پروفیسر اطہر صدیقی

Print Friendly, PDF & Email

یہ کہانی اُس وقت شروع ہوتی ہے جب میں ایک چھوٹا بچہ تھا: میں غریب پیدا ہوا تھا۔ اکثر کھانے کے لیے بھی کافی نہیں ہوتا تھا۔ جب کبھی ہمارے پاس کچھ کھانا ہوتا تھا، میری ماں مجھے اپنے حصے کے چاول بھی دے دیتی تھی۔ جب وہ اپنے حصے کے چاول میرے پیالے میں ڈالتی تو کہتی:
’’بیٹا یہ چاول بھی کھا لو! مجھے بھوک نہیں ہے‘‘۔ یہ ماں کا پہلا جھوٹ تھا۔
جیسے جیسے میں بڑا ہوا، ماں خالی وقت میں گھر کے پاس دریا میں سے مچھلی پکڑ لاتی۔ وہ امید کرتی کہ میری نشوونما اور بالیدگی کے لیے مچھلی کی شکل میں مجھے کچھ تھوڑی بہتر غذا دے رہی ہے۔ ایک مرتبہ اس نے صرف دو مچھلیاں پکڑی تھیں، جس سے اس نے مچھلی کا شوربہ تیار کیا۔ جب میں شوربہ کھا رہا تھا تو میری ماں میرے پاس بیٹھی ہوئی تھی اور میری بچی ہوئی مچھلی پر جو کچھ گوشت لگا رہ گیا تھا وہ کھا رہی تھی۔ میں نے جب یہ دیکھا تو میرا دل بھر آیا۔ ایک مرتبہ میں نے دوسری مچھلی چوپ اسٹک سے پکڑ کر اسے دینا چاہی لیکن اس نے اسے لینے سے فوراً انکار کردیا اور کہا:
’’یہ مچھلی کھالو بیٹا! دراصل مجھے مچھلی پسند نہیں‘‘۔ یہ ماں کا دوسرا جھوٹ تھا۔
پھر، میری تعلیم کے خرچ کے لیے ماں ایک ماچس کی فیکٹری سے استعمال شدہ ماچس کی ڈبیاں گھر لے آئی جس میں وہ نئی ماچس کی تیلیاں بھر دیتی۔ اس سے کچھ پیسے ملنے میں مدد ہوتی اور جس سے ہماری کچھ ضرورتیں پوری ہوجاتیں۔ سردی کی ایک رات میں جاگا تو میں نے ماں کو موم بتی کی مدھم روشنی میں ماچس کی ڈبیاں بھرتے دیکھا۔ میں نے کہا:
’’ماں اب سو جاؤ، بہت رات ہوگئی ہے، تم کل دن میں بھی یہ کام کرسکتی ہو۔‘‘
ماں مسکرائی اور بولی: ’’بیٹا۔۔۔ تم سوجاؤ! میں تھکی نہیں ہوں‘‘۔ یہ ماں کا تیسرا جھوٹ تھا۔
جب میں اپنے آخری امتحان میں بیٹھنے جارہا تھا، ماں صبح سویرے میرے ساتھ گئی اور ماں نے گھنٹوں دھوپ اور سورج کی تپش میں میرا انتظار کیا۔ جب گھنٹہ بجا تو میں دوڑ کر اس سے ملنے گیا۔ ماں نے مجھے گلے سے لگایا اور چائے کا ایک گلاس دیا جو وہ تھرماس میں لے کر آئی تھی۔ میں نے فوراً ہی اپنا گلاس اس کو دیا کہ وہ بھی پی لے۔ ماں نے کہا:
’’تم پی لو، بیٹا! مجھے پیاس نہیں لگی ہے، میں پیاسی نہیں ہوں‘‘۔ یہ ماں کا چوتھا جھوٹ تھا۔
باپ کے فوت ہوجانے کے بعد، ماں کو ہی، ماں اور باپ دونوں کا فرض ادا کرنا پڑا۔ وہ اپنی نوکری بھی کرتی رہی اور ہماری ضروریات کا خرچ بھی اٹھاتی رہی۔ ہمارے خاندان کی زندگی کچھ زیادہ پیچیدہ تھی۔ ہم فاقہ کشی سے بھی جوجھ چکے تھے۔ ہمارے خاندان کی خراب حالت یا بگڑتے حالات کو دیکھ کر ہمارے ایک مہربان اور شفیق چچا نے، جو میرے گھر سے قریب ہی رہتے تھے، ہماری چھوٹی بڑی مشکلیں حل کرنے کی کوشش کی۔ ہمارے دوسرے پڑوسیوں نے بھی جان لیا تھا کہ ہم غربت کے مارے ہوئے ہیں، اس لیے وہ میری ماں کو دوسری شادی کی صلاح دیتے تھے، لیکن میری ماں نے یہ کہہ کر انکار کردیا:
’’مجھے محبت کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔ یہ ماں کا پانچواں جھوٹ تھا۔
اپنی تعلیم ختم کرکے مجھے ایک نوکری مل گئی اور اب وقت آگیا تھا کہ میری ضعیف ماں کام کرنے سے دست بردار ہوجاتی۔ لیکن وہ ہر صبح بازار جاتی رہی جہاں وہ کچھ سبزیاں فروخت کرتی۔ میں اس کو پیسہ بھیجتا رہا لیکن وہ ثابت قدمی اور استواری کے ساتھ وہ پیسہ مجھے واپس بھیجتی رہی۔ وہ کہتی تھی:
’’میرے پاس کافی پیسہ ہے‘‘۔ یہ ماں کا چھٹا جھوٹ تھا۔
میں نے جز وقتی طور پر اپنی ماسٹرزکی ڈگری کے لیے تعلیم بھی جاری رکھی، جس کا خرچ امریکن کارپوریشن، جس کے لیے میں کام کرتا تھا، برداشت کررہی تھی۔ میں اپنی تعلیم ختم کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اپنی تنخواہ میں ایک بڑا اضافہ ہوجانے کے بعد میں نے طے کیا کہ امریکہ میں زندگی کا لطف اٹھانے کے لیے میں ماں کو لے آؤں۔ لیکن ماں اپنے بیٹے کو اس کی بھی زحمت نہیں دینا چاہتی تھی۔ اس نے مجھ سے کہا:
’’مجھے امیرانہ ٹھاٹ باٹ کی عادت نہیں ہے‘‘۔ یہ ماں کا ساتواں جھوٹ تھا۔
اپنی آخری عمر میں ماں کو سرطان ہوگیا اور اسپتال جانا پڑا۔ اب میں بہت دور سات سمندر پار رہ رہا تھا۔ میں ماں کو دیکھنے وطن گیا۔ وہ آپریشن کے بعد صاحبِ فراش بستر پر لیٹی ہوئی تھی۔ ماں نے مسکرانے کی کوشش کی لیکن اسے دیکھ کر میرا دل ٹوٹ گیا، کیوں کہ وہ بہت دبلی اور کمزور ہوگئی تھی، لیکن ماں نے کہا:
’’روؤ مت بیٹا! مجھے کوئی درد یا تکلیف نہیں ہے‘‘۔ وہ ماں کا آٹھواں جھوٹ تھا۔
اور مجھے یہ آٹھواں جھوٹ بتاتے ہوئے وہ اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگئی۔
ہاں، میری ماں ایک فرشتہ تھی!
M-O-T-H-E-R
“M” is for the Million things she gave me,
“O” means Only That she’s growing old,
“T” is for the Tears she shed to save me,
“H” is for her Heart of gold,
“E” is for her Eyes with love-light Shining in them,
“R” means Right, and right she’ll always be,
Put them all together, they spell “MOTHER” a word that means the world to me.
ان لوگوں کے لیے جو خوش قسمت ہیں کہ ان کی ماں اس زمین پر حیات ہے، یہ ایک خوبصورت کہانی ہے۔ وہ لوگ جو اتنے خوش قسمت نہیں ہیں ان کے لیے یہ اور بھی زیادہ خوبصورت ہے۔
nn

Share this: