(ترقیاتی منصوقبیوبے اور اہل سندھ کا خوف نصیر میمن ترجمہ:(اسامہ تنولی

Print Friendly, PDF & Email

’’ا ہلِ سندھ کے متعلق ایک عرصے سے یہ رائے عام کی گئی ہے کہ وہ داخلیت پسند، تبدیلی سے گریزاں/ خوفزدہ اور ترقی کے مخالف ہیں۔ اس رویّے کی وجہ سے سندھی ہر بڑے ترقیاتی منصوبے کی مخالفت کرتے ہیں اور ہر نئے منصوبے کے لیے ان کا ایک ہی نعرہ ہے کہ ’’نہ کھپے‘‘ (یعنی نہیں چاہیے)۔ اس حوالے سے آج کل ذوالفقار آباد اور تھر کے کوئلہ کے منصوبوں اور ان کے بارے میں جاری تنازعات کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ کچھ دوست دبئی اور عرب امارات کی ترقی کے حوالے دیتے ہیں۔کچھ مہربان سندھی قوم کا مجموعی طور پر اور مندرجہ بالا آرا رکھنے والوں پر خاص طور سے نہایت سخاوت سے تمسخر بھی اڑاتے ہیں اور ذاتی مجالس میں طرح طرح کی تہمتیں بھی دھرا کرتے ہیں۔
ترقی کا عمل محض سندھ ہی میں نہیں، بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں متنازع رہا ہے۔ بڑے ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں مختلف خیالات اور آرا کا پایا جانا عین ایک فطری امر ہے، کیونکہ تیسری دنیا کے ممالک میں زیادہ تر ترقیاتی امور اپنے تئیں اشرافیہ کی خواہشات کے مطابق سرانجام پاتے ہیں اور اس کی قیمت ہمیشہ کمزور گروہ ہی ادا کرتے ہیں۔ ان کمزور گروہوں کے اندر بھی ایک اشرافیہ ہوا کرتی ہے جسے ترقی کے اس عمل میں اپنا فائدہ دکھائی دیتا ہے، اور کبھی کبھار وہ اجتماعی اندیشوں کو پس پشت ڈال کر ہر ترقیاتی منصوبے کی غیرمشروط حمایت کرتی ہے۔ بلاشبہ سندھی سماج میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کے متعلق خدشات اور اندیشوں کا اظہار ہوتا رہتا ہے، لیکن اس رویّے کو جھٹلانے یا اس کا تمسخر اڑانے کے بجائے اس کا سائنسی لحاظ سے جائزہ لینا چاہیے۔ تقسیم کے بعد سے تاحال ملک اور سندھ میں جو ترقی ہوئی ہے اُس کے سندھ پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں جس کی بنا پر سندھی سماج ایسے رویوں کا شکار ہوا ہے، اس بارے میں تین مختصر حوالے دے کر اس بحث کو آگے بڑھاتے ہیں۔
کراچی ملک کا سب سے ترقی یافتہ شہر ہے اور اسے ترقی کی سب سے بالائی منزل پر براجمان سمجھا جاتا ہے۔ اس شہر میں تقسیم کے وقت 61 فیصد آبادی سندھی بولنے والے افراد پر مشتمل تھی۔ سات دہائیوں کی ترقی کے بعد یہاں سندھیوں کی آبادی 10 فیصد سے بھی کم ہے۔ کراچی کی ساحلی پٹی پر رہائش پذیر اصلی سندھی آج دھاریوں (اغیار) کے گھروں میں جھاڑوپونچھے اور برتن وغیرہ دھونے جیسے کام کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ کچھ دوست اس حالت کا ذمہ دار بھی سندھیوں ہی کو قرار دیں۔ لیکن یہ نصف سے بھی کم سچ قرار پائے گا۔ ترقی کے اس عمل میں ریاست نے کبھی بھی مقامی آبادی کے حقوق کے لیے مثبت اقدامات (Affirmative Actions) نہیں اٹھائے جو دنیا کے چند دیگر ممالک میں مروج ہیں۔ اس کا ذکر ذرا آگے چل کر کریں گے۔
دوسرا حوالہ ستّر برس کے عرصے میں سندھ میں ہونے والی نظام آب پاشی کی ترقی ہے۔ تقسیم سے قبل سندھ میں سکھر بیراج تعمیر ہوچکا تھا اوربعد از تقسیم دو بڑے بیراج کوٹری اور گڈو کے پاس بنائے گئے۔ ان بیراجوں کی تعمیر سے سندھ میں آب پاشی اور زراعت کا انقلاب برپا ہوا۔ سکھر بیراج سے 28لاکھ 68 ہزار ایکڑ زرعی زمین سیراب اور آباد ہوئی۔ قبل از تقسیم اس میں سے 22 لاکھ ایکڑ زمین تقسیم ہوچکی تھی اور ون یونٹ کے دور میں باقی تقسیم کردہ زمین کا مقامی افراد کو محض چوتھائی حصہ نصیب ہوسکا۔ باقی ساری ترقی کے وارث باہر سے آنے والے افراد قرار پائے۔1956ء میں تعمیر کردہ کوٹری بیراج سے سندھ میں ساڑھے سولہ لاکھ ایکڑ زمین سیراب ہوئی۔ 1963ء تک بانٹی گئی سوا گیارہ لاکھ ایکڑ زمین میں سے سندھیوں کو صرف پونے پانچ لاکھ ایکڑ زمین ہی ملی اور بقیہ ترقی سے باہر سے آنے والے افراد فیض یاب ہوئے۔1962ء میں تعمیر ہونے والے گڈو بیراج سے 27 لاکھ ایکڑ زمین آباد اور سیراب ہوئی۔ اس میں بھی نصف حصہ باہر سے آنے والے افراد کے لیے مختص کیا گیا۔ اس طرح ترقی کے اس انقلاب سے مقامی افراد کو جو فائدہ ملا وہ اعداد و شمار سے نظر آتا ہے۔
سندھ میں ترقی کا تیسرا حوالہ 1970ء کے عشرے میں دریافت ہونے والے گیس کے ذخائر کا ہے۔ سندھ میں لگ بھگ ایک درجن بڑی گیس فیلڈز اور بدین سے دریافت شدہ تیل کے ذخائر کے باعث سندھ دو دہائیوں تک ملکی پیداوار کا نصف سے زائد تیل اور تقریباً 70 فیصد گیس فراہم کرتا رہا ہے۔ تیل اور گیس کے ان قدرتی وسائل سے جو ترقی ہوئی اُس سے سندھ کے شہروں اور گوٹھوں کو کیا فائدہ ملا؟ ان کمپنیوں کے مرکزی دفاتر میں، ان کے بورڈز میں کتنے سندھی ہیں، ان کی تعداد انگلیوں پر بآسانی گنی جاسکتی ہے۔ یہ وسائل پیدا کرنے والے اضلاع مثلاً بدین، دادو، سیہون، قنبر، شہداد کوٹ، کشمور اور گھوٹکی کی حالتِ زار ہی بہ طور حوالہ کافی ہے۔ دیگر اعداد و شمار بھی وقتاً فوقتاً پیش ہوتے رہے ہیں جن کا اعادہ یہاں ضروری نہیں ہے۔
ترقی کے ان تین اہم اور بڑے مواقع سے سندھ اور اہلِ سندھ کو جو نتائج دیکھنے پڑے اس کے بعد اب اہلِ سندھ رسّی سے بھی (اسے سانپ سمجھ کر) ڈرنے لگے ہیں۔ ترقی کے ان تمام اہم مواقع کے بعد بھی سندھ کی بہراڑیوں (دیہی سندھ) میں 75 فیصد ہمہ جہت غربت موجود ہے (دیکھیے یو این ڈی پی جی کی رپورٹ”Multidimensional Poverty in Pakistan”)۔ ملک میں چھوٹے بچوں اور ماؤں کی غذائی قلت میں سندھ کی حالتِ زار دیگر تمام صوبوں سے بدتر ہے (دیکھیے پلاننگ کمیشن کی رپورٹ”National Nutrition Survey 2011″)۔ اس پس منظر میں جاننا چاہیے کہ ترقی محض جدید شہر بنانے یا قدرتی وسائل کے نکلنے سے نہیں ہوا کرتی۔ جب حکومتیں ترقی کے مواقع سے مقامی آبادیوں کو ترقی دلانے کے لیے مطلوبہ قانون سازی کرنے اور پالیسی سازی کی اہلیت اور نیت نہ رکھتی ہوں تو پھر مقامی افراد کے لیے ترقی صرف فریبِ نظر کے مصداق بن جاتی ہے۔ اب آتے ہیں ذرا دیگر بیرونی ممالک کی مثالوں کی طرف، جنہوں نے ترقی کے مواقع سے مقامی آبادی کا فائدہ یقینی بنانے کے لیے مناسب پالیسیاں تشکیل دی ہیں۔ اس بارے میں دو ممالک کا حوالہ بحث کو آگے بڑھانے کے لیے پیش خدمت ہے۔ 2013ء کے اعداد و شمار کے مطابق عرب امارات کی 92 لاکھ آبادی میں 78 لاکھ غیر مقامی افراد تھے۔ ملک میں چھوٹی بڑی نوکریاں کرنے والے 90 فیصد افراد بیرون ملک سے تعلق رکھتے تھے۔ دبئی کی ترقی زیادہ تر بہ طور حوالہ بیان کی جاتی ہے، اس لیے اس کا ذکر کرنا بے حد ضروری ہے۔ دبئی اور دیگر عرب امارات میں غیرملکیوں کو کسی نوع کے سیاسی حقوق حاصل نہیں ہیں۔2011ء میں پہلی مرتبہ صدر شیخ خلیفہ بن زائد النہیان نے ان بچوں کو 18 سال کی عمر میں شہریت کا حق دیا جو امارتی ماں اور غیرملکی والد کی مشترکہ نسل ہوں۔ اس سے پہلے یہ حق بھی صرف اس صورت میں ملا کرتا تھا جب جوڑے کا مرد امارتی ہو۔ اس کے علاوہ اومان، قطر یا بحرین کے باشندوں میں 30 سال تک عرب امارات میں رہائش پذیر افراد کو شہریت کا حق دیا جاتا ہے، وہ بھی اس صورت میں جب انہیں عربی زبان آتی ہو۔ جن بچوں کو امارتی ماں ہونے کی وجہ سے شہریت ملے گی انہیں انتخابات میں حصہ لے کر عہدہ پانے کا حق بھی حاصل نہیں ہوگا۔ یہ تو ہوا سیاسی حقوق کا پہلو۔۔۔ اب آیئے مقامی شہریوں کے معاشی حقوق کا جائزہ لیں۔ امارات کی کاروباری کمپنیوں کے قانون کے تحت امارات میں رجسٹرڈ شدہ کمپنی یا تو کسی مقامی شہری کی ملکیت ہوگی یا اس میں کم از کم 51 فیصد شیئرز کسی مقامی شہری کے ہوں گے۔ قبل ازیں بیرونی سرمایہ کار مقامی افراد سے لین دین کرکے ان سے اپنے شیئرز کے حقوق اپنے نام کرالیا کرتے تھے۔ لیکن 2010ء سے ایک قانون کے تحت اسے ایک جرم قرار دے کر اس پر بھی بندش عائد کردی گئی ہے۔ کمپنیز پر مبنی قانون کے تحت جوائنٹ اسٹاک کمپنی کی انتظامیہ کے لیے ایک امارتی شہری کا چیئرمین ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اسی قانون کے تحت کمپنی کے ڈائریکٹرز کی اکثریت کا امارتی شہری ہونا لازمی ہے۔ جائداد خریدنے کے حوالے سے مختلف امارتوں میں مختلف قوانین ہیں۔ ابوظہبی میں صرف امارتی شہری کو جائداد خریدنے کا حق حاصل ہے۔ اسی طرح سے لیبر قوانین کے تحت کسی بھی غیر ملکی کو نوکری سے برخاست کرنا آسان ہے۔ نیز مقامی شہریوں کو کئی فوائد حاصل ہیں۔ کسی بھی امارتی شہری کو ملازمت سے برطرف کرنے کے لیے متعلقہ ذمہ داران کی اجازت لازمی ہے۔ مقامی افراد کو جو مراعات اور فوائد ملتے ہیں ان کے بارے میں غیر مقامی شہری سوچ بھی نہیں سکتے۔ مثلاً تمام مقامی افراد کو تعلیم اور صحت مفت، جبکہ روزمرہ کی سہولیات از قسم بجلی پانی وغیرہ رعایتی نرخوں پر فراہم کی جاتی ہیں۔ مقامی شہری کو سرکار کی طرف سے شادی کے موقع پر 19ہزار ڈالر دیے جاتے ہیں۔ تمام شہریوں اور ان کی اولاد کو شادی ہونے پر حکومت کی طرف سے گھر ملنے کا حق بھی دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں سرکار کی طرف سے رہائش کے لیے زمین اور بینکوں سے بغیر یا رعایتی شرح سود پر قرضے بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔ یہ ساری سہولیات کسی بھی غیر ملکی کو حاصل نہیں ہیں، خواہ اس نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہی کیوں نہ کر رکھی ہو، یا عشروں سے وہاں رہتا چلا آرہا ہو۔
جن دوستوں کو دبئی ماڈل پر مبنی ترقی سندھ میں دیکھنے کی خواہش ہے وہ مقامی آبادی کے لیے ویسے ہی سیاسی اور معاشی حقوق کا بھی ذکر کریں تاکہ ترقی کا مفہوم محض روڈ، راستوں، کارخانوں اور عمارتوں تک ہی محدود نہ رہے۔
اس بارے میں ایک اور حوالہ ملائشیا کا ہے۔ مشرقی ایشیائی ممالک میں ملائشیا کی ترقی کا حوالہ اکثر دیا جاتا ہے۔ برطانیہ سے 1957ء میں آزادی پانے والے ملائشیا نے 1970ء سے 2000ء کے دوران سالانہ 6 تا 7فیصد معاشی ترقی حاصل کی ہے۔1970ء میں ملک کی نصف آبادی خطِ غربت سے بھی نیچے زندگی بسر کررہی تھی جو اب کم ہوکر صرف چند لاکھ تک آن محدود ہوئی ہے۔ 1980ء میں ملک کی فی کس مجموعی معاشی پیداوار یعنی جی ڈی پی 1.760 ڈالر تھی جو کہ 2015ء تک بڑھ کر 12.127 ڈالر فی کس ہوچکی ہے۔ 1990ء میں ملائشیا کُل 17.5 ارب ڈالر کی سالانہ ایکسپورٹ کیا کرتا تھا اور 2016ء میں یہی ملک لگ بھگ 160 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کررہا تھا۔ ترقی کی اس شاندار سیڑھی پر چڑھنے والے ملائشیا نے اپنی مقامی آبادی کے حقوق کو کس انداز سے تحفظ فراہم کر رکھا ہے، اس کی ایک مختصر جھلک کچھ یوں ہے:
ملائشیا میں اصل ملائی باشندوں کا آبادی میں حصہ تقریباً60 فیصد ہے، جبکہ 23 فیصد چینی اور 7 فیصد ہندوستانی نژاد باشندے ہیں جو تاریخ کے مختلف مراحل پر یہاں کے شہری بنے۔ 1970ء میں ملائشیا کی حکومت نے اصل (حقیقی) باشندوں ’’بھومی پترا‘‘ کے لیے خاص آئینی حیثیت کا تعین کیا اور آئین کے آرٹیکل 153 کے تحت انہیں خصوصی حیثیت دی گئی۔ اس وقت ’’بھومی پتروں‘‘ کو مندرجہ ذیل مراعات حاصل ہیں:
(1) کوالالمپور کے اسٹاک ایکس چینج میں رجسٹرڈ کمپنیوں کے لیے ضروری ہے کہ اس میں 30 فیصد شیئرز کے مالک ’’بھومی پتر‘‘ ہوں۔ یہ شرائط بیرونی کمپنیوں (یعنی غیرملکی کمپنیوں) پر بھی لاگو ہوں گی۔
(2) کسی بھی رہائشی اسکیم میں ایک مخصوص مدت تک گھروں کا کچھ حصہ صرف بھومی پتروں کے لیے ہی وقف رہے گا۔ رہائشی منصوبوں کی کمپنیوں پر لازم ہوگاکہ بھومی پتروں کو 7 فیصد رعایت پر گھر فراہم کریں۔
(3) حکومت کے میوچل فنڈ کا کچھ حصہ صرف بھومی پتروں کی خریداری کے لیے مختص ہوگا۔
(4) سرکاری اسکیموں کے لیے ٹینڈر بھرنے والی کمپنیوں کے لیے ناگزیر ہوگا کہ ان کے مالکان بھومی پتر ہوں۔
(5) بھومی پتروں کو، بیرون ملک سے گاڑیاں درآمد کرنے کے پرمٹس میں اولیت حاصل ہے۔
(6) ان اقدامات کا مقامی آبادی کو یہ فائدہ پہنچا کہ 1970ء میں بھومی پتروں کے پاس ملکی دولت کا محض 2 فیصد ہوا کرتا تھا جو 1990ء میں بڑھ کر دس گنا یعنی 20.03 فیصد ہوگیا۔
(7) سرکاری یونیورسٹیوں میں داخلے اور اسکالرشپ میں بھومی پتروں کو اولیت حاصل ہے۔
یہ ہیں وہ چند اقدامات جو ترقی کی منازل سر کرنے والے ممالک نے اپنے حقیقی باشندوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے اٹھائے ہیں۔ ان ممالک نے ترقی کا پہلا فائدہ اپنے اصل باشندوں کو دیا ہے۔ دوسری جانب اس ملک (پاکستان) کی ترقی کا ماڈل ہے جہاں مقامی افراد دن بہ دن بدحال سے بدحال تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ سندھ میں ترقی کی حمایت کے ساتھ ساتھ ان حقوق کا حوالہ بھی آنا چاہیے۔ آئندہ مضمون میں اس امر پر بحث کی جائے گی کہ اہل سندھ کو ترقی کے نئے منصوبوں سے فوائد حاصل کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے جس سے اہلِ سندھ نئی ترقیاتی اسکیموں کی حمایت کرنے سے نہ ڈریں، انہیں خوش آمدید کہیں اور ساتھ ہی ان میں اپنا حصہ بھی حاصل کرسکیں۔
nn

Share this: