(حخومت اور کشمیر کمیٹٰی پر عدم اعتماد(میاں منیر احمد

Print Friendly, PDF & Email

عین اُس وقت جب پاکستانی قوم دو ہفتے بعد یومِ یک جہتی کشمیر منائے گی، ممتاز کشمیری رہنما سید علی گیلانی نے ایک بیان جاری کیا کہ ’’قومی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن کو کمیٹی کی سربراہی سے فارغ کردیا جائے‘‘۔ ان کے بیان میں یہ جملہ بھی شامل ہے کہ ’’کرپشن کے الزامات کے بعد وزیراعظم پاکستان نوازشریف کی سیاسی ساکھ متاثر ہوگئی ہے۔‘‘ سید علی گیلانی کا یہ بیان سیاسی روایت سے ہٹ کر ہے۔ کشمیری قیادت، چاہے وہ مقبوصہ کشمیر میں ہو یا پاکستان میں، کبھی بھی پاکستان کے سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی، لیکن سید علی گیلانی کا یہ بیان نہایت حیران کن ہے۔ ان کے بیان پر جب فرائیڈے اسپیشل نے کشمیری قیادت سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ بیان اس مہم جوئی کا نتیجہ ہے جو نوازشریف حکومت کے خلاف اپوزیشن حلقے کی جانب سے چلائی جارہی ہے۔ کشمیر کمیٹی کی کارکردگی کو بنیاد بناکر سید علی گیلانی کا ردعمل معلوم کرنے کی غرض سے رابطہ کیا گیا جس پر انہوں نے یہ بیان جاری کیا۔ بہرحال سید علی گیلانی کے اس بیان پر کشمیر کمیٹی کے سربراہ کا جواب بھی اب لازم ہوگیا ہے۔ انہیں اپنی کارکردگی سے ہی جواب دینا ہوگا، اور اسی طرح وزیراعظم نوازشریف کی حکومت کی گردن پر بھی جواب ایک قرض کی صورت میں طوق بن گیا ہے کہ کرپشن کے الزامات کا بوجھ اٹھا کر وہ کشمیر کی وکالت کیسے کرسکتے ہیں؟ جب اس صورت حال پر آزاد کشمیر میں کُل جماعتی حریت کانفرنس گیلانی گروپ کے کنوینر محمد فاروق رحمانی سے رابطہ کیا تو اُن کا جواب تھا ’’نوکمنٹس‘‘۔ پاکستان اگرچہ قیام پاکستان سے اب تک کشمیری قوم کا وکیل ہے اور حقِ خودارادیت کے حصول تک سیاسی حمایت جاری رکھے گا، لیکن جوں جوں وقت آگے بڑھ رہا ہے حالات بھی تلخ ہوتے جارہے ہیں اور اقتدار میں آنے والی پاکستانی سیاسی قیادت بھی اللے تللوں میں الجھتی چلی جارہی ہے، جس سے واقعی کشمیر کے محاذ پر بطور وکیل اسلام آباد کے کردار میں کمزوری پیدا ہوئی ہے۔ یہ دوسری بار ہوا کہ کشمیری رہنما سید علی گیلانی نے کسی پاکستانی حکمران کے بارے میں ایسا بیان جاری کیا ہو۔ اس سے قبل پرویزمشرف نے جب چار نکاتی فارمولا دیا تھا اُس وقت بھی سید علی گیلانی نے نہ صرف اُن سے ملاقات سے انکار کیا تھا بلکہ اُن کے چار نکاتی فارمولے پر بہت سخت ردعمل دیا تھا، جس کے جواب میں پرویزمشرف نے کہا تھا کہ ’’بڈھے کا دماغ چل گیا ہے‘‘۔ لیکن وقت ثابت کررہا ہے کہ کشمیر کے ایشو پر اگر کسی کا دماغ کام کررہا ہے تو وہ سید علی گیلانی ہی ہیں۔ کشمیری رہنما سید علی گیلانی کا بیان ہماری خارجہ پالیسی کا وہ پہلو ہے جسے ہر حکومت چھپاتی رہی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان سے جب اس بارے میں استفسار کیا گیا تو دفتر خارجہ کے لب جس قدر آزاد تھے اسی قدر ان میں جنبش پیدا ہوئی اور ترجمان نے وہی گھسا پٹا اور گھڑا گھڑایا جواب دیا کہ ’’سید علی گیلانی کے بیان کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں‘‘۔
خارجہ محاذ پر حکومت کی ایک اور سبکی ہوئی ہے کہ سینیٹ میں جنرل(ر) راحیل شریف کی مسلم ممالک کے اتحاد کی فوج کے سربراہ کے طور پر تقرری پر وہ کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکی۔ پہلے کہا گیا تھا کہ ان کی تقرری حکومت کی منظوری سے ہوئی ہے، اب سینیٹ میں جواب دیا گیا کہ جنرل (ر) راحیل شریف نے سعودی عرب کی سربراہی میں تشکیل پانے والے فوجی اتحاد کی سربراہی کی کوئی درخواست نہیں دی اور غیر ملکی ملازمت کے لیے اُن کی جانب سے این او سی کی بھی کوئی درخواست نہیں دی گئی۔ سینیٹ میں حکومت نے جواب تو دے دیا لیکن ابھی تک معاملہ ابہام کا شکار ہے کہ غیر ملکی ملازمت کے لیے رولز خاموش ہیں کہ اس کے لیے بھی این او سی چاہیے یا نہیں، اور نہ ہی مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے سینیٹ کو اس حوالے سے کوئی واضح بات بتائی ہے۔ پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سینیٹ میں یہ نکتہ اٹھایا تھا، جس کے جواب میں حکومت نے سینیٹ میں پالیسی بیان دیا۔ لیکن یہ بات ابھی ختم نہیں ہوئی، جب یہ بات مزید آگے بڑھے گی تو یہ اعتراض اٹھایا جاسکتا ہے کہ اُن کی تقرری سینیٹ میں منظور کی جانے والی قرارداد کی خلاف ورزی ہوگی جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کسی بیرونی تنازعے کا حصہ نہیں بنے گا۔ ریٹائرڈ فوجی افسران کی دوبارہ ملازمت سے متعلق وزارت دفاع کے رولز موجود ہیں اور اندرونِ ملک ملازمت کے لیے متعلقہ شخص کو وزارتِ دفاع سے این او سی لینا پڑتا ہے، جبکہ بیرونِ ملک ملازمت کا ان رولز میں ذکر نہیں۔ جنرل (ر) راحیل شریف ملک سے باہر جاکر اتحادی افواج کی سربراہی والی ملازمت یا کوئی اور ملازمت اختیار کریں تو انہیں وزارتِ دفاع سے این او سی لینے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ آئین کی دفعہ 259(1) میں واضح طور پر لکھا ہے کہ پاکستان کا کوئی بھی شہری وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر کسی بھی دوسرے ملک کا کوئی ٹائٹل، اعزاز اور آرائش و زیبائش قبول نہیں کرسکتا۔ اس آئینی دفعہ کا راحیل شریف پر بھی اطلاق ہوتا ہے۔ آئین کی دفعہ 259(1) کے تحت انہیں اتحادی افواج کی قیادت کے لیے وفاقی حکومت سے این او سی لینے کی ضرورت پڑے گی۔ راحیل شریف کو اتحادی افواج کی قیادت کی پیشکش ہوئی ہے تو یہ محض جنرل (ر) راحیل شریف کی ذات اور اُن کی بیرونِ ملک ملازمت کا نہیں بلکہ ہماری خارجہ پالیسی کا بھی معاملہ ہے۔ یقیناًجنرل (ر) راحیل شریف کو بھی اس کا مکمل ادراک ہوگا کیونکہ بطور آرمی چیف اُن کا ایک بااصول شخصیت کا تشخص حاوی رہا ہے تو اب اتحادی افواج کی قیادت کے لیے بھی انہیں ملکی اور قومی مفادات کو پیش نظر رکھ کر ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہیے۔
جنرل(ر) راحیل شریف کی تقرری ہوگی، نہیں ہوگی، یا کب ہوگی؟ یہ تو اب معما ہے، تاہم ملک میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت قائم فوجی عدالتوں کے دوبارہ قیام کے لیے حکومت کے مشیروں نے سرجوڑے ہوئے ہیں۔ اپوزیشن جماعت پیپلزپارٹی سے بھی مشاورت ہوئی، لیکن وہ کچھ لو اور کچھ دو کے بغیر راضی نہیں ہوگی۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے مابین جاری بات چیت میں وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے رویّے کے باعث کچھ مشکلات پیش آرہی ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ حکومت اس معاملے پر پیپلزپارٹی سے کوئی سودے بازی کرے۔ چودھری نثار علی خان نوازشریف کابینہ کے واحد رکن ہیں جو پیپلز پارٹی کا تختۂ مشق بنے رہتے ہیں، اور وہ بھی اس کی جانب سے چڑھایا ہوا ادھار اتارنے میں دیر نہیں لگاتے۔ پیپلز پارٹی کی اُن سے اور اُن کی پیپلزپارٹی سے نہیں بنتی، لیکن یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ان کے تعلقات بہت اچھے تھے۔ ان کے برعکس وزیراعظم نوازشریف ہر قیمت پر میثاقِ جمہوریت پر عمل چاہتے ہیں۔ ’’مٹی پاؤ‘‘ میثاقِ جمہوریت کا دوسرا نام ہے، لیکن وزیر داخلہ کرپشن کے کسی بھی کیس میں زیرو ٹالیرنس چاہتے ہیں۔ ان پر پیپلزپارٹی کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کی بنیاد پر بہت تنقید کی جاتی ہے، حالانکہ اس کے 20 نکات میں سے 11، 12نکات کا تعلق ہی صوبوں سے ہے، اور وزارتِ داخلہ سے متعلق صرف 3،4 نکات ہیں۔ پیپلزپارٹی نے کچھ دنوں سے طوفان اٹھایا ہوا ہے کہ وزیر داخلہ کالعدم تنظیموں کے سربراہوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ مولانا احمد لدھیانوی کی چودھری نثار علی خان سے ملاقات بہت دنوں سے موضوعِ گفتگو بنی ہوئی ہے۔ چودھری نثار علی خان نے اس موضوع پر کھل کر اظہارِ خیال کردیا ہے کہ احمد لدھیانوی، علامہ ساجد نقوی اور علامہ حامد علی موسوی محب وطن ہیں، اور ان کی تنظیمیں کالعدم قرار دی جا سکتی ہیں لیکن ان کی حب الوطنی پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ چودھری نثار علی خان کے بیان پر پیپلز پارٹی کی جانب سے فوری ردعمل آگیا۔ پیپلز پارٹی شاید ان کی پریس کانفرنس کا ہی انتظار کررہی تھی۔ جوابی ردعمل میں کہا گیا ہے کہ ’’وہ دہشت گردوں کے ترجمان بن گئے ہیں۔‘‘
اب آخر میں پاناما کیس کا ذکر ہوجائے۔ اس کیس میں اب نیا منظر سامنے آرہا ہے۔ امکان یہی ہے کہ سپریم کورٹ، فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد ہی فیصلہ دے گی، لیکن وہ کہہ چکی ہے کہ مدعی اور مدعا علیہ دونوں ہی فریق عدالت سے سچ چھپا رہے ہیں۔ جماعت اسلامی بھی کیس میں فریق ہے لیکن اس کی استدعا تحریک انصاف سے مختلف ہے۔ جماعت اسلامی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ سے کمیشن کی تشکیل چاہتی ہے، تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ وہ کمیشن کا بائیکاٹ کرے گی۔ پاناما کیس میں جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے قومی دولت بیرون ملک بھجوانے، آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری، لندن فلیٹس کی خریداری اور مبینہ ٹیکس چوری کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیراعظم کی آئین کے آرٹیکل 62(1-F) کے تحت نااہلی کے لیے متفرق درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی ہے۔ توفیق آصف ایڈووکیٹ کے توسط سے یہ درخواست دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں وفاق پاکستان، کابینہ ڈویژن، اسپیکر قومی اسمبلی اور وزیراعظم نوازشریف کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیراعظم نے غیر قانونی طریقے سے رقوم بیرونِ ملک بھجوائیں، اس وجہ سے ان کا نام پاناما لیکس میں آیا، اور وزیراعظم نے رقوم بیرونِ ملک بھجواکر وہاں جائدادیں خریدیں اورسرمایہ کاری کرکے آف شور کمپنیاں قائم کیں۔ بیرونِ ملک بھجوائی گئی رقوم سے لندن میں چار فلیٹس خریدے گئے تاہم وزیراعظم نے یہ فلیٹس اپنے گوشواروں میں ظاہر نہیں کیے اور لندن فلیٹس خریدتے وقت پاکستان میں ٹیکس نہیں دیا گیا۔ کیونکہ غیر قانونی طور پر رقوم منتقل کی گئیں، وزیراعظم نے جان بوجھ کر جائدادیں خاص طور پرلندن فلیٹس چھپائے اس لیے وہ وزیراعظم پاکستان کے منصب پر فائز ہونے کے اہل نہیں رہے۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ حقائق چھپانے کے باعث نوازشریف صاد ق اور امین نہیں رہے اس لیے آئین کے آرٹیکل 62(1-F)کے تحت انہیں نااہل قرار دیا جائے۔ لیکن تحریک انصاف کا یہ مؤقف نہیں ہے، اور اس کے وکلا بھی عدالت سے کچھ نہیں مانگ رہے۔ اگر کوئی مدعی عدالت سے مانگے ہی نہیں تو پھر عدالت اسے کیا دے سکتی ہے؟
nn

Share this: