(آئین کی شق 62-63(سلمان عابد

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان میں 1973ء کے دستور پر اتفاق پایا جاتا ہے‘ اور اسی دستور کے تحت ریاستی نظام کو چلایا جارہا ہے اور جو بھی ریاست یا حکومت آئین کو نظرانداز کرکے آگے بڑھتی ہے وہ قانون اور آئین شکن کے زمرے میں آتی ہے۔ اگر کسی آئینی شق پر کسی کو اعتراض ہے تو اس میں ترمیم کا طریقہ کار ہے۔ جب تک ترمیم نہیں ہوتی تو کسی کو کوئی شق قبول ہو یا نہ ہو، آئین کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اس پر عمل درآمد کیا جائے۔ پچھلے دنوں سپریم کورٹ میں پاناما مقدمے کی سماعت کے تناظر میں ایک بار پھر آئین کی شق62 اور 63کا تذکرہ کثرت سے سننے کو ملا۔ اس پر وکلا سمیت بعض ججوں نے بھی ایسے ریمارکس دیے کہ جیسے آئین کی یہ شقیں آئین میں موجود تو ہیں، لیکن ان شقوں کا عملی زندگی یا حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ ان شقوں پر اگر ہم عملدرآمد کرتے ہیں تو سارا سیاسی نظام ہی ملیامیٹ ہوجائے گا۔ اگر مان لیا جائے کہ آئین کی ان شقوں پر عملاً عملدرآمد ممکن نہیں تو پھر یہ آئین بھی ایک سطح پر سوالیہ نشان بن جائے گا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ آئین میں جو باتیں پسند ہیں وہ تو قبول ہیں اور جو باتیں پسند نہیں ان کو قبول کرنے سے انکار کیا جارہا ہے! یہ طرزعمل خود آئین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
جب آئین کی شق 62 اور 63 ارکانِ پارلیمنٹ کے ہونے یا نہ ہونے کی شرائط سے جڑی ہوئی ہے تو آئینی تقاضا تو یہی ہے کہ اس پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔ لیکن اس مسئلے پر سیاسی سمجھوتوں کے ذریعے آئین کی ان شقوں کا عملی طور پر مذاق اڑایا جارہا ہے۔ کیا ہم چاہتے ہیں کہ صادق اور امین کے بجائے کرپشن سمیت دیگر مالی، سماجی اور اخلاقی برائیوں میں ملوث لوگ ارکان پارلیمنٹ ہوں؟ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اگر ہم نے اس پر عملدرآمد کیا تو پوری پارلیمنٹ کو ہی فارغ کرنا پڑے گا۔ اگر ایسا ہے تو یہ گھاٹے کا سودا کیسے ہوگیا؟ اگر واقعی ارکان صادق اور امین نہیں تو اُن کو عوامی نمائندگی اور حکمرانی کا حق کیسے اورکیونکر دیا جانا چاہیے؟ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ شفاف نظام کہاں سے لائیں! اور اگر اس طرح کا شفاف نظام درکار ہوگا تو پھر صادق اور امین لوگ کہاں سے ملیں گے! یہ دلیل دے کر ایک سطح پر ہم اپنے ہی معاشرے میں اچھائی کے پہلوؤں کی نفی کررہے ہوتے ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارا نظام اچھے لوگ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ حالانکہ مسئلہ یہ نہیں کہ یہاں اچھے لوگ نہیں ہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ایک ایسا نظام ہم پر مسلط کردیا گیا ہے جو اچھے لوگوں کو سامنے نہیں لاتا، اور ایک مخصوص ٹولہ جو طاقت میں ہے وہ ہماری قسمتوں کا فیصلہ کرنے کے لیے ہم پر مسلط ہوجاتا ہے۔
ہمارے یہاں بہت سے لوگ آئین کی ان شقوں کا مذاق بھی اڑاتے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے کہ آئین کی ان دونوں شقوں کے اہم نکات کیا ہیں۔ آئین کی شق62(A-B)کے چند اہم نکات کے مطابق ’’وہ لوگ پارلیمنٹ کے رکن نہیں بن سکتے جو پاکستان کے شہری نہ ہوں، قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے عمر 25 برس سے کم ہو اور سینیٹ کے لیے 30 برس سے کم ہو۔ وہ سمجھ دار، پارسا نہ ہو، اور فاسق ہو، اور ایمان دار اور امین نہ ہو،کسی اخلاقی پستی میں ملوث ہونے یا جھوٹی گواہی دینے کے جرم میں سزا یافتہ ہو، ملکی سالمیت کے خلاف کام کیا ہو، اچھے کردار کا حامل نہ ہو اور احکام اسلام سے انحراف میں مشہور ہو۔
اسی طرح آئین کی شق 63کے اہم نکات کو دیکھیں جن میں کہا گیا ہے کہ وہ کسی مجازِ سماعت عدالت کی طرف سے فی الوقت نافذالعمل کسی قانون کے تحت بدعنوانی، جھوٹی گواہی، اخلاقی پستی یا اختیار یا اتھارٹی کے بے جا استعمال کے جرم میں سزا یاب ہوچکا ہو، وہ پاکستان کی ملازمت یا وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، یا کسی مقامی حکومت کی طرف سے قائم کردہ یا اس کے زیراختیارکسی کارپوریشن یا دفترکی ملازمت سے غلط روی یا اخلاقی پستی کی بنا پر برطرف کردیا گیا ہو، وہ پاکستان کی یا کسی آئینی ہیئت یا کسی ایسی ہیئت کی جو حکومت کی ملکیت یا اس کے زیر نگرانی ہو، یا جس میں حکومت تعدیلی حصہ یا مفاد رکھتی ہو، ملازمت میں رہ چکا ہو، تاوقتیکہ اس کی مذکورہ ملازمت ختم ہوئے دو سال کی مدت گزر نہ گئی ہو، وہ سیاسی جماعتوں کے ایکٹ 1962کی دفعہ سات کے تحت سزا یاب ہوچکا ہو اور اس سزا کی مدت کو پانچ برس نہ بیت گئے ہوں، وہ پاکستان کی ملازمت میں حسب ذیل عہدوں کے علاوہ کسی منفعت بخش عہدے پر فائز ہو مثلاً کوئی ایسا عہدہ جو ایسا کُل وقتی عہدہ نہ ہو جس کا معاوضہ یا تو تنخواہ یا فیس کے ذریعے ملتا ہو، وہ کسی عدالت مجاز کی طرف سے فی الوقت نافذالعمل کسی قانون کے تحت مفرور ہونے کی بنا پر سزا یاب ہوچکا ہو اور اسے قید کی سزا دی گئی ہو، اس نے کسی بینک، مالیاتی ادارے، کوآپریٹو سوسائٹی یا ادارے سے اپنے نام سے یا اپنے خاوند یا بیوی یا اپنے زیر کفالت کسی شخص کے نام سے دو ملین روپے یا اس سے زیادہ رقم کا قرضہ حاصل کیا جو مقررہ تاریخ سے ایک سال سے زیادہ عرصہ کے لیے غیر ادا شدہ رہے، یا اس نے مذکورہ قرضہ معاف کروالیا ہو، اس کے خاوند، بیوی یا زیر کفالت کسی بھی شخص نے چھے ماہ سے زیادہ عرصہ کے لیے سرکاری واجبات جس میں یوٹیلٹی اخراجات بشمول ٹیلی فون، بجلی، پانی اورگیس کے اخراجات ادا نہ کیے ہوں سمیت چند اور نکات بھی اس شق کا حصہ ہیں۔
ان شقوں کی روشنی میں ہونا تو یہ چاہیے کہ ایسے افراد جو جرائم میں ملوث ہوں، سزا یافتہ ہوں، جنہوں نے مالی بدعنوانی کی ہو، قرضے لے کر ادا نہ کیے ہوں یا معاف کروائے ہوں، ریاست کے اداروں کے مقروض ہوں ان پر ہر صورت میں پارلیمنٹ کے دروازے بند ہونے چاہئیں۔ لیکن ہماری صورت حال یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں یہ ٹولہ جو جرائم پیشہ ہے سیاست اور جمہوریت کو ڈھال بناکر پارلیمنٹ کا حصہ بن کر اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کے لوگوں کو محفوظ بناتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ بعض لوگ آئین کی شق 62 اور 63کے کچھ نکتوں پر سوال ضرور اٹھاتے ہیں جن میں خاص طور پر احکام اسلام سے انحراف، صادق اور امین، نظریۂ پاکستان کی مخالفت یا ملکی سالمیت کی تشریح سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کی تشریح کیسے ہوگی، اس پر پارلیمنٹ کے ارکان اور قانونی ماہرین بات کرکے معاملات کو اور سادہ کرسکتے ہیں جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔ لیکن ہمارے لبرل حلقے مذہبی مسائل کی بنیاد پر اس آرٹیکل 62۔63کی جس طرح سے نفی کرتے ہیں وہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ حالانکہ اس میں جو نکات ہیں ان میں مسئلہ ارکان کی اہلیت کا ہے اور اس میں آئین ہی بالادست ہے، اور اگر کسی بھی سیاسی قوت کو اس آرٹیکل کے کچھ نکات پر اعتراض ہے تو اس کا راستہ بھی قانونی طریقے سے تلاش کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ تاثر دینا کہ ان آرٹیکلز کو ہی ختم کردیا جائے ، کوئی معنی نہیں رکھتا۔
اس بات پر تو عمومی اتفاق ہے کہ ہمیں کرپٹ اور بدعنوان لوگوں کا پارلیمنٹ میں بطور ارکان جانے کا راستہ روکنا ہے۔ جو بھی کرپٹ اور بدعنوان طبقہ قانون کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر سامنے آتا ہے اس کا قانون کے دائرۂ کار میں رہ کر ہی احتساب کرنا ہے۔ اصولی طور پر تو بڑی ذمہ داری سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادتوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ خود ایسے افراد کو پارلیمنٹ کے لیے اپنے امیدوار نامزد کریں جو حقیقی معنوں میں دیانت کے معیار پر پورے اترتے ہوں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب قیادت کا انتخاب بھی میرٹ پر نہ ہو اور اس کے سامنے بھی دولت، طاقت ہی سب کچھ ہو تو وہ اس کرپٹ نظام کو اپنی طاقت سمجھتی ہے۔ ہمارا سیاسی نظام دولت کے سہارے کھڑا ہے، اور دولت مند طبقے نے عملاً سیاسی نظام کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ جب سیاسی جماعتوں کی قیادتوں کے سامنے ارکان کی اہلیت کے حقائق رکھے جاتے ہیں تو وہ ایسے جواز پیش کرتے ہیں جو کرپٹ نظام کو طاقت فراہم کرتے ہیں۔ پارلیمنٹ قوموں کے فیصلے کرتی ہیں اور ملکوں کی اقوام کو اپنی پارلیمنٹ اور ارکان سے بہت زیادہ مثبت توقعات ہوتی ہیں کہ وہ ان کے مستقبل کے تناظر میں بہتر فیصلے کریں گے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں اگر بددیانت اور نااہل لوگ آجائیں تو پارلیمنٹ سے کیسے خیر کی توقع رکھی جاسکتی ہے! یہ کرپٹ سیاسی ٹولہ اپنی دولت اور سیاسی طاقت کی بنا پر اداروں کو بھی اپنے تابع کرلیتا ہے اور ان سے قانون شکنی کرواکر اپنے ذاتی مفادات کو تقویت دیتا ہے۔ جب تک پاکستان میں طاقت ور طبقات اور اداروں کا سیاسی، انتظامی و قانونی گٹھ جوڑ نہیں ٹوٹے گا اس وقت تک ملک میں قانون کی حکمرانی اور شفافیت پر مبنی سیاسی نظام محض ایک خواب ہی ہوگا۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ دستور ان دفعات کی روشنی میں ارکان پارلیمنٹ کے چناؤ کا عمل کیسے مکمل کیا جائے! اس کے لیے پہلے اس دلیل کو ماننا ہوگا کہ ہمیں ان ہی دفعات کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہے۔ سیاسی جماعتوں میں اس اصول کو مضبوط کرنا ہوگا کہ وہ ایسے ہی افراد کو پارٹی ٹکٹ جاری کریں جو اس کی اہلیت رکھتے ہوں۔ سیاسی جماعتوں میں ارکان کے چناؤ کی تشہیر کا معاملہ مضبوط ہونا چاہیے اور سیاسی کارکنوں کو بھی اپنی اپنی جماعتوں میں قیادتوں پر یہ دباؤ بڑھانا ہوگا کہ وہ صادق اور امین لوگوں کو ٹکٹ جاری کریں۔ میڈیا کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھی اس مسئلے کی اہمیت کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کرے ۔ میڈیا کو خود ایسے سیاسی امیدواروں کو سامنے لانا چاہیے جو اچھی شہرت نہ رکھتے ہوں اور ان کی زندگی بدعنوانی پر مبنی ہو، تاکہ ایسے لوگوں کا راستہ روکا جاسکے۔ ووٹروں میں بھی اس احساس کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ ووٹ دیتے وقت ذاتی پسند و ناپسند کے ساتھ ساتھ امیدواروں کی دیانت داری کے امور کا بھی جائزہ لے کر فیصلہ کریں تاکہ اچھی قیادت سامنے آسکے۔ الیکشن کمیشن کو امیدواروں کی اسکروٹنی کرتے وقت زیادہ مناسب اقدامات کی ضرورت ہے، اور اگر الیکشن کمیشن یہ کام خود دیانت داری سے نہ کرسکے تو یہ بدقسمتی ہوگی۔ ساتھ ہی یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا ہمارا الیکشن کمیشن آزاد اور خودمختار ادارہ ہے؟ اور اگر ایسا نہیں تو پھر یہ ادارہ کیسے سیاسی دباؤ سے آزاد ہوسکے گا، یہ خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہوگا۔ اسی لیے ہمیں افراد کا چناؤ کرتے وقت اداروں کی خود مختاری اور مضبوطی کی بھی جنگ لڑنی ہے۔ کیونکہ اگر ہم اپنے ارکان پارلیمنٹ کے چناؤ کی جنگ کو اچھی طرح سے دیکھ کر آگے بڑھیں تو اس سے بھی ہمارے آدھے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
nn

Share this: