نواب اکبر بگٹی اور قبائلی سرداروں کے بدلتے موقف

Print Friendly, PDF & Email

(اخوند زادہ جلال نور زئی
نواب اکبر بگٹی) اور قبائلی سرداروں کے بدلتے موقف بلوچستان کے سردار، نواب اور خوانین اپنا سیاسی و قبائلی مؤقف بدلنے میں دیر نہیں کرتے۔ اس کی کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ نواب ثناء اللہ زہری ایک بڑے قبائلی سردار ہیں۔ وہ چیف آف جھالاوان ہیں۔ بلوچ قبائل میں سرداروں اور نوابوں کی عزت و تکریم انتہا درجے کی ہوتی ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب 26 اگست2006ء کو نواب اکبر خان بگٹی کی ہلاکت کا سانحہ پیش آیا، تو اس کے بعد قلات میں بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے بلوچ قبائل کا ایک بہت بڑا جرگہ ہوا جسے ’’گرینڈ بلوچ جرگہ‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس جرگہ میں نواب ثناء اللہ زہری بھی موجود تھے جہاں بالاتفاق کئی فیصلے کیے گئے۔ ان فیصلوں میں ایک فیصلہ ریاست بلوچستان کا پاکستان سے الحاق کا معاہدہ اٹھانا تھا جس کے لیے خان آف قلات میر سلیمان داؤد کو لندن بھیجا گیا تاکہ وہ عالمی عدالتِ انصاف میں پاکستان سے الحاق کے معاہدے کو چیلنج کریں۔ اب شاید ہی کوئی اس مؤقف پر قائم ہو۔ نواب ثناء اللہ زہری کے فکر و نظر میں تو ایسی تبدیلی آچکی ہے جیسے انہوں نے کبھی قومی مزاحمت اور پاکستان سے جبری الحاق کی بات کی ہی نہ ہو۔ نومبر2016ء میں نواب زہری نے ڈیرہ بگٹی کا دورہ کیا۔ وہاں ایک جلسے سے خطاب بھی کیا جس میں بہت ساری باتیں کیں۔ انہوں نے شدت پسند رہنماؤں پر تنقید کے تیر برسائے، ڈیرہ بگٹی کے اندر ترقیاتی منصوبوں اور گیس کی فراہمی کے اعلانات کیے۔ نواب زہری کا کہنا تھا کہ ماضی میں سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں جلسہ تو کیا، سیاسی بات کرنا بھی جرم تھا اور ترقیاتی منصوبے شجرِ ممنوعہ تھے۔ ماضی میں صدر، وزیراعظم اور وزرا اعلیٰ ڈیرہ بگٹی آتے تھے تو جہاز سے اتر کر ڈیرہ بگٹی چلے جاتے (یعنی نواب بگٹی سے ملنے چلے جاتے)۔ ان کو سوئی اور ڈیرہ بگٹی کے عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ نواب زہری کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج پاکستان کی تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ ایک منتخب وزیراعلیٰ (نواب زہری) بگٹی قبیلے سے مخاطب ہورہا ہے۔ گویا نواب ثناء اللہ زہری نے نواب اکبر بگٹی مرحوم کو بھی ہدفِ تنقید بنایا، حالانکہ اس سے قبل ایسی کوئی بات نواب زہری کی جانب سے نہیں کی گئی تھی۔ نواب نوروز خان زرکزئی جنہوں نے1958ء میں حکومت کے خلاف شورش کا آغاز کیا، بادی النظر میں اس مزاحمت پر بھی تنقید کی گئی۔ نواب زہری کا یہ مؤقف ریکارڈ کا حصہ بن چکا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کب تک وہ اپنی اس رائے پر قائم رہتے ہیں؟ نواب اکبر خان بگٹی کے قتل کا مقدمہ بلوچستان ہائی کورٹ میں چل رہا ہے جس میں سابق آمر پرویز مشرف نامزد ہیں۔ پیش ازیں کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی میں قائم عدالت نے جنرل (ر)پرویزمشرف، سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ، سابق صوبائی وزیر داخلہ شعیب احمد نوشیروانی کو بری کردیا۔ اس فیصلے کے خلاف نواب اکبر بگٹی کے صاحبزادے جمیل اکبر بگٹی نے بلوچستان ہائی کورٹ میں اپیل دائر کردی۔ آفتاب شیرپاؤ اور شعیب نوشیروانی برابر پیشیوں پر حاضر ہوتے ہیں۔ عدالت سابق وزیراعظم شوکت عزیز، سابق گورنر بلوچستان اویس احمد غنی اور ڈی سی ڈیرہ بگٹی عبدالصمد لاسی کو اشتہاری قرار دے چکی ہے۔ پرویزمشرف بوجہ سیکورٹی اور بیماری کے عذر کے عدالت میں پیش نہ ہوئے، ان کے وکیل پیش ہوتے رہتے ہیں۔ بلوچستان ہائی کورٹ نے 28 نومبر کو پیشی پر پرویزمشرف کے وکیل اختر شاہ ایڈووکیٹ پر برہمی کا اظہار کیا اور طنزیہ جملے بھی کسے۔ ان کے وکیل نے عدالت کے روبرو میڈیکل سر ٹیفکیٹ پیش کیا کہ پرویزمشرف بیرونِ ملک علاج کی غرض سے گئے ہیں۔ بینچ نے میڈیکل رپورٹ مسترد کردی اور کہا کہ گیارہ سال تک ملک پر حکمرانی کرنے والا پاکستان میں اپنا علاج نہیں کرا سکتا! اور سوال کیا کہ کیا پرویزمشرف نے ایک بھی ایسا اسپتال نہیں بنایا جہاں وہ اپنا علاج کرا سکیں؟ عدالت نے پرویزمشرف کے ایک ملین روپے کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے احکامات دیئے اور انہیں عدالت کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کردی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ پرویزمشرف یہاں آکر تسلیم کریں، بلوچستانی بہت فراخ دل ہیں، معاف کردیں گے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ مرکزی ملزم کو متعدد نوٹس بھجوائے ہیں لیکن وہ پیش نہیں ہوا۔ پرویزمشرف بیماری کا بہانہ بناکر دراصل روپوش ہوچکے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ باہر بیٹھ کر اُن کی ناچ گانے کی ویڈیو جاری ہوتی ہے، آئے روز میڈیا سے باتیں کررہے ہوتے ہیں۔ اس طرزِعمل اور دروغ گوئی پر انہیں خود شرم آنی چاہیے۔ انہوں نے گیارہ سال پاکستان پر غیر آئینی و غیر قانونی حکمرانی کی۔ اس دوران ہر قسم کی زیادتیاں روا رکھیں۔ سیاست دانوں بالخصوص مذہبی رہنماؤں کو مغلظات تک بکتے رہے۔ خود کو ان گیارہ سالوں میں ایسا پیش اور نمایاں کرتے رہے جیسے پاکستان کو کوئی جرأت مند قائد اگر ملا ہے تو وہ صرف پرویزمشرف ہیں۔ دراصل وہ ساری بڑھکیں وردی کے زور پر مارتے رہے۔ ان میں جرأت، غیرت اور پاکستان سے وفا ہوتی تو ملک کے اندر بیٹھ کر سیاست کرتے۔ پرویزمشرف برابر ملکی عدالتوں کا تمسخر اڑا رہے ہیں۔ بلوچستان ہائی کورٹ نے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری تو کردیئے مگر یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ وہ کبھی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔ ان کی پشت پر اب بھی طاقت موجود ہے۔ ان پر آئین کا آرٹیکل 6 بھی نافذ نہیں کیا جا سکا۔ نوازشریف سے توقع تھی کہ ان پر سخت ہاتھ ڈالیں گے، مگر میاں صاحب نے دباؤ میں آکر انہیں ملک سے باہر جانے دیا۔ پرویزمشرف کو تو چھوڑیئے، نواب بگٹی کیس میں آج تک شوکت عزیز، اویس احمد غنی اور عبدالصمد لاسی تک پیش نہیں ہوئے۔ (باقی صفحہ 41پر) البتہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور شعیب احمد نوشیروانی نے عدالتوں کا ہمیشہ احترام کیا۔ یہ لوگ بغیر عذر کے کبھی عدالت سے غیرحاضر نہ ہوئے۔ نواب اکبر خان بگٹی کی میت تابوت میں بند کرکے محض چند افراد نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔ خاندان کا کوئی بھی فرد نہ تھا۔ جنازے کے شرکاء کی تعداد دس بارہ افراد سے زیادہ نہ تھی۔ تابوت کو تالا لگا ہوا تھا۔ ورثاء عدالت سے قبرکشائی کی استدعا بھی کرچکے ہیں۔ غرضیکہ اس مقدمے میں فقط جمیل اکبر خان بگٹی کی دلچسپی دکھائی دے رہی ہے۔ خاندان کے کسی اور فرد کو پرویزمشرف کے خلاف مقدمے کی پیروی کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ یعنی رات گئی بات گئی والا معاملہ دکھائی دے رہا ہے۔ گویا یہ سانحہ بلوچ قائدین کے حافظوں میں بھی محفوظ نہ رہا۔

Share this: