(طالبنان سے مزاکرات کی خواہش(عالمگیر آفریدی

Print Friendly, PDF & Email

اسلام آباد میں متعین افغان سفیر عمر زاخیوال کی اکوڑہ خٹک میں جمعیت العلماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق سے ملاقات، اور اس ملاقات کے دوران افغان صدر اشرف غنی کی مولانا سمیع الحق کے ساتھ ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو اور ڈاکٹر اشرف غنی کی جانب سے مولانا سمیع الحق کو افغان مفاہمتی عمل میں کردار ادا کرنے کی خواہش کے اظہار سے اگر ایک جانب افغان صدر کی افغان امن کے حوالے سے سنجیدگی اور ان کی خواہش کا اظہار ہوتا ہے تو دوسری جانب اس فون کال اور طالبان سے مذاکرات میں مولانا سمیع الحق کو کردار ادا کرنے کی افغان صدر کی خواہش کا یہ مطلب بھی لیا جا سکتا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے افغان صدر نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ افغان حکومت کے پروپیگنڈے کے مطابق افغان طالبان واقعتا پاکستان کی بعض قوتوں کے زیراثر ہیں‘ جن میں پاکستان کی بعض خفیہ ایجنسیوں کے علاوہ مولانا سمیع الحق جیسے نان اسٹیک ہولڈر کا نام تسلسل سے لیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ مولانا سمیع الحق نہ صرف طالبان دورِ حکومت میں طالبان پر گہرے اثر رسوخ کا برملا اظہار کرتے رہے ہیں بلکہ بعد کے ادوار میں میں بھی وہ گاہے بگاہے یہ تاثر دیتے رہے ہیں کہ طالبان پر ان کا کنٹرول ہنوز قائم ہے، اور وہ یعنی طالبان ان کی دل وجان سے قدر کرتے ہیں۔ طالبان اور مولانا سمیع الحق کے درمیان تعلق کا تاثر اس وجہ سے پیدا ہوا تھا کہ مولانا سمیع الحق اکثر وبیشتر یہ کہتے رہتے تھے کہ طالبان ان کے بچے اور شاگرد ہیں۔ گو کہ بعد میں انہوں نے اس بیان سے رجوع کرلیا تھا اور وہ آن ریکارڈ یہ بات کہہ چکے ہیں کہ طالبان کو اپنے بچے انہوں نے نہیں بلکہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں وزیر داخلہ رہنے والے نصیر اللہ خان بابر کہا کرتے تھے، جن کے بارے میں مشہور ہے کہ طالبان کی تشکیل اور فتوحات کے پیچھے ان کی سوچ اور منصوبہ بندی کارفرما تھی۔
ان دونوں باتوں میں اصل حقیقت کیا ہے، اس بحث کو ایک طرف رکھتے ہوئے یہ بات بجائے خود توجہ اور اہمیت کی حامل ہے کہ کسی اعلیٰ افغان حکومتی قیادت نے پہلی دفعہ طالبان کے روحانی راہنما سمجھے جانے والے پاکستان کے ایک معروف مذہبی راہنما سے نہ صرف افغان امن عمل کی بحالی کے سلسلے میں رابطہ کیا ہے بلکہ افغان صدر نے ایک ایسے وقت میں پاکستان کے ایک نان اسٹیٹ ایکٹر سے براہِ راست افغان امن عمل میں طالبان پر اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے افغانستان میں قیام امن کے لیے ان سے مدد طلب کی ہے جب ایک جانب پاک افغان تعلقات انتہائی سردمہری بلکہ دشمنی کی حدوں کو چھو رہے ہیں اور دونوں جانب سرکاری سطح پر سخت ناراضی اور بیگانگی پائی جاتی ہے، بالخصوص جب سے افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے مودی سرکار کی زبان بولنا شروع کی ہے اور افغانستان نے پاکستان کی پشت میں چھرا گھونپتے ہوئے پہلے سارک سربراہ کانفرنس کے اسلام آباد میں انعقاد کو ملتوی کرانے اور بعد ازاں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے

Share this: