(نئی فوجی قیادت اور نئے چیلنج(سلمان عابد

Print Friendly, PDF & Email

جنرل قمر جاوید باجوہ فوج کے نئے سربراہ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان کی تقرری وزیراعظم نے اپنے اختیارات اور دیگر ساتھیوں کی مشاورت سے کی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کے لیے یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، کیونکہ نئے آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے گزشتہ کئی مہینوں سے مختلف قسم کی قیاس آرائیاں جاری تھیں۔ کسی کا خیال تھا کہ جنرل راحیل شریف کو ہی مدت ملازمت میں توسیع دی جائے گی یا ان کو توسیع دی جانی چاہیے۔ جبکہ اس کے برعکس کچھ لوگ جنرل قمر باجوہ کے مقابلے میں جنرل اشفاق ندیم کو آرمی چیف کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ وزیراعظم نوازشریف کی حکومت کے بارے میں یہی تاثر موجود تھا کہ وہ فوج کے دباؤ میں ہے اور دفاع و ملکی سلامتی سمیت کئی امور میں فوج اور سیاسی حکومت کے درمیان اختلافِ رائے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ اس صورت حال میں فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین فاصلے دیکھ رہے تھے۔ تاثر یہ دیا جارہا تھا کہ نئے آرمی چیف کی تقرری پر حکومت اور فوج ایک دوسرے سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ دراصل جہاں جمہوریت کا عمل بدستور اپنے ارتقائی عمل سے گزر رہا ہو، یا جمہوری عمل بدستور کمزور ہو، وہاں اسٹیبلشمنٹ کی طاقت اہم فریق بن جاتی ہے۔ جب ریاست دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حالت میں ہو تو سیکورٹی کی صورت حال کے تناظر میں فوج کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اگرچہ کسی بھی جمہوری ریاست میں فوج کے سربراہ کی تقرری معمول کی ایک سرگرمی سمجھی جاتی ہے۔ لیکن پاکستان میں سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان باہمی چپقلش اور تناؤ کی وجہ سے دونوں اداروں میں اس اہم نشست پر فوج کے سربراہ کی تقرری کو حد سے زیادہ اہمیت دے دی جاتی ہے۔ اس لیے اگر پاکستان میں فوجی سربراہ کی تقرری پر تناؤ یا بحث و مباحثہ کی کیفیت نظر آئی تو یہ فطری امر تھا۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اِس بار ہمیں فوجی سربراہ کی تقرری کے حوالے سے جو کچھ سننے کو مل رہا تھا، صورت حال اس کے برعکس دیکھنے کو ملی۔ اس کی ایک وجہ فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف خود بھی تھے۔ وہ ایک برس قبل ہی کہہ چکے تھے کہ وہ کسی بھی طور پر اپنی مدت ملازمت میں توسیع کے حامی نہیں اور وقت آنے پر وہ نئے فوجی سربراہ کے لیے جگہ خالی کردیں گے۔ نئے فوجی سربراہ جنرل قمر باجوہ کی تقرری میں بھی ہمیں سیاسی اور عسکری قیادت کے مابین کوئی بڑا سیاسی تناؤ دیکھنے کو نہیں ملا، جو خوش آئند پہلو ہے۔ نئے فوجی سربراہ جنرل قمر باجوہ کی تقرری سے جمہوری عمل کو بھی طاقت ملی ہے۔ کیونکہ ایک طبقہ جو تسلسل کے ساتھ ان خدشات کا اظہار کررہا تھا کہ فوج اپنے سیاسی عزائم رکھتی ہے، غلط ثابت ہوا۔ جنرل راحیل شریف نے اپنے آپ کو سیاسی مہم جوئی سے دور رکھا۔ اب فوج کے نئے سربراہ جنرل قمر باجوہ پر بھی اپنے پیش رو جنرل راحیل شریف کے طرز کا دباؤ ہوگا کہ وہ بھی فوج کو کسی بڑی سیاسی مہم جوئی سے دور رکھ کر یہی تاثر دیں کہ فوج جمہوری عمل کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہے۔ حکومت اور اس کے اتحادیوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو وقتاً فوقتاً اپنی سیاسی مہم جوئی اور بیان بازی کی مدد سے یہ تاثر دیتے تھے کہ فوج حکومت کو دباؤ میں لانا چاہتی ہے۔ حکومت اور اس کے اتحادیوں میں ایک مضبوط طبقہ موجود تھا جو عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنوں کو فوج کی حمایت سے جوڑتا تھا، یہ عمل آصف زرداری کا بھی تھا جو عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنوں سے لے کر کراچی آپریشن تک کو اپنے خلاف فوج کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ سمجھتے تھے۔ آصف علی زرداری نے کئی موقعوں پر فوج کے بارے میں ایسے ریمارکس دیے جو فوج اور ان کے درمیان بداعتمادی کی وجہ بھی بنے۔ اسی طرز کا مظاہرہ ہمیں اسفند یار ولی خان، محمود خان اچکزئی اور الطاف حسین کی صورت میں بھی نظر آیا جو فوج کو بحران کا اصل ذمہ دار قرار دیتے تھے۔ یہاں تک کہ محمود خان اچکزئی افغانستان کے بحران کی ذمہ داری بھی فوج پر ہی ڈالتے تھے۔ اب جبکہ جنرل راحیل شریف چلے گئے ہیں، بظاہر لگتا ہے کہ شاید جو تناؤ جنرل راحیل شریف کے دور میں حکومت کو برداشت کرنا پڑا، وہ نئے آرمی چیف سے نہیں ہوں گا۔ لیکن اس کا انحصار فوجی قیادت سے زیادہ خود حکومتی طرزعمل پر ہے۔ کیونکہ نوازشریف کا مسئلہ یہ ہے کہ جب ان کو لگتا ہے کہ وہ طاقت ور ہوگئے ہیں تو ان کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات خراب ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ ایسے فیصلے کرتے ہیں یا تاثر دیتے ہیں جس کا ردعمل فوج میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ جنرل راحیل شریف کے جانے کے بعد بھی حکومت کے بعض وزرا کا طرزعمل خاصا جارحانہ ہے اوران کو لگتا ہے کہ جنرل راحیل شریف کا جانا ان کی سیاسی طاقت میں اضافے کا سبب بنے گا اور کوئی نیا بحران ان کے لیے مزید پیدا نہیں ہوگا۔
بنیادی طور پر جنرل قمر باجوہ نے ایک ایسے موقع پر فوج کی کمان سنبھالی ہے جب جنرل راحیل شریف ملک کی مقبول ترین شخصیت کے طور پر پہچان رکھتے تھے، ان کی مقبولیت سیاسی قیادت کے مقابلے میں زیادہ تھی۔ خود حکومت کو بھی جنرل راحیل شریف کے جانے کے بعد ایک سیاسی ریلیف ملا ہے۔ حکومت بھی سمجھتی تھی کہ جنرل راحیل شریف اپنی شخصی مقبولیت میں بہت آگے تک گئے ہیں۔ اس لیے حکومت چاہے گی کہ نئے آرمی چیف سیاسی محاذ پر وہ عروج حاصل نہ کرسکیں جو جنرل راحیل شریف کو ملا تھا۔ نئے فوجی سربراہ جنرل قمر باجوہ کی مشکل یہ ہے کہ انہیں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت اور فوج کے کپتان کی حیثیت سے ان تمام اہم امور کو آگے بڑھانا ہے، جو اب تک فوج بطور ادارہ کررہی ہے۔ کیونکہ اب جب بھی نئے فوجی سربراہ کے کاموں کا جائزہ لیا جائے گا تو ان کا مقابلہ جنرل راحیل شریف سے ہی کیا جائے گا۔ سب جانتے ہیں کہ جنرل راحیل شریف اور حکومت کے درمیان سول و عسکری تعلقات کے تناظر میں سب اچھا نہیں تھا۔ اگرچہ حکومت یہی کہتی تھی کہ سب اچھا ہے، لیکن ایک سے زیادہ مرتبہ فوج کو بہت سے امور پر حکومت سے ہٹ کر اپنا مؤقف خود پیش کرنا پڑا۔ فوج کی جانب سے تواتر سے دیئے جانے والے مؤقف کو بہت سے حلقوں میں پسندیدہ نگاہ سے نہیں دیکھا گیا، اس لیے نئے فوجی سربراہ کا سب سے بڑا چیلنج سیاسی وعسکری تعلقات کو مؤثر بنانا ہے۔ بالخصوص ایک ایسے موقع پر جب ہم دہشت گردی کی جنگ سے نمٹ رہے ہیں تو اس معاملے میں فریقین کی ہم آہنگی ضروری ہے۔ اسی طرح جو ہماری علاقائی اور عالمی صورت حال اور خارجہ پالیسی کے مسائل یا چیلنج ہیں ان سے نمٹنا سب سے اہم مسئلہ ہے۔ ایک اخبار کی خبر کی لیکس کے معاملے میں بھی جو تناؤ دیکھنے کو ملا، اس کی شدت بدستور موجود ہے۔ جو لو گ یہ سمجھتے ہیں کہ مسئلہ حل ہوگیا ہے، وہ غلطی پر ہیں۔ اس مسئلہ کی شفاف تحقیقات کا دباؤ نئی فوجی قیادت پر اندر اور باہر سے بدستور رہے گا۔ فوج میں یہ تاثر بھی موجود ہے کہ حکومت اور اس کے بعض اتحادی جان بوجھ کر ملک کے اندر اور باہر فوج کے بارے میں ایسا تاثر دیتے ہیں کہ ہر مسئلہ فوج کا پیدا کردہ ہے، جو مناسب عمل نہیں۔ اس کا فائدہ ہمارے دشمن، بالخصوص بھارت اٹھاتا ہے۔
کراچی کی صورت حال کو پرامن بنانے میں فوج نے واقعی اہم کردار ادا کیا ہے۔ کراچی میں مختلف لوگوں سے بات چیت کا موقع ملا، سب اس وقت کراچی کے امن کو سراہتے ہیں اور اس کا سہرا فوج کے سر ہی باندھتے ہیں۔ کراچی ماضی کے مقابلے میں تبدیل ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود لوگ خوف، دباؤ یا تناؤ میں بھی ہیں۔ ان کو ڈر ہے کہ کہیں یہ امن دوبارہ بدامنی میں تبدیل نہ ہوجائے۔ ان کو لگتا ہے کہ سیاسی قیادتوں کے سیاسی مفادات خود کراچی کی بہتری کے عمل میں رکاوٹ ہیں۔ اس لیے کراچی آپریشن کا جاری رہنا، رینجرز کے اختیارات کو برقرار رکھنا اور بالخصوص کراچی یا سندھ کی سیاسی قیادت کا سیاسی دباؤ سے ہٹ کر کراچی کی بدامنی کے تدارک میں فوج کا ساتھ دینا ہی سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ کیونکہ کراچی یا سندھ کی سیاسی قیادت کراچی آپریشن کے بارے میں پہلے ہی اپنے تحفظات کا برملا اظہار کرتی رہی ہے، اب وہ کیسے آگے بڑھے گی یہ بھی دیکھنا ہوگا۔آصف زرداری اور پیپلز پارٹی چاہے گی کہ سندھ کی صورت حال جو جنرل راحیل شریف نے بنائی ہوئی تھی اس کو تبدیل ہونا چاہیے۔ اس موقع پر اگرچہ ڈی جی رینجرز نے کہا ہے کہ کراچی آپریشن میں کسی بھی طرز کی کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، لیکن پیپلز پارٹی ہر صورت میں صورت حال کو اپنے حق میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم جو اس وقت کئی دھڑوں میں تقسیم ہے وہ بھی سمجھتی ہے کہ اس پر جو مشکلات آئی ہیں اس میں جنرل راحیل کی حکمت کا بڑا کردار ہے۔ وہ بھی نئے آرمی چیف کی مدد سے صورت حال کو اپنے حق میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ اس لیے کراچی ایک بڑا بحران ہے اور اس میں دیکھنا ہوگا کہ جنرل قمر باجوہ کس حد تک اسی پالیسی کو بغیر کسی سمجھوتے کے آگے بڑھاتے ہیں۔
ایسی ہی صورت حال بلوچستان کی بھی ہے۔ فوج کے نئے سربراہ کو بلوچستان میں بھی مقامی سیاسی قیادت کو ساتھ جوڑنا ہوگا اور یہ تاثر دینا ہوگا کہ ان کی ترجیح بھی سیاسی حکومت اور قیادت کو مستحکم کرنا ہے۔ یہ تاثر کہ فوج بلوچستان کے معاملات میں براہِ راست مداخلت کرتی ہے، اس کو ختم کرنا ہوگا۔ اسی طرح سے جنرل راحیل شریف کے دور میں دو امور پر زیادہ کامیابی نہیں مل سکی۔ اول دہشت گردی اور پیسے کی فراہمی کا تعلق، اور دوئم پنجاب کے بیشتر حصوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن پر فوج کو حکومت سے وہ مدد نہ ملنا ، جو وہ چاہتی تھی۔ اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ کرپشن اور دہشت گردی کے درمیان جو گٹھ جوڑ ہے اس کا خاتمہ ہونا چاہیے اور یہ تاثر ختم ہونا چاہیے کہ فوج کے اقدامات ایک صوبے یا کسی گروہ کے خلاف ہیں۔ جنرل راحیل شریف پر ان کے جانے کے بعد یہ تنقید ہورہی ہے کہ وہ پنجاب میں سمجھوتے کی سیاست کا شکار ہوئے ہیں۔ اس لیے دیکھنا ہوگا کہ نئے فوجی سربراہ پنجاب میں کس حد تک آگے بڑھتے ہیں، یا پھر وہ بھی سابقہ جنرل کی طرح خاموشی اختیار کرتے ہیں۔
اگرچہ نئے فوجی سربراہ بھارت کے مقابلے میں دہشت گردی کو بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ یہ بات بجا ہے، لیکن ان کو یہ بات بھی پیش نظر رکھنی ہوگی کہ ملک میں جو دہشت گردی ہے اس کا ایک زاویہ خارجی امر بھی ہے۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت سمیت قوم میں یہ اتفاق موجود ہے کہ بھارت اپنی مداخلت سے ہمیں داخلی طور پر کمزور کررہا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے بھارت کی مہم جوئی بھی ہمیں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ بھارت یہ تاثر دیتا ہے کہ پاکستان سے تعلقات کی راہ میں اصل رکاوٹ پاکستان کی فوجی قیادت ہے۔ اس لیے اس تناظر میں ہماری سیاسی و عسکری قیادتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت اور افغانستان کے بارے میں مشترکہ پالیسی بنائیں جو واضح طور پر نظر بھی آنی چاہیے کہ اس میں کوئی تضاد نہیں۔ سی پیک پر بھارت کے منفی عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔اس لیے خود سیاسی حکومت کو بھی سمجھنا چاہیے کہ مسئلہ کے حل میں اس کا اپنا اہم کردار ہے۔ اگر حکومت کی پالیسی مسئلہ کے حل کے بجائے اس میں بگاڑ پیدا کرنا یا اس میں ٹال مٹول کرکے تاخیری حربے اختیار کرنا، یا اپنی ناکامی کو محض اسٹیبلشمنٹ پر ڈال کر ہی آگے بڑھنا ہے تو سیاسی و عسکری تعلقات کے مسائل کسی بھی طور پر حل نہیں ہوسکیں گے۔
nn

Share this: