(فرائیڈے اسپیشل کے مضمون پر طلوع اسلام کا تبصرہ (احمد حاطب صدیقی

Print Friendly, PDF & Email

ہفت روزہ ’فرائیڈے اسپیشل‘ کے شمارہ نمبر 43 (21 تا 27 اکتوبر 2016ء) میں ’بحث و نظر‘ کے مستقل سلسلے کے تحت راقم الحروف کا ایک مضمون شاملِ اشاعت ہوا۔ عنوان تھا: ’منکرین حدیث و سنّت کا علمی محاصرہ‘۔ اس مضمون میں ممتاز محقق اور دینی اسکالر محترم شکیل عثمانی صاحب کی تالیف ’’جناب غلام احمد پرویز کی فکر کا علمی جائزہ‘‘ پراظہارِ خیال کیا گیا تھا۔ دسمبر 2016ء کے ماہنامہ ’طلوعِ اسلام‘ لاہور میں فرائیڈے اسپیشل اور اس میں شائع ہونے والے محولہ بالا مضمون کے حوالے کے ساتھ محترم ڈاکٹر شاکر حسین خان صاحب کا ایک مضمون نظر سے گزرا۔ ڈاکٹر شاکر حسین خان صاحب، جیسا کہ ماہ نامہ ’طلوعِ اسلام‘ میں اُن کے نام کے ساتھ درج کیا گیا ہے’وزٹنگ فیکلٹی ممبر شعبہ علومِ اسلامی، جامعہ کراچی‘ ہیں۔ آپ نے اپنے مضمون میں (رسالے کے صفحہ 25 پر) لکھا:
’’فرائیڈے اسپیشل میں پرویز صاحب کے خلاف لکھی جانے والی کتاب ’’جناب غلام احمد پرویز کی فکر کا علمی جائزہ‘‘ پر تبصرہ شائع ہوا۔ (فرائیڈے اسپیشل، 14 اکتوبر2016ء)، ادارے کے نزدیک کتابِ مذکور اتنی اہمیت کی حامل تھی کہ اگلے شمارے میں بھی کتابِ مذکور پر تبصرہ شائع ہوا، جس کو محترم احمد حاطب صدیقی صاحب نے تحریر کیا تھا۔ ان کا تبصرہ (بحث ونظر) ’’منکرین حدیث کا علمی محاصرہ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا، نقاد نے کوئی نئی بات نہیں کہی بلکہ ماضی کے وہی [کذا: اُنھی] فتووں کی تکرار ہے جو مخالفینِ پاکستان اور روایت پسندوں کی جانب سے جاری ہوئے تھے۔‘‘
(فرائیڈے اسپیشل21اکتوبر، 2016ء)
راقم کے مضمون پر ڈاکٹر صاحب کے اِس ’یک سطری‘ تبصرے میں جو دعویٰ کیا گیا ہے، اس کی تائید میں کوئی دلیل نہیں پیش کی گئی۔ ڈاکٹر صاحب جیسے تحقیق پسند فرد سے بجاطور پر یہ توقع تھی کہ وہ بے دلیل دعووں کی تکرار کے بجائے محترم شکیل عثمانی صاحب کی مرتب کردہ کتاب میں شامل کیے جانے والے مضامین میں موجود اعتراضات کا مدلل علمی جواب دیں گے، مگر وائے افسوس کہ یہ توقع پوری نہ ہوسکی۔
دسمبر 2016ء کے ’طلوعِ اسلام‘ میں ڈاکٹر شاکر حسین خان صاحب کا جو مضمون شائع ہوا ہے، اُس کا عنوان ہے: ’’غلام احمد پرویز میری نظر میں‘‘۔اس مضمون کی ابتدا میں انھوں نے بتایا ہے کہ وہ کس طرح اپنے یونیورسٹی کے استاد، پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد شکیل اوج کے ذریعے سے پرویز صاحب کی فکر سے متعارف ہوئے۔پھر کیسے سن 2006ء میں انھیں پرویز صاحب کی ایک تحریر کا مطالعہ کرنے کا موقع مل گیا، اورپھر پرویز صاحب کی تحریروں کے مطالعے کے بعد اُن کی رائے یہ بنی کہ’’علامہ غلام احمد پرویز مفکرِقرآن، مجاہدِ اسلام، عقیدہ ختم نبوت کے حقیقی سپاہی، محب رسولؐ و صحابہؓ، مخلص مومن، نیک انسان اور سچے پاکستانی تھے، ان کے خلاف جو پروپیگنڈا کیا جاتا ہے وہ اسلام اور وطن دشمن عناصر کی شرارت ہے‘‘۔(صفحہ 23)
ڈاکٹر شاکر حسین خان صاحب نے، جناب غلام احمد پرویز کے منکر حدیث و سنت نہ ہونے کے ضمن میں، اپنے مضمون میں نہایت عجیب بات تحریر فرمائی ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ انھوں نے پرویز صاحب کی کتاب ’’شاہکارِ رسالت عمر فاروقؓ ‘‘ سے بھی استفادہ کیا ہے،جس میں’’ متعدد حدیثیں ہیں‘‘ اور وہ اُن کی کتاب ’’معراجِ انسانیت‘‘ تک بھی رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ ’’اس کتاب میں بھی متعدد احادیث پیش کی گئی ہیں۔ اگر پرویز صاحب کی نقل کی ہوئی حدیثوں کو ایک الگ کتاب کی صورت میں شائع کیا جائے تو بہت بہتر رہے گا اور [اُن] دشمنانِ اسلام کے منہ پر بہت زور دار طمانچہ ثابت ہوگا جو علامہ پرویز کو سنت کا منکر کہتے پھرتے ہیں‘‘۔ (صفحہ 21)
ہمارے لیے تعجب خیز بات یہ ہے کہ ڈاکٹر شاکر حسین خان صاحب جیسے فاضل شخص نے یہ بات کہی۔یہی بات اگر کسی اور شخص نے لکھی ہوتی تو ہم کہتے کہ دیکھیے کس قدر سطحی بات لکھی ہے!
یہ تو ایسی ہی بات ہوئی جیسے کوئی شخص یہ دلیل دے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کئی کتابوں میں کئی جگہ سورہ احزاب کی آیہ ختم نبوت لکھی ہے۔روزنامہ ’الفضل‘ قادیان اپنی 22ستمبر 1939ء کی اشاعت میں لکھتا ہے: ’’ہمیں اس سے انکار نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم خاتم النبیین ہیں‘‘۔ 1984ء کے امتناعِ قادیانیت آرڈی ننس کے نفاذ کے بعد احمدیوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنے سینوں پر کلمہ طیبہ کے بیج آویزاں کرنے شروع کردیے۔ مناسب ہوگا کہ یہاں ختم نبوت کے بارے میں متعلق ’’ملفوظاتِ احمدیہ‘‘ کا یہ اقتباس نقل کر دیا جائے:
’’خاتم النبیین کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپؐ کی مہر کے بغیر کسی کی نبوت کی تصدیق نہیں ہو سکتی۔جب مہر لگ جاتی ہے تو وہ کاغذ سند ہو جاتا ہے۔ اسی طرح آنحضرتؐ کی مہر اور تصدیق جس نبوت پر نہ ہو وہ صحیح نہیں ہے‘‘۔(ملفوظاتِ احمدیہ مرتبہ محمد منظور الٰہی قادیانی، حصہ پنجم، ص 290)
اپنی کتابوں میں آیہ ختم نبوت لکھنے اور کلمہ طیبہ کے بیج اپنے سینوں پر آویزاں کرنے کے باوجود غلام احمد پرویز صاحب نے احمدیوں کو ختم نبوت کا منکر کہا۔ لیکن ڈاکٹر شاکر حسین خان صاحب کے کلّیے کی رُو سے احمدیوں کو ’منکر ختمِ نبوت‘ نہیں کہا جا سکتا۔جب کہ احمدیوں کو ختم نبوت کا منکر قرار دینے کی اصل وجہ اُن کا تصورِ ختم نبوت ہے، جس کی وضاحت انھوں نے اپنی مختلف کتابوں میں کی ہے۔ اگر محترم ڈاکٹر شاکر حسین خان صاحب علمائے قرآن و حدیث پر ’’کذب بیانی‘‘ کا الزام لگانے اور اُن پر ’’ابولہبی‘‘ [کذا: ’بولہبی‘] کی پھبتی کسنے سے قبل محترم شکیل عثمانی صاحب کی مرتب کر دہ کتاب میں موجود مضامین کا مطالعہ فرما لیتے یا خود جنابِ غلام احمد پرویز کی تحریروں سے جانچ لیتے کہ سنت کے بارے میں پرویز صاحب کا اپنا نقطۂ نظر کیا ہے تو شاید انھیں یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہوتی کہ جنابِ پرویز کے افکار کتاب اللہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کی تعلیمات کے مطابق ہیں یا برعکس؟ پرویز صاحب لکھتے ہیں:
’’قراردادِ مقاصد میں روشِ عامہ کی تقلید میں کتاب و سنت کو بطور ابدی قوانین کے لکھ دیا گیا ہے اور یہ نہیں سوچا گیا کہ جب آپ سنت یعنی احادیث کو دستوری طور پر اپنا آئین قرار دیں گے تو عملی طور پر اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ کیوں کہ جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے، احادیث سے یہ مقصود تھا ہی نہیں کہ وہ قیامت تک کے لیے نافذ العمل رہیں گی۔ بلکہ وہ ایک خاص زمانہ کے مخصوص معاشرہ کے مخصوص عملی مسائل کے حل کے لیے تھیں۔اس لیے اگر آپ اپنے موجودہ معاشرہ کو جب کہ ہمارے تقاضے بدل چکے ہیں، ان احکام میں جکڑ دیں گے جو ایک خاص زمانہ کے تقاضوں کے پیش نظر مرتب کیے گئے تھے، تو آپ کا معاشرہ ایک قدم بھی آگے نہیں چل سکے گا‘‘۔ (قرآنی دستور پاکستان،ص35)
پرویز صاحب، جو ’کتاب و سنت کو بطور ابدی قوانین‘ لکھ دینے پر سخت معترض تھے، سنت کے بارے میں اپنے اس اصول کا اطلاق کیسے کرتے ہیں، اسے جانچنے کے لیے آئیے دیکھیں کہ وہ اسلام کے ایک بنیادی رُکن زکوٰۃ کے متعلق کیا رائے اور کیا رویہ رکھتے ہیں۔ ادارہ طلوعِ اسلام کراچی کی شائع کردہ کتاب ’’قرآنی فیصلے‘‘ کے پہلے ایڈیشن میں پرویز صاحب رقم طراز ہیں:
’’زکوٰۃ اس ٹیکس کے علاوہ کچھ نہیں جو اسلامی حکومت مسلمانوں پر عائد کرے۔ اس ٹیکس کی کوئی شرح متعین نہیں کی گئی اس لیے کہ شرحِ ٹیکس کا انحصار ضروریاتِ ملّی پر ہے۔لہٰذا جب کسی جگہ اسلامی حکومت نہ ہوتو زکوٰۃ باقی نہیں رہتی‘‘۔ (ص 35)
اسی مضمون میں آگے چل کر لکھتے ہیں:
’’ظاہر ہے کہ ہماری [مراد ہے پاکستان کی] حکومت ہنوز اسلامی نہیں ہے۔اس لیے جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے، آج کل زکوٰۃ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔حکومت ٹیکس وصول کر رہی ہے، اگر یہ حکومت اسلامی ہو گئی تو یہی ٹیکس زکوٰۃ ہو جائے گا۔ایک طرف ٹیکس اور اس کے ساتھ دوسری طرف زکوٰۃ ، قیصر اور خدا کی غیر اسلامی تفریق ہے‘‘۔(ص37)
واضح رہے کہ ’’قرآنی فیصلے‘‘ کا یہ ایڈیشن 1953ء میں شائع ہوا تھا۔اس سے قبل 12مارچ1949ء کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی قراردادِ مقاصد منظور کر چکی تھی۔ اگر 1953ء میں پرویز صاحب کے نزدیک پاکستانی حکومت اسلامی نہیں تھی اور اُس وقت ’’زکوٰۃ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘‘تھا تو آج کی حکومت کیسے اسلامی ہو سکتی ہے؟ لہٰذا پرویز صاحب کے ’فہم قرآن و سنت‘ سے استفادہ کیا جائے توتمام مسلم ممالک کے مسلمان زکوٰۃ کا لازمی فریضہ ادا کرنے سے یکسر مستثنیٰ ہوسکتے ہیں، جب کہ غیر مسلم ممالک میں مقیم مسلمانوں کو تو بدرجہ اولیٰ زکوٰۃ سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔سبحان اللہ! محترم ڈاکٹر شاکر حسین صاحب کی رائے کی رُو سے ’’ مفکرِقرآن، مجاہدِ اسلام، عقیدہ ختم نبوت کے حقیقی سپاہی، محب رسولؐ و صحابہؓ، مخلص مومن، نیک انسان اور سچے پاکستانی‘‘ نے پاکستان کے اور موجودہ دنیا کے دیگر ممالک کے مسلمانوں کو زکوٰۃ سے ’’محفوظ‘‘رہنے کا کیا عمدہ نسخہ سُجھایا ہے!
ادارہ طلوع اسلام کی کتابوں میں اور ماہ نامہ طلوعِ اسلام کے سرورق پر احادیث اُسی طرح درج کی جاتی ہیں جس طرح غیر مسلم جرائد بھی اپنے سرورق پر عالم گیر سچائیاں (Universal truth) درج کیا کرتے ہیں۔ہمارے مشاہدے کے مطابق طلوعِ اسلام کے سرورق پر اس قسم کی مخصوص احادیث درج کی جاتی رہی ہیں کہ: ’’سچ بولو ۔۔۔ رزقِ حلال کھاؤ۔۔۔ملاوٹ کرنے والا ہم میں سے نہیں ۔۔۔ صفائی نصف ایمان ہے۔۔۔ [حالاں کہ ’طہارت‘ نصف ایمان ہے]۔۔۔صلہ رحمی کرو۔۔۔اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے‘‘۔ وغیرہ وغیرہ۔
بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محترم ڈاکٹر شاکر حسین خان صاحب (وزٹنگ فیکلٹی ممبر شعبہ علومِ اسلامی، جامعہ کراچی) نے صرف فرائیڈے اسپیشل میں اس عاجز کا مضمون پڑھ کر اپنا مضمون لکھ دیا۔ محترم شکیل عثمانی صاحب کی مرتب کردہ کتاب ’’جناب غلام احمد پرویز کی فکر کا علمی جائزہ‘‘ پڑھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جو میرے اور اُن کے مضامین کی اصل محرک کتاب ہے۔اگر وہ محولہ بالا کتاب میں صرف مولانا قمرا حمد عثمانی کا مضمون ’’فکرِ پرویز کا علمی جائزہ‘‘ بہ امعانِ نظر پڑھ لیں تو انھیں یہ رائے قائم کرنے میں (اور اس سے ہمیں مطلع کرنے میں بھی) آسانی ہو جائے گی کہ پرویز صاحب منکرِ سنت اور منکر اطاعتِ رسولؐ ہیں یا نہیں؟ مولانا قمر احمد عثمانی کا محولہ مضمون اُن کی کتاب ’’ہماری مذہبی جماعتوں کا فکری جائزہ‘‘ میں شامل ہے۔ یہ کتاب1962ء میں مطبوعاتِ مشرق کراچی نے شائع کی تھی اور ہماری محدود معلومات کے مطابق آج تک طلوعِ اسلام نے اس مضمون کا جواب نہیں دیا۔
nn

Share this: