(پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ (ملک نواز احمد اعوان

Print Friendly, PDF & Email

156تاب
:
برصغیر میں اصولِ تفسیر کے مناہج و اثرات
تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ
تحقیق
:
ڈاکٹر عبید الرحمن محسن
صفحات
:
632 قیمت 1000 روپے
زیر نظر کتاب ’’برصغیر میں اصولِ تفسیر کے مناہج و اثرات۔۔۔ تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ‘‘ ڈاکٹر عبیدالرحمن محسن صاحب کا تحقیقی مقالہ ہے۔ انہوں نے یہ تحقیق جناب ڈاکٹر محمود اختر صاحب کی نگرانی میں کی، جس پر ان کو پی ایچ ڈی کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے عطا ہوئی۔ جن اصولوں پر تحقیق کی گئی وہ درج ذیل ہیں:
اہدافِ تحقیق
1۔ برصغیر میں اصولِ تفسیر کے مناہج کا تعارف کروانا۔ 2۔ مناہج کے معین کردہ اصولوں کا تجزیہ کرنا۔ 3۔ تجزیہ کے ساتھ ساتھ تنقیدی مطالعہ کی بنیاد پر مثبت اور منفی پہلو اجاگر کرنا۔ 4۔ تجزیہ و تنقید اور تقابل سے رہنمائی لیتے ہوئے صحیح اصولِ تفسیر کی نشاندہی کرنا۔ 5۔ غلط اصولِ تفسیر کو نامزد کرنا۔ 6۔ اصولِ تفسیر میں اختلاف کے اسباب و محرکات تلاش کرنا۔ 7۔ اصولِ تفسیر تفسیری ادب اور دیگر دینی ادب پر اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
اصولِ تفسیر کے چند پہلو ایسے ہیں، جو اردو زبان میں غالباً پہلی دفعہ مستقلاً بالتفصیل زیر بحث لائے گئے ہیں:
1۔ تفسیر بالمأثور کے تفصیلی اصول و قواعد، ان کی مثالیں اور تجزیہ۔ 2۔ تفسیر بالمأثور کی ضرورت و اہمیت پر تفصیلی تحقیق۔ 3۔ تفسیر صحابہ کی اقسام پر تفصیلی تحقیق اور مثالیں۔ 4۔ اسباب النزول کی مختلف اقسام پر تحقیق اور امثلہ۔ 5۔ منہج تفسیر بالمأثور کے بارے بعض اشکالات کا تفصیلی جائزہ‘‘۔
کتاب کے محتویات درج ذیل ہیں:
کتاب چھ ابواب میں منقسم ہے۔ باب اول علم اصول تفسیر: معنی و مفہوم، آغاز و ارتقاء۔ اس باب کی فصل اول اصول، تفسیر اور مناہج کا لغوی و اصطلاحی مفہوم۔ فصلِ ثانی: برصغیر میں علم تفسیر کا تاریخی جائزہ۔ فصلِ ثالث: برصغیر کے تفسیری رجحانات۔ فصلِ رابع: برصغیر میں علم اصولِ تفسیر اور اس کے مناہج، عمومی تعارف۔
باب دوم: منہج تفسیر بالماثور، ضرورت و اہمیت، اثرات۔ فصل اول: تفسیر بالماثور معنی و مفہوم و ضرورت و اہمیت۔ فصلِ ثانی: منہج تفسیر بالماثور میں حدیث کی اہمیت۔ فصلِ ثالث: تفسیرالقرآن باقوالِ صحابہ۔ فصلِ رابع: منہج تفسیر بالماثور پر بعض اعتراضات کا جائزہ۔ فصلِ خامس: منہج تفسیر بالماثور کے اثرات۔
باب سوم: تفسیر بالماثور کے اصول و قواعد۔ فصل اول: تفسیر القرآن بالقرآن۔ فصلِ ثانی: تفسیر القرآن بالحدیت۔ فصلِِ ثالث: تفسیرالقرآن باقوالِِ الصحابہ و التابعین کے اصول و قواعد۔ فصلِ رابع: تفسیرالقرآن باللغۃ العربیۃ کے اصول و قواعد۔ فصلِ خامس: دیگر مآخذ سے استفادہ کے اصول۔ فصلِ سادس: برصغیر میں تفسیر بالماثور کے اصولوں کی اتباع۔
باب چہارم: منہج تفسیر بالرأی المحمود۔
باب پنجم: فراہی مکتبِ فکر کے اصولِ تفسیر۔ فصلِ اول: نظم قرآن تعارف و تاریخی پس منظر۔ فصلِ دوم: فراہی مکتبِ فکر کا تصورِ نظم اور اصولِ تفسیر۔ فصلِ سوم: فراہی مکتب فکر کا تجزیاتی مطالعہ۔ فصلِ چہارم: فراہی مکتب فکر کے اثرات۔
باب ششم: عقل پرست انحرافی مکتب فکر کے اصولِ تفسیر (تفسیر بالرأی المذموم)۔ فصلِ اول: تعارف انحرافی مکتب فکر، معنی و مفہوم، تاریخی پس منظر قدیم فرقۂ معتزلہ۔ انحرافی مکتب فکر کا پہلا دور سرسید احمد خان، انحرافی مکتب فکر کا دوسرا دور غلام احمد پرویز۔ فصلِ ثانی: سرسید کے اصولِ تفسیر اور ان کا جائزہ۔ فصل ثالث: غلام احمد پرویز کے اصولِ تفسیر۔ فصلِ رابع: انحرافی مکتبِ فکر کے اثرات۔ خلاصۂ بحث و نتائجِ تحقیق۔
راقم نے کتاب کا مطالعہ دلچسپی سے کیا۔ ہمارے خیال میں یہ تحقیق جامع نہیں ہے اور تحقیقِ مزید کی متقاضی ہے۔ اگر پوری محنت کرکے زیادہ سے زیادہ متعلقہ لوازمے کی تلاش کی جاتی تو تحقیق زیادہ بامعنی ہوتی۔ چونکہ یہ پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے اس لیے اس کی ضروریات کو ہی مدنظر رکھنا پڑتا ہے، لیکن کتابی شکل میں شائع کرتے ہوئے نظرثانی کرلی جاتی تو مناسب ہوتا۔
محسن صاحب کی تنقیدیں عالمانہ نہیں، خاص طور پر تحقیق میں جتنی محنت کرنی چاہیے اُن سے نہیں ہوئی۔ تحریر میں اپنے ذاتی خیالات کو غالب کرنے سے عیب پیدا ہوگئے ہیں۔ مثلاً قدیم سے جو تقسیم موجود ہے وہ تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرأی کی ہے۔ انہوں نے تفسیر بالرأی کی تقسیم در تقسیم میں تفسیر بالرأی محمود اور تفسیر بالرأی مذموم کی رائے اختیار کی ہے جو ہماری رائے میں محمود نہیں۔ اسی طرح تفہیم القرآن پر ان کی تحریر بھی متوازن نہیں۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی کتاب ’’قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں‘‘ نہایت اعلیٰ و عمدہ اور ان کی فکر کی کلید ہے۔ اس پر بعض اہلِ علم خاص کر مولانا ابوالحسن علی ندوی نے تنقید کی، جو ان کی کتاب ’’عصر حاضر میں دین کی تفہیم و تشریح‘‘ اور عربی میں ’’التفسیر السیاسی للاسلام‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ مولانا ندوی کی یہ کتاب علمی لحاظ سے بہت کمزور ہے۔ شائع ہونے پر انہوں نے یہی کتاب مولانا مودودی کو بھیجی۔ مولانا نے کوئی تبصرہ نہیں فرمایا۔ ہندوستان میں مولانا عروج قادریؒ نے اس کتاب پر تفصیلی تبصرہ کیا جو ماہنامہ ’’زندگی‘‘ رام پور میں شائع ہوا۔ نیز کتابی صورت میں بھارت اور پھر پاکستان میں مکتبہ تعمیر انسانیت اردو بازار لاہور سے شائع ہوا۔ تحقیق میں ڈاکٹر محسن صاحب نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ خوش قسمتی سے مولانا خلیل الرحمن چشتی کا ایک مختصر تبصرہ ہمیں دستیاب ہوا وہ ہم یہاں درج کرتے ہیں:
’’قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں: مولانا مودودیؒ کی ہر کتاب اپنی جگہ لاجواب ہوتی ہے۔ قاری کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ ان کی بہترین کتاب کون سی ہے؟ ’’تفہیم القرآن‘‘ میں تفصیل ہے اور اس کتاب میں ایجاز و اختصار۔ لیکن یہ وہ اہم کتاب ہے، جو قرآن فہمی کے لیے ایک بنیاد کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ ہر زبان میں ’لفظ‘ ایک سے زیادہ مفہومات کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ رب، الٰہ، عبادت اور دین کے الفاظ بھی عربی زبان میں مختلف معنوں میں مستعمل ہیں۔ مولانا نے ’’لسان العرب‘‘ وغیرہ سے پہلے الفاظ کی لغوی تحقیق درج کی ہے، پھر ایک ایک لفظ کے مختلف مقامات پر سیاق و سباق کی روشنی میں مخصوص مفہوم کا تعین کیا ہے۔
میں نے یہ کتاب پڑھی ہے اور بار بار پڑھی ہے بلکہ کئی مرتبہ پڑھانے کی کوشش کی ہے۔ مجھ پر ہر مرتبہ نئے آفاق کا انکشاف ہوتا رہا ہے۔ مجھے جانے پہچانے راستوں میں بھی حیرتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور نہ جانے مستقبل میں کتنے اور نئے مناظر دیکھنے کو ملیں۔ ہر مرتبہ میرے دل سے مولانا مودودیؒ کے لیے دعائیں نکلی ہیں۔ انہوں نے کلامِ الٰہی میں اترنے کے لیے ہمارے سامنے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔
مولانا مودودیؒ کے بعض معاصر علما نے اس کتاب کی بعض عبارتوں پر یہ اعتراض وارد کیا ہے کہ اس سے تَعَلّیِ کا پہلو نکلتا ہے کہ قرآن کو بس انہوں نے ہی سمجھا ہے، کسی اور نے نہیں۔ مولانا بھی انسان ہی تھے، نبیِ معصوم نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ مولانا کی مغفرت فرمائے، اور اعلیٰ درجات عطا فرمائے، لیکن مقام شکر ہے کہ الحمدللہ کسی عالم نے بھی یہ ثابت نہیں کیا کہ ان الفاظ کے جو مختلف مفہوم، مولانا مودودیؒ نے عربی لغت اور عربی محاورے کے مطابق بیان کیے ہیں، وہ صحیح نہیں ہیں۔ ایک بزرگ نے لکھا کہ سورۃ الزخرف کی آیت: ھو الذی فی السمآء الہٰ وفی الارض الہٰ (84:43) کا جو مفہوم مولانا نے بیان کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے، لیکن مقام حیرت ہے کہ ان محترم ناقد نے دوسرا متبادل مفہوم بھی نہیں بیان کیا، جو اُن کے نزدیک صحیح ہے۔ مولانا سید سلیمان ندویؒ نے ’’سیرت النبیؐ‘‘ کی آخری جلد میں، مولانا مودودیؒ کے برآمد کردہ مفہوم کی تائید کی ہے، اگرچہ وہاں مولانا مودودیؒ کا حوالہ موجود نہیں ہے۔ یہ تواردِ تعبیر ہے۔
اس کتاب کی افادیت اور بڑھ جائے گی اگر کوئی صاحبِ علم اس کی شرح لکھیں۔ ذیلی عنوانات قائم کریں۔ قوسین میں جابجا انگریزی مترادفات درج کرتے جائیں اور مزید مثالوں کا اضافہ کریں تاکہ درمیانی درجے کے قارئین بھی اس سے استفادہ کرسکیں، بالخصوص جدید تعلیم یافتہ طبقہ۔
دینی مدارس میں دورۂ تفسیر سے پہلے امام ابن تیمیہؒ کا ’’مقدمہ التفسیر‘‘، حضرت شاہ ولی اللہؒ کی ’’الفوز الکبیر‘‘ اور مولانا مودودیؒ کی ’’قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں‘‘، ان تینوں کتابوں کو سبقاً سبقاً پڑھایا جانا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ مولانا حمید الدین فراہیؒ کے بعض رسائل بھی تفسیر کا طالب علم پڑھ لے تو تعبیر کے چاروں اسکولوں کا احاطہ ہوجائے گا اور وہ بہتر انداز میں قرآن کو سمجھنے کے قابل ہوجائے گا‘‘۔
(ماہنامہ ترجمان القرآن مودودی نمبر 2003ء۔ حصہ اول)
کتاب کے پروف احتیاط سے نہیں پڑھے گئے۔ بے شمار اغلاط کی تصحیح ہونے سے رہ گئی ہے۔ امید ہے کہ دوسرے ایڈیشن میں اصلاح کردی جائے گی۔ ڈاکٹر عبیدالرحمن محسن صاحب نے مولانا مودودیؒ پر حدیثِ پاک کے استحفاف اور استحقار کا افسوسناک الزام بھی لگایا ہے جو درست نہیں۔ خود ڈاکٹر صاحب کے اپنے سسر حضرت مولانا عبدالوکیل علویؒ نے آٹھ جلدوں میں مولانا مودودیؒ کی ذکر کردہ احادیث کا مجموعہ مرتب کیا ہے۔ اسی کو دیکھ لیتے تو ان کی رائے متوازن ہوتی۔
کتاب مجلّد ہے اور نیوز پرنٹ پر طبع کی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔

کتاب
:
جنتِ ارضی استنبول
مصنف
:
اقبال مانڈویا
اہتمام
:
قاری حامد محمود
سالِ اشاعت
:
2016ء
قیمت
:
300 روپے
طابع
:
شہری پرنٹنگ پریس کراچی
رابطہ
:
607 کے ایس ٹریڈ ٹاور بالمقابل آر کے اسکوائر، شاہراہ لیاقت نزد نیوچالی، کراچی فون نمبر021-32464106
ای میل
:
sohail_mandvia@hotmail.com
خوبصورت سرورق کے ساتھ عمدہ کاغذ پر چھپی ہوئی کتاب ’’جنت ارضی استنبول‘‘ ایک ایسا سفرنامہ ہے کہ جو مختصر تو ہے لیکن ایک ایسے صاحبِ دل کا لکھا ہوا ہے کہ جو، جب استنبول جیسے خوبصورت شہر کو دیکھتا ہے، اس کی صفائی، حسنِ انتظام، خوشحالی و خوشدلی، شہریوں کے رویّے، انتظامی تدبر کو دیکھتا ہے تو ہر جگہ اس کے دل میں ایک درد پیدا ہوتا ہے، اور وہ درد ہے اپنے شہر کا درد۔ اپنے شہر کا مرثیہ وہ پڑھنے لگتا ہے۔۔۔ اور وہ مرثیہ ہے اس شہرِ ناپرساں کا مرثیہ۔۔۔ کراچی کا مرثیہ۔ کراچی جو ایک عالم میں انتخاب تھا۔
اقبال مانڈویا جو اس کتاب کے مصنف ہیں اور جن سے پہلا تعارف اقبال رحمان کے نام سے ہوا۔ اس بات کو جان کر اور حیرت ہوئی کہ اقبال مانڈویا صاحب کی مادری زبان اردو نہیں ہے، اس کے باوجود آپ کا طرزِ تحریر شائستہ اور سہل ہے۔ خوبصورت انداز کے ساتھ اشعار کے برمحل استعمال نے تحریر کی لذت بڑھا دی ہے۔ مصنف ایک ایسے صاحبِ دل کی طرح نظر آتے ہیں جو ہر اچھی جگہ، سڑک، عمارت، پارک، میدان، ہوٹل، غرض کہ سمندر تک میں کراچی کو تلاش کرتے ہیں اور دونوں شہروں استنبول اور کراچی کے درمیان موازنہ کرکے اپنے دل میں خود کو شرمندہ کرتے ہیں کہ ہم سب نے مل کر اس شہر تاجدار کا کیا حال کردیا ہے۔
مصنف کو اس بات کا کوئی دعویٰ نہیں کہ وہ مصنف ہیں۔ وہ صرف اس کراچی کو بھی استنبول کی طرح منظم اور خوبصورت، اس کے شہریوں کو شائستہ اور مہذب، اور اس کی سڑکوں کو کشادہ اور صاف دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور چونکہ وہ اس بات کے گواہ ہیں اور انہوں نے وہ کراچی دیکھا ہے کہ جب وہ ایسا ہی کراچی تھا، صاف ستھرا، کشادہ و شائستہ، پُرسکون اور مہذب۔
اقبال مانڈویا صاحب کا طرزِ تحریر سادہ اور دلکش ہے۔ کوئی مقفع و مسجع بات اس کتاب میں نظر نہیں آتی۔ انسانی رشتوں کا ذکر پوری خوبصورتی، محبت اور خلوص کے ساتھ ہے۔ دل چاہتا ہیکہ کچھ ذکر تفصیل کے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔ قیمت تھوڑی سی زیادہ لگتی ہے لیکن صاف ستھری طباعت اور خوبصورت سرورق کے ساتھ یہ ایک خوبصورت کتاب ہے۔
(شکیل خان)

کتاب
:
Letters to Sadiq Ali Khan
مرتب
:
صادق علی خان
ناشر
:
خورشید نشان، درخشاں سوسائٹی ملیر کراچی
خطوط نویسی کی روایت ہر دور میں رہی ہے اور اردو ادب میں خطوط کو ایک خاص مقام حاصل رہا ہے۔ اس حوالے سے غالب کے خطوط سب سے زیادہ مشہور ہیں جو کہ کئی صدیاں گزر جانے کے باوجود ادب کے قارئین کے لیے وہی کشش رکھتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی نے خط نویسی کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے اور خط لکھنے کی روایت معدوم ہوتی جارہی ہے۔ پوسٹ کارڈ تو اب عجائبات میں شمار ہونے لگے ہیں، تاہم ذاتی خطوط کے علاوہ رسمی خطوط کی روایت ابھی تک کسی حد تک موجود ہے۔ بالخصوص پاکستان کے سرکاری اداروں میں ابھی تک کاغذی خطوط کی روایت باقی ہے۔
خطوط رسمی اور غیر رسمی دونوں ہی طرح کے ہوتے ہیں، لیکن سرکاری اداروں میں رسمی خطوط کو غیر رسمی انداز میں لکھنے کا رواج ابھی تک موجود ہے۔ سرکاری اداروں میں کام کرنے والے افراد کے لیے بعض اداروں اور شخصیات کی طرف سے آنے والے خطوط ایک انتہائی اہم سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان خطوط کو محفوظ کرکے ایک طرف خط کتابت اور مراسلت کا ریکارڈ مرتب کیا جاتا ہے، دوسری طرف اداروں اور شخصیات کی طرف سے مذکورہ افسران کے کام اور ان کے ادارے کی تعریف ان کے لیے ایک سرمایہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اچھی کارکردگی والے افسران ان خطوط کو محفوظ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔
یہی کوشش پاکستان میں لائبریری سائنس کی تدریس اور علم کتب خانہ کے مایہ ناز ماہر جناب صادق علی خان نے کی ہے۔ انہوں نے دورانِ ملازمت ملنے والے خطوط کو انتہائی سنبھال کر رکھا اور اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد انتہائی سلیقے سے ان کو مرتب کرکے شائع کرنے کا اہتمام کیا۔
Letters to Sadiq Ali Khan صادق علی خان کو موصول ہونے والے خطوط کا مجموعہ ہے۔ یہ تمام خطوط سرکاری نوعیت کے ہیں اور زیادہ تر رسمی خطوط ہیں۔ خطوط معروف اور غیرمعروف دونوں طرح کے افراد اور اداروں کی جانب سے لکھے گئے ہیں، تاہم زیادہ بڑی تعداد اُن رسمی خطوط کی ہے جو کہ ان کو جامعہ کراچی کی ملازمت کے دوران مختلف نوعیتِ کار کے حوالے سے وصول ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان لائبریری ایسوسی ایشن کے ذمہ دار کی حیثیت سے ملنے والے خطوط بھی اس مجموعہ میں شامل ہیں۔
اس مجموعہ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اگر ہر خط کے ساتھ بھیجنے والے کی کچھ تفصیل بھی درج کردی جاتی تو ایک عام قاری کے لیے مزید دلچسپی کا سامان ہوجاتا۔

Share this: