انٹرویو منور حسن/احباب جمعیت

Print Friendly, PDF & Email

فرائیڈے اسپیشل: آپ کے ناظم اعلیٰ بننے تک جمعیت سے فارغ لوگوں کا معاشرے میں اثر و نفوذ شروع ہوچکا تھا جب آپ ناظم اعلیٰ بنے ان سابقین کو جمع کرنے کے لیے کیا کیا گیا؟
منورحسن : مولانامودودی نے جب برصغیر ہندو پاک کے لوگوں سے بات کرنا شروع کی ان کی تحریروں کو لوگوں کے دل و دماغ میں جگہ ملی اور ان کے طور طریقے اور رویے لوگوں تک پہنچنا شروع ہوئے تو ایک بات انہوں نے تسلسل کے ساتھ کہی کہ معاشرے میں نیکی غیرمنظم ہے اور بدی کی قوتیں اور بدی کے سوتے یکجا و تازہ دم ہین زیادہ منظم ہیں پیرائے کے اندر اپنے پھیلنے کے اہتمام بھی کررہے ہیں اور وہ لوگوں کو متاثر کرکے اپنا ہم نوا بھی بنارہے ہیں اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ نیکی کو منظم کیا جائے۔ منظم ہونے کے نتیجے مین اس کی قوت میں اضافہ ہوجائے اور اس سے اس کو اپنی حیثیت کا بھی اندازہ ہوگا اور بحیثیت مسلمان جو ذمے داری ہے۔ معروف کی جمع بندی منکر کی جھاڑ جھنکاڑ سے لوگوں کو پاک کرنا اور دعوت الی اللہ کی طرف لوگوں کو بلانا اور لوگوں کو جمع کرنا اور ان کے ذہن کے تمام گوشوں کو صاف ستھرا بنانے ان کے سوالوں کا جواب دیا اعتراضات دفع کرنے کی کوشش کرنا ۔ یہ تحریک معاشرے میں شروع ہوجائے مسلمانوں کی تاریخ میں کوئی بھی لمحہ ایسا نہیں گزرا جب ان کے ہاں بدی کی قوتیں مضحمل اور کمزور ہوکر ایک طرف ہوجائیں اور نیکی کی قوتیں منظم ہوکر معاشرے کے اندر چلتی پھرتی نظر آئیں۔ نیکی اپنی تعداد کے لحاظ سے اپنے میلانات اور رجحانات کے اعتبار سے لوگوں میں اثر و نفوذ کے حوالے سے بہت بڑی قوت ہے لیکن غیرمنظم اور منتشر ہونے کی وجہ سے اس کے اثرات معاشرے پر کم پڑتے ہیں یا بالکل نہیں پڑتے اور وہ معاشرے میں تبدیلی پیدا کرنے میں اپنا کوئی بڑا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کا حوالہ اس اعتبار سے بہت مضبوط ہے کہ جمعیت نے نہ صرف یہ کوشش کی ایک طالب علم دور طالب علمی میں السام کی حقانیت کو سمجھ لے‘ اسلام کو ایک نظام حیات ایک انقلابی دین کی حیثیت سے جان جائے اور اسلام کی خدمت کے لیے اور اپنی ذمے داری جو اقامت دین کے سلسلے میں اس پر عائد ہوتی ہے اس کے لیے ہمہ تین آمادہ و تیار و پیکار ہوجائے۔ اسی کے ساتھ ساتھ طالب علمی کے دور ختم ہونے کے بعد اپنے آپ کو ان چیزوں سے الگ تھلگ نہ کرے اور اسی نظام کو کل پرزہ بن کر اس کی خدمت میں جت نہ جائے بلکہ اس نظام کے اندر مجبوراً حالت اصطرار میں اگر رہنا صروری بھی ہے جتنا وقت اس نظام کو مضبوط کرنے میں دیتا ہے اتنی ہی وقت اس نظام کو تہس نہس کرنے ‘ اس کی خرابیوں سے لوگوں کو آگاہ کرنی اور اس کے خلاف معاشرے میں ایک تحریک منظم کرنے میں صرف کیا جائے۔ اسی لیے حلقہ احباب اس سلسلے کی ایک کڑی نہیں بلکہ واحد کڑی سمجھی جاسکتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ نیکی کا یہ معاملہ کم و بیش واضح ہے کہ نیکی انفرادی دائرے کے اندر بھی اور اس سے باہر بھی دل و دماغ میں سرایت کرتی ہے۔ لوگوں کو یہ پرکشش انداز میں اپنی طرف بلاتی ہی اور نیکی کے سوتے کم اور خشک نہیں ہوتے بلکہ فی الحقیقت معاشرے کے اندر ایک تحرک ایک سرگرمی کو ایک جدوجہد کو احتجاج کو جنم دیتے ہیں۔ نیکی کے اپنے اندر یہ قوت موجود ہے۔ اگر نیکی کو لے کر لوگ اٹھ کھڑے ہوجائیں تو جو قوت اس کی ہوسکتی ہے وہ جیومیٹریکل پرپورشن میں نظر آئے گی۔ یہ بات واضح ہے کہ حلقہ احباب کا کام تو موجود ہے کہ جن لوگوں نے جمعیت میں دو چار پانچ دس سال گزارے ہیں اور جو ان کی ذہنی‘ علمی او رفکری تربیت ہوئی ہے اور نظاموں کی کشمکش سے ان کو آگاہی ہوئی ہے اور قرآن و سنت کا پیرایہ ان کے سامنے واضح اور دوٹوک انداز میں نکھر کر آغیا ہے۔ وہ اپنے طور پر کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔ کہیں جمع کرتے ہیں پرانے رسائل لوگوں تک پہنچاتے ہیں اور نئے رسائل تک لوگوں کی رسائی ممکن بناتے ہیں۔ اپنے اعزازواقارب کے اجتماعات بھی کرلیتے ہیں جس میں بے تکلفی سے بات کی جاسکتی ہی اور کوشش کرتے ہیں کہ جس طرح کے لوگ جمع ہورہے ہیں اس طرح کا کوئی مقرر بھی آجائے جو بات کرسکے اور متاثر کرے یا خوشی اور غمی کی تقریبات میں یہ لفظ تو اچھا نہیں ہے کہ یہ خوشی اور غمی کی تقریبات میں پیوندکاری کرتے ہیں۔ یہ نہیں کہ پوری تقریب کو اس رنگ میں ر نگ دیں اس سانچے کے اندر ڈھال دیں ان ترجیحات کو واشگاف کردیں جو اسلام کا خوشی اور غمی کے بارے میں ہمیں نظر آتی ہیں جہاں کچھ خرافات کا منظر نامہ نظر آتا ہے یا اگر خرافات زیادہ سخت لفظ ہو جہاں اصول اور کلید سے ہت کر کچھ سرگرمیاں دکھائی دیتی ہوں وہاں اس کے ساتھ ساتھ اللہ رسول کی طرف بلانے اور لوگوں کو یاد دہانی کرانے کا اہتمام کرنے اور تذکیر کے عنوان کو مضبوط کرنے کی کوشش بھی کرتے ہوں پھر یہ کہ جو نظام قائم ہے اس کے بارے میں باآسانی یہ بات تو کہہ دی جاتی ہے کہ اس نظام کا حصہ بننے بغیر اس کے خلاف جدوجہد کی جائے۔ ناواقفیت اور لاعلمی کی بنیاد پر یہ بات کہی جاتی ہے۔ آپ کا معاشرے کے اندر زندہر ہنا اور سانس لینا اپنے کھانے کے لیے غذا فراہم کرنا اور اپنے تن کو ڈھانپنے کے لیے کپڑا لینا اور آپ کی ذمے داری جن لوگوں خی بنتی ہے ان کو پالنا پوسنا بڑا کرنا تعلیم سے آراستہ کرنا یہ سارے کام معاشرے میں نظام کو تقویت دینے کا باعث تو بنتے ہیں۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے کہ ایک میز کی اوپر کچھ لوگ وہ بیٹھے ہوں کہ جو حرام و حلال کی تمیز نہیں کرتے اور سور کا گوشت کھارہے ہوں اور اسی میز کے دوسرے کونے میں کچھ وہ لوگ بیٹھے ہوں کہ جو حرام کو حرام سمجھتے ہیں اور حلال کو حلال جانتے ہیں لیکن حالت اصطرار میں سور کھانے پر اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں تو بالکل واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ امر مجبوری اور بحالت اصطرار اس حرام خنزیر کو کھارہے ہین ان کی شکلیں بنی ہوئی ہوں گی اس کو قے آرہی ہوگی لیکن جان بچانے کے لیے اور حالات سے وقتی طور پر سمجھوتا کرنے کی مجبوری ان کی آڑے آگئی ہو جب کہ اسی میز پر دوسرے لوگ یہ کام باآسانی کررہے ہوں گے اور بخوشی انجام دے رہے ہوں گے۔ اب اگر کوئی شخص حالت اصطرار والوں سے یہ پوچھ بیٹھے کہ یہ آپ کیا کررہے ہیں آپ تو حرام و حلال کو جانتے ہیں اور وہ کہیں کہ ہم حالت اصطرار میں ہیں جان پر بنی ہوئی ہے ہم یہ کام کرنے پر مجبور ہیں اور وہ پن پوائنٹ نشاندہی کریں کہ آپ نے تو سور کی ڈشیں سجا رکھی ہیں۔ خنزیر کی بریانی بھی ہے قومرہ بھی ہے اور خنزیر کا قیمہ بھی ہے اگر آپ حالت اصطرار میں ہیں تو اتن اہی استعمال کریں کہ جس کے نتیجے میں جان بچ جائے اس کی ڈشیں سجانا تو اس کے برابر ہے جو سامنے بیٹھے لوگ کررہے ہیں۔ احباب میں ایسے لوگ بھی شاید مل جائیں گے کہ اس شناخت کے ساتھ اپنے ہوتے کوئی اور راستہ نظر نہیں آتا انہیں سوچنا چاہیے کہ کتنا وقت اس نظام کو مضبوط کرنے میں د یتے ہیں اور کتنا وقت اس نظام کے خلاف نعرے لگاتے ہیں اور لوگوں کو ہم نوا بناتے ہیں۔ میرا اپنا تاث ریہ ہے کہ بہت بڑی تعداد وہ لوگ جو انفرادی حیثیت رکھتے ہیں جنہوں نے کسی تنظیم یا کوئی پلیٹ فارم دینی اعتبار سے نیکی کے اعتبار سے اپنایا نہیں ہے لیکن کچھ نہ کچھ کام کرتے نظر آتے ہیں انفرادی دائرے میں اور کچھ لوگ وہ ہیں جو اس سے ہٹ گئے اس لیے احباب کا آپس میں خلا ملا اور رابطے کے اندر یہ ایجنڈا واضح ہے کہ ان خطوط پر لوگوں کو ایک بار پھر دعوت پیس کریں ایک بار پھر ہم نوا بنائیں ایک یا پھر بحث و مباحثے کے نتیجے میں اور مطالعے اور محاکمے کے نتیجے میں لوگوں کو معاشرے میں جو تحریکیں موجود ہیں اس لیے کہ وقت اتنا گزر گی اہے پانی پلوں کے نیچے سے اتنا گزر گیا ہے کہ اب مسلمانوں کا معاشرہ یا مسلمانوں کی کالونی کی اجتماعیت ایسی نہیں ہے کہ وہ یہ نہ جانتی ہو کہ آچ اسلامی گردونواح میں کہاں ہے پوری دنیا میں جہادی تہریکوں میں اسلامی تحریکوں میں ‘ بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر رب کی کی غلامی میں لانے کی تحریکوں میں پوری دنیا میں معاملات کو ٹھیک لے کر چلنے والی تحریکوں نے اپنا اثر و رسوخ قائم کیا ہے اور میں بطور مثال پیش کروں خہ جو ضروری ہے کہا سلامی تحریکوں نے لوگون خو جو ذہن دیا ہے اس میں یہ بات مختلف پیرائے میں یہ بتائی اور سمجھائی ہے کہ مسئلہ تحریکوں کے حوالے سے کسی علاقے اور کسی زبان‘ کسی ملک کا کسی سامراج کا نام لے کر اس کا نہیں ہے مسئلہ تہذیبوں کے درمیان کشمکش کا ہے۔ دنیا کے اندر نظر آتاہے کہ سیاسی طو رپر لوگ الیکشن میں کامیاب ہوگئے پارٹیاں کامیاب ہوگئیں ان کی پالیسیاں چل رہی ہین ان کے منشور چل رہا ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا بلکہ یہ تاثر ہے کہ کون سی تحریک ڈھلان کی طرف چل رہی ہے اور کون سی تحریک چڑھائی کی طرف چل رہی ہے اترائی کی طرف چلنے والی تہذیبیں اور چڑھائی کی طرف چلنے والی تہذیبی ان میں وہ تہذیبیں جو ڈھلان پر چل پڑتی ہیں ان کو ڈھلان سے نکال کر بلندیوں جی طرف رفعتوں کی طرف لے جانے کے لیے جس قیادت کی ضرورت ہوتی ہے وہ کتابوں کے اندر بھی متلی ہیں اور زبان زد عام بھی ہوتی ہیں اور سب کو نظر بھی آتی ہے کہ کون کیا کررہا ہے یہ بات بیچ میں اس لیے آگئی کہ لوگوں کو یہ بات محسوس کرنا چاہیے کہ انفرادی دائرے میں بہت ساری کوششیں اور انفرادی دائرے میں انسان کا نیک ہونا بھلا ہونا، اچھے کردار کا مالک ہونا، فرائضی کا پابند ہونا، واجبات کا ادا کرنا، فرائض، واجبات اور نوافل جو ہیں (مالیات) کے سلسلے میں ہی نہیں ہیں بلکہ از اعمال کے حوالے سے بھی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے عائد ہیں ان رویوں اور طور طریقوں اور اخلاقیات کے سلسلے میں بھی ہیں کہ خاندان کے حقوق کے حوالے سے بھی ہیں۔ جو سب کو معلوم ہیں لہٰذا انفرادی نیکی بالآخر کامیابی سے ہم کنار نہیں ہو پاتی۔ انفرادی نیکی لوگوں سے اپنے آپ کو سنوا نہیں پاتی اپنا تعارف صحیح طور پر پیش نہیں کرپاتی جب تک کہ وہ اجتماعی شکل نہ اختیار کر لے اور اجتماعی شکل بھی کسی کمرے میں بند ہو کر اور اپنے آپ کو لوگوں سے الگ تھلگ رکھ کے سب سے کٹ کر اجتماعی شکل نہیں پیدا ہوتی جب تک جدوجہد نظر نہ آئے آنکھوں سے دکھائینہ دے لوگ نئے فلسفے کی طرف بڑھیں نظریات کی طرف بھی آگے بڑھیں لوگوں خو اس بات کا اندازہ ہو کر تہذیبوں کی اس جنگ کے اندر ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں۔ میرا تو خیال یہی ہے کہ آج کل جو اسلامی تحریکیں ہیں بحیثیت مجموعی ان میں دعوت دین یدعون الی الخیر کا اتنا ؟؟؟ آگیا ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر اس دعوت کو اس پیغام کو نشر کیا ہے کہ اس کی پہنچ اور رسائی سب جگہ ہو گئی ہے۔ اس لیے میں یقین کی بنیاد پر یہ بات بھی کہہ دیتا ہوں کہ مسلمانوں کے معاشرے میں مسلمانوں کے مقابلے میں وہ لوگ دنیا کے اندر جو مسلم معاشرے سے تعلق نہیں رکھتے اور غیر مسلم معاشرے میں اسلام دشمن پیرائے میں اپنے آپ کو متعارف کراتے ہیں ان تک یہ بات دو اور دو چار کی طرح پہنچ گئی ہے کہ جو اسلامی تحریکیں ہیں وہ غلبہ اسلام کے لیے کوشاں ہیں اور ان کا مطمع نظر پورے دین کو نافذکرنا ہے لہٰذا ان کی بالکل چھٹی کر دینی چاہیے ان کو کلسٹر بموں اور نیپام بموں سے ختم کر دینا چاہیے۔ مسلم معاشروں میں شاید لوگ یہ بات صحیح طرح نہیں سمجھ سکے ہیں کہ اسلامی تحریک غلبہ دین کی تحریکیں ہیں بعض اوقات ہمارے اپنے جلو میں چلنے والے بھی جو سوال جواب کرتے ہیں اس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ابھی تک سمجھے نہیں ہیں کہ یہ غلبہ دین کی تحریک ہے انقلاب دین کے حوالے کو مضبوط کرتی ہے اور جو بظاہر رنگا رنگی اور چمک دمک نظر آتی ہے اس سے سے سمجھتے ہیں کہ دوسری تہذیبی کامیابی کی طرف گامزن ہیں۔ حالانکہ تاریخ کے اوراق پر یہ بات بار باردیکھنے کو ملتی ہے اور پڑھنے میں آتی ہے کہ بعض اوقات تہذیبیں ظاہری کامیابیاں حاصل کر کے لوگوں میں اپنے لیے گنجائش پیدا کر کے ٹوٹ پھوٹ کا کا شکار ہو رہی ہوتی ہیں پتا نہیں چلتا وہ تحریکیں جو بظاہر اپوزیشن میں نظر آتی ہیں اور تحریکوں کی شکل اختیار کر چکی ہیں وہ گھاس میں پانی کی طرح پھیل رہی ہوتی ہٰں اور اپنے لیے جگہ بنا رہی ہوتی اور لوگوں کے دلوں میں گنجائش پیدا ہو رہی ہوتی ہے لوگوں میں ان کی اثرپذیری میں اضافہ ہو رہا ہوتا ہے اور بطور تہذیب اپنے آپ کو جا بجا منوا رہی ہوتی ہیں۔ اس لیے انفرادی نیکی کے حوالے سے اتنے لوگ معاشرے میں موجود ہوتے ہیں اور جمعیت نے یہ کام کیا ہے اس نے جہاں ارکان جماعت دیے ہیں اور کارکنان جماعت فراہم کیے ہیں مختلف تحریکوں ک ے اندر موجود لوگ بھی یہاں سے نکل کر وہاں پہنچے ہیں لیکن ذہن سازی کے نتیجے میں یہ بات سمجھی ہے سمجھانے کی کوشش کم سے کم نظر آتی ہے کہ لوگوں کے اندر یہ یقین پختہ ہوتا چلا جائے کہ ہم کشمکش کا حصہ بنیں گے جدوجہد کا پیرایہ اختیار کریں گے ہماری بات دور تک پہنچے گی اور دل و دماغ کو مسحور کرے گی تو وہ ہمارے ساتھ ہم نوا بن کر جو کام کریں گے وہ کل کے اور پرسوں کے مقابلے میں جلد نیتجہ خیز ہوں گے اور حالات کی بہتری کا عنوان بنیں گے۔
فرائیڈے اسپیشل: گزشتہ 70 سال میں پاکستان میں اسلامی تحریکیں خاص طورپر جمعیت اس حد تک نفوذ کر چکی ہے کہ کسی تبدیلی کی امید باندھی جا سکتیہے یا اس میں ہم کسی کمزوری کا شکار ہو گئے ہیں، اور جمعیت سے فارغ افراد جو خصوصی مقام رکھتے ہیں انہوں نے معاشرے میں کیا کردار ادا کیا ہے؟
منورحسن: اسی سوال میں بھی بڑی گھمبیرتا ہے۔ کسی معاشرے کے اندر عام حالات میں پائی جانے والی اجتماعیت میںیہ طاقت یہ سکت نہیں ہوتی کہ وہ ایک بنے بنائے اور ڈھلے ڈھلائے اور قائم شدہ نظام کو زمین بوس کر دے اور ٹکڑے ٹکڑے کر کے ذہنوں سے ناپید کر دے۔ معاشرے میں جو تحریکیں عوامی سطح پر اٹھتی رہتی ہیں اور بعض تحریکوں میں عوام کی بہت بڑی تعداد چلتی پھرتی نظر آتی ہے اس کے نتیجے میں جن جو لوگ بڑے لیڈر شمار ہتے ہٰں ان کا کوئی رول نہیں ہوتا کہ وقتی اور عارضی طور پر لوگوں کے دلوں کی دھڑکنیں تیز کر دیں کچھ نئے نعرے لوگوں کے حوالے کر دے ایک خواب زیادہ سے زیادہ دکھا دے کہ معاشرے میںیہ ہو رہا ہے۔

Share this: