(بنیادی انسانی اخلاقیات (سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

Print Friendly, PDF & Email

بنیادی انسانی اخلاقیات سے مراد وہ اوصاف ہیں جن پر انسان کے اخلاقی وجود کی اساس قائم ہے۔ ان میں وہ تمام صفات شامل ہیں جو دنیا میں انسان کی کامیابی کے لیے بہرحال شرطِ لازم ہیں خواہ وہ صحیح مقصد کے لیے کام کررہا ہو یا غلط مقصد کے لیے۔ ان اخلاقیات میں اس سوال کا کوئی دخل نہیں ہے کہ آدمی خدا اور وحی اور رسول اور آخرت کو مانتا ہے یا نہیں، طہارتِ نفس اور نیتِ خیر اور عملِ صالح سے آراستہ ہے یا نہیں، اچھے مقصد کے لیے کام کررہا ہے یا برے مقصد کے لیے۔ قطع نظر اس سے کہ کسی میں ایمان ہو یا نہ ہو، اور اس کی زندگی پاک ہو یا ناپاک، اس کی سعی کا مقصد اچھا ہو یا برا، جو شخص اور جو گروہ بھی اپنے اندر وہ اوصاف رکھتا ہوگا، جو دنیا میں کامیابی کے لیے ناگزیر ہیں وہ یقیناًکامیاب ہوگا، اور ان لوگوں سے بازی لے جائے گا جو ان اوصاف کے لحاظ سے اس کے مقابلے میں ناقص ہوں گے۔
مومن ہو یا کافر، نیک ہو یا بد، مصلح ہو یا مفسد۔ غرض جو بھی ہو، وہ اگر کارگر انسان ہوسکتا ہے تو صرف اسی صورت میں جب کہ اس کے اندر ارادے کی طاقت اور فیصلے کی قوت ہو، عزم و حوصلہ، صبر و ثبات اور استقلال ہو، تحمل اور برداشت ہو، ہمت اور شجاعت ہو، مستعدی اور جفاکشی ہو، اپنے مقصد کا عشق اور اس کے لیے ہر چیز قربان کردینے کا بل بوتا ہو، حزم و احتیاط اور معاملہ فہمی و تدبر ہو، حالات کو سمجھنے، ان کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے اور مناسب تدبیر کرنے کی قابلیت ہو، اپنے جذبات و خواہشات اور ہیجانات پر قابو ہو، اور دوسرے انسانوں کو موہنے، ان کے دل میں جگہ پیدا کرنے اور ان سے کام لینے کی صلاحیت ہو۔
پھر ناگزیر ہے کہ اس کے اندر وہ شریفانہ خصائل بھی کچھ نہ کچھ موجود ہوں، جو فی الحقیقت جوہرِ آدمیت ہیں، اور جن کی بدولت آدمی کا وقار و اعتبار دنیا میں قائم ہوتا ہے۔ مثلاً خودداری، فیاضی، رحم، ہمدردی، انصاف، وسعتِ قلب و نظر، سچائی، امانت، راست بازی، پاسِ عہد، معقولیت، اعتدال، شائستگی، طہارت و نظافت اور ذہن و نفس کا انضباط۔
یہ اوصاف اگر کسی قوم یا گروہ کے بیشتر افراد میں موجود ہوں تو گویا یوں سمجھیے کہ اس کے پاس وہ سرمایۂ انسانیت موجود ہے جس سے ایک طاقت ور اجتماعیت وجود میں آسکتی ہے۔ لیکن یہ سرمایہ مجتمع ہوکر بالفعل ایک مضبوط و مستحکم اور کارگر اجتماعی طاقت نہیں بن سکتا جب تک کچھ دوسرے اخلاقی اوصاف بھی اس کی مدد پر نہ آئیں۔ مثلاً تمام یا بیشتر افراد کسی اجتماعی نصب العین پر متفق ہوں اور اس نصب العین کو اپنی انفرادی اغراض، بلکہ اپنی جان، مال اور اولاد سے بھی عزیز تر رکھیں۔ ان کے اندر آپس کی محبت اور ہمدردی ہو، انہیں مل کر کام کرنا آتا ہو۔ وہ اپنی خودی و نفسانیت کو کم از کم اس حد تک قربان کرسکیں جو منظم سعی کے لیے ناگزیر ہے۔ وہ صحیح و غلط رہنما میں تمیز کرسکتے ہوں اور موزوں آدمیوں کو ہی اپنا رہنما بنائیں۔ ان کے رہنماؤں میں اخلاص اور حسنِ تدبیر اور رہنمائی کی دوسری ضروری صفات موجود ہوں، اور خود قوم یا جماعت بھی اپنے رہنماؤں کی اطاعت کرنا جانتی ہو، ان پر اعتماد رکھتی ہو اور اپنے تمام ذہنی، جسمانی اور مادی ذرائع ان کے تصرف میں دے دینے پر تیار ہو۔ نیز پوری قوم کے اندر ایسی زندہ اور حساس رائے عام پائی جاتی ہو جو کسی ایسی چیز کو اپنے اندر پنپنے نہ دے جو اجتماعی فلاح کے لیے نقصان دہ ہو۔
یہ ہیں وہ اخلاقیات جن کو میں ’’بنیادی اخلاقیات‘‘ کے لفظ سے تعبیر کرتا ہوں۔ کیونکہ فی الواقع یہی اخلاقی اوصاف انسان کی اخلاقی طاقت کا اصل منبع ہیں، اور انسان کسی مقصد کے لیے بھی دنیا میں کامیاب سعی نہیں کرسکتا جب تک ان اوصاف کا زور اس کے اندر موجود نہ ہو۔ ان اخلاقیات کی مثال ایسی ہے جیسے فولاد، کہ وہ اپنی ذات میں مضبوطی و استحکام رکھتا ہے اور اگر کوئی کارگر ہتھیار بن سکتا ہے تو اسی سے بن سکتا ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ غلط مقصد کے لیے استعمال ہو یا صحیح مقصد کے لیے۔ آپ کے پیش نظر صحیح مقصد ہو تب بھی آپ کے لیے مفید ہتھیار وہی ہوسکتا ہے جو فولاد سے بنا ہو، نہ کہ سڑی گلی پھس پھسی لکڑی سے، جو ایک ذرا سے بوجھ اور معمولی سی چوٹ کی بھی تاب نہ لاسکتی ہو۔ یہی وہ بات ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں بیان فرمایا ہے کہ خیارکم فی الجاھلیۃ فی الاسلام تم میں جو لوگ جاہلیت میں اچھے تھے وہی اسلام میں بھی اچھے ہیں۔ یعنی زمانۂ جاہلیت میں جو لوگ اپنے اندر جوہرِ قابل رکھتے تھے، وہی زمانۂ اسلام میں مردانِ کار ثابت ہوئے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ان کی قابلیتیں پہلے غلط راہوں میں صرف ہورہی تھیں اور اسلام نے آکر انہیں صحیح راہ پر لگادیا۔ مگر بہرحال ناکارہ انسان نہ جاہلیت کے کسی کام کے تھے نہ اسلام کے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب میں جو زبردست کامیابی حاصل ہوئی اور جس کے اثرات تھوڑی ہی مدت گزرنے کے بعد دریائے سندھ سے لے کر اٹلانٹک کے ساحل تک دنیا کے ایک بڑے حصے نے محسوس کرلیے، اس کی وجہ یہی تو تھی کہ آپؐ کو عرب میں بہترین انسانی مواد مل گیا تھا، جس کے اندر کریکٹر کی زبردست طاقت موجود تھی۔ اگر خدانخواستہ آپؐ کو بودے، کم ہمت، ضعیف الارادہ اور ناقابلِ اعتماد لوگوں کی بھیڑ مل جاتی تو کیا پھر وہ نتائج نکل سکتے تھے؟

Share this: