(مغرب میں بڑھتی ہوئی انہاپسندی (حامد ریاض ڈوگر

Print Friendly, PDF & Email

کہیں اور نہیں، یہ واقعہ دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں پیش آیا جس کے علاقے ’بیلویو‘ کی جامع مسجد، جسے ’’اسلامک سینٹر آف ایسٹ سائیڈ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، کو ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب پونے تین بجے جب کہ وہاں کوئی شخص موجود نہیں تھا، آگ لگا دی گئی۔ مسجد کا نصف حصہ آتشزنی کی اس دہشت گردانہ کارروائی میں جل کر تباہ ہوگیا، بیلویو کے فائر فائٹرز کے مطابق آگ مسجد کے عقبی حصے میں لگائی گئی تھی اور متاثرہ حصے سے چالیس فٹ اونچے شعلے بلند ہوتے دیکھے گئے تھے۔ آتشزنی کی اس واردات کے بعد مسجد غیر معینہ مدت کے لیے بند کردی گئی ہے۔ توقع ہے کہ مسجد کی تعمیرنو کا کام ان شاء اللہ جلد شروع ہوجائے گا اور فرزندانِ توحید کو دوبارہ یہاں سجدہ ریز ہونے کے لیے زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑے گا، کیوں کہ مسجد کی تعمیرنو کے لیے رقم کی فراہمی کی اپیل فوری طور پر کردی گئی ہے جس پر مقامی مسلمانوں سے مثبت اور سریع الاثر ردعمل کی امید کی جارہی ہے۔
مقامی پولیس نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ یہ آتشزدگی نہیں آتشزنی کا واقعہ ہے، یعنی آگ اتفاقیہ یا حادثاتی طور پر نہیں لگی بلکہ جان بوجھ کر لگائی گئی۔ اس آتشزنی کے الزام میں پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کرکے جیل بھی بھیج دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ مشتبہ شخص 37 سالہ آئزک وائن ولسن ہے جو بے گھر ہے اور مسجد کے متاثرہ پچھلے حصے میں پڑا ہوا پایا گیا تھا۔ پولیس نے اس سے ابتدائی تفتیش بھی مکمل کرلی ہے، تاہم پولیس کو اس تفتیش کے دوران واقعہ کے محرکات کا علم نہیں ہوسکا۔
امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسلام اور مسلمان دشمن خیالات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران کوئی لاگ لپیٹ رکھے بغیر اسلام، مسلمانوں اور اسلامی شعائر پر کھل کر تنقید کرتے رہے۔ انہوں نے ان سب کو امریکہ سے نکال باہر کرنے کے عزائم کے اظہار میں بھی کسی بخل سے کام نہیں لیا تھا اور واضح الفاظ میں مسلم دشمن لابی کی حمایت، پاکستان کے دشمن بھارت سے زیادہ قریبی برادرانہ تعلقات اور اسرائیل میں امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے دوٹوک اعلانات کیے۔ چنانچہ مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ بھی ہو وہ اچانک اور غیر متوقع نہیں ہوگا۔۔۔ یہ الگ معاملہ ہے کہ مسلمانوں اور ان کے حکمرانوں نے اس صورت حال سے نمٹنے اور اس کی پیش بندی کے لیے عملی اقدام تو دور کی بات ہے، ابھی تک سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔
مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ کو داد دی جانی چاہیے کہ انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنی نفرت اور متعصبانہ سوچ کے اظہار میں کسی منافقت کا مظاہرہ نہیں کیا اور ایک کھلے دشمن کے طور پر سامنے آئے ہیں، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ ہی نہیں پورا یورپ بلکہ ساری غیر مسلم دنیا، مسلمانوں کے خلاف ادھار کھائے بیٹھی ہے اور ’’الکفر ملتِ واحدہ‘‘ کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ دنیا بھر میں ہر جگہ مسلمان جرم بے گناہی بلکہ جرم ضعیفی کی سزا کے طور پر مرگِ مفادات سے دوچار ہیں۔ کون سا خطہ ہے جہاں مسلمان محفوظ ہوں اور انہیں جان کے لالے نہ پڑے ہوں! جہاں تک مغرب کا تعلق ہے ’’مسلمان‘‘ کا لفظ ’’دہشت گرد‘‘ کا مترادف قرار پا چکا ہے اور اسی دہشت گردی کی آڑ میں انہیں طرح طرح کی ذہنی و جسمانی اذیتوں سے گزارا جارہا ہے۔ پردے کے اسلامی حکم کی تضحیک کے بعد اب جبراً اسے ممنوع ٹھیرایا جا رہا ہے اور ایک ایک کرکے تمام ملکوں میں برقع ہی نہیں، اسکارف تک اوڑھنے پر پابندی عائد کی جارہی ہے۔ مسلمانوں خصوصاً دین سے محبت کرنے والے خواتین و حضرات سے جہازوں، ریل گاڑیوں اور سڑکوں پر سفر کے دوران بدسلوکی روزمرہ کی بات بن چکی ہے، ان پر جملے کسے جاتے ہیں، بات بات پر انہیں مطعون کیا جاتا اور دہشت گرد و انتہا پسند کے القابات سے نوازا جاتا ہے۔ یوں ان کے لیے گھروں سے نکلنا بلکہ جینا محال بنادیا گیا ہے۔ آئے روز اشتعال انگیز کارروائیاں غیر مسلموں کی جانب سے کی جاتی ہیں مگر دہشت گردی اور انتہا پسندی کے الزامات اور مقدمات کا سامنا مسلمانوں کو کرنا پڑتا ہے۔ امریکی ریاست واشنگٹن کی ’’بیلویو مسجد‘‘ میں آتشزنی اشتعال انگیزی کی پہلی مثال نہیں بلکہ مغرب میں اب ایسے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ مساجد اور اسلامی مراکز پر اس نوعیت کے اشتعال انگیز اور نفرت آمیز درجنوں واقعات اب تک رونما ہوچکے ہیں۔ ’’بیلویو مسجد‘‘ میں آتشزنی کی واردات سے محض ایک روز قبل فرانس میں مسجد کی بے حرمتی کی گئی اور فرانسیسی شہر ’وی ژون‘ کے مضافاتی قصبے ’گینلس‘ میں جمعۃ المبارک کے روز مسجد کے بیرونی جنگلے کی سلاخوں پر ایک دو نہیں چھ خنزیروں کے سر لٹکا دیئے گئے۔ خنزیر سے مسلمانوں کی نفرت اور اس سے متعلق قرآن پاک کے احکام محتاجِ بیان نہیں۔۔۔ سؤر کے سر مسجد کے سامنے لٹکانے کا مطلب کیا ہے اور اس کا مقصد آخر مسلمانوں کو مشتعل یا خوفزدہ اور مرعوب کرنے کے سوا آخر کیا ہوسکتا ہے!
یہ صورتِ حال تو مغرب یا عیسائی دنیا کی ہے جو صبح شام انسانی حقوق بلکہ جانوروں کے حقوق کے تحفظ کی مالا جپتے نہیں تھکتی۔۔۔ یہود و ہنود یعنی اسرائیل اور بھارت جیسے ممالک میں مسلمانوں کے حالات مغرب سے بھی کہیں بدتر ہیں۔۔۔ اور مغرب کی مہذب دنیا ان حالات کو مزید ابتری کی جانب لے جانے کے لیے ان دونوں ممالک کی ہر ممکن سرپرستی بھی کررہی ہے اور انہیں ہر سطح پر تحفظ بھی فراہم کررہی ہے۔
اس معاملے کا ایک نہایت اہم پہلو یہ بھی ہے کہ فرض کیجیے کہ خدانخواستہ پاکستان یا اسی طرح کے کسی دوسرے مسلمان ملک کے کسی دور دراز گاؤں میں غیر مسلموں کی کسی چھوٹی سی عبادت گاہ میں اسی نوعیت کا کوئی واقعہ پیش آجاتا تو کیفیت کیا ہوتی؟ کیا پوری دنیا میں ایک طوفان برپا نہ ہوجاتا۔۔۔! اور مساجد میں ہونے والے ان واقعات کی کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دی گئی اور انہیں یوں دبا دیا گیا ہے کہ گویا کچھ ہوا ہی نہیں، محض معمولی سی بات ہوئی اور ختم ہوگئی، چند سطری ایک خبر سب نہیں
(باقی صفحہ 41پر)
بعض ذرائع ابلاغ میں دیکھنے میں آئی اور بس۔۔۔ کسی کو نہیں معلوم کہ حملہ آور عیسائی تھے یا یہودی؟ وہ کون ہیں؟ ان کا مذہبی و خاندانی پس منظر کیا ہے؟ کسی کو اس سے غرض نہیں۔ اس کے برعکس صورت حال کا تصور کیجیے۔ اگر یہی کارروائی کسی غیر مسلم عبادت گاہ میں ہوتی اور اس میں ملوث فرد یا افراد مسلمان ہوتے تو کیا اس واقعہ کی معمولی معمولی جزئیات پر مبنی خبر اور تصاویر پر مشتمل تفصیلات گھنٹوں پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ سے نشر نہ کی جاتیں؟ اور یہ سلسلہ یعنی فالو اپ کئی روز تک جاری نہ رہتا۔۔۔؟ تمام اینکر حضرات اپنے کئی کئی پروگرام اس واقعہ کے لیے وقف کرچکے ہوتے جن میں اب تک کئی انکشافات ہوچکے ہوتے کہ حملہ آور کا تعلق مسلمانوں کے کون سے فرقہ یا تنظیم سے ہے، اس نے کہاں کہاں کے سفر کیے ؟ کہاں کہاں پڑھتا رہا؟ کس دینی مدرسے میں اسے کب جاتے دیکھا گیا؟ اس نے اپنے بچپن میں کون کون سے عالم دین کی کتب کا مطالعہ کیا تھا؟ اس کارروائی کی منصوبہ بندی کہاں کی گئی؟ اور اس کے لیے کہاں کہاں سے کتنی کتنی فنڈنگ ہوئی۔۔۔ اور نہ جانے مزید کیا کیا تفصیلات اس ’’مسلمان دہشت گرد‘‘ کے بارے میں طشت ازبام کی جا چکی ہوتیں۔۔۔ مگر زیربحث واقعات کے ملزم چونکہ مسلمان نہیں، اس لیے ان کے بارے میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے حوالے سے تو ظاہر ہے سوچنا بھی ازخود دہشت گردی ہے۔ شاعر نے ایسی ہی کیفیت میں کہا تھا ؂
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

Share this: