، جسے ماضی میں وہ ’’ڈیڈی‘‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ ایوب کابینہ سے علیحدگی کے وقت انہوں نے سوویت یونین میں صدر ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری کے مابین طے پانے والے ’’معاہدۂ تاشقند‘‘ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس معاہدے کے ذریعے 1965ء میں میدانِ جنگ میں جیتی ہوئی بازی ایوب خان نے مذاکرات کی میز پر ہار دی ہے۔ ایوب کابینہ سے الگ ہوتے ہوئے بھٹو نے اعلان کیا کہ وہ بہت جلد معاہدۂ تاشقند سے پردہ اٹھائیں گے، مگر اپنے اس دعوے کو بار بار دہرانے، ایوب خان کی اقتدار سے رخصتی اور خود سال ہا سال تک ایوانِ اقتدار کے مکین رہنے کے باوجود عوام بھٹو کے آخری دم تک تاشقند کے اس راز سے پردہ اٹھنے کے منتظر ہی رہے مگر اس راز کو فاش ہونا تھا نہ ہوا۔ کوئی راز ہوتا تو اس کا انکشاف بھی ہوتا۔
ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب حکومت سے الگ ہونے کے بعد عوامی رابطہ مہم کا آغاز کیا۔ وہ خیبر میل کے ذریعے راولپنڈی سے لاہور پہنچے تو ہر جگہ لوگوں نے ان کی زبردست پذیرائی کی اور عوام کا زبردست ہجوم ہر ریلوے اسٹیشن پر ان کے استقبال کے لیے موجود تھا۔ انہیں عوام کے جذبات سے کھیلنے کا فن آتا تھا۔ چنانچہ وہ ایک کے بعد ایک جذباتی اعلان کرکے لوگوں کو بے وقوف بناتے ہوئے آگے بڑھتے چلے گئے۔ 30 نومبر 1967ء کو بھٹو اور ان کے چند ساتھی گلبرگ میں ڈاکٹر مبشر حسن کی کوٹھی پر جمع ہوئے اور پیپلز پارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت کی تشکیل کا اعلان کیا۔ اس جماعت کا منشور متضاد نظریات کا ملغوبہ تھا ’’اسلام ہمارا دین، سوشلزم ہماری معیشت، جمہوریت ہماری سیاست اور طاقت کا سرچشمہ عوام‘‘۔۔۔ پارٹی نے ’’روٹی، کپڑا اور مکان۔۔۔ مانگ رہا ہے ہر انسان‘‘ کا نعرہ لگایا اور سیاسی منظر پر چھا گئی۔ 1970ء کے عام انتخابات میں مغربی پاکستان، خصوصاً پنجاب اور سندھ میں بھاری کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہی، مگر مشرقی پاکستان کے بڑا صوبہ ہونے اور وہاں عوامی لیگ کی اکثریت زیادہ بھاری ہونے کے باعث وفاق میں اقتدار تک پہنچنا مشکل دیکھ کر بھٹو نے مشرقی اور مغربی پاکستان کے منتخب نمائندوں کو باہم متصادم کردیا، اور پھر جب اُس وقت کے فوجی حکمران یحییٰ خان نے ڈھاکا میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا تو بھٹو نے واضح طور پر ’’اِدھر ہم۔۔۔ اُدھر تم‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے دھمکی دی کہ مغربی پاکستان کا جو رکن قومی اسمبلی ڈھاکا جائے گا اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔ اس محاذ آرائی کا نتیجہ واضح تھا۔ چنانچہ مکتی باہنی کی بغاوت، قتل و غارت، بھارتی فوج کی جارحیت اور بھٹو کی سیاست کے باعث پاکستان دولخت ہوگیا۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا اور بچے کھچے پاکستان میں مسٹر بھٹو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر، صدر اور پھر وزیر اعظم بن گئے۔ چھ سال تک جمہوریت کے نام پر آمریت مسلط رہی۔ ان چھ برسوں میں ایک دن کے لیے بھی ملک سے ’’ہنگامی حالت‘‘ کا خاتمہ نہ ہوسکا۔ مخالفین کو ’’فکس اپ‘‘ کرنے کے لیے جیلوں میں اذیتیں دی گئیں اور قتل تک کروانے سے گریز نہیں کیا گیا۔ اپنے ہی ساتھیوں میں سے کسی سے اگر کبھی کسی حکم سے سرتابی ہوگئی تو اسے نشانِ عبرت بنا دیا گیا، جس کی بہترین مثال جلال الدین عبدالرحیم (جے اے رحیم) ہیں جو بھٹو کے دستِ راست اور قریب ترین ساتھی تھے، انہوں نے پارٹی کا منشور اور جھنڈا تیار کیا، مگر جرمِ بے گناہی میں اس دانشور سیاستدان کی سیکیورٹی فورس سے ٹھکائی کرا دی گئی۔
پیپلز پارٹی بھٹو کے چھ سال کے بعد، 1988ء میں جنرل ضیاء الحق کی طیارے کے حادثے میں شہادت کے بعد دوبارہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں، اور پھر لیاقت باغ میں ان کے قتل کے بعد 2008ء سے 2013ء تک آصف علی زرداری کی قیادت میں طویل عرصہ تک پاکستان میں برسراقتدار رہی۔ ہمیشہ اس نے غریب کا نعرہ لگایا مگر پاکستان کے غریب کے حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔ انہیں روٹی ملی،کپڑا اور نہ مکان۔۔۔ بلکہ ان کے پاس جو کچھ پہلے تھا وہ بھی چھین لیا گیا اور حکمران خاندان کے اندرون اور بیرون ملک سرمائے اور محلات میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
2013ء کے عام انتخابات ہوئے تو سندھ کے سوا تمام صوبوں میں پیپلز پارٹی کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔ اور سیاسی مبصرین کے مطابق غریبوں کے نام پر سیاست کرنے والی سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی یہ پارٹی گور کنارے پہنچ گئی، اور اس کے مدارالمہام سابق صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری کو اپنے ہی کارناموں کے باعث جلا وطنی اختیار کرکے بیرون ملک بھاگ جانے پر مجبور ہوئے۔۔۔ اور دم توڑتی پارٹی میں جان ڈالنے کے لیے اپنے فرزندِ ارجمند بلاول۔۔۔ بھٹو ۔۔۔ زرداری کو پاکستان بھیج دیا، جنہوں نے پہلے بکھری بکھری کوششیں کرنے کے بعد اب اپنے نانا کی طرح لاہور کے مہنگے ترین علاقے بحریہ ٹاؤن میں اربوں کی لاگت سے تعمیر ہونے والے بلاول ہاؤس کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا ہے۔ یہ الگ کہانی ہے کہ اربوں روپے مالیت کا یہ ’’بلاول ہاؤس‘‘ کس نے اور کیوں زرداری خاندان کو تحفے میں پیش کردیا۔
بلاول نے پارٹی کے 50 ویں یوم تاسیس پر 30 نومبر سے 6 دسمبر تک مسلسل ایک ہفتے تک بھرپور سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں اور خود گھر سے نکلنے کے بجائے ایک ایک دن کے لیے بلوچستان، سندھ، خیبر، جنوبی وسطی پنجاب، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتسان کے کارکنوں کو بلاول ہاؤس، لاہور بلا کر انہیں اپنی پُرجوش تقاریر سنائیں اور اپنے چار مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کی صورت میں 27 دسمبر کے بعد سے حکومت کے خلاف ’’دمادم مست قلندر‘‘ کا اعلان کیا۔ ان کے یہ چار مطالبات بھی خاصے دلچسپ ہیں۔ اول یہ کہ پارلیمنٹ سے پیپلزپارٹی کا پاناما بل منظور کرایا جائے۔ دوئم پارلیمنٹ کی نیشنل سیکورٹی کونسل کو بحال کیا جائے۔ سوئم چین پاکستان اقتصادی راہداری کے حوالے سے کل جماعتی کانفرنس کی قراردادوں پر عملدرآمد کیا جائے۔ اور چہارم یہ کہ وزیراعظم اپنی کابینہ میں وزیر خارجہ کا اضافہ کریں۔
(باقی صفحہ 41پر)
سیاسی فہم و فراست رکھنے والے دانشوروں کے نزدیک ممکن ہے کہ ان مطالبات کی کوئی اہمیت ہو مگر یہ چاروں مطالبات عام آدمی کے تو سر کے اوپر سے گزر گئے ہیں اور کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ عوام کو درپیش غربت، بھوک، بے روزگاری، مہنگائی اور لوڈشیڈنگ جیسے گمبھیر مسائل سے مسٹر بلاول کے ان مطالبات کا کیا تعلق ہے! اور ان کی منظوری سے عوام کو کیا ریلیف ملنے کی امید کی جا سکتی ہے! شریف خاندان کی وفاقی حکومت سے بھی ان میں سے کسی بھی مطالبے کو تسلیم کیے جانے کا کوئی امکان دور دور تک دکھائی نہیں دیتا، چنانچہ بلاول نے پہلے تو پارٹی کارکنوں کے ان اجتماعات میں معلوم نہیں کیوں وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو ہدفِ تنقید بنایا اور ’’گو نثار گو‘‘ کے نعرے لگواتے رہے، مگر بعد میں شاید مشیران میں سے کسی نے سمجھایا تو 6 دسمبر کے آخری اجتماع میں انہوں نے آئندہ چھ ماہ کے لیے اپنا ایجنڈا بیان کرتے ہوئے پہلے تین ماہ ’’گونواز گو‘‘ اور پھر تین ماہ انتخابی مہم چلانے کا اعلان کردیا، اس کے ساتھ ہی انہوں نے 2018ء کے بعد نوازشریف کے جیل میں بند ہونے اور اپنے وزیراعظم بننے کی خوش خبری بھی قوم کو سنا دی تاکہ جو کسر پیپلز پارٹی کے گزشتہ چار ادوار میں رہ گئی ہے وہ بھی پوری ہو جائے۔
جہاں تک بلاول کے وزیراعظم بننے کے دعوے کی قانونی حیثیت کا تعلق ہے، آئینی ماہرین اس سے متعلق متضاد آراء کا اظہار کررہے ہیں۔ ایک گروہ کا کہنا ہے کہ بلاول اگر رکن قومی اسمبلی منتخب ہو بھی جائیں اور ان کی پارٹی کو بھی ایوان میں مطلوبہ اکثریت حاصل ہوجائے تب بھی وہ وزیراعظم نہیں بن سکتے، کیونکہ آئین کی رو سے وزیراعظم کا حلف اٹھانے کے لیے عمر کی کم از کم حد 35 سال ہے اور بلاول ابھی بمشکل 28 برس کے ہوئے ہیں۔ اس لیے ان کی یہ خواہش تو ہوسکتی ہے مگر عملاً ایسا ہونا ابھی ممکن نہیں۔۔۔ ہاں اگر وہ دو تہائی اکثریت حاصل کرلیں اور ان کا وزیراعظم بننا ملک و قوم کے لیے ناگزیر ہو تو آئینی ترمیم کے ذریعے اس کا راستہ نکالا جا سکتا ہے۔ تاہم پارٹی کے جیالے، سابق گورنر پنجاب اور ایان علی کے موجودہ وکیل جناب عبداللطیف کھوسہ کی رائے اس سے مختلف ہے، ان کے خیال میں آئین بلاول کے وزیراعظم بننے میں قطعی رکاوٹ نہیں کیونکہ 35 سال کی عمر کی حد صرف سینیٹ کی رکنیت اور صدر مملکت کے عہدے کے لیے ہے، وزیراعظم کے لیے یہ شرط نہیں، وزیراعظم ہر وہ شخص بن سکتا ہے جو قومی اسمبلی کا رکن بننے کا اہل ہو، اور قومی اسمبلی کی رکنیت کے لیے عمر کی حد 35 نہیں 25 سال ہے۔
آئینی و قانونی مباحث اپنی جگہ، البتہ زمینی حقائق پر نظر رکھنے والوں کی رائے ہے کہ خیالی پلاؤ پکانا اور فرضی محلات تعمیر کرنا ہر کسی کا حق ہے جس سے بلاول کو بھی روکا نہیں جا سکتا، مگر عمل کی دنیا میں اُن کا وزیراعظم بننا ’’ایں خیال است و محال است و جنوں‘‘ ہنوز دِلّی دوراست ۔۔۔ نہ نومن تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔۔۔ ابھی تو بلاول بھٹو زرداری اگر دم توڑتی پیپلز پارٹی کی سانسیں بحال رکھنے میں کامیاب ہوجائیں تو یہ ان کا بہت بڑا کارنامہ ہوگا۔

Share this: