(قائداعظم کی بصیرت اور قرار داد مقاصد(تحریر و تحقیق: خواجہ رضی حیدر

Print Friendly, PDF & Email

حضراتِ گرامی!
میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ آج میں آپ سے ایک ایسے عنوان کے حوالے سے گفتگو کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں جو اپنی وسعت اور معنویت میں بڑی اہمیت رکھتا ہے اور اپنی وضاحت میں پاکستان کی نظریاتی حیثیت کو بھی ظاہر اور متعین کرتا ہے۔ ’’قائداعظم کی بصیرت اور قراردادِ مقاصد‘‘ اس عنوان کے دو حصے ہیں، پہلا حصہ قائداعظم محمد علی جناح کی جدوجہد، دُوراندیشی، حکمتِ عملی اور فراست و بصیرت سے متعلق ہے، جبکہ دوسرا حصہ پاکستان کی نظریاتی اساس سے متعلق ہے۔ اور یہ دونوں حصّے باہم لازم و ملزوم ہیں۔ جب تک آپ ایک حصّے کا تاریخی طور پر فہم پیدا نہیں کریں گے اُس وقت تک دوسرے حصّے کی حقیقت و معنویت آپ پر منکشف نہیں ہوسکے گی۔ یقیناًایسی صورت میں میرا یہ فرض ہے کہ میں تاریخ کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے پہلے قائداعظم محمد علی جناح کی حیات و خدمات اور اُن کے اقوال کی روشنی میں پاکستان کی نظریاتی اساس کو واضح کروں اور اُس کے بعد قراردادِ مقاصد کی ضرورت اور اہمیت کے حوالے سے اظہارِ خیال کروں۔
حضراتِ گرامی! بانئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا شمار عہدِ جدید کی تاریخ کی اُن عظیم شخصیات میں ہوتا ہے جو اپنی حیات و خدمات کی روشنی میں تاریخ کا ایک ایسا باب بن جاتی ہیں کہ آنے والی صدیاں اُن کے تذکرے سے گونجتی رہتی ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی 72 سالہ زندگی کے دوران تقریباً چوالیس سال ہندوستان کے عوام خصوصاً مسلمانوں کی ترقی، خوشحالی، سیاسی بالادستی، ثقافتی تحفظات اور حصولِ آزادی کے لیے جدوجہد کے حوالے سے بسر کیے۔ اس عرصے میں آپ کو اگرچہ بعض مراحل پر اپنوں اور غیروں کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا، مگر آپ کی بے پناہ قائدانہ صلاحیتوں اور ناقابلِ تسخیر سیاسی بصیرت نے بالآخر یہ بات طے کردی کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے آپ ہی بلاشرکتِ غیرے ’’قائداعظم‘‘ ہیں۔ قائداعظم کی اِسی سیاسی بصیرت کا اعتراف کرتے ہوئے جون 1937ء میں شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے قائداعظم کے نام اپنے ایک خط میں لکھا تھا کہ ’’اس وقت جو طوفان شمال مغربی ہندوستان اور شاید پورے ہندوستان میں برپا ہونے والا ہے اُس میں صرف آپ ہی کی ذاتِ گرامی سے مسلمان قوم محفوظ رہنمائی کی توقع کا حق رکھتی ہے‘‘۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ 1935ء کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے نفاذ سے قبل ہندوستان کے مسلمانوں کی سیاسی وحدت نہ صرف انتشار کا شکار ہوگئی تھی بلکہ اُن کی نمائندہ سیاسی جماعت ’’آل انڈیا مسلم لیگ‘‘ بھی ٹکڑوں میں بٹ گئی تھی، لہٰذا تاریخ کے اس انتہائی نازک موڑ پر جب ہندوستان کے مسلمان اپنی بقا اور سلامتی کی جانب سے بڑی حد تک مایوس ہوچکے تھے، قائداعظم محمد علی جناح نے تدبر، فراست، غیر متزلزل عزم، سیاسی بصیرت اور بے مثل قائدانہ صفات سے کام لے کر مسلمانوں کو ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ایسے متحد و منظم کردیا کہ 23مارچ 1940ء کو لاہور میں نہ صرف ایک علیحدہ مسلم وطن کی قرارداد منظور ہوگئی بلکہ 14اگست 1947ء کو پاکستان معرضِ وجود میں آگیا۔
برصغیر میں ایک آزاد مسلم مملکت کے قیام کا وہ دیرینہ خواب جو ہندوستان کے مسلمان دوصدیوں سے دیکھتے چلے آرہے تھے 14اگست 1947ء کو شرمندۂ تعبیر ہوا اور بلاشبہ اِس خواب کی تعبیر ایک فرد کی چشمِ کرشمہ ساز کا نتیجہ تھی۔ اور وہ فردِ واحد تھے قائداعظم محمد علی جناح۔۔۔ جو اپنی سیاسی زندگی کے اوّلین عشرہ میں ہی ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کہلائے۔ یعنی 1916ء میں ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کا خطاب ملتے ہی اُن کی ذات دو قومی نظریے کی علامت بن گئی تھی۔ قائداعظم کی سیاسی زندگی کے آخری پندرہ سال مسلم ہندوستان کی آئینی اور سیاسی بالادستی کے حصول کے حوالے سے بسر ہوئے۔ انہی پندرہ سال کے دوران جہاں انہوں نے مسلمانوں کے منتشر ہجوم کو ایک قوم کی صورت میں متشکل کیا وہاں اُن کو یہ بھی باور کرایا کہ وہ مسلمان ہونے کی حیثیت میں ایک عظیم تاریخی ورثے کے ہی مالک نہیں ہیں بلکہ وہ ایک ایسے مذہب کے پیروکار بھی ہیں جو ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ تحریکِ پاکستان کے دوران قائداعظم نے اپنی تقاریر، بیانات اور خطوط کے ذریعے جہاں دو قومی نظریے کی وضاحت کی وہاں مطالبۂ پاکستان اور نظریۂ پاکستان کی حقانیت کا بھی اعلان کیا۔
حضراتِ گرامی! قائداعظم کی تقاریر، بیانات اور خطوط ایسی بنیادی سچائیاں ہیں جن کی تفہیم اور تفتیش سے ہم نہ صرف قائداعظم کے تصورِ پاکستان، قائداعظم کی حکمتِ عملی اور سیاسی بصیرت سے آشنا ہوسکتے ہیں بلکہ اپنے ملک کی ترقی و خوشحالی اور استحکام کے لیے ایک حتمی لائحۂ عمل تک رسائی بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ جب تک ہم ان تقاریر، بیانات اور خطوط کا مطالعہ نہیں کریں گے اور اپنے اندر ان کا فہم پیدا نہیں کریں گے اُس وقت تک نظریاتی تحفظ اور قومی وحدت کے حوالے سے بہت سے سوالات ہمیں ہمارے قومی مستقبل کے حوالے سے ڈراتے رہیں گے۔ جہاں تک قراردادِ مقاصد کا تعلق ہے تو میں قائداعظم کی تقاریر و بیانات کے آئینے میں اس قرارداد کو پاکستان کے آئین کی تشکیل کی جانب پہلا قدم تصور کرتا ہوں۔ ایک ایسا قدم جس میں وہ وعدے اور دعوے پورے ہوتے دکھائی دے رہے تھے جو قائداعظم اور مسلم لیگ کے رہنماؤں نے متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں اور قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے عوام سے کیے تھے۔ قائداعظم نے جہاں اپنی تقاریر سے مسلمانوں کے اندر اُن کے جذبۂ قومیت کو فروغ دیا، وہاں متعدد بار اس امر کا اعادہ کیا کہ پاکستان کا آئین قرآن و سنت کے مطابق ہوگا۔ اور ہم پاکستان کو حقیقی معنی میں ایک اسلامی فلاحی مملکت بنائیں گے۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے مطالبۂ پاکستان کو مسلمانوں کی ملّی و فکری بیداری کی تحریک قرار دیا اور 2مارچ 1941ء کو لاہور میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’مجھے اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہے‘‘۔
حضراتِ گرامی! یہ فخر تاریخی شعور اور ملّی احساسِ وراثت کی دلیل تھا جس کا قائداعظم بار بار اعلان کیا کرتے تھے۔ 30ستمبر 1943ء کو ایک پیغام میں انہوں نے فرمایا:’’ہم ایک عظیم الشان تاریخ اور درخشاں ماضی کے وارث ہیں۔ ہمیں خود کو اسلام کی حقیقی نشاۃ الثانیہ کے لیے وقف کردینا چاہیے‘‘۔
اسی طرح مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں جب آپ سے یہ سوال کیا گیا کہ پاکستان کا آئین کس طرح کا ہوگا؟ تو آپ نے جواب میں کہا: ’’میں کون ہوتا ہوں آپ کو آئین دینے والا! ہمارا آئین ہمیں آج سے تیرہ سو سال پہلے ہی ہمارے عظیم پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے دے دیا تھا۔ ہمیں تو صرف اس آئین کی پیروی کرتے ہوئے اسے نافذ کرنا ہے اور اس کی بنیاد پر اپنی مملکت میں اسلام کا عظیم نظامِ حکومت قائم کرنا ہے اور یہی پاکستان کا مقصد ہے‘‘۔
30اکتوبر 1947ء کو لاہور سے ایک نشری تقریر میں قوم سے فرمایا: ’’اسلام کی تاریخ جواں مردی اور عزم و حوصلہ کی مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ ایک متحد قوم کو جس کے پاس ایک عظیم تہذیب و تاریخ ہے، کسی سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔ ایک اور مرحلے پر انہوں نے فرمایا: ’’تم میں ایک اعلیٰ قوم کی نشانیاں موجود ہیں جو دنیا کی کسی قوم میں نہیں۔ بس اپنی تاریخ کے سائے میں سانس لیتے رہو اور عظمت کے ایک نئے دور کا آغاز کرو‘‘۔
اس کے علاوہ قائداعظم نے قیامِ پاکستان کے بعد 25جنوری 1948ء کو ان الزامات اور شکوک و شبہات کی جن کے تحت بعض حلقوں کی طرف سے کہا جاتا تھا کہ پاکستان ایک سیکولرریاست ہوگی اور بعض حلقے یہ کہتے تھے کہ پاکستان ایک تھیوکریٹک ریاست ہوگی، براہِ راست اور واضح طور پر تردید کرتے ہوئے کہا: ’’میں ان لوگوں کی ذہنیت کو نہیں سمجھ سکتا جو دیدہ و دانستہ اور شرارت سے یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ پاکستان کا دستور شریعت کی بنیاد پر نہیں بنایا جائے گا۔ اسلامی اصول آج بھی اسی طرح قابلِ نفاذ ہیں جس طرح آج سے تیرہ سوسال پہلے تھے۔ اسلام محض رسوم و روایات کا مجموعہ یا روحانی ضابطہ نہیں بلکہ ہر مسلمان کے لیے زندگی کا ایک ضابطہ بھی ہے، جو سیاست، معیشت اور اسی طرح کے دوسرے معاملات میں اس کے رویّے کو منضبط کرتا ہے۔۔۔ میں صاف صاف بتادینا چاہتا ہوں کہ نہ صرف مسلمانوں، بلکہ غیرمسلموں کو بھی کسی قسم کا خوف نہیں ہونا چاہیے۔ اسلام اور اس کے نظریات نے ہمیں جمہوریت کا سبق دیا ہے۔ کسی کو ایسی جمہوریت سے خوف کیوں لاحق ہو جو انصاف، رواداری اور مساوی برتاؤ کے اصولوں پر قائم کی گئی ہو‘‘۔ ’’ان کو کہہ لینے دیجیے۔ ہم دستورِ پاکستان بنائیں گے اور دنیا کو دکھائیں گے یہ رہا ایک اعلیٰ آئینی نمونہ‘‘۔
فروری 1948ء میں امریکی عوام کے نام اپنے نشری خطاب میں فرمایا: ’’مجھے نہیں معلوم کہ پاکستان کے آئین کی حتمی صورت کیا ہوگی۔ البتہ مجھے اتنا یقین ہے کہ پاکستان کا آئین جمہوری طرز کا ہوگا اور ساتھ ہی ساتھ اسلام کے تمام ضروری اور بنیادی اصولوں پر مبنی ہوگا‘‘۔ 19فروری 1948ء کو آسٹریلیا کے عوام کے نام نشری خطاب میں فرمایا: ’’پاکستان کے عوام کی عظیم اکثریت مسلمان ہے۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں۔ ہم اُس اسلامی ملّت اور برادری کے رکن ہیں جس میں حقوق، وقار اور خودداری کے تعلق سے سب برابر ہیں۔ ہم میں اتحاد کا ایک خصوصی اور گہرا شعور موجود ہے۔ لیکن غلط نہ سمجھیے، پاکستان میں کوئی نظامِ پاپائیت رائج نہیں ہوگا۔ اسلام ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم دیگر عقائد کو گوارا کریں‘‘۔
حضراتِ گرامی! قائداعظم کی تقاریر سے یہ اقتباسات بیان کرنے کی مجھے ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ جہاں قائداعظم کی اُس فکر تک رسائی ممکن ہوسکے جو اپنی معنویت میں اسلام دوستی پر مبنی تھا وہاں یہ بھی معلوم ہوسکے کہ وہ پاکستان کے آئین کے حوالے سے کیا عزائم رکھتے تھے۔ یہاں میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ 13اگست1947ء کو انتقالِ اقتدار کی تقریب میں جب ہندوستان کے وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اپنی تقریر میں پاکستان میں آباد اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے مغل شہنشاہ اکبراعظم کی مثال دی تو قائداعظم نے اپنی جوابی تقریر میں واضح طور پر کہا کہ اکبرِ اعظم نے تمام غیر مسلموں کے ساتھ رواداری اور حسنِ سلوک کا جو مظاہرہ کیا تھا وہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ اس کی ابتدا تو آج سے تیرہ سو سال پہلے ہمارے پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے کردی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان سے ہی نہیں بلکہ اپنے عمل سے یہود و نصاریٰ پر فتح حاصل کرنے کے بعد نہایت اچھا سلوک کیا۔ اُن کے ساتھ رواداری برتی اور اُن کے عقائد کا احترام کیا۔ مسلمان جہاں کہیں بھی حکمران رہے ایسے ہی رہے۔ مسلمانوں کی تاریخ دیکھی جائے تو وہ ایسے ہی انسانیت نواز اور عظیم المرتبت اصولوں سے بھری ہوئی ہے۔ اِن اصولوں کی ہم سب کو تقلید کرنا چاہیے‘‘۔
حضراتِ گرامی! قائداعظم کی تقاریر کی سب سے اہم فضیلت ہی یہ ہے کہ وہ مختصر فقروں میں اپنا مافی الضمیر بیان کردیتے ہیں۔ تقاریر کے اِن اقتباسات میں ایک عقیدہ بھی موجود ہے اور ایک لائحہ عمل بھی۔ ایسا لائحہ عمل جو ہندوستان میں مسلم قوم کے مسلّمہ کردار کی بازیابی کے لیے ایک منشور کی حیثیت رکھتا ہے۔ شاید اسی لیے قائداعظم نے پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ قرار دیا تھا۔ اسلامیہ کالج پشاور میں 13جنوری 1948ء کو تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ: ’’ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں اسلام کے اصولوں کو اپنا سکیں‘‘۔ قائداعظم نے 8مارچ 1944ء کو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں طالب علموں کو باور کرایا کہ پاکستان کے مطالبے کا جذبۂ محرکہ جہاں دیگر مذہبی اور ثقافتی وجوہات رہی ہیں وہاں اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ یہ مطالبہ جداگانہ قومیت کی بنیاد پر اسلام کا بنیادی مطالبہ ہے‘‘۔
حضراتِ گرامی! ہوسکتا ہے کہ آپ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہورہا ہو کہ میں نے ابھی تک قائداعظم محمد علی جناح کی اُس تقریر کا حوالہ نہیں دیا جو قائداعظم کے تصورِ پاکستان کے حوالے سے نہ صرف معروف ہے بلکہ جس کو ایک مخصوص مکتبۂ فکر ذاتی تاویلوں اور عذرِ بے جا کے ذریعے متنازع بنادینے کی دانستہ کوششوں میں مصروف ہے۔ میری مراد ہے 11اگست 1947ء کی وہ تقریر ہے جو قائداعظم نے قیام پاکستان سے قبل کراچی میں مجلسِ دستور ساز کے افتتاح کے موقع پر کی تھی۔ اور جو واضح طور پر مارچ 1949ء میں مجلسِ دستور ساز میں منظور کی جانے والی قراردادِ مقاصد کو استناد فراہم کرتی ہے۔
میں یقیناًاس تقریر کو من و عن بیان کرکے آپ کی سماعتوں کو مزید بوجھل نہیں کرسکتا لیکن جزوی طور پر اس کے مفہوم کو پیراوائز (parawise)ضرور بیان کروں گا:
1۔پاکستان کے لیے دستور مرتب کرنا۔
2۔وفاقی قانون ساز ادارے کو کامل خودمختار ادارے کی شکل دینا۔
3۔امن و امان کو برقرار رکھنا تاکہ مملکت اپنے عوام کی جان و مال اور اُن کے مذہبی عقائدکو مکمل طور پر تحفظ دے سکے۔
4۔رشوت ستانی اور بدعنوانی کا خاتمہ۔ یہ ایک زہر ہے، اس کا سختی سے قلع قمع کرنا پڑے گا۔
5۔غذائی اجناس اور اشیائے ضرورت کی چور بازاری اور گرانی کا خاتمہ۔
6۔اقربا پروری، احباب نوازی اور ذاتی مفادات کے حصول کی لعنت کا خاتمہ۔
7۔فرقہ وارانہ ہم آہنگی۔
8۔اپنی عبادت گاہوں میں جانے کا آزادانہ حق۔
9۔پاکستان کو خوشحال بنانے کے لیے عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ۔ عوام سے میری مراد عامۃ الناس اور غریب عوام ہیں۔
10۔ذات پات کے نظام اور صوبائی عصبیتوں کا خاتمہ۔ (یہاں میں یہ بات پوچھنے میں شاید حق بجانب ہوں گا کہ اِن دس نکات میں سے ہم نے کس پر اور کہاں تک عمل کیا؟)
قائداعظم نے اِن نکات کو بیان کرنے کے بعد فرمایا: ’’اب آپ آزاد ہیں۔ اس مملکت پاکستان میں آپ آزاد ہیں۔ اپنے مندروں میں جائیں، اپنی مساجد میں جائیں یا کسی اور عبادت گاہ میں۔ آپ کا کسی مذہب، ذات پات یا عقیدے سے تعلق ہو، کاروبارِ مملکت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں‘‘۔
آخر میں یہ بھی فرمایا کہ: ’’جیسے جیسے زمانہ گزرتا جائے گا نہ ہندو ہندو رہے گا، نہ مسلمان مسلمان۔۔۔ مذہبی اعتبار سے نہیں، کیونکہ یہ ذاتی عقائدکا معاملہ ہے بلکہ سیاسی اعتبار سے اور مملکت کے شہری کی حیثیت سے‘‘۔
حضراتِ گرامی! یہی دو پیراگراف ہیں جن کی بنیاد پر کچھ لوگ پاکستان کو سیکولر اسٹیٹ تصور کرنے کے حق میں ہیں۔ لیکن وہ اس حقیقت سے آشنا نہیں ہیں کہ یہ دونوں پیراگراف میثاقِ مدینہ میں بھی موجود ہیں۔ یہ پیراگراف اقلیتوں سے معاملات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ بات میں نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ یہ تحقیق قائداعظم اور تحریکِ پاکستان کے ضمن میں بین الاقوامی شہرت یافتہ محقق پروفیسر شریف المجاہد کی ہے اور جسے گزشتہ بیس سال کے دوران کسی جانب سے بھی رد نہیں کیا گیا۔ اسی نوعیت کی ایک تحقیق معروف قانون دان سیّد شریف الدین پیرزادہ نے بھی اپنے ایک مضمون میں درج کی ہے۔ پروفیسر شریف المجاہد اور سیّد شریف الدین پیرزادہ کے مضامین روزنامہ ڈان میں شایع ہوچکے ہیں۔ یہاں میں یہ عرض کرتا چلوں کہ قائداعظم محمد علی جناح نے تحریکِ پاکستان کے دوران یا قیامِ پاکستان کے بعد اپنی تقاریر میں کبھی نظریاتی حوالے سے سیکولر کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ افسوس یہ کیسا غیر اخلاقی رویہ ہے کہ ایک ایسا لفظ قائداعظم کے نظریات سے منسوب کیا جاتا ہے جو کبھی آپ نے لادینی معانی میں اپنی زبان سے ادا ہی نہیں کیا۔
حضراتِ گرامی! مجھے احساس ہے کہ میں نے آپ کا بہت وقت لے لیا لیکن یہ موضوع ہی ایسا ہے جس سے سرسری طور پر گزرا نہیں جاسکتا۔ قائداعظم کے کسی بیان یا نکتہ نظر سے سیاسی روایت کے پیش نظر یا آزادئ اظہار کی تائید میں اختلاف تو کیا جاسکتا ہے لیکن اُس کی حقیقی معنویت کو تاویلات میں الجھاکر یا اُس میں اپنے نکتۂ نظر کی مماثلت تلاش کرنے کی کوشش ایک واضح بددیانتی ہے۔ ایک مخصوص مکتبۂ فکر قائداعظم کے خیالات کو اپنے نظریات کے آئینے میں پیش کرتا ہے جو یقیناًبابائے قوم قائداعظم کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے۔ شاید اسی لیے یہ مخصوص طبقہ قراردادِ مقاصد کو بھی مطعون کرتا رہتا ہے اور اس کی ضرورت و اہمیت سے انکاری ہے، جبکہ قراردادِ مقاصد اپنے متن میں قائداعظم کی حقیقی فکر کی ترجمان ہے۔
حضراتِ گرامی! قراردادِ مقاصد قائداعظم کے انتقال کے تقریباً چھے ماہ بعد یعنی 12مارچ 1949ء کو پاکستان کی آئین ساز اسمبلی میں پیش کی گئی۔ پاکستان کی آئین سازی کی تاریخ میں ’’قراردادِ مقاصد‘‘ ایک بنیادی دستاویز ہے۔ اس قرارداد میں نہ صرف قوم کے مخصوص تاریخی ورثے کی عکاسی کی گئی ہے بلکہ اس میں قائداعظم محمد علی جناح کے افکار و خیالات کی روشنی میں قومی نصب العین کا تعین بھی کیا گیا ہے۔ قراردادِ مقاصد میں اُن اصولوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن کی بنیادوں پر مستقبل میں پاکستان کا آئین مرتب کیا جانا تھا۔ اسی لیے اس قرارداد کو آئین ساز اسمبلی نے منظور کرکے پاکستان کے مجوزہ آئین کے دیباچے کی حیثیت دے دی۔ پاکستان کے تمام آئین اسی قرارداد کی روشنی میں مرتب کیے گئے ہیں۔
حضراتِ گرامی! یہاں اس قرارداد کے نکات کی تفصیل بیان کرنا ممکن نہیں لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر یہ قرارداد منظور نہ کی جاتی تو پاکستان کے آئین کو قرآن و سنت اور قائداعظم کے افکار کے مطابق خطوط میسر نہ آتے، اور وہ طبقہ جو انگریزوں اور ہندوؤں کے زیرِاثر پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنانے کے لیے کوشاں تھا اپنے مقاصد میں کامیاب ہوجاتا اور ہم تحریکِ پاکستان اور مطالبۂ پاکستان کے حقیقی مقاصد سے روگردانی کے مرتکب ہوجاتے۔ اس قرارداد نے پاکستان کی نظریاتی حیثیت کا تعین کیا اور ہم کو اپنی نومولود ریاست کو ’’اسلامی جمہوریۂ پاکستان‘‘ کہنے کا اعزاز بخشا۔ اور یہ سب کچھ بانئ پاکستان کی دُوراندیشی، بصیرت اور اپنے مقاصد سے گہری اور ناقابلِ شکست وابستگی کے نتیجے میں ہوا۔ اور ہم اس پر فخرمند ہیں۔
nn

Share this: